نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا
حضور ﷺ کا حضرت عثمان بن عفان ؓ کو دعوت دینا
حضرت عمرو بن عثمان کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ میں اپنی خالہ اَرْوٰی بنتِ عبدالمطّلب کے پاس اُن کی بیمار پُرسی کے لیے گیا۔ کچھ دیر بعد حضورﷺ وہاں تشریف لے آئے۔ میں آپ کو غور سے دیکھنے لگا اور آپ کی نبوت کا تھوڑا بہت تذکرہ اُن دنوں ہوچکا تھا۔ آپ نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے عثمان! تمہیں کیا ہوا؟( مجھے غور سے دیکھ رہے ہو) میں نے کہا :میں اس بات پر حیران ہوں کہ آپ کا ہمارے میں بڑا مرتبہ ہے اور پھر آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہی جارہی ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا:لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔اللہ گواہ ہے کہ میں یہ سن کر کانپ گیا ۔پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: {وَفِی السَّمَآئِ رِزْقُکُمْ وَمَا تُوعَدُوْنَO فَوَ رَبِّ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ اِنَّہٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَا اَنَّکُمْ تَنْطِقُوْنَ O}2
جس کا ترجمہ یہ ہے: اور آسمان میں ہے روزی تمہاری ، اور جو تم سے وعدہ کیا گیا ۔ سو قسم ہے ربّ ِآسمان اور زمین کی کہ یہ بات تحقیق ہے جیسے کہ تم بولتے ہو۔
پھر حضورﷺ کھڑے ہوئے اور باہر تشریف لے گئے۔ میں بھی آپﷺ کے پیچھے چل دیا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر مسلمان ہوا ۔