صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا
حضرت عمر ؓ کا جہاد اور نفر فی سبیل اللہ کے لیے ترغیب دینا اور اس بارے میں ان کا صحابہ سے مشورہ فرمانا
حضرت قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ حضرت مثنیٰ بن حارثہ ؓ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: اے لوگو! فارس کی طرف جانے کو تم لوگ مشکل اور بھاری کام نہ سمجھو۔ ہم نے فارس کی سر سبز اور شاداب زمین پر قبضہ کرلیا ہے۔ اور عراق کے دو ٹکڑوں میں سے بہتر ین ٹکڑا ہم نے اُن سے لے لیا ہے، اور ہم نے اُن سے آدھا ملک لے لیا ہے، اور ہم نے اُن کو خوب نقصان پہنچایا ہے، اور ہمارے آدمی اُن پر جری ہو گئے ہیں، اور اِن شاء اللہ بعد والا علاقہ بھی ہمیں مل جائے گا۔ پھر حضرت عمر نے لوگوں میں کھڑے ہوکر فرمایا: سر زمینِ حجاز تمہارے رہنے کی اصلی جگہ نہیں ہے، وہ تو تمہیں جہاں گھاس ملتا ہے وہاں جا کر تم کچھ دن رہ لیتے ہو۔ اور حجاز والے اس سر زمین میں اسی طرح ہی گزارا کر سکتے ہیں۔ جو مہاجرین اللہ کے دین کے لیے ایک دم دوڑکر آیا کرتے تھے اور آج اللہ کے وعدے سے کہاں دور جا پڑے ہیں؟ تم اس سر زمین میں جہاد کے لیے چلو جس کے بارے میں اللہ نے تم سے (قرآن میں ) وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہیں اس زمین کا وارث بنائے گا، کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
{لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ}1
تاکہ اللہ اپنے دین کو تمام دینوں پر غالب کردے۔
اور اللہ اپنے دین کو ضرور غالب کریں گے اور اپنے مددگار کو عزّت دیں گے اور اپنے دین والوں کو تمام قوموں کی میراث کا وارث بنائیں گے۔اللہ کے نیک بندے کہاں ہیں ؟
اس دعوت پر سب سے پہلے حضرت ابوعبید بن مسعود ؓ نے لبیک کہی، پھر سعد بن عبید یاسَلِیْط بن قیس ؓ نے ( یوں ایک ایک کر کے بڑا لشکر تیار ہو گیا)۔ جب یہ تمام حضرات جمع ہوگئے تو حضرت عمرسے کہا گیا کہ مہاجرین اور اَنصار میں سے کسی پرانے کو اُن کا امیر بنا دیں۔ فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم! (آج) میں ایسے نہیں کروں گا، کیوںکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بلندی اس وجہ سے دی تھی کہ تم ہر نیکی میں سبقت کر تے تھے اور دشمن کی طرف تیزی سے چلتے تھے، لہٰذا جب تم بزدل بن گئے ہو اور دشمن سے مقابلہ تمہیں برا لگنے لگا ہے تو اب تم سے زیا دہ امیر بننے کا حق دار وہ آدمی ہے جو دشمن کی طرف جانے میں سبقت لے جائے اور جانے کی دعوت کو پہلے قبول کرے۔ لہٰذا میں ان کا امیر اسی کو بنا ؤ ں گا جس نے ( میری دعوت پر) سب سے پہلے لبیک کہی تھی۔
پھر حضرت ابو عبید ؓ، حضرت سَلِیْط اور حضرت سعد ؓ کو بلاکرکہا: تم دونوں اگر (دعوت پر لبیک کہنے میں ) ابو عبید سے سبقت لے جاتے تو میں تم دونوں کو امیر بنا دیتا۔ پرانے ہونے کی صفت تو تمہیں حاصل ہے ہی، اس طرح تمہیں اِمارت بھی مل جاتی۔ چناںچہ حضرت عمر نے اس لشکر کا حضرت ابو عبیدکو امیر بنایا اور ان سے فرمایا: نبی کریم ﷺ کے صحابہ کی بات ضرور سننا اور ان کو مشورہ میں شریک رکھنا اور جب تک تحقیق کر کے تسلی نہ کر لو کسی کام کے فیصلہ میں جلد بازی سے کام نہ لینا، کیوںکہ یہ جنگ ہے اس میں وہی آدمی ٹھیک چل سکتا ہے جو سنجیدہ، دِھیما اور موقع شناس ہو، اسے معلوم ہو کہ کب دشمن پر حملہ کرنا چاہیے اور کب رُک جانا چاہیے۔ 2
شعبی نے اس حدیث کو یوں بیان کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ سے کہا گیا کہ ان کا امیر ایسے آدمی کو بنائیں جسے حضور ﷺ کی (قدیمی) صحبت حاصل ہو۔ حضرت عمر نے فرمایا: (پرانے) صحابہ کو فضیلت اس وجہ سے حاصل تھی کہ وہ دشمن کی طرف تیزی سے جاتے تھے اور منکرینِ اسلام کے لیے کافی ہو جا تے تھے۔ لہٰذا اگر اب کوئی اور ان کی یہ خصو صی صفات اختیار کرلے اور ان جیسے کارنامے انجام دینے لگ جائے اور خود (پرانے) صحابہ ڈھیلے اور سست پڑجائیں تو ہلکے ہوں یا بھاری ہر حال میں نکلنے والے (دوسرے) لوگ اس اِمارت کے صحابہ سے زیادہ حق دار ہو جائیں گے۔ اس لیے اللہ کی قسم! میں ان کا امیر اسے بناؤں گا جس نے دعوت پر سب سے پہلے لبیک کہی تھی۔ چناںچہ حضرت ابو عبید کو امیر بنایا اور انھیں ا پنے لشکر کے بارے میں ہدایات دیں۔ 1
حضرت عمر بن عبدالعزیز بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر ؓ کو حضرت ابو عبید بن مسعود ؓ کے شہید ہوجانے کی اور فارس والوں کے آلِ کسریٰ میں سے کسی ایک آدمی پر مجتمع ہو جانے کی خبر ملی تو انھوں نے مہاجرین اور اَنصار میں (جہاد کا) اعلان کرایا (کہ سب مدینہ سے باہر صِرَار مقام پر جمع ہوجائیں)۔ اور پھر حضرت عمر مدینہ سے چل کر صِرَار مقام پر پہنچ گئے اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓکو مقام ِ اَعوص تک جانے کے لیے آگے بھیج دیا، اور لشکر کے میمنہ پر حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓکو اور مَیْسرہ پر حضرت زُبیر بن عوّام ؓکو مقرر فرمایا، اور حضرت علی ؓکو مدینہ میں اپنا نائب مقرر فرمایا۔ اور لوگوں سے (اپنے فارس جانے کے بارے میں) مشورہ فرمایا، تمام لوگوں نے فارس جانے کا مشورہ دیا اور صِرَار پہنچنے سے پہلے انھوں نے اس بارے میں کوئی مشورہ نہ کیا۔ اتنے میں حضرت طلحہ بھی (اَعوص مقام سے) واپس آگئے ۔ پھر اہلِ شوریٰ سے مشورہ فرمایا۔ حضرت طلحہ نے بھی عام لوگوں کی طرح (فارس جانے کی) رائے دی، لیکن حضرت عبد الرحمن بن عوف حضرت عمر کو (فارس جانے سے) روکنے والوں میں تھے۔
حضرت عبد الر حمن ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے بعد نہ اس دن سے پہلے اور نہ اس دن کے بعد کسی پر اپنے ماں باپ کو قربان کرنے کے الفاظ کہے ( بس اس دن حضرت عمر ؓ کے بارے میں یہ الفاظ کہے)۔ چناںچہ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! آپ یہ کام میرے حوالے کر دیں اور خود (مدینہ) ٹھہر جائیں اور لشکر کو روانہ کریں۔ میں نے (آج تک) یہی دیکھا ہے کہ ہمیشہ اللہ کا فیصلہ آپ کے لشکروں کے حق میں ہوتا ہے، لیکن آپ کے لشکر کو شکست ہو جانا خود آپ کے شکست کھا جانے (کی طرح نقصان دہ) نہیں ہے، کیوںکہ اگر شروع ہی میں آپ شہید ہو گئے یا آپ کو شکست ہو گئی تو مجھے ڈر ہے کہ مسلمان ہمیشہ کے لیے اَللّٰہُ أَکْبَرُ کہنا اور لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کی گواہی دینا چھوڑ دیں گے (ان کے حوصلے ہمیشہ کے لیے پست ہو جائیں گے۔ حضرت عمرنے حضرت عبدالرحمن کے مشورے کو قبول فرمایا اور خود مدینہ ٹھہر جانے اور لشکر کو روانہ کرنے کا فیصلہ فرمایا) اور حضرت عمر (اِمارت کے لیے کسی مناسب) آدمی کو تلاش کرنے لگ گئے کہ اتنے میں مشورہ کے فوراً بعد حضرت سعد ؓ کا خط آیا جو اہلِ نجد سے صدقات کی وصول یابی پر ما مور تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا: (مجھے امیر بنانے کے لیے) کسی آدمی کا مشورہ دو۔ حضرت عبدالرحمن نے کہا: مجھے اِمارت کے مناسب آ دمی مل گیا۔ حضرت عمر نے کہا: وہ کون؟حضرت عبدالرحمن نے کہا: وہ پنجوں والا طاقت ور شیر سعد بن مالک ہیں۔ تمام اہلِ شوریٰ نے حضرت عبدالرحمن کی رائے سے اتفاق کیا۔ 1