صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا

بیرَِ معُونہ کا دن

حضرت مغیرہ بن عبد الرحمن اور حضرت عبد اللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم وغیرہ دیگر حضرات اہلِ علم فرماتے ہیں کہ نیزہ بازی کا ماہر ابو براء عامر بن مالک بن جعفر مدینہ حضور ﷺ کی خد مت میں آیا۔ حضور ﷺ نے اس کے سامنے اِسلام پیش فرمایا اور اسے اِسلام کی دعوت دی تو نہ تو وہ اِسلام لایا اور نہ اِسلام سے دوری کو ظاہر کیا۔ اور اس نے کہا: اے محمد! اگر آپ اپنے چند صحابہ نجد والوں کے پاس بھیج دیں اور وہ اُن کو آپ کے دین کی دعوت دیں تو مجھے اُمید ہے کہ وہ آپ کی بات مان لیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اپنے صحابہ کے بارے میں نجد والوں کی طرف سے خطرہ ہے۔ ابو براء نے کہا: میں ان لوگوں کو پناہ دیتا ہوں آپ انھیں بھیج دیں تاکہ وہ لوگوں کو آپ کے دین کی دعوت دیں۔ چناںچہ حضور ﷺ نے بنو ساعدہ کے منذر بن عمرو کو جن کا لقب اَلْمُعْنِقْ لِیَمُوْتَ تھا (اس کا ترجمہ ہے: موت کی طرف جلدی سے لپکنے والا) اپنے صحابہ میں سے ستّر بہترین مسلمانوں کے ساتھ بھیجا۔ جن میں حضرت حارث بن صِمّہ، بنو عدی بن نجار کے حضرت حرام بن مِلْحان، حضرت عروہ بن اسماء بن صلت سلمی، حضرت نافع بن بدیل بن ورقاء خزاعی، حضرت ابو بکر کے غلام حضرت عامر بن فہیرہ ؓ اور دیگر بہت سے بہترین مسلمان تھے۔ یہ حضرات مدینہ سے چل کر بیر معونہ پہنچے۔ یہ کنواں بنو عامر کی زمین اور بنو سُلَیم کے پتھریلے میدان کے درمیان ہے۔ ان حضرات نے جب یہاں پڑائو ڈال لیا تو حضرت حرام بن مِلْحان کو حضور ﷺ کا خط دے کر عامر بن طفیل کے پاس بھیجا۔ حضرت حرام عامر کے پاس پہنچے تو اس نے خط کی طرف دیکھا ہی نہیں بلکہ حضرت حرام پر حملہ کر کے انھیں شہید کر دیا۔ پھر اس نے حضرات صحابۂ کرام ؓ کے خلاف بنو عامر قبیلہ سے مدد مانگی، لیکن اس کی بات ماننے سے بنو عامر نے اِنکار کر دیا اور یہ کہہ دیا کہ ابو براء ان مسلمانوں کو پناہ دے چکا ہے ہم اس کے معاہدہ کو توڑنا نہیں چاہتے ہیں۔ پھر عامر نے بنو سُلَیم کے قبائل عُصَیَّہ اور رِعل اور ذکو ان سے ان حضرات کے خلاف مدد مانگی۔ انھوں نے اس کی بات مان لی۔ چناںچہ یہ تمام قبائل اِکٹھے ہو کر آئے اور جہاں مسلمانوں نے پڑائو ڈالا ہوا تھا وہاں آکر سب طرف سے مسلمانوں کو گھیر لیا۔ جب مسلمانوں نے ان قبائل کو دیکھا تو انھوں نے اپنی تلواریں نکال لیں اور ان کافروں سے لڑنا شروع کر دیا یہاں تک کہ سب کے سب ہی شہید ہوگئے۔ اللہ ان حضرات پر رحم فرمائے! بس بنو دینار بن نجار کے حضرت کعب بن زید ہی زندہ بچے۔ ابھی ان میں جان باقی تھی کہ کافر انھیں چھوڑ کر چلے گئے۔ انھیں مقتولین کے درمیان سے اُٹھا کر لایا گیا۔ اس کے بعد یہ زندہ رہے اور جنگِ خندق کے دن یہ شہید ہوئے۔ اور حضرت عمرو بن اُمیّہ ضَمْرِی اور قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے ایک اَنصار ی صحابی یہ دو حضرات مسلمانوں کے جانور لے کر چرانے گئے ہوئے تھے۔ انھیں مسلمانوں کے شہید ہو نے کا پتہ اس طرح چلا کہ انھوں نے دیکھا کہ جہاں مسلمانوں نے پڑائو ڈالا تھا مردار خور پرندے اُڑ رہے ہیں اور آسمان میں چکر لگا رہے ہیں۔ تو ان حضرات نے کہا: اللہ کی قسم! ان پرندوں کے یوں آسمان میں چکر لگانے میں ضرور کوئی بات ہے۔ وہ دونوں حضرات دیکھنے کے لیے آئے، آکر دیکھا تو سارے مسلمان خون میں لت پت تھے اور جن گھوڑے سواروں نے ان مسلمانوں کو قتل کیا تھا وہ وہاں کھڑے تھے۔یہ حالت دیکھ کر اَنصاری صحابی نے حضرت عمرو بن اُمیّہ سے کہا: تمہارا کیا خیال ہے؟ حضرت عمرو نے کہا: میرا خیال یہ ہے کہ ہم جا کر حضور ﷺ کو اس واقعہ کی خبر کریں۔ اَنصاری نے کہا کہ میں تو جان بچانے کے لیے اس جگہ کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا ہوں، جہاں حضرت منذر بن عمرو (جیسے آدمی) کو شہید کردیا گیا ہو۔ اور میں یہ نہیں چاہتا کہ میں زندہ رہوں اور لوگوں کو اُن کی شہادت کی خبر سناتا رہوں۔ چناںچہ انھوں نے ان کافروں سے جنگ شروع کر دی اور آخرشہید ہو گئے۔ ان کافروں نے حضرت عمرو بن اُمیّہ کو قیدی بنا لیا۔ جب انھوں نے کافروں کو بتایا کہ وہ قبیلہ مُضَر کے ہیں تو عامر بن طفیل نے اُن کو چھوڑ دیا اور ان کی پیشانی کے بال کاٹ دیے اور عامر کی ماں کے ذمہ ایک غلام آزاد کرنا تھا تو اس نے اپنی ماں کی طرف سے ان کو آزاد کر دیا۔1 حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت اُمّ سُلَیم ؓ کے بھائی حضرت حرام ؓ کو ستّر سواروں کی جماعت کے ساتھ بھیجا۔ (اس علاقہ کے) مشرکوں کے سردار عامر بن طفیل نے حضور ﷺ کو تین باتوں میں سے ایک بات اختیار کرنے کا موقع دیا تھا۔ اور اس نے کہا کہ یا تو دیہات والے آپ کے ہو جائیں اور شہروں والے میرے، یا پھر آپ کے بعد مجھے آپ کا خلیفہ بنایا جائے، یا پھر میں غَطَفان کے ہزاروں آدمی لے کر آپ سے جنگ کروں گا۔ عامر اُمّ فلاں ایک عورت کے گھر میں تھا وہ وہاں طاعون میں مبتلا ہو گیا۔ اس نے کہا: مجھے تو طاعون کا ایسا پھوڑا نکلا ہے جیسے اُونٹ کے نکلتا ہے۔ آلِ فلاں کی عورت کے گھر میں (سفر کی حالت میں ایک معمولی عورت کے گھر میں بے کسی وبے بسی کی موت کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہوئے کہا:) میرا گھوڑا لائو۔ اس پر سوار ہوکر چلا اور گھوڑے کی پشت پر ہی اس کی موت ہوئی۔ حضرت اُمّ سلیم کے بھائی حضرت حرام اور ایک اور لنگڑ ے صحابی اور بنوں فلاں کے ایک آدمی یہ تینوں حضرات چلے۔ حضرت حرامؓ نے دونوں ساتھیوں سے کہا کہ میں ان لوگوں کے پاس جاتا ہوں تم دونوں ذرا قریب رہنا۔ اگر ان لوگوں نے مجھے امن دے دیا تو تم قریب ہی ہوگے، اور اگر انھوں نے مجھے قتل کر دیا تو اپنے ساتھیوں کے پاس چلے جانا۔ چناںچہ وہاں جا کر حضرت حرام نے ان لوگوں سے کہا کہ کیا تم لوگ مجھے امن دیتے ہو تاکہ میں رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچا سکوں؟ یہ ان لوگوں سے بات کر رہے تھے کہ انھوں نے ایک آدمی کو اشارہ کیا جس نے پیچھے سے آ کر ان کو نیزہ مارا۔ ہمام راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ آگے یہ الفاظ تھے کہ ایسا نیزہ مارا جو کہ پار ہوگیا۔ یہ دیکھ کر حضرت حرام نے فرمایا کہ ربّ ِکعبہ کی قسم! میں تو کامیاب ہوگیا۔ یہ دیکھ کر حضرت حرام کے دونوں ساتھی مسلمانوں سے جا ملے اور لنگڑے صحابی کے علاوہ باقی تمام ساتھی شہید کر دیے گئے اور وہ لنگڑے صحابی ایک پہاڑ کی چوٹی پر چڑھے ہوئے تھے۔ ان شہید ہونے والوں کے بارے میں ہمارے سامنے یہ آیت نازل ہوئی جو بعد میں منسوخ کر دی گئی: إِنَّا لَقَدْ لَقِیْنَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا۔ بے شک ہم اپنے ربّ سے جا ملے، وہ ہم سے راضی ہوا اور اس نے ہمیں راضی کیا ۔ چناںچہ نبی کریم ﷺ نے تیس دن رِعل اور ذکوان اور بنو لِحیان اور عُصَیَّہ قبیلوں کے خلاف بد دعا فرمائی۔ یہ قبیلے وہ ہیں جنھوں نے اللہ ا ور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی۔1 ’’بخاری ‘‘میں ہے کہ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب اُن کے ماموں حضرت حرام بن ملحان ؓکو بیرِ معونہ کے دن نیزہ مارا گیا تو وہ اپنا خون لے کر اپنے منہ اور سر پر ڈالنے لگے، پھر فرمایا: ربّ ِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہوگیا۔ اور واقدی نے بیان کیا ہے کہ جس آدمی نے حضرت حرام ؓکو نیزہ مارا تھا وہ جبار بن سُلَمِیکلابی ہیں۔ جب جبار نے پوچھا کہ (حضرت حرام تو قتل ہو رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ) میں کامیاب ہو گیا، اس جملہ کا کیا مطلب ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ جنت ملنے کی کامیابی ہے۔ پھر جبار نے کہا: اللہ کی قسم! حضرت حرام نے سچ فرمایا اور یہ جبار اسی وجہ سے اس کے بعد مسلمان ہوگئے ۔ 1