صحابۂ کرام ؓ کا اپنے وطن کو چھوڑنا
نبی کریم ﷺ اور حضرت ابو بکر ؓ کے گھر والوں کی ہجرت
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیںکہ جب حضور ﷺ نے ہجرت فرمائی توآپ ہمیں اور اپنی بیٹیوں کو پیچھے (مکہ میں) چھوڑ گئے تھے۔ جب آپ کو (مدینہ میں) قرار حاصل ہوگیا توآپ نے حضرت زید بن حارثہ ؓ کو بھیجا اور اُن کے ساتھ اپنے غلام حضرت ابو رافع ؓکو بھیجا۔ اور اُن دونوں کودو اُونٹ اور حضرت ابوبکر ؓ سے لے کر پانچ سو درہم اس لیے دیے تھے کہ ضرورت پڑے تو ان سے اور سواری کے جانور خریدلیں۔ اوران دونوںکے ساتھ حضرت ابوبکرنے عبداللہ بن اُرَیْقِط کو دو یا تین اُونٹ دے کر بھیجا، اور حضرت عبداللہ بن ابی بکر کو یہ خط لکھا کہ میری والدہ اُمّ رُومان ؓ کو اور مجھے اور میری بہن حضرت اسماء ؓ جو کہ حضرت زُبیرؓ کی بیوی تھی اُن کو اِن سواریوں پر بٹھا کر روانہ کر دے۔ یہ تینوں حضرات (مدینہ سے) اکھٹے روانہ ہوئے۔ اور جب یہ حضرات قُدَید پہنچے تو حضرت زید بن حارثہ نے ان پانچ سو درہم کے تین اونٹ خریدے، پھر یہ سب اِکھٹے مکہ میں داخل ہوئے۔ اُن کی حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ سے ملاقات ہوئی وہ بھی ہجرت کرنا چاہتے تھے۔ چناںچہ یہ سب اِکھٹے (مکہ سے) روانہ ہوئے۔ حضرت زید اور حضرت ابو رافع ؓ، حضرت فاطمہ اور حضرت اُمّ کلثوم اور حضرت سودہ بنتِ زَمعہ ؓ کو لے کر چلے۔ اور حضرت زید ؓ نے حضرت اُمّ ایمن اور حضرت اسامہ ؓ کو بھی ایک اُونٹ پر سوار کیا۔ جب ہم مقام ِ بیدا پہنچے تو میرا اُونٹ بدک گیا۔ میںہودج میں تھی اور میرے ساتھ میری والدہ بھی اس ہودج میں تھیں۔ میری والدہ کہنے لگیں: ہائے بیٹی! ہائے دلہن! (کیوں کہ حضور ﷺ سے حضرت عائشہ ؓ کا نکاح ہجرت سے پہلے ہوچکا تھا) آخر ہمارا اُونٹ پکڑا گیا اور اس وقت وہ ہَرْشیٰ گھاٹی پار کر چکا تھا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے ( ہمیں) بچا لیا۔ پھر ہم مدینہ پہنچ گئے۔ میں حضرت ابو بکر کے ہاں اُتری اور حضور ﷺ کے گھر والے حضور ﷺ کے ہاں ٹھہرے۔ اس وقت حضورﷺ اپنی مسجد بنا رہے تھے اور مسجد کے اِرد گرد گھرتعمیرفرما رہے تھے۔ پھران گھروں میں اپنے گھر والوں کو ٹھہرایا، پھرچند دن ہم ٹھہرے رہے۔ آگے لمبی حدیث حضرت عائشہؓ کی رخصتی کے بارے میں ذکر کی ہے۔1
ہیثمی نے اس حدیث میں حضرت عائشہ ؓ سے یہ نقل کیا ہے کہ ہم ہجرت کر کے چلے، راستے میں ایک دشوارگزار (خطرناک) گھاٹی سے جب ہمارا گزر ہونے لگا تو جس اُونٹ پر میں تھی وہ بہت بری طرح بدکا۔ اللہ کی قسم! میں اپنی ماں کی یہ بات نہ بھولوںگی کہ وہ کہہ رہی تھیں: ہائے چھوٹی سی دلہن! اور وہ اُونٹ بدکتاہی چلا گیا۔ اتنے میں میں نے سنا کوئی کہہ رہا تھا: اس کی نکیل نیچے پھینک دو، تو میں نے نکیل پھینک دی۔ وہ وہیں کھڑے ہوکر چکر کھانے لگا گویا اس کے نیچے کوئی انسان (اسے پکڑے ہوئے) کھڑا ہے۔
حضور ﷺ کی صاحب زادی حضرت زینب ؓ فرماتی ہیںکہ میں (ہجرت کی) تیاری کر رہی تھی کہ مجھ سے ہند بنتِ عتبہ ملی اور وہ کہنے لگی: اے محمدکی بیٹی! (تمہاراکیا خیال ہے) کیا مجھے یہ خبر نہیں پہنچی کہ تم اپنے باپ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ میں نے کہا: میرا تو ایسا اِرادہ نہیں ہے۔ اس نے کہا: اے میرے چچا کی بیٹی! ایسا نہ کرو، اگرتمہیںاپنے سفر کے لیے کسی سامان کی ضرورت ہے یا اپنے باپ تک پہنچنے کے لیے کچھ مال کی ضرورت ہے تو میں تمہاری یہ ضرورت پوری کر سکتی ہوں۔ مجھ سے مت چھپاؤ، کیوں کہ مردوں کا جو آپس میں جھگڑاہے وہ عورتوں کے درمیان نہیںہے۔ حضرت زینب فرماتی ہیں کہ میرا خیال یہی ہے کہ انھوںنے یہ ساری باتیں کرنے کے لیے کہی تھیں، لیکن میں اس سے ڈر گئی اس لیے میں نے اُن کے سامنے ہجرت کے اِرادے کا انکار ہی کیا۔ حضرت ابنِ اسحاق کہتے ہیںکہ حضرت زینب (ہجرت کی) تیاری کرتی رہیں۔ جب وہ اس تیاری سے فارغ ہوئیں تو اُن کے دیور کنانہ بن رَبیع اُن کے پاس اُونٹ لائے، یہ اس اُونٹ پر سوار ہوگئیں۔ کنانہ نے اپنی کمان اور ترکش لی، اور دن کی روشنی میںاُن کے اُونٹ کو آگے سے پکڑ کر لے چلے اور یہ اپنے ہودج میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ قریش کے لوگوں میں (ان کے جانے) کا چرچا ہوا۔ چناںچہ وہ لوگ اُن کی تلاش میں نکل پڑے اور مقام ِ ذی طویٰ میں انھیں پالیا۔ اور ہبّار بن اَسود فہری سب سے پہلے اُن تک پہنچا۔ ہبّار نے حضرت زینب کو نیزے سے ڈرایا۔ یہ ہودج میں تھیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ وہ اُمید سے تھیں، چناںچہ اُن کا حمل ساقط ہوگیا۔
اُن کے دیور کنانہ نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اپنے ترکش میں سے سارے تیر نکال کر سامنے ڈال لیے اور پھرکہا: تم میںسے جو آدمی بھی میرے قریب آئے گا میں اس میں ایک تیر ضرور پیوست کروںگا۔ چناںچہ وہ لوگ ان سے پیچھے ہٹ گئے۔ اور ابو سفیان قریش کے بڑے لوگوں کو لے کر آئے اورانھوں نے کہا: اے آدمی! ذرا اپنی تیر اندازی روکو، ہم تم سے بات کرناچاہتے ہیں۔ چناںچہ وہ رک گئے۔ ابو سفیان آگے آکر ان کے پاس کھڑے ہوئے اورکہا: تم نے ٹھیک نہیں کیا کہ تم اس عورت کو علی الاعلان سب کے سامنے لے کر چلے ہو، اورتم جانتے ہی ہوکہ (ان کے والد) محمد (ﷺ) کی وجہ سے ہمیں کتنی مصیبتیںاور تکلیفیںاٹھانی پڑی ہیں۔ جب تم ان کی بیٹی کو علی الاعلان تمام لوگوں کے سامنے ہمارے درمیان میں سے لے کر جاؤ گے تو لوگ یوں سمجھیں گے کہ یہ سب ہماری ذلت اور کمزوری کی وجہ سے ہواہے (کہ ان کی بیٹی سب کے سامنے یوں چلی گئی ہے)۔ اورمیری زندگی کی قسم! ہمیں ان کو ان کے باپ سے روکنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہم ان سے کوئی بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ اس لیے ا ب توتم اس عورت کو واپس لے جاؤ یہاں تک کہ جب یہ شوروشغب ٹھنڈا پڑ جائے گا اور لوگ یوں کہنے لگیںکہ ہم نے ان کی بیٹی کو واپس کروایا ہے تو پھر چپکے سے اسے لے جانا اور اس کے باپ کے پاس پہنچا دینا۔ چناںچہ کنانہ نے ایسا ہی کیا۔ 1
حضرت عروہ بن زُبیرؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی صاحب زادی حضرت زینب ؓ کو لے کر ایک شخص (مکہ سے)چلا۔ قریش کے دو آدمی پیچھے سے اُن تک جا پہنچے۔ ان دونوں نے اس ایک پر حملہ کیا اوراس پر غالب آگئے۔ چناںچہ حضرت زینب کو اُن دونوں نے دھکا دیا جس سے وہ پتھر پر گر گئیں۔ (وہ امید سے تھیں) اُن کا حمل ساقط ہوگیا اور خون بہنے لگا۔ اور لوگ ان کو ابو سفیان کے پاس لے گئے۔ وہاں بنی ہاشم کی عورتیں (حضرت زینب کی یہ خبر سن کر) آئیں تو ابو سفیان نے ان کو ان عورتوں کے حوالے کیا۔ پھر اس کے کچھ عرصہ کے بعد یہ ہجرت کرکے (مدینہ) آئیں اور یہ مسلسل بیمار رہیں یہاں تک کہ اسی بیماری میں ان کا انتقال ہوگیا۔ سب مسلمان انھیں شہید سمجھتے تھے۔1
نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ جب مکہ سے مدینہ تشریف لے آئے تو آپ کی صاحب زادی حضرت زینب ؓ مکہ سے کنانہ یا ابنِ کنانہ کے ساتھ روانہ ہوئیں۔ مکہ والے ان کی تلاش میںنکل پڑے۔ چناںچہ ہبّار بن اَسود ان تک پہنچ گیا،اور اپنا نیزہ ان کے اونٹ کو مارتا رہا یہاں تک کہ ان کو نیچے گرا دیا جس سے ان کا حمل ساقط ہوگیا۔ انھوں نے صبرو تحمل سے کام لیا اور انھیں اٹھا کر لایا گیا۔ بنو ہاشم اور بنو اُمیّہ کا ان کے بارے میں آپس میں جھگڑا ہوگیا۔ بنواُمیّہ کہتے تھے کہ ہم ان کے زیادہ حق دار ہیں، کیوں کہ وہ ان کے چچا زاد بھائی حضرت ابوالعاص کے نکاح میں تھیں۔ آخر یہ ہندبنتِ عتبہ بن ر بیعہ کے پاس رہتی تھیں اور وہ ان سے کہا کرتی تھی کہ یہ سب تمہارے باپ (یعنی حضور ﷺ) کی وجہ سے ہوا ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ ؓ کو فرمایا: کیا تم (مکہ)جا کر زینب کو لے نہیں آتے؟انھوں نے کہا: ضرور ، یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: تم میری انگوٹھی لو، یہ ان کو (بطورِ نشانی کے) دے دینا۔ حضرت زید (مدینہ سے) چل دیے اور (حضرت زینب ؓ تک چپکے سے بات پہنچانے کی) مختلف تدبیریں اختیار کرتے رہے۔ چناںچہ اُن کی ایک چرواہے سے ملاقات ہوئی۔ اس سے پوچھا کہ تم کس کے چرواہے ہو؟ اس نے کہا: ابو العاص کا۔ حضرت زید نے پوچھا: یہ بکریاںکس کی ہیں ؟ اس نے کہا: زینب بنتِ محمد (ﷺ) کی ہیں۔ حضرت زید (اسے مانوس کرنے کے لیے) کچھ دیر اس کے ساتھ چلتے رہے۔ پھر اس سے کہا: کیا یہ ہوسکتا ہے کہ تم کومیں کوئی چیز دوں وہ تم حضرت زینب کو پہنچا دو اور اس کا کسی سے تذکرہ نہ کرو؟ اس نے کہا: ہاں۔
چناںچہ اسے وہ انگوٹھی دے دی جسے حضرت زینب نے پہچان لیا۔ انھوں نے چرواہے سے پو چھا: تمہیں یہ انگوٹھی کس نے دی؟ اس نے کہا: ایک آدمی نے۔ حضرت زینب نے کہا: اس آدمی کو تم نے کہاںچھوڑا؟ اس نے کہا: فلاں جگہ۔ پھر حضرت زینب خاموش ہوگئیں۔ جب رات ہوئی تو چپکے سے حضرت زید کی طرف چل پڑیں۔ جب یہ ان کے پاس پہنچیں تو ان سے حضرت زید نے کہا: تم میرے آگے اونٹ پر سوار ہوجاؤ۔ انھوں نے کہا: تم میرے آگے سوار ہوجاؤ۔ چناںچہ آگے حضرت زید سوار ہوئے اور یہ اُن کے پیچھے بیٹھیں (اس وقت تک پردہ فرض نہیں ہوا تھا) اور مدینہ پہنچ گئیں۔ حضور ﷺ اُن کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ میری بیٹیوں میں سے یہ سب سے اچھی بیٹی ہے جسے میری وجہ سے بہت زیادہ تکلیف اٹھانی پڑی۔ جب یہ حدیث حضرت علی بن حسین ؓ تک پہنچی تو وہ حضرت عروہ کے پاس آئے اوراُن سے کہا کہ وہ کون سی حدیث ہے جس کے بارے میں مجھے خبر ملی ہے کہ تم اسے بیان کرکے حضرت فاطمہ ؓ کا درجہ کم کر دیتے ہو؟ حضرت عروہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں ہے جو کچھ مشرق اور مغرب کے درمیان ہے وہ سب مجھے مل جائے اورمیں(اس کے بدلہ میں) حضرت فاطمہ کا ذرا سا بھی درجہ کم کردوں۔ بہرحال میں آج کے بعد یہ حدیث کبھی بیان نہیں کروں گا۔1