صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا
اللہ کے راستہ میں نکل کر خدمت کرنا
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضورِ اَقدس ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ہم لوگوں میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا تھا اور کچھ بغیر روزے کے تھے۔ ہم لوگوں نے ایک جگہ پڑائو ڈالا۔ اس دن گرمی بہت زیا دہ تھی۔ ہم میں سب سے زیادہ سایہ والا وہ تھا جس نے چادر سے سایہ کیا ہوا تھا، بعض لوگ اپنے ہاتھ کے ذریعہ دھوپ سے بچائو کر رہے تھے۔ پڑائو ڈالتے ہی روزے دار تو گر گئے اور جن کا روزہ نہیں تھا انھوں نے کھڑے ہوکر خیمے لگائے اور سواریوں کو پانی پلایا۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا: جنھوں نے روزہ نہیں رکھا وہ آج سارا ثواب لے گئے۔3
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضورِ اَقدس ﷺ کے ساتھ تھے۔ ہم میں سے سب سے زیادہ سائے والا وہ تھا جو اپنی چادر سے سایہ کر رہا تھا۔ جنھوں نے روزہ رکھا ہوا تھا وہ تو کچھ نہ کرسکے اور جنھوں نے روزہ نہیں رکھا تھا انھوں نے سواریوں کو (پانی پینے اور چرنے کے لیے) بھیجا اور خدمت والے کام کیے اور مشقت والے بھاری بھاری کام کیے۔ یہ دیکھ کر حضور ﷺ نے فرمایا: جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا وہ آج سارا ثواب لے گئے۔ 1
حضرت ابو قِلابہؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے کچھ صحابہ ؓ ایک سفر سے واپس آکر اپنے ایک ساتھی کی بڑی تعریف کرنے لگے۔ چناںچہ انھوں نے کہا کہ ہم نے فلا نے جیسا کوئی آدمی کبھی نہیں دیکھا۔ جب تک یہ چلتے رہتے قرآن پڑھتے رہتے اور جب ہم کسی جگہ پڑائو ڈالتے تو یہ اُتر تے ہی نماز شروع کر دیتے۔ آپ نے پو چھا: اس کے کام کاج کون کرتا تھا؟ بہت سی باتیں اور پوچھیں اور یہ بھی پوچھا کہ اس کے اُونٹ یا سواری کو چارہ کون ڈالتا تھا؟ ان صحابہ نے عرض کیا: ہم یہ سارے کام کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا: تم سب اس سے بہتر ہو (اس کی خدمت کر کے تم نے اس کے تمام نیک اعمال کا ثواب لے لیا ہے)۔ 2
حضرت سعید بن جُمہان کہتے ہیں: میں نے حضرت سفینہ ؓ سے اُن کے نام کے بارے میں پوچھا کہ یہ نام کس نے رکھا ہے؟ انھوں نے کہا: میں تمہیں اپنے نام کے بارے میں بتاتا ہوں۔ حضورِ اقدس ﷺ نے میرا نام سفینہ رکھا۔ میں نے پوچھا: حضور ﷺ نے آپ کا نام سفینہ کیوں رکھا؟ انھوں نے فرمایا: حضور ﷺ ایک دفعہ سفر میں تشریف لے گئے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ بھی تھے۔ صحابہ کو اپنا سامان بھاری لگ رہا تھا، حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا: اپنی چادر بچھائو۔ میں نے بچھادی۔ حضور ﷺ نے اس چادر میں صحابہ کا سامان باندھ کر اسے میرے اوپر رکھ دیا اور فرمایا : ارے! اسے اٹھا لو، تم تو بس سفینہ یعنی کشتی ہی ہو۔ حضرت سفینہ فرماتے ہیں کہ اگر اس دن میرے اوپر ایک یا دو تو کیا پانچ یا چھ اُونٹوں کا بھی بوجھ رکھ دیا جاتا تو وہ مجھے بھاری نہ لگتا۔3
حضرت اُمّ سَلَمہؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت اَحمر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک غزوہ میں حضور ﷺ کے ساتھ تھے، ایک نالے پر سے ہم لوگوں کا گزر ہوا تو میں لوگوں کو وہ نالہ پار کرانے لگا۔ اسے دیکھ کر حضور ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم تو آج سفینہ (کشتی) بن گئے ہو۔1
حضرت مجاہد کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضرت ابنِ عمر ؓ کے ساتھ تھا۔ جب میں سواری پر سوار ہونے لگتا تو وہ میرے پاس آکر میری رِکاب پکڑ لیتے، اور جب میں سوار ہوجاتا تو وہ میرے کپڑے ٹھیک کر دیتے۔ چناںچہ ایک مرتبہ وہ میرے پاس (اسی کام کے لیے) آئے تو میں نے کچھ ناگواری کا اظہار کیا تو انھوں نے فرمایا: اے مجاہد! تم بڑے تنگ اخلاق ہو۔ 2