صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا

اللہ کے راستہ میں نکل کر خرچ کرنا

حضرت ابو مسعود اَنصاری ؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نکیل پڑی ہوئی اُونٹنی لے کر آیا اور حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ (یا رسول اللہ!) یہ اُونٹنی اللہ کے راستہ میں (دیتا ہوں)۔ حضور ﷺ نے فرمایا: تمہیں قیامت کے دن اس کے بدلے میں ایسی سات سو اُونٹنیاں ملیں گی کہ ان سب کی نکیل پڑی ہوئی ہوگی ۔ 2 حضرت عبد اللہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو ذر ؓ کے ساتھ تھا۔ اُن کو سالانہ و ظیفہ ملا۔ اُن کے ساتھ ان کی ایک باندی تھی وہ ان کی ضرورتیں پوری کرنے لگ گئی اور ان میں وہ مال خرچ کرنے لگ گئی۔ اس کے پاس سات درہم بچ گئے۔ حضرت ابو ذر نے اسے حکم دیا کہ ان کے پیسے بنوا لو۔ میں نے ان سے عرض کیا: اگر آپ ان سات درہموں کو آیندہ پیش آنے والی ضرورت کے لیے یا اپنے کسی آنے والے مہمان کے لیے رکھ لیتے (تو زیادہ اچھا تھا)۔ حضرت ابو ذر نے کہا کہ میرے خلیل یعنی حضور ﷺ نے مجھے یہ وصیت فرمائی ہے کہ جو سونا یا چاندی کسی تھیلے وغیرہ میں باندھ کر رکھ لیا جائے گا تو وہ اپنے مالک کے لیے اَنگارہ ہوگا جب تک کہ اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہ کر دے۔ اِمام احمد اور طبرانی کی روایت میں یہ ہے کہ جو سونے چاندی کو باندھ کر رکھے اور اسے اللہ کے راستہ میں خرچ نہ کرے تو قیامت کے دن یہ سونا چاندی آگ کا اَنگارہ بن جائے گا جس سے اسے داغا جائے گا۔یہ الفاظ طبرانی کے ہیں۔ 3 حضرت قیس بن سلع اَنصاری ؓ کے بھائیوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں آکر ان کی شکایت کی اور یہ کہاکہ یہ اپنا مال فضول خرچ کرتے ہیں اور ان کا ہاتھ بہت کھلا ہے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کھجوروں میں سے اپنا حصہ لے لیتا ہوں اور اس کو اللہ کے راستہ میں اور اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہوں۔ حضور ﷺ نے اُن کے سینے پر ہاتھ مارا اور تین مرتبہ فرمایا: تم خرچ کرو، ا للہ تعالیٰ تم پر خرچ کریں گے۔ا س کے بعد جب میں اللہ کے راستہ میں نکلا تو میرے پاس سواری کا اُونٹ بھی تھا۔ اور آج تو میں اپنے خاندان میں سب سے زیادہ مال دار ہوں (یعنی اللہ کے راستہ میں خرچ کرنے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ان بھائیوں سے بھی زیادہ مال دے رکھا ہے)۔1 حضرت معاذ بن جبل ؓ فرماتے ہیں کہ حضورِ اَقدس ﷺ نے فرمایا: اس شخص کے لیے خوش خبری ہو جو اللہ کے راستہ میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرے، کیوںکہ اسے ہر کلمہ کے بدلہ ستّر ہزار نیکیاں ملیں گی، اور ان میں سے ہر نیکی دس گنا ہوگی، اور اس کے علاوہ مزید بھی اللہ کے ہاں اسے ملے گا۔ حضور ﷺ سے پوچھا گیا: یا رسول اللہ! اور خرچہ (کا کیا ثواب ہوگا)؟ آپ نے فرمایا: خرچ کا ثواب بھی اتنا ہی ہوگا۔ حضرت عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت معاذ سے کہا: خرچ کا ثواب تو سات سو گنا ہے۔ حضرت معاذ نے فرمایا: تیری سمجھ تو تھوڑی ہے۔ یہ ثواب تو اس وقت ملتا ہے جب آدمی خود اپنے گھر ٹھہرا ہوا ہو اور غزوہ میں نہ گیا ہو اور (دوسروں پر) خرچ کیا ہو۔ جب آدمی خود غزوہ میں جاکر خرچ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اپنی رحمت کے وہ خزانے چھپا رکھے ہیں جن تک بندوں کا علم پہنچ نہیں سکتا اور نہ بندے اُن کا وصف بیان کر سکتے ہیں، یہی لوگ اللہ کی جماعت ہیں اور اللہ کی جماعت ہی غالب آکر رہتی ہے۔ 2 حضرت علی، حضرت ابو در داء، حضرت ابو ہریرہ، حضرت ابو اُمامہ، حضرت ابنِ عمرو بن العاص، حضرت جابراور حضرت عمران بن حصین ؓ فرماتے ہیں کہ حضورِ اَقدس ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی اللہ کے راستہ میں خرچ بھیج دے اور خود اپنے گھر ٹھہرا رہے تو اسے ہر درہم کے بدلے سات سو درہم کا ثواب ملے گا۔اور جو خود اللہ کے راستہ میں غزوہ کے لیے جائے اور اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرے تو اس کو ہر درہم کے بدلے سات لاکھ درہم کا ثواب ملے گا۔ پھر حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی : {وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآئُ} 1 اور اللہ بڑھاتا ہے جس کے واسطے چاہے۔2 اور صفحہ ۵۵۳ پر حضورِ اَقدس ﷺ کے جہاد میں جان لگانے اور مال خرچ کرنے کے لیے ترغیب دینے کے باب میںگزر چکا ہے کہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت طلحہ، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت عباس، حضرت سعد بن عبادہ، حضرت محمد بن مسلمہ اور حضرت عاصم بن عدی ؓ نے کتنا کتنا خرچ کیا۔ اور صحابۂ کرام ؓ کے خرچ کرنے کے باب میں یہ قصے اور تفصیل سے آئیں گے۔