صحابۂ کرام ؓکی دینِ اسلام کی نصرت کے لئے کوشش کرنا

حضرات انصار ؓ کے لیے دعائیں

حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ جب اونٹوں کے ذریعہ پانی کھینچنا اور اونٹوں پر پانی لاد کر لانا اَنصار کے لیے بڑی مشقت کا ذریعہ بنا، تو وہ حضور ﷺ کے پاس یہ درخواست پیش کرنے کے لیے جمع ہوئے کہ حضور ﷺ انھیں پانی کے لیے ایک نہر کھود دیں جس میں سارا سال خوب پانی بہتا رہے۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا: خوش آمدید ہو اَنصار کو! خوش آمدید ہو اَنصار کو! خوش آمدید ہو اَنصار کو! آج تم مجھ سے جو چیز بھی مانگوگے وہ میں تمہیں ضرور دوں گا اور آج میں اللہسے تمہارے لیے جو چیز بھی مانگوںگا اللہ مجھے وہ چیز ضرور دے دے گا۔ اس پر اَنصار نے ایک دوسرے سے کہا کہ اس موقع کو غنیمت سمجھو (نہر وغیرہ کو تو چھوڑو) اور حضور ﷺ سے مغفرت کی دعا کر والو۔ چناںچہ اَنصار نے کہا: یا رسول اللہ! آپ ہمارے لیے مغفرت کی دعا فرما دیں۔ آپ نے دعا فرمائی: اے اللہ! اَنصار کے لیے اور اَنصار کے بیٹوں کے لیے اور اَنصار کے بیٹوں کے بیٹوں کے لیے مغفرت فرما۔ اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اَنصار کی بیویوں کی بھی مغفرت فرما۔1 حضرت رِفاعہ بن رافع ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! اَنصار کی اور اُن کی اولاد کی اور اُن کی اولاد کی اولاد کی اور اُن کے پڑوسیوں کی مغفرت فرما ۔ 2 حضرت عوف اَنصاری ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! اَنصار کی اور اَنصار کے بیٹوں کی اور اَنصار کے غلاموں (یا پڑوسیوں) کی مغفرت فرما۔ 3 حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ایمان یمن والوں کا ہے اور ایمان قبیلہ قحطان میں ہے۔ (قحطان یمن کے ایک بادشاہ ہیں تمام اَنصار اور یمن والوںکا نسب ان سے جا ملتا ہے) اور دل کی سختی عدنان کی اولاد میں ہے اور حِمْیَر قبیلہ عرب کا سر اور عرب کے سردار ہیں اور مَذْحَج قبیلہ عرب کے سر اور ان کے بچاؤ کا سامان ہیں، اور اَزد قبیلہ عرب کا کندھا اوران کا سر ہیں ( کندھے کی طرح تمام اہم کاموں کابوجھ اٹھاتے ہیں) اور ہمدان قبیلہ عرب کاکندھا اور چوٹی ہیں۔ اے اللہ! اَنصار کو عزّت عطا فرما جن کے ذریعہ سے اللہ نے دین کو قائم فرمایا، اور جنھوں نے مجھے ٹھکانا دیا اور میری نصرت کی اور میری حمایت کی۔ اور یہ میرے دنیا میں ساتھی ہیں اور آخرت میں میری جماعت ہیں، اور یہ لوگ میری اُمت میں سے جنت میں سب سے پہلے داخل ہوں گے۔ 4 حضرت عثمان بن محمد بن زُبیری کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا کہ ہماری اور اَنصار کی مثال ایسی ہے جیسے کہ اس شاعر نے ان اَشعار میں کہاہے : جَزَی اللّٰہُ عَنَّا جَعْفَرًا حِیْنَ أَشْرَفَتْ بِنَا نَعْلُنَا لِلْوَاطِئِیْنَ فَزَلَّتٖ اللہ ہماری طرف سے جعفر کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ ان لوگوں نے اس وقت ہماری مدد کی جب ہماری جوتیوں نے پھسل کر ہمیں روندنے والوں کے سامنے لا ڈالا تھا۔ أَبَوْا أَنْ یَّمَلُّوْنَا وَلَوْ أَنَّ أُمَّنَا تُلَا قِي الَّذِيْ یَلْقَوْنَ مِنَّا لَمَلَّتٖ وہ لوگ ہم سے بالکل نہ اُکتائے، ان لوگوں نے ہماری وجہ سے جو تکلیفیں اٹھائیں اگر ہماری ماں کو وہ اٹھانی پڑجاتیں تو وہ بھی (ہم سے) اُکتا جاتی ۔ 1