صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا

صحابۂ کرام ؓ کا اللہ کے راستے میں مرنے اور جان دینے کا شوق

حضرت سلیمان بن بلال ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺ بدر کے لیے تشریف لے جانے لگے تو حضرت سعد بن خیثمہؓ اور اُن کے والد حضرت خیثمہؓ دونوں نے حضور ﷺ کے ساتھ جانے کا ارادہ کیا۔ چناںچہ حضور ﷺ کے سامنے اس کا تذ کرہ ہوا تو آپ نے فرمایا: دونوں میں سے ایک جائے (چوں کہ رُکنے پر کوئی راضی نہیں ہے اس لیے) دونوں قرعہ ڈال لو۔ حضرت خَیثمہ بن حارث نے اپنے بیٹے سعد سے کہا: اب ہم دونوں میں سے ایک کا یہاں رہنا تو ضروری ہوگیا ہے، لہٰذا تم اپنی عورتوں کے پاس ٹھہر جائو۔ حضرت سعد نے کہا کہ اگر جنت کے علاوہ کوئی اور چیز ہوتی تو میں (حضور ﷺ کے ساتھ جانے میں) آپ کو اپنے سے آگے رکھتا۔ میں اپنے اس سفر میں شہادت کی اُمید لگائے ہوئے ہوں۔ چناںچہ دونوں نے قرعہ اندازی کی جس میں حضرت سعدکا نام نکل آیا۔ چناںچہ حضرت سعد حضور ﷺ کے ساتھ بدر گئے اور عمرو بن عبدِ وَد نے اُن کو شہید کیا ۔ 1 حضرت محمد بن علی بن حسین فرماتے ہیں کہ جب جنگِ بدر کے دن عتبہ نے اپنے مقابلہ کے لیے (مسلمانوں کو) للکارا تو حضرت علی بن ابی طالب ؓ ولید بن عتبہ کے مقابلہ کے لیے کھڑے ہوئے۔ یہ دونوں نوجوان برابر کے جوڑ والے تھے۔ راوی نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے ہتھیلی کو زمین کی طرف اُلٹا کر بتایا کہ اس طرح حضرت علی نے ولید کو قتل کرکے زمین پر گرا دیا۔ پھر کافروں میں سے شیبہ بن ربیعہ باہر نکلا، اس کے مقابلہ کے لیے حضرت حمزہ ؓ کھڑے ہوئے۔ یہ دونوں بھی برابر کے جوڑ والے تھے۔ اور اس دفعہ پہلے سے بھی زیادہ اُونچا اشارہ کر کے بتایا کہ حضرت حمزہ نے شیبہ کو قتل کر کے زمین پر گرا دیا۔ پھر کافروں کی طرف سے عتبہ بن ربیعہ کھڑا ہوا، اس کے مقابلہ کے لیے حضرت عبیدہ بن حارث ؓ اٹھے۔ وہ دونوں ان دو ستو نوں کی طرح تھے۔ دونوں نے ایک دوسرے پر تلوار کے وار کیے۔ چناںچہ حضرت عبیدہ نے عتبہ کو اس زور سے تلوار ماری کہ اس کا بایا ں کندھا لٹک گیا۔ پھر عتبہ نے قریب آکر حضرت عبیدہ کی ٹانگ پر تلوار کا وار کیا جس سے اُن کی پنڈلی کٹ گئی۔ یہ دیکھ کر حضرت حمزہ اور حضرت علی دونوں عتبہ کی طرف لپکے اور اس کا کام تمام کر دیا۔ اور وہ دونوں حضرت عبیدہ کو اُٹھا کر حضور ﷺ کی خدمت میں چھپّر میں لے آئے۔ حضور ﷺ نے اُن کو لٹایا اور اُن کا سر اپنی ٹانگ پر رکھا اور اُن کے چہرے سے غبار صاف کر نے لگے۔ حضرت عبیدہ نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! اگر ابو طالب مجھے اس حال میں دیکھ لیتے تو وہ یقین کر لیتے کہ میں اُن کے اس شعر کا اُن سے زیادہ حق دار ہوں (جو انھوں نے حضور ﷺ کی حمایت میں کہاتھا): وَنُسْلِمْہٗ حَتّٰی نُصَرَّعَ حَوْلَہٗ وَنَذْھَلَ عَنْ أَبْنَائِ نَا وَالْحَلَا ئِلِ ہم اپنے بیوی بچوں سے غافل ہو کر ان کی حفاظت میں آخر دم تک لگے رہیں گے، یہاں تک کہ ہم زخمی ہو کر ان کے ارد گرد زمین پر پڑے ہوئے ہوں گے۔ (اور ساتھ ہی یہ عرض کیا) کیا میں شہید نہیں ہوں؟ آپ نے فرمایا: بے شک تم شہید ہو اور میں اس بات میں تمہارا گواہ ہوں۔ پھر حضرت عبیدہ کا انتقال ہو گیا۔ حضور ﷺ نے ان کو وادیٔ صفرا میں دفن فرمایا، اور آپ ان کی قبر میں اترے اور (اس سے پہلے) آپ کسی اور کی قبر میں نہیں اترے تھے ۔1 حضرت زُہری کہتے ہیں کہ عتبہ اور حضرت عبیدہ ؓ نے ایک دوسرے پر تلوار کے وار کیے اور ہر ایک نے اپنے مقابل کو سخت زخمی کیا۔ یہ دیکھ کر حضرت حمزہ اور حضرت علی دونوں عتبہ پر جھپٹے اور اس کو قتل کیا اور دونوں نے اپنے ساتھی حضرت عبیدہ کو اٹھایا اور ان کو حضور ﷺ کی خدمت میں لے آئے۔ ان کی ٹانگ کٹ چکی تھی، اس میں سے گودا بہہ رہا تھا۔ جب وہ حضرت عبیدہ کو حضور ﷺ کی خدمت میں لے آئے تو حضرت عبیدہ نے کہا: یا رسول اللہ! کیا میں شہید نہیں ہوں؟ حضور ﷺ نے فرمایا: کیوں نہیں؟ تم یقینًا شہید ہو۔ حضرت عبیدہ ؓ نے کہا کہ اگر ابو طالب آج زندہ ہوتے تو وہ یقین کر لیتے کہ میں اُن کے اس شعر کا ان سے زیادہ حق دار ہوں: وَنُسْلِمُہٗ حَتّٰی نُصَرَّعَ حَوْلَہٗ وَنَذْھَلَ عَنْ أَبْنَائِ نَا وَالْحَلَاَ ئِلِ2