صحابۂ کرام ؓ کا دینِ اسلام کے لئے جان اور مال خرچ کرنا
حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا اللہ کے راستہ میں لشکروں کے بھیجنے کا اہتمام کرنا
حضرت قاسم بن محمد نے لمبی حدیث بیان کی جس میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ لوگوں میں بیان کر نے کے لیے کھڑے ہوئے تو اللہ کی حمد بیان کی اور حضور ﷺ پر درود پڑھا، اور پھر فرمایا کہ ہر کام کے لیے کچھ اُصول و قواعد ہوا کر تے ہیں جو اُن کی پابندی کرے گا اس کے لیے یہ اُصول و قواعد کافی ہوں گے، اور جو اللہ عزّو جل کے لیے عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی ہر طرح کفایت فرمائیں گے۔ تم پوری طرح محنت کرو اور اِعتدال سے چلو، کیوںکہ اِعتدال سے چلنا انسان کو مقصود تک جلدی پہنچا دیتا ہے۔ ذرا غور سے سنو! جس کے پاس ایمان نہیں ہے اس کے پاس دین نہیں ہے، اور جس کی نیت ثواب کی نہیں اس کے لیے (اللہ کی طرف سے) کوئی اَجر نہیں ہے، اور جس کی نیت (صحیح) نہیں اس کے عمل کا کوئی اعتبار نہیں۔ غور سے سنو! اللہ کی کتاب میں جہاد فی سبیل اللہ کا اتنا ثواب بتایا گیا ہے کہ اتنے ثواب کے لیے ہر مسلمان کے دل میں جہاد کے لیے وقف ہوجانے کی تمنا ہونی چا ہیے۔ جہاد ہی وہ تجارت ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بتائی ہے اور جس کے ذریعہ اللہ نے (مسلمانوں کو) رسوائی سے نجات عطا فرمائی ہے اور جس کے ساتھ اللہ نے دنیا و آخرت کے شرف کو جوڑا ہے۔1
حضرت ابنِ اسحاق بن یسار حضرت خالد بن ولید ؓ کے قصے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ جب جنگِ یمامہ سے فارغ ہو گئے اور ابھی وہ یمامہ ہی میں تھے تو اُن کو حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے یہ خط لکھا: یہ خط اللہ کے بندے اور رسول اللہ ﷺ کے خلیفہ ابو بکر کی طرف سے خالد بن ولید اور اُن کے ساتھ جتنے مہاجرین اور اَنصار اور تابعی حضرات ہیں ان سب کے نام ہے۔
سلامٌ علیکم۔ میں آپ لوگوں کے سامنے اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اَما بعد! تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے وعدہ کو پورا کیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اپنے دوست کو عزّت دی اور اپنے دشمن کو ذلیل کیا اور اکیلا تمام لشکروں پر غالب آگیا۔ جس اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اسی نے (قرآن میں) یہ فرمایا ہے:
{وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْص وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ}
آگے ساری آیت لکھی۔ 1
وعدہ کر لیا اللہ نے اُن لوگوں سے جو تم میں ایمان لائے ہیں اور کیے ہیں انھوں نے نیک کام، البتہ پیچھے حاکم کر دے گا اُن کو ملک میں جیسا حاکم کیا تھا ان سے اگلوں کو، اور جما دے گا ان کے لیے دین اُن کا جو پسند کر دیا اُن کے واسطے۔
اور یہ اللہ تعالیٰ کا ایسا وعدہ ہے جس کے خلاف نہیں ہو سکتا۔ اور یہ ایسی بات ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے۔ اور اللہ نے مسلمانوں پر جہاد فرض کیا ہے، چناںچہ اللہ نے فرمایا ہے:
{کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَھُوَکُرْہٌ لَّکُمْ}2
فرض ہوئی تم پر لڑائی اور وہ بری لگتی ہے تم کو۔
اور آیات بھی لکھیں۔ لہٰذا تم وہ محنت اور اَعمال اختیار کرو جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تم لوگوں کے لیے اپنے وعدے کو پورا فرما دے۔ اور اللہ تعالیٰ نے تم پر جہاد فرض کیا ہے، اس میں تم اس کی اِطاعت کرو چاہے اس کے لیے تمہیں بڑی مشقت اٹھا نی پڑے، اور بڑی مصیبت بدرجہ کمال سہنی پڑے، اور دور دراز کے سفر کرنے پڑیں، اور مال اور جان کے نقصان کی تکلیف اٹھانی پڑے کیوںکہ اللہ کی طرف سے ملنے والے اَجرِ عظیم کے مقابلے میں یہ تمام مشقتیں اور تکلیفیں کچھ بھی نہیں ہیں۔ اللہ تم پر رحم فرمائے! تم ہلکے ہو یا بھاری ہر حال میں اللہ کے راستے میں نکلو اور اپنے مال اور جان کو لے کر جہاد کرو۔ اس مضمون کی ساری آیت لکھی۔
سن لو! میں نے خالد بن ولید کو عراق جانے کا حکم دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ جب تک میں نہ کہوں وہ عراق سے کہیں اور نہ جائیں۔ تم سب بھی ان کے ساتھ عراق جائو اور اس میں سستی بالکل نہ کرو، کیوں کہ اس راستہ میں جوبھی اچھی نیت سے اور پورے ذوق شوق سے چلے گا اللہ تعالیٰ اسے بڑا اَجر عطا فرمائیں گے۔ جب تم عراق پہنچ جائو تو میرے حکم کے آنے تک تم سب بھی وہیں رہنا۔ اللہ تعالیٰ ہماری اور تمہاری تمام دنیاوی اور اُخروی مُہِمّات کی ہر طرح کفایت فرمائے۔ والسلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ۔1
حضرت عبداللہ بن ابی اَوفیٰ الخزاعی ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابو بکر ؓ نے رومیوں سے لڑنے کا اِرادہ کیا تو انھوں نے حضرت علی، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت سعید بن زید، حضرت ابو عبیدہ بن جرّ اح ؓ اور بدر میں شریک ہونے والے اور شریک نہ ہونے والے بڑے بڑے مہاجر اور اَنصار صحابہ کو بلایا۔ وہ سب حضرت ابو بکر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں بھی اُن میں تھا۔ تو حضرت ابو بکر نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے تمام اعمال اس کی نعمتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہیں، لہٰذا تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے کلمہ کو جمع فرما دیا اور تمہارے اندر اتفاق پیدا کر دیا اور تمہیں اِسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور شیطان کو تم سے دور فرما دیا۔ اب شیطان کو نہ تو اس بات کی اُمید ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرو گے، اور نہ اس بات کی اُمید ہے کہ تم اس کے علاوہ کسی اور کو معبود بنائو گے۔ چناںچہ آج تمام عرب ایک ماں باپ کی اولاد کی طرح ہیں۔
میرا یہ خیال ہو رہا ہے کہ میں مسلمانو ں کو رومیوں سے لڑنے کے لیے شام بھیج دوں تاکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی تائید فرمائے اور اپنے کلمہ کو بلند فرمائے۔ اور اس میں مسلمانوں کو بہت بڑا حصہ (شہادت کا اور اَجر و ثواب کا) ملے گا، کیوںکہ ان میں سے جو اس لڑائی میں مارا جائے گا وہ شہید ہو کر مرے گا، اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ نیک لوگوں کے لیے بہتر ہے۔اور جو زندہ رہے گا وہ دین کا دِفاع کرتے ہوئے زندگی گزارے گا، اور اسے اللہ کی طرف سے مجاہدین کا ثواب ملے گا۔ یہ تو میری رائے ہے۔ اب آپ میں سے ہر آدمی اپنی رائے بتائے۔ چناںچہ حضرت عمر نے کھڑے ہو کر فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہیں کسی خیر کے ساتھ خصوصیت سے نواز دیں۔ اللہ کی قسم! جب بھی کسی نیکی کے کام میں ہم نے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی آپ ہم سے ہمیشہ اس نیکی میں بڑھ گئے۔ یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتے ہیں اسے عطا فرماتے ہیں، او راللہ بڑے فضل والے ہیں۔ میرے دل میں بھی یہی خیال آیا تھا اور میرا ارادہ تھا کہ میں آپ سے ملاقات کرکے آپ سے اس کا ذکر کروں، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہی مقدر فرما رکھا تھا کہ آپ ہی اس کا پہلے ذکر کریں۔ آپ کی رائے بالکل ٹھیک ہے۔ ا للہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ رُشد وہدایت کے راستہ پر چلائے! آپ گھوڑے سواروں کی جماعتیں آگے پیچھے مسلسل بھیجیں اور پیدل دستوں کو بھی مسلسل بھیجیں، غرضیکہ لشکر کے پیچھے لشکر روانہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی ضرور مدد فرمائیں گے اور اِسلام اور اہلِ اسلام کو ضرور عزّت عطا فرمائیں گے۔
پھر حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ نے کھڑے ہو کر کہا: اے خلیفۂ رسول اللہ! یہ رومی ہیں، اور یہ بنو الاصفر ہیں۔ یہ تیز دھار والے لوہے اور مضبوط ستون کی طرح ہیں۔ میں اسے مناسب نہیں سمجھتا ہوں کہ ہم سب اُن میں بے سو چے سمجھے ایک دم گھس جائیں، بلکہ میرا خیال یہ ہے کہ ہم گھوڑے سواروں کی ایک جماعت بھیجیں جو اُن کے ملک کے اَطراف پر اچانک شب خون مارے اور پھر آپ کے پاس واپس آجائیں۔ جب وہ اس طرح کئی دفعہ کر لیں گے تو اس طرح وہ رومیوں کا کافی نقصان بھی کر چکے ہوں گے اور اُن کے کنارے کے بہت سے علاقوں پر قبضہ بھی کرلیں گے۔ اس طرح وہ رومی اپنے دشمنوں یعنی مسلمانوں سے تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے۔ اس کے بعد آپ آدمی بھیج کر یمن کے اور قبیلہ ربیعہ و مُضَر کے آخری علاقوں کے مسلمانوں کو اپنے ہا ں جمع کریں۔ اس کے بعد اگر آپ مناسب سمجھیں تو اس لشکر کو لے کر آپ خود رومیوں پر حملہ آور ہوں، یا اُن کو کسی کے ساتھ بھیج دیں (اور خود مدینہ میں ٹھہرے رہیں)۔ اس کے بعد حضرت عبد الرحمن خاموش ہو گئے اور باقی لوگ بھی خاموش رہے۔
حضرت ابو بکر نے پھر فرمایا: آپ لوگوں کی کیا رائے ہے؟ اس پر حضرت عثمان بن عفّان ؓ نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ آپ اس دینِ اسلام والوں کے بڑے خیرخواہ ہیں اور ان کے لیے بڑے شفیق ہیں۔ جب آپ کو اپنی رائے میں عام مسلمانوں کے لیے فائدہ نظر آرہا ہے تو آپ بے کھٹک اس پر پوری طرح عمل کریں، کیوںکہ آپ کے بارے میں ہم میں سے کسی کو کوئی بدگمانی نہیں ہے۔ اس پر حضرت طلحہ، حضرت زُبیر، حضرت سعد، حضرت ابوعبیدہ، حضرت سعید بن زید، اورجو مہاجرین وانصار ؓ اس مجلس میں موجود تھے اُن سب نے کہا کہ حضرت عثمان درست فرما رہے ہیں۔ جو آپ کی رائے ہے آپ اس پر ضرور عمل کریں، کیوں کہ ہم نہ تو آپ کی مخالفت کرتے ہیں اور نہ آپ پر کوئی اِلزام لگا سکتے ہیں۔ اور اسی طرح کی اور باتیں کہیں۔ ان لوگوں میں حضرت علی ؓ بھی موجود تھے لیکن وہ خاموش تھے، انھوں نے ابھی تک کچھ نہیں کہا تھا۔
تو حضرت ابوبکر نے ان سے فرمایا: اے ابوالحسن! تمہاری کیا رائے ہے؟ انھوں نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ چاہے آپ خود اُن کے پاس جائیں چاہے کسی اور کو اُن کے پاس بھیج دیں اِن شاء اللہ کامیابی آپ ہی کو ہوگی، آپ کی مدد ضرور ہوگی۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں خیر کی بشارت دے! یہ تمہیں کہاں سے پتہ چل گیا (کہ جیتنا تو ہمیں ہی ہے اور ہماری مدد ضرور ہوگی؟) حضرت علی نے کہا: میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ یہ دین اپنے دشمنوں پر غالب آکر رہے گا، یہاں تک کہ یہ دین مضبوطی سے کھڑا ہو جائے گا اور دین والوں کو غلبہ مل جائے گا۔ حضرت ابوبکر نے تعجب سے فرمایا: سبحان اللہ! یہ حدیث کتنی عمدہ ہے۔ تم نے یہ حدیث سنا کر مجھے خوش کر دیا، اللہ تمہیں ہمیشہ خوش رکھے۔ پھر حضرت ابو بکر لوگوں میں بیان کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ کی شان کے مناسب حمد وثنا بیان کی اور حضور ﷺ پر درود بھیجا اس کے بعد فرمایا:
اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تمہیں نعمتِ اسلام عطا فرمائی اور جہا د کا حکم دے کر تمہیں اِعزاز بخشا اور یہ دین دے کر تمہیں تمام دینوں پر فضیلت عطا فرمائی۔ اے اللہ کے بندو! شام میں جا کر رومیوں سے غزوہ کرنے کے لیے تیار ہو جائو۔ میں تمہارے لیے بہت سے امیر مقرر کروں گا اور انھیں الگ الگ جھنڈے باندھ کر دوں گا۔ تم اپنے ربّ کی اِطاعت کرو اور اپنے امیروں کی مخالفت نہ کرو۔ نیت اور کھا نا پینا ٹھیک رکھو۔ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ اختیار کریں اور ہر نیکی کو اچھی طرح کریں۔ (یہ ترغیبی بیان سن کر) لوگ خاموش رہے اور اللہ کی قسم! انھوں نے حضرت ابو بکر کی دعوت کو قبول نہ کیا۔ اس پر حضرت عمر نے کہا: اے مسلمانوں کی جماعت! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم لوگ خلیفہ رسول ا للہ کی دعوت کو قبول نہیں کر تے ہو؟ حالاں کہ انھوں نے تمہیں اس چیز کی دعوت دی ہے جس میں تمہاری زندگی ہے۔ اگر بغیر محنت کے مالِ غنیمت کے ملنے کی اُمید ہوتی یا تھوڑا اور آسان سفر ہوتا تو تم جلدی سے قبول کر لیتے۔ (اس موقع پر حضرت عمر نے عَرَضًا قَرِیْبًا اَوْ سَفَرًا قَاصِدًا کے الفاظ استعمال کیے جو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے منافقو ں کے لیے استعمال فرمائے ہیں)۔ اس پر حضرت عمرو بن سعید ؓ نے کھڑے ہو کر کہا: اے ابن الخطّاب! کیا تم ہمارے بارے میں منافقوں والی مثالیں استعمال کرتے ہو؟ تم جو ہم پر اعتراض کر رہے ہو کہ ہم نے حضرت ابو بکر کی دعوت کو قبول نہیں کیا، تو تم نے اُن کی دعوت قبول کرنے میں پہل کیوں نہیں کی؟ حضرت عمر نے کہا کہ حضرت ابو بکر کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ اگر یہ مجھے دعوت دیتے تو میں ضرور قبول کر لیتا، اور اگر یہ مجھے غزوہ میں بھیجتے تو میں ضرور چلا جاتا۔ حضرت عمر و بن سعید نے کہا: اگر ہم غزوہ میں جائیں گے تو تمہاری وجہ سے نہیں جائیں گے، ہم تو اللہ کے لیے جائیں گے۔ حضرت عمر نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق عطا فرمائے! تم نے بہت عمدہ بات کہی۔ حضرت ابو بکر نے حضرت عمرو سے فرمایا: آپ بیٹھ جائیں، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے! تم نے حضرت عمرسے جو الفاظ سنے ہیں اس سے حضرت عمر کی مراد کسی مسلمان کو تکلیف پہنچانا یا ڈانٹنا نہیں ہے، بلکہ اُن کا مقصد یہ تھا کہ جو لوگ سست ہو کر زمین سے چمٹے جا رہے ہیں اُن میں جہاد کے لیے جانے کا اُبھار اور شوق پیدا ہو جائے۔
اس کے بعد حضرت خالد بن سعید ؓ نے کھڑے ہو کر کہا: خلیفۂ رسول اللہ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اے میرے بھائی (عمرو بن سعید!) تم بیٹھ جائو۔ چناںچہ وہ بیٹھ گئے۔ پھر حضرت خالد نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جس نے محمد ﷺ کو ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا تاکہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کردے اگرچہ یہ بات مشرکوں کو ناگوار لگے۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو اپنے وعدہ کو پورا کر نے والا اور اپنے وعدہ کو ظاہر اور غالب کرنے والا اور اپنے دشمن کو ہلاک کرنے والا ہے۔ نہ ہم (آپ کی) مخالفت کرنے والے ہیں اور نہ ہمارا آپس میں کوئی اختلاف ہے۔ آپ بڑے خیر خواہ اور شفیق والی ہیں۔ آپ ہمیں جب نکلنے کو کہیں گے ہم اسی وقت نکل جائیں گے۔
اور جب آپ ہمیں کوئی حکم دیں گے ہم آپ کے اس حکم کو مانیں گے۔ حضرت ابوبکر حضرت خالد کی اس بات سے بڑے خوش ہوئے اور اُن سے فرمایا: اے بھائی اور دوست! جَزَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا۔ تم اپنے شوق سے مسلمان ہوئے، تم نے ثواب کی نیت سے ہجرت کی، تم اپنا دین لے کر کافروں سے بھاگے تاکہ اللہ اور اس کے رسول راضی ہو جائیں اور ان کا کلمہ بلند ہوجائے۔ اور اب تم ہی لوگوں کے امیر ہوگے۔ اللہ تم پر رحمت نازل کرے! تم چلو۔
یہ کہہ کر حضرت ابوبکر (منبر سے) نیچے تشریف لے آئے اور حضرت خالد بن سعید نے واپس آکر (سفر کی) تیاری شروع کر دی۔ حضرت ابوبکرنے حضرت بلال سے کہا کہ لوگوں میں اعلان کر دو کہ اے لوگو! شام میں رومیوں سے جہاد کے لیے چل پڑو۔ اور لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے امیر حضرت خالد بن سعید ہیں۔ ان کی اِمارت میں کسی کو شک نہیں تھا۔ اور حضرت خالد سب سے پہلے لشکر گاہ پہنچ گئے۔ پھر روزانہ دس، بیس، تیس، پچاس اور سو سو ہو کر لوگ لشکر گاہ میں جمع ہوتے رہے یہاں تک کہ کافی بڑی تعداد جمع ہوگئی۔ حضرت ابو بکرچند صحابہ کو ساتھ لے کر اس لشکر کے پاس تشریف لائے۔ انھیں وہاں مسلمانوں کی اچھی تعداد نظر آئی، لیکن انھوں نے رومیوں سے جنگ کے لیے اس تعداد کو کافی نہ سمجھا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا: اگر میں مسلمانوں کی اتنی ہی تعداد کو رومیوں سے مقابلہ کے لیے شام بھیج دوں تو اس بارے میں آپ لوگوں کی کیا رائے ہے؟ حضرت عمر نے کہا: میں تو بنو الاصفر رومیوں کے لشکروں کے لیے اتنی تعداد کو کافی نہیں سمجھتا ہوں۔ حضرت ابو بکر ؓ نے دوسرے حضرات سے پوچھا: آپ لوگوں کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ ان سب نے کہا: حضرت عمر نے جو کہا ہمارا بھی وہی خیال ہے۔
حضرت ابو بکر نے کہا: کیا میں یمن والوں کو خط نہ لکھ دوں جس میں ہم انھیں جہاد کی دعوت دیں اور اس کے ثواب کی تر غیب دیں۔ حضرت ابوبکر کے تمام ساتھیوں نے اسے مناسب سمجھا اور حضرت ابو بکر سے کہا: جی ہاں! جو آپ کی رائے ہے آپ اس پر ضرور عمل کریں۔ چناںچہ انھوں نے یہ خط لکھا: