صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا

حضرت علی بن ابی طالب کرَّمَ اللّٰہُ وَجْہَہٗ وَرَضِيَ اللّٰہُ عَنْہٗ کا جہاد کی ترغیب دینا

حضرت زید بن وہب کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر فرمایا: تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں کہ وہ جسے توڑے اسے کوئی جوڑنہیں سکتا، اور جسے وہ جوڑے اسے سارے توڑنے والے مل کر توڑ نہیں سکتے ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو اُن کی مخلوق میں سے دو آدمیوں میں بھی اختلاف نہ ہوتا، اور نہ ہی پوری اُمت میں کسی بات پر جھگڑا ہوتا، اور نہ ہی کم درجہ والا زیادہ درجہ والے کی فضیلت کا اِنکار کرتا۔ تقدیر نے ہی ہمیں اور اُن لوگوں کو یہاں کھینچ کر اِکٹھا کر دیا ہے۔ اللہ ہماری ہر بات کو دیکھتے اور سنتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو دنیا میں ہی سزا جلد دے دیتے جس سے ایسی تبدیلی آجاتی کہ اللہ تعالیٰ ظالم کے غلط ہونے کو ظاہر فرما دیتے، اور یہ واضح کر دیتے کہ حق کہاں ہے؟ لیکن اللہ تعالیٰ نے دنیا کو دار العمل بنایا ہے اور آخرت کو ہمیشہ اپنے پاس رہنے کی جگہ بنایا ہے۔ چناںچہ اس نے فرمایا ہے: {لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآئُ وْا بِمَا عَمِلُوْْا وَیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْابِالْحُسْنٰی O}2 تاکہ وہ بدلہ دے برائی والوں کو ان کے کیے کا اور بدلہ دے بھلائی والوں کو بھلائی سے۔ غور سے سنو!کل کو تمہارا ان لوگوں سے مقابلہ ہوگا، لہٰذا رات کو ( نماز میں) قیام لمبا کرو، قرآن کی کثرت سے تلاوت کرو، اللہ تعالیٰ سے مدد اور صبر کی توفیق مانگو، اور ان لوگوں سے مقابلہ میں پورا زور لگاؤ اور احتیاط سے کام لو اور سچے اور ثابت قدم رہنا۔ اس کے بعد حضرت علی ؓ تشریف لے گئے۔ 3 حضرت ابو عَمْرہ اَنصاری وغیرہ حضرات بیان کر تے ہیں کہ جنگِ صِفِّین کے دن حضرت علی ؓ نے لوگوں کو ترغیب دی تو فرمایا: اللہ عزّ وجل نے تم لوگوں کو ایسی تجارت بتائی ہے جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے، اور جو تمہیں خیر کے قریب کر دے۔ اور وہ تجارت ہے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان لانا، اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا۔ اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں گناہوں کو معاف کر دیں گے اور جنت ِ عدن میں عمدہ عمدہ محلّات دیں گے۔ پھر میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو اللہ کے راستہ میں صف بناکر اس طرح لڑتے ہیں گویا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں، لہٰذا تم اپنی صفیں اس طرح سیدھی بنا نا جیسے کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوتی ہے۔ اور جن لوگوں نے زِرہ پہن رکھی ہے انھیں آگے رکھنا، اور جنھوں نے نہیں پہن رکھی ہے انھیں پیچھے رکھنا اور مضبوطی سے جمے رہنا ۔1 حضرت ابو وداک ہمدانی کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ نے (کوفہ کے قریب) نُخَیلہ مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ اور خوارج سے نا اُمید ہوگئے تھے تو کھڑے ہو کر انھوں نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا کہ جس نے اللہ کے راستے کا جہاد چھو ڑدیا اور اللہ کے دین میں مداہنت اختیار کی (یعنی دنیا وی اَغراض کی وجہ سے دین میں کسی غلط بات پر راضی ہوگیا) تو وہ ہلاکت کے کنارے پر پہنچ گیا۔ اللہ ہی اپنے فضل سے اسے بچائے تو بچ سکتا ہے، لہٰذا اللہ سے ڈرو۔ ان لوگوں سے جنگ کرو جو اللہ سے دشمنی کرتے ہیں،اور وہ اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں،ا ور وہ خطا کار، گمراہ، ظالم اور مجرم ہیں۔ جو نہ قرآن کو پڑھنے والے ہیں اور نہ دین کی سمجھ رکھتے ہیں اور نہ ہی اُن کے پاس تفسیر کا علم ہے اور نہ ہی وہ اِسلام میں سبقت رکھنے کی وجہ سے اس امرِ (خلافت) کے اہل ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر اُن کو تمہارا والی بنا دیا جائے تو وہ تمہارے ساتھ کسریٰ اور ہِرَقْل والا معاملہ کریں گے، لہٰذا تم اہلِ مغرب کے اپنے دشمنوں سے لڑنے کی تیاری کرو۔ ہم نے تمہارے بصرہ والے بھائیوں کے پاس پیغام بھیجا ہے کہ وہ تمہارے پاس آجائیں، لہٰذا جب وہ آجائیں اور تم سب اِکٹھے ہو جاؤ تو پھر ہم اِن شاء اللہ (خوارج کے مقابلہ کے لیے) نکلیں گے وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہ ِ۔ 2 حضرت زید بن وہب بیان کرتے ہیں کہ جنگِ نہروان کے بعد حضرت علی ؓ نے سب سے پہلے بیان میں فرمایا: اے لوگو! اس دشمن کی طرف جانے کی تیاری کرو جس سے جہاد کرنے میں اللہ کا قرب حاصل ہوگا، اور اللہ کے ہاں بڑا درجہ ملے گا۔ اور یہ لوگ حیران وپریشان ہیں، کیوںکہ حق ان پر واضح نہیں ہے۔ کتابُ اللہ سے ہٹے ہوئے ہیں اور دین سے ہٹے ہوئے ہیں اور سر کشی میں سر گرداں ہیں اور گمراہی کے گڑھے میں اُلٹے پڑے ہوئے ہیں۔ تم قوت کے ذریعہ اور گھوڑوں کے ذریعہ ان کے مقابلہ کی جتنی تیاری کر سکتے ہو ضرور کرو۔ اللہ پر بھروسہ کرو اور اللہ ہی کام بنانے اور مدد کرنے کے لیے کافی ہیں۔ حضرت زیدکہتے ہیں کہ لوگوں نے نہ کوئی تیاری کی اور نہ نکلے تو حضرت علی نے اُن کو چند دن چھوڑے رکھا یہاں تک کہ جب وہ اُن کے کچھ کرنے سے نا اُمید ہوگئے تو اُن کے سر داروں اور بڑوں کو بلا کر اُن کی رائے معلوم کی کہ یہ لوگ دیر کیوں کر رہے ہیں؟ ان میں سے کچھ نے اپنے عذر بیماری وغیرہ کا ذکر کیا اور کچھ نے اپنی مجبوریا ںبتائیں۔ تھوڑے ہی لوگ خوش دلی سے جانے کے لیے تیار ہوئے۔ چناںچہ حضرت علی ؓ اُن میں بیان فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے اللہ کے بندو! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ میں جب تمہیں اللہ کے راستہ میں نکلنے کا حکم دیتا ہوں تو تم بوجھل ہو کر زمین سے لگے جاتے ہو؟ کیا تم آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی پر اور عزّت کے مقابلہ میں ذلت اور خواری پر راضی ہو گئے ہو؟ کیا ہوا؟ جب بھی میں تم سے جہاد میں جانے کا مطالبہ کرتا ہوں تو تمہاری آنکھیں ایسے گھومنے لگ جاتی ہیں جیسے کہ تم موت کی بے ہوشی میں ہو۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے تمہارے دل ایسے بد حواس ہوگئے ہیں کہ تمہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے، اور تمہاری آنکھیں ایسی اندھی ہوگئی ہیں کہ تمہیں کچھ نظر نہیں آرہا ہے۔ اللہ کی قسم! جب راحت وآرام کاموقع ہوتا ہے تو تم شریٰ جنگل کے شیر کی طرح بہادر بن جاتے ہو، اور جب تمہیں لڑنے کے لیے بلایا جاتا ہے تو تم مکاّر لومڑی بن جاتے ہو۔ تم پر سے میرا اعتماد ہمیشہ کے لیے اُٹھ گیا اور تم لوگ ایسے شہ سوار بھی نہیں ہو کہ تمہیں ساتھ لے کر کسی پر حملہ کر دیا جائے۔ اور تم ایسے عزّت والے بھی نہیں کہ تمہاری پناہ حاصل کی جائے۔اللہ کی قسم! تم لڑائی میں بہت کمزور اور بالکل بے کار ہو اور تمہارے خلاف دشمن کی چال کامیاب ہوجاتی ہے اور تم دشمن کے خلاف کوئی چال نہیں چل سکتے ہو۔ تمہارے اَعضا کاٹے جا رہے ہیں اور تم ایک دوسرے کو بچاتے نہیں ہو۔ اور تمہارا دشمن سوتا نہیں ہے اور تم غفلت میں بے خبر پڑے ہوئے ہو۔ جنگ جُو آ دمی تو بیدار او ر سمجھ دار ہوتا ہے، اور جو جھک کر صلح کرتا ہے وہ ذلیل وخوار ہو جاتا ہے۔ آپس میں جھگڑنے والے مغلوب ہوجاتے ہیں اور جو مغلوب ہو جاتا ہے اسے خوب دبایا جاتا ہے اور اس کا سب کچھ چھین لیا جاتا ہے۔ پھر فرمایا: اَما بعد! میرا تم پر حق ہے اور تمہارا مجھ پر حق ہے۔ تمہارا حق مجھ پر یہ ہے کہ جب تک میں تمہارے ساتھ رہوں تمہارا بھلا چاہتا رہوں اور تمہارا مالِ غنیمت بڑھاتا رہوں اور تمہیں سکھاتا رہوں تاکہ تم جاہل نہ رہو، اور تمہیں ادب اور اخلاق سکھاتا رہوں تاکہ تم سیکھ جاؤ۔ اور میرا تمہارے اوپر حق یہ ہے کہ تم میری بیعت کو پورا کرو، میرے سامنے اور میرے پیچھے میرے خیر خواہ بن کر رہو، اور جب میں تمہیں بلاؤں تو تم میری آواز پر لبیک کہو، اور جب میں تمہیں کوئی حکم دوں تو تم اسے پورا کرو۔ اور اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھلائی کا اِرادہ فرما رہے ہیں تو اُن کاموںکو چھوڑ دوجو مجھے پسند نہیں ہیں، اور اُن کاموں کی طرف لوٹ آؤ جو مجھے پسند ہیں۔ اس طرح تم جو کچھ چاہتے ہو اسے پالو گے، اور جن چیزوں کی اُمید لگائے بیٹھے ہو انھیں حاصل کر لو گے۔ 1 حضرت عبد الواحد دِمشقی بیان کرتے ہیں کہ جنگِ صِفِّین کے دن حَوشَب حِمْیرِی نے حضرت علی ؓکو پکار کر کہا: اے ابو طالب کے بیٹے! آپ ہمارے ہاں سے واپس چلے جائیں۔ ہم آپ کو اپنے اور آپ کے خون کے بارے میں اللہ کا واسطہ دیتے ہیں ( کہ آپ جنگ کا اِرادہ ترک کر دیں)۔ ہم آپ کے لیے عراق چھوڑ دیتے ہیں آپ ہمارے لیے شام چھوڑ دیں اور اس طرح مسلمانوں کے خون کی حفاظت کر لیں۔ حضرت علی نے فرمایا: اے اُمّ ظُلَیم کے بیٹے! ایسا کہاں ہو سکتا ہے؟ اللہ کی قسم! اگر مجھے معلوم ہوتا کہ اللہ کے دین میں مداہنت کرنے کی گنجایش ہے تو میں ضرور کرلیتا اور اس طرح میری مشکلات آسان ہو جاتیں، لیکن اللہ تعالیٰ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ جب اللہ کی نافرمانی ہو رہی ہو اور قرآن والے اس سے روکنے کی اور غلبۂ دین کے لیے جہاد کرنے کی طاقت رکھتے ہوں اور پھر قرآن والے خاموش رہیں اور مداہنت سے کام لیں۔1