حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری

اللہ کے راستے سے بھاگنے پر ندامت اور گھبراہٹ

حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے لڑنے کے لیے ایک جماعت بھیجی، میں بھی اس میں تھا۔ کچھ لوگ میدانِ جنگ سے پیچھے ہٹے میں بھی اُن ہٹنے والوں میں تھا۔ (واپسی پر) ہم نے کہا کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہم تو دشمن کے مقابلہ سے بھاگے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو لے کر واپس لوٹ رہے ہیں۔ پھر ہم نے کہا کہ ہم لوگ مدینہ جاکر رات گزار لیں گے (پھر اس کے بعد حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے)۔ پھر ہم نے کہا: (نہیں) ہم سیدھے جا کر حضور ﷺ کی خدمت میں اپنے آپ کو پیش کر دیں گے، اگر ہماری توبہ قبول ہوگئی تو ٹھیک ہے ورنہ ہم (مدینہ چھوڑ کر کہیں اور) چلے جائیں گے۔ ہم فجر کی نماز سے پہلے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ (ہماری خبر ملنے پر) آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا: یہ لوگ کون ہیں؟ ہم نے کہا کہ ہم تو میدانِ جنگ کے بھگوڑے ہیں۔ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم تو پیچھے ہٹ کر دوبارہ حملہ کرنے والوں میں سے ہو۔ میں تمہارا اور مسلمانوں کا مرکز ہوں (تم میرے پاس آگئے ہو اس لیے تم بھگوڑے نہیں ہو)۔ پھر ہم نے آگے بڑھ کر حضور ﷺ کے دستِ مبارک کو چوما۔ 2 حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ہمیں ایک سریّہ میں بھیجا۔ جب ہمارا دشمن سے مقابلہ ہوا تو ہمیں پہلے ہی حملہ میں شکست ہوگئی۔ تو ہم چند ساتھی رات کے وقت مدینہ آکر چھپ گئے۔ پھر ہم نے کہا: بہتر یہ ہے کہ ہم لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں جا کر اپنا عذر پیش کر دیں۔ چناںچہ ہم لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں گئے۔ جب ہماری آپ سے ملاقات ہوئی تو ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم تو میدانِ جنگ کے بھگوڑے ہیں۔ آپ نے فرمایا: نہیں، تم تو پیچھے ہٹ کر دوبارہ حملہ کرنے والے ہو اور میں تمہارامرکز ہوں۔ اسود راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اور میں ہر مسلمان کا مرکز ہوں ۔ 1 ’’بیہقی‘‘ میں حضرت ابنِ عمر ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے اور اس میں یہ مضمون بھی ہے کہ ہم نے کہا: یا رسول اللہ! ہم تو میدانِ جنگ کے بھگوڑے ہیں۔ آپ نے فرمایا: نہیں، تم تو پیچھے ہٹ کر دوبارہ حملہ کرنے والے ہو۔ ہم نے کہا: یا نبی اللہ! ہم نے تو یہ ارادہ کر لیا تھا کہ ہم مدینہ نہ آئیں بلکہ سمندر کا سفر کر کے کہیں اور چلے جائیں (ہم تو اپنے بھاگنے پر بڑے شرمندہ تھے)۔ آپ نے فرمایا: ایسے نہ کرو، کیوںکہ میں ہر مسلمان کا مرکز ہوں۔2 حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زید ؓ جب واپس آئے تو میں نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو زور سے یہ فرماتے ہوئے سنا: اے عبد اللہ بن زید! کیا خبر ہے؟ اس وقت حضرت عمر مسجد کے اندر تھے اور حضرت عبد اللہ بن زید میرے حجرے کے دروازے کے پاس سے گزر رہے تھے۔ حضرت عمر نے کہا: اے عبد اللہ بن زید! تمہارے پاس کیا خبر ہے؟ انھوں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں خبر لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہو رہا ہوں۔ جب وہ حضرت عمر کے پاس پہنچ گئے تو انھوں نے مسلمانوں کے سارے حالات سنائے۔ میں نے کسی واقعہ کی اُن سے زیادہ اچھی اور زیادہ تفصیلی کار گزاری سنانے والا نہیں سنا۔ جب شکست کھائے ہوئے مسلمان آئے اور حضرت عمر نے دیکھا کہ میدانِ جنگ سے بھاگ آنے کی وجہ سے مہاجرین اور اَنصار مسلمان گھبرائے ہوئے ہیں تو فرمایا: اے مسلمانوں کی جماعت! تم نہ گھبرائو، میں تمہارا مرکز ہوں تم میرے پاس بھاگ کر آئے ہو (یہ میدانِ جنگ سے بھاگنا نہیں ہے بلکہ یہ تو تیاری کر کے دوبارہ میدانِ جنگ میں جانے کے لیے ہے)۔ 3 حضرت محمد بن عبد الرحمن بن حصین وغیرہ حضرات بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ بنو نجار کے حضرت معاذ قاری ؓ اُن لوگوں میں سے تھے جو جسرِابی عبید کی جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ جب وہ یہ آیت پڑھا کرتے تو رو پڑتے: {وَمَنْ یُّوَلِّھِمْ یَوْمَئِذٍ دُبُرَہٗ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ فَقَدْ بَآئَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَمَاْوٰہُ جَھَنَّمُ ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ O}1 اور جو کوئی اُن سے پھیرے پیٹھ اس دن، مگر یہ کہ ہنر کرتا ہو لڑائی کا یا جا ملتا ہو فوج میں، سو وہ پھرا اللہ کا غضب لے کر، اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیا برا ٹھکانا ہے ۔ حضرت عمر ؓ ان سے فرماتے: اے معاذ! نہ روئو، میں تمہارا مرکز ہوں تم بھاگ کر میرے پاس آئے ہو۔ 2 حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبید ؓ حضور ﷺ کے صحابہ میں سے تھے۔ اور جس دن حضرت ابو عبید ؓ شہید ہوئے تھے اس دن یہ میدانِ جنگ سے بھاگ گئے تھے اور اُن کو قاری کہا جاتا تھا، اور حضور ﷺ کے صحابہ میں سے اور کسی کو قاری نہیں کہا جاتا تھا۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے حضرت سعدبن عبید سے فرمایا: کیا آپ شام جانا چاہتے ہیں؟ کیوںکہ وہاں مسلمان کمزور ہوگئے ہیں اور دشمن اُن پر جری ہوگئے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ آپ شام جا کر اپنے بھاگنے کا گناہ دھو لیں۔ حضرت سعدنے کہا: نہیں، میں تو اسی علاقہ میں جائوں گا جہاں سے بھاگ کر آیا تھا، اور اسی دشمن کے مقابلہ میں جائوں گا جس نے میرے ساتھ ایسا معاملہ کیا (جس سے میں بھاگنے پر مجبور ہوگیا)۔ چناںچہ حضرت سعد قادسیّہ چلے گئے اور وہاں جا کر شہید ہو گئے۔ 3