حضرات صحابۂ کرام ؓ کی بہادری

حضرت زبیر بن عوام ؓ کی بہادری

حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ اللہ کی خاطر سب سے پہلے تلوار سونتنے والے حضرت زُبیر بن عوّام ؓ ہیں۔ ایک دن وہ دوپہر کو قیلولہ کر رہے تھے (یعنی آرام کر رہے تھے) کہ اچانک انھوں نے یہ آواز سنی کہ رسول اللہ ﷺ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ (یہ سنتے ہی فوراً) سُتی ہوئی ننگی تلوار لے کر باہر نکلے۔ یہ اور حضور ﷺ دونوں ایک دوسرے کو بالکل آمنے سامنے آکر ملے۔ حضور ﷺ نے پوچھا: اے زُبیر! تمہیں کیا ہو گیا؟ انھوں نے عرض کیا: میں نے سنا کہ آپ شہید کر دیے گئے ہیں۔ حضور ﷺ نے پوچھا: پھر تمہارا کیا کرنے کا ارادہ تھا؟ انھوں نے عرض کیا: میرا یہ ارادہ تھا کہ میں (آنکھ بند کر کے) مکہ والوں پر ٹوٹ پڑوں۔ حضور ﷺ نے اُن کے لیے دعائے خیر فرمائی۔ ان ہی کے بارے میں اَسَدی شاعر نے یہ اَشعار کہے ہیں : ھٰذَاکَ أَوَّلُ سَیْفٍ سُلَّ فِيْ غَضَبٍ لِلّٰہِ سَیْفُ الزُّبَیْرِ الْمُرْتَضٰی أَنَفَا حضرت زُبیر مرتضیٰ سردار کی تلوار ہی وہ تلوار ہے جو اللہ کی خاطر غصہ کرنے میں سب سے پہلے سونتی گئی ہے۔ حَمِیَّۃٌ سَبَقَتْ مِنْ فَضْلِ نَجْدَتِہٖ قَدْ یَحْبِسُ النَّجْدَاتِ الْمُحْبِسُ الْأَرْفَا یہ دینی حمیت ہے جو اُن کے زیادہ بہادر ہونے کی وجہ سے ظاہر ہوئی ہے، اور کبھی زیادہ سننے والا کئی قسم کی بہادریوں کو جمع کر لیا کر تا ہے۔ 1 حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ زُبیر بن عوّام ؓ نے مسلمان ہونے کے بعد یہ شیطانی آوازسنی کہ حضرت محمد ﷺ گرفتار کر لیے گئے ہیں، اس وقت حضرت زُبیرکی عمر بارہ سال تھی۔ یہ سنتے ہی انھوں نے اپنی تلوار سونت لی اور (حضور ﷺ کی تلاش میں) گلیوں میں بھاگنے لگے۔ حضور ﷺ اس وقت مکہ کے بالائی حصہ میں تھے، یہ وہاں ہاتھ میں تلوار لیے ہوئے حضور ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے۔ حضور ﷺ نے ان سے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ انھوں نے کہا کہ میں نے یہ بات سنی کہ آپ کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ حضور ﷺ نے پوچھا: تم کیاکرنے لگے تھے؟ انھوں نے کہا کہ آپ کو گرفتار کرنے والوں کو اپنی اس تلوار سے مارنے لگا تھا۔ اس پر حضور ﷺ نے آپ کے لیے اور آپ کی تلوار کے لیے دعا فرمائی۔ اور اُن سے فرمایا کہ واپس لوٹ جائو۔ یہ سب سے پہلی تلوار ہے جو اللہ کے راستہ میں سونتی گئی تھی۔ 2 ابنِ اسحاق سے روایت ہے کہ جنگ ِاُحد کے دن طلحہ بن ابی طلحہ عبدری مشرکوں کا جھنڈا اُٹھائے ہوئے تھا۔ اس نے مسلمانوں کو اپنے مقابلہ پر میدان میں نکلنے کی دعوت دی۔ چناںچہ لوگ ایک دفعہ تو اس کے ڈر کی وجہ سے رک گئے (اس کے مقابلہ کے لیے جانے پر کسی نے ہمت نہ کی)۔ پھر حضرت زُبیر بن عوّام ؓ اس کے مقابلہ کے لیے نکلے اور چھلانگ لگا کر اس کے اُونٹ پر اس کے ساتھ جا بیٹھے (اور اُونٹ پر ہی لڑائی شروع ہوگئی)۔ حضرت زُبیرنے طلحہ کو اوپر سے نیچے زمین پر پھینک کر اسے اپنی تلوار سے ذبح کر دیا۔ حضور ﷺ نے اُن کی تعریف فرمائی اور فرمایا کہ ہر نبی کا کوئی (جاں نثار) حواری ہوا کرتاہے، میرے حواری زُبیر ہیں۔ اور فرمایا: چوںکہ میں نے دیکھا تھا کہ لوگ اس کے مقابلہ میں جانے سے رک گئے تھے اس وجہ سے اگر یہ زُبیر اس کے مقابلہ میں نہ جاتے تو میں خود جاتا۔3 ابنِ اسحاق روایت کرتے ہیں کہ نوفل بن عبد اللہ بن مغیرہ مخزومی نے غزوۂ خندق کے دن دشمن کی صف سے باہر نکل کر مسلمانوں کو اپنے مقابلہ کے لیے نکلنے کی دعوت دی۔ چناںچہ اس کے مقابلہ کے لیے حضرت زُبیر بن عوّام ؓ نکلے اور اس پر تلوار کا ایسا وار کیا کہ اس کے دو ٹکڑے کر دیے۔ اس کی وجہ سے اُن کی تلوار میں دندانے پڑ گئے۔ اور وہ واپس آتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہے تھے: إِنِّي امْرُؤٌ أَحْمِيْ وَأَحْتَمِيْ عَنِ النَّبِيِّ الْمُصْطَفَی الْأُمِّيْ میں ایسا آدمی ہوں کہ (دشمن سے )اپنی بھی حفاظت کرتا ہوں اور نبی امی حضرت مصطفی ﷺ کی بھی حفاظت کرتا ہوں ۔1 حضرت اسماء بنتِ ابی بکرؓ فرماتی ہیں کہ ایک مشرک ہتھیار لگائے ہوئے آیا اور ایک اونچی جگہ چڑھ کر کہنے لگا کہ میرے مقابلے کے لیے کون آئے گا؟حضورﷺنے لوگوں میں سے ایک آدمی سے کہا: کیا تم اس کے مقابلے کے لیے جائو گے؟اس آدمی نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپ کی منشا ہو تو (میں جانے کے لیے تیار ہوں)۔ حضرت زُبیرؓ (حضور ﷺ کے چہرہ کی طرف) جھانک کر دیکھنے لگے۔حضور ﷺ نے اُن کی طرف دیکھا اور ان سے فرمایا: (میری پھوپھی) صفیہ کے بیٹے! تم (مقابلہ کے لیے) کھڑے ہو جائو۔ حضرت زُبیر اس کی طرف چل پڑے اور جا کر اس کے برابر کھڑے ہو گئے۔ پھر دونوں ایک دوسرے پر تلوار کے وار کرنے لگے۔ پھر دونوں آپس میں گتھم گتھا ہوگئے۔ پھر دونوں نیچے کو لڑھکنے لگے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: جو بھی گڑھے میں پہلے گرے گا وہی مارا جائے گا۔ چناںچہ حضور ﷺ نے اور مسلمانوں نے (حضرت زُبیر کے لیے) دعا کی۔ چناںچہ وہ کافر (گڑھے میں) پہلے گرا، پھر حضرت زُبیر اس کے سینے پر جا گرے اور انھوں نے اسے قتل کر دیا۔2 حضرت عبد اللہ بن زُبیر ؓ فرماتے ہیں کہ غزوۂ خندق کے دن مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ قلعہ میں رکھا گیا اور میرے ساتھ عمر بن ابی سلمہ بھی تھے (یہ دونوں بچے تھے)۔ وہ میرے سامنے جھک کر کھڑے ہو جاتے اور میں اُن کی کمر پر چڑھ کر (قلعہ سے باہر لڑائی کا منظر) دیکھنے لگ جاتا۔ چناںچہ میں نے اپنے والد کو دیکھا کہ وہ کبھی یہاں حملہ کرتے اور کبھی وہاں۔ جو چیز بھی اُن کے سامنے آتی وہ لپک کر اس کی طرف جاتے۔ شام کو جب وہ ہمارے پاس قلعہ میں آئے تو میں نے کہا: اے ابا جان !آج آپ جو کچھ کرتے رہے میں اسے دیکھتا رہا۔ انھوں نے کہا: اے میرے بیٹے! کیا تم نے مجھے دیکھا؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔1 حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ نے غزوۂ یرموک کے دن حضرت زُبیرؓ سے کہا: کیا تم (کافروں پر )حملہ نہیں کرتے ہو تاکہ ہم بھی تمہارے ساتھ حملہ کریں؟ حضرت زُبیرنے کہا: اگر میں نے حملہ کیا تو تم اپنی بات پوری نہیں کر سکو گے اور میرا ساتھ نہیں دے سکو گے۔ انھوں نے کہا: ہم ایسا نہیں کریں گے (بلکہ آپ کا ساتھ دیں گے)۔ چناںچہ حضرت زُبیر نے کافروں پر اس زور سے حملہ کیا کہ اُن کی صفوں کو چیرتے ہوئے دوسری طرف نکل گئے اور صحابہ میں سے کوئی بھی اُن کے ساتھ نہیں تھا۔ پھر وہ اسی طرح دشمن کی صفوں کو چیرتے ہوئے واپس آئے تو کافروں نے اُن کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر اُن کے کندھے پر تلوار کے دو ایسے وار کیے جو اُن کو جنگِ بدر والے زخم کے دائیں بائیں لگے۔ حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ میں چھوٹا تھا اور ان زخموں کے نشانات میں انگلیاں دے کر کھیلا کرتا تھا اور (غزوۂ یرموک کے) اس دن حضرت عبد اللہ بن زُبیر ؓ بھی اُن کے ساتھ تھے اور اُن کی عمر اس وقت دس سال تھی۔ اور حضرت زُبیرنے اُن کو ایک گھوڑے پر سوار کر کے ایک آدمی کے سپرد کر دیا تھا۔ 2 ’’البدایۃ‘‘ میں اس جیسی روایت ہے جس میں یہ ہے کہ حضراتِ صحابہ ؓ دوبارہ وہی درخواست لے کر حضرت زُبیر کے پاس آئے تو انھوں نے وہی کارنامہ کر دکھایا جو پہلے دکھایا تھا۔ 3