نبی کریم ﷺ کا صحابہ کرام ؓ کو دعوت دینا

دعوت سے محبت اور شغف

دعوت سے محبت اور شغف حضرت ابنِ عباس ؓ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { فَمِنْہُمْ شَقِیٌّ وَّسَعِیْدٌ}1(سو اُن میں بعضے بدبخت ہیں اور بعضے نیک بخت) اور اس جیسی قرآنی آیات کے بارے میں فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ کو اس بات کی بہت زیادہ تڑپ تھی کہ تمام لوگ ایمان لے آئیں اور آپ سے ہدایت پر بیعت ہوجائیں۔ آپ کی یہ بے قراری دیکھ کر اللہ عزّ وجل نے آپ کو یہ بتایا کہ صرف وہی انسان ایمان لائیں گے جن کے لیے لوحِ محفوظ میں پہلے سے ہی (ایمان لانے کی) سعادت لکھی جاچکی ہے ،اور صرف وہی انسان گمراہ ہوں گے جن کے لیے لوحِ محفوظ میں پہلے سے ہی بدبختی لکھی جاچکی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو ارشاد فرمایا: {لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَO اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْْہِمْ مِّنَ السَّمَآئِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِیْنَ O}2 جس کا ترجمہ یہ ہے: شاید تو گھونٹ مارے اپنی جان اس بات پر کہ وہ یقین نہیں کرتے۔ اگر ہم چاہیں تو اتاریں ان پر آسمان سے ایک نشانی ، پھر رہ جائیں ان کی گردنیں اس کے آگے نیچی۔3 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب ابوطالب بیمار ہوئے تو قریش کی ایک جماعت اُن کے پاس آئی جس میں ابو جہل بھی تھا۔ ان لوگوں نے کہا کہ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہتا ہے اور یوں یوں کرتا ہے اور یوں یوں کہتا ہے، لہٰذا آپ ان کے پاس کسی آدمی کو بھیج کر ان کو بلالیں اور ایسا کرنے سے ان کو روک دیں۔ چناں چہ انھوں نے حضورِ اَقدس ﷺ کے پاس ایک آدمی بھیجا۔ آپ تشریف لے آئے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس وقت ابوطالب کے قریب ایک آدمی کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ ابوجہل لَعَنَہُ اللہ کو اس بات کا خطرہ ہوا کہ اگر حضورِ اَقدس ﷺ ابوطالب کے پہلو میں بیٹھ گئے تو (اتنے قریب بیٹھنے کی وجہ سے) ابوطالب کے دل میں حضورﷺ کے لیے زیادہ نرمی پیدا ہوجائے گی، چناں چہ وہ چھلانگ لگا کر خود اس جگہ جا بیٹھا اور حضورﷺ کو اپنے چچا کے قریب بیٹھنے کی کوئی جگہ نہ ملی۔ چناں چہ آپ دروازے کے پاس ہی بیٹھ گئے۔ ابوطالب نے آپ سے کہا کہ اے میرے بھتیجے! کیا بات ہے کہ تمہاری قوم کے لوگ تمہاری شکایت کررہے ہیں؟ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ اُن کے معبودوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور یوں یوں کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اس پر سب لوگوں نے بولنا شروع کردیا۔ آپ نے گفتگو شروع فرمائی اور فرمایا کہ اے میرے چچا! میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ لوگ صرف ایک کلمہ کا اقرار کرلیں تو تمام اہلِ عرب ان کے ماتحت اور فرماںبردار بن جائیں گے اور تمام اہلِ عجم ان کو جزیہ دینے لگ جائیں گے۔ آپ کی یہ بات سن وہ لوگ چوکنیّ ہوگئے اور (بے تاب ہوکر) کہا: آپ کے والد کی قسم! (اتنی بڑی بات کے لیے) ایک کلمہ تو کیا ہم دس کلموں کو ماننے کے لیے تیار ہیں۔ آپ بتائیں وہ کلمہ کیا ہے؟ ابوطالب بھی کہنے لگے کہ اے میرے بھتیجے! وہ ایک کلمہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ۔یہ سن کر وہ لوگ پریشان ہوکر اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود رہنے دیا، واقعی یہ بہت عجیب اور انوکھی بات ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اس موقعہ پر {اَجَعَلَ الْاٰلِہَۃَ إِلٰہاً وَاحِدًاج إِنَّ ہٰذَا لَشَیْْئٌ عُجَابٌ O} سے لے کر {بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِ}1 تک آیات نازل ہوئیں۔2 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ، ابوجہل بن ہشام اُمیّہ بن خلف ، ابوسفیان بن حرب اور دیگر سردارانِ قریش ابوطالب کے پاس گئے اور ان سے (حضور ﷺ کے بارے میں) بات کرنی چاہی تو انھوں نے کہا : اے ابوطالب ! آپ کو ہم میں جتنا بڑا مقام حاصل ہے وہ آپ جانتے ہیں، اور آپ کی بیماری کی حالت آپ کے سامنے ہے اور ہمیں آپ کی زندگی کا خطرہ ہے۔ ہمارے اور آپ کے بھتیجے کے درمیان جو کچھ ہورہا ہے اسے بھی آپ خوب جانتے ہیں۔ آپ اُن کو بلائیں کچھ ہمارے مطالبے مان کر اور کچھ اُن کے مطالبے مان کر ہماری اور اُن کی صلح کرادیں تاکہ ہم ایک دوسرے کو کچھ کہنے سے رُک جائیں، اور وہ ہمیں ہمارے دین پررہنے دیںاور ہم اُن کو اُن کے دین پر چھوڑ دیں۔ ابوطالب نے آپ کے پاس آدمی بھیج کر آپ کو بلوایا۔ آپ ابوطالب کے پاس تشریف لے آئے تو ابوطالب نے کہا کہ اے میرے بھتیجے ! یہ تمہاری قوم کے سردار اور بڑے لوگ ہیں اور تمہاری وجہ سے یہ اکھٹے ہوکر آئے ہیں تاکہ وہ آپ کے کچھ مطالبے پورے کردیں اور آپ اُن کے کچھ مطالبے پورے کردیں۔ حضرت ابنِ عباس فرماتے ہیں کہ حضورِ اَقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بہت اچھا، تم ایک کلمہ مان جاؤ جس سے تم پورے عرب کے مالک بن جاؤ گے اورسارا عجم تمہارا ماتحت و فرماںبردار ہوجائے گا۔ ابوجہل نے کہا: (اس با ت کے لیے) ایک کلمہ نہیں، تمہارے والد کی قسم ! دس کلمے ماننے کو تیار ہیں۔ تو آپ نے فرمایا: لَا إِلٰہ إِلاَّ اللّٰہُ کہو ،ا ور اللہ کے علاوہ جن خداؤں کی عبادت کرتے ہو اُن کو نکال پھینکو۔ یہ سن کر ان سب نے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہا: اے محمد! کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ تمام خداؤں کا ایک خدا بنادیں؟ آپ کی یہ بات بہت عجیب ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ا للہ کی قسم! یہ آدمی تمہارا کوئی بھی مطالبہ ماننے والا نہیں ہے، چلے جاؤ اور اپنے آباء واَجداد کے دین پر چلتے رہو حتی کہ اللہ ہی ہمارے اور اس کے درمیان فیصلہ کرے۔ پھر وہ بکھر گئے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ پھر ابوطالب نے کہا :اے میرے بھتیجے! اللہ کی قسم! میرا خیال یہ ہے کہ تم نے اُن سے حد سے زیادہ کسی بات کا مطالبہ نہیں کیا (تمہارا مطالبہ صحیح ہے)۔ یہ سن کر حضورﷺ کو ابوطالب کے ایمان لانے کی کچھ امید بندھی تو آپ ان سے فرمانے لگے : اے میرے چچا ! آپ تو یہ کلمہ ضرور پڑھ لیں تاکہ اس کی وجہ سے میں آپ کے لیے قیامت کے دن شفاعت کی اجازت لے سکوں۔ ابوطالب نے آپ کی یہ تڑپ دیکھ کر جواب دیا کہ اے میرے بھتیجے! اللہ کی قسم! اگر مجھے دو باتوں کا ڈر نہ ہوتا تو میں یہ کلمہ ضرور پڑھ لیتا: ایک تو یہ کہ میرے بعد تمہیں اور تمہارے خاندان کو گالیاں پڑیں گی، اور دوسرے یہ کہ قریش یہ طعنہ دیں گے کہ میں نے موت سے ڈر کر یہ کلمہ پڑھا ہے، اور یہ کلمہ پڑھتا بھی تو صرف آپ کو خوش کرنے کے لیے۔1 حضرت مسیب سے روایت ہے کہ جب ابوطالب کی موت کا وقت قریب آیا تو حضور ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے تو ابوجہل وہاں پہلے سے موجود تھا۔ آپ نے فرمایا: اے میرے چچا! لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ پڑھ لو تاکہ اس کلمہ کی وجہ سے میں اللہ کے سامنے آپ کی حمایت کرسکوں ۔ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی اُمیّہ نے کہا: اے ابوطالب !کیا عبدالمطّلب کا دین چھوڑ نے لگے ہو؟ اور دونوں بار بار اسی بات کو دُہراتے رہے یہاںتک کہ ابوطالب کے منہ سے آخری بول یہی نکلا کہ میں عبدالمطّلب ہی کے دین پر ہوں ۔ آپ نے فرمایا :جب تک مجھ کو منع نہ کیا جائے گا میں آپ کے لیے ضرور استغفار کروں گا۔ اس پریہ آیت نازل ہوئی: {مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوْا اُولِیْ قُرْبٰی مِنْ م بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ O}2 جس کا ترجمہ یہ ہے:لائق نہیں نبی کو اور مسلمانوں کو کہ بخشش چاہیں مشرکوں کی اور اگرچہ وہ ہوں قرابت والے، جب کہ کھل چکا اُن پر کہ وہ ہیں دوزخ والے۔ اور یہ آیت نازل ہوئی: {اِنَّکَ لَا تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ}3 جس کا ترجمہ یہ ہے:آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے۔4 اسی جیسی دوسری روایت میں یہ ہے کہ حضورِ اَقدس ﷺ ابوطالب پر کلمہ کو پیش فرماتے رہے اور وہ دونوں بھی اپنی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ابوطالب کا آخری بول عَلٰی مِلَّۃِ عَبْدِ الْمُطَّلِب تھا کہ میں عبدالمطّلب ہی کے دین پر ہوں، اورلاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ پڑھنے سے انکار کردیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: غور سے سنوکہ جب تک مجھے منع نہ کیا جائے گا اس وقت تک میں آپ کے لیے ضرور استغفار کرتا رہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ دونوں پچھلی آیتیں نازل فرمائیں۔1 حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب ابوطالب کا آخری وقت آیا تو حضور ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور آپ نے فرمایا: اے چچا جان! لاَ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ کہہ دیجیے تاکہ میں قیامت کے دن آپ کا گواہ بن جاؤں۔ تو ابوطالب نے جواب دیا کہ اگر قریش کے اس کہنے کی عار نہ ہوتی کہ ابوطالب نے صرف موت کے ڈر سے کلمہ پڑھا ہے تو میں کلمہ پڑھ کر آپ کی آنکھوں کو ضرور ٹھنڈا کردیتا۔ اور میں یہ کلمہ صرف اس لیے پڑھتا تاکہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوجائیں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {اِنَّکَ لاَ تَہْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ ج وَہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ O}2 جس کا ترجمہ یہ ہے کہ آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے، بلکہ اللہ جس کو چاہے ہدایت کردیتا ہے ،اور ہدایت پانے والوں کا علم (بھی) اسی کو ہے۔ 3 حضرت عقیل بن ابی طالب ؓ فرماتے ہیںکہ قریش ابوطالب کے پاس آئے۔(پوری حدیث آگے سختیاں برداشت کرنے کے باب میں اِن شاء اللہ آئے گی، لیکن اس کا کچھ حصہ یہ ہے) ابوطالب نے حضورﷺ سے کہا :اے میرے بھتیجے! اللہ کی قسم! جیسے کہ تمہیں خود بھی معلوم ہے میں ہمیشہ تمہاری بات مانتارہاہوں (لہٰذا تم بھی میری تھوڑی سی بات مان لو، اور وہ یہ ہے کہ) تمہاری قوم کے لوگ میرے پاس آکر یہ کہہ رہے ہیں کہ تم کعبہ میں اور اُن کی مجلسوں میں جاکر ان کو وہ باتیں سناتے ہوجن سے ان کو تکلیف ہوتی ہے، لہٰذا اگر تم مناسب سمجھو تو ایسا کرنا چھوڑ دو۔ آپ نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا: جس کام کو دے کر مجھے مبعوث کیا گیا ہے اس کو چھوڑنے کی میں بالکل قدرت نہیں رکھتا ہوں جیسے کہ تم میں سے کوئی سورج میں سے آگ کا شعلہ لانے کی قدرت نہیں رکھتا ۔1 ’’بیہقی‘‘ میں یہ روایت اس طرح سے ہے کہ ابوطالب نے حضورﷺ سے کہا کہ اے میرے بھتیجے! تمہاری قوم کے لوگوں نے میرے پاس آکر یوں یوں کہا۔ اب تم میری جان پر اور اپنی جان پر ترس کھاؤ اور مجھ پر وہ بوجھ نہ ڈالو کہ جس کو نہ میں اٹھاسکوں اور نہ تم ، لہٰذا تم اُن لوگوں کو وہ باتیں کہنی چھوڑ دو جو اُن کو پسند نہیں ہیں۔ یہ سن کر آپ کو یہ گمان ہوا کہ آپ کے بارے میں چچا کے خیالات میں تبدیلی آچکی ہے اور وہ آپ کا ساتھ چھوڑ کر آپ کو قوم کے حوالے کردیں گے اور ان میں آپ کا ساتھ دینے کی ہمت نہیں رہی۔ اس پر آپ نے فرمایا: اے میرے چچا! اگر سورج میرے دائیں ہاتھ میں اور چاند میرے بائیں ہاتھ میں رکھ دیا جائے تو بھی میں اس کام کو نہیں چھوڑوں گا (اور میں اس کام میں لگا رہوں گا) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کام کو غالب کردیں یا اس کام کی کوشش میں میری جان چلی جائے۔ اتنا کہہ کر آپ کی آنکھیں ڈُبڈبا آئیں اور آپ رودیے ۔(پوری حدیث آیندہ آئے گی) حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن قریش نے جمع ہوکر یہ کہا کہ تم ایسے آدمی کو تلاش کرو جو تم میں سب سے بڑا جادوگر اور سب سے بڑا کاہن (نجومی) اور سب سے بڑا شاعر ہو، تا کہ وہ اس آدمی (حضورﷺ) کے پاس جائے جس نے ہم میں پھوٹ ڈال دی اور ہمارے جوڑ کو پارہ پارہ کردیا اور ہمارے دین میں بہت سے عیب نکال دیے۔ اور جاکر اس سے (کھل کر) بات کرے اور دیکھے کہ وہ کیا جواب دیتا ہے۔ سب نے یہی کہا کہ ہمارے علم میں اس کام کے لیے عتبہ بن ربیعہ سے بہتر کوئی آدمی نہیں۔ چناں چہ انھوں نے عتبہ سے کہا کہ اے ابو الولید !(یہ عتبہ کی کنیت ہے) تم ان کے پاس جاؤ۔ چناں چہ عتبہ حضورﷺ کے پاس آیا اور یہ کہا کہ اے محمد! آپ بہتر ہیں یا (آپ کے والد) عبداللہ ؟ آپ خاموش رہے۔ پھر اس نے کہا: (آپ بہتر ہیں یا آپ کے دادا) عبدالمطّلب؟ آپ پھر خاموش رہے۔ پھر اس نے کہا کہ اگر آپ کا خیال یہ ہے کہ یہ لوگ آپ سے بہتر تھے تو یہ ان خداؤں کی عبادت کرتے تھے جن میں آپ عیب نکالتے ہیں، اوراگر آپ کا خیال یہ ہے کہ آپ ان سے بہتر ہیں تو آپ یہ بات ہمیں سمجھائیں ہم آپ کی بات سنتے ہیں۔ اللہ کی قسم! ہم نے ایسا کوئی نوجوان نہیں دیکھا جو اپنی قوم کے لیے (نعوذ باللہ!) آپ سے زیادہ منحوس ثابت ہوا ہو۔ آپ نے ہم میں پھوٹ ڈال دی اور ہمارے جوڑ کو بالکل ختم کردیا اور ہمارے دین میں بہت سے عیب نکال دیے اور سارے عرب میں ہمیں رسوا کردیا، یہاں تک کہ سارے عرب میں یہ مشہور ہوگیا کہ قریش میں ایک جادوگر ہے اور قریش میں ایک نجومی ہے۔ اللہ کی قسم! (ہمارے آپس کے تعلقا ت اتنے خراب ہوچکے ہیں کہ) ہم بس اس انتظار میں ہیں کہ حاملہ عورت کی طرح ایک چیخ سنائی دے اور ہم سب ایک دوسرے پر تلواریں لے کر ٹوٹ پڑیں یہاں تک کہ ہم سب ایک دوسرے کو ختم کردیں۔ اے آدمی! اگر آپ کو (مال کی) ضرورت ہے تو ہم آپ کے لیے اتنا مال اکٹھا کردیں گے کہ آپ قریش میں سب سے زیادہ مال دار ہوجائیں گے، اور اگر آپ کو عورتوں کی خواہش ہے آپ اپنے لیے قریش کی عورتیں پسند کرلیں، ایک کیا دس سے شادی کرادیں گے۔ آپ نے فرمایا: تم اپنی بات کہہ چکے ؟ تو عتبہ نے کہا: جی ہاں ۔ اس پر حضورﷺ نے یہ آیات تلاوت فرمائیں: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ {حٰمٓ O تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ O کِتٰبٌ فُصِّلَتْ اٰیٰـتُہٗ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَO}سے لے کر { فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صٰعِقَۃً مِّثْلَ صٰعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَO}تک۔1 آخری آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ پھر اگر وہ ٹلائیں تو تُو کہہ میں نے خبر سنادی تم کو ایک سخت عذاب کی جیسے عذاب آیا عاد اورثمود پر۔ یہ سن کر عتبہ نے کہا: بس بس، آپ کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں ؟ آپ نے فرمایا: نہیں۔ پھر عتبہ قریش کے پاس واپس آیا تو انھوں نے پوچھا :وہاں کیا بات چیت ہوئی؟ تو اس نے کہا: میرے خیال میں آپ لوگ ان سے جتنی باتیں کہنا چاہتے تھے وہ سب باتیں میں نے ان کو کہہ دیں۔ تو انھوں نے پوچھا کہ انھوں نے تمہیں کچھ جواب دیا؟ تو عتبہ نے کہا :ہاں، لیکن پھر کہنے لگا: نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے کعبہ کو عبادت کا گھر بنایا! اس نے جتنی باتیں کیں ان میں سے مجھے صرف یہی ایک بات سمجھ میں آئی کہ وہ تم کو عاد وثمود جیسے عذاب سے ڈرا رہا ہے۔ تو لوگوں نے کہا :تیرا ناس ہو! (عجیب بات ہے کہ )وہ آدمی تم سے عربی زبان میں بات کرتا ہے اورتمہیں سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ تو عتبہ نے کہا: (میں کیا کروں؟) اس نے جتنی باتیں کہیں ان میں سے عذاب والی بات کے علاوہ اورکوئی بات سمجھ میں نہیں آئی ۔1 بیہقی وغیرہ نے حاکم سے اس روایت کو نقل کیا ہے جس میں یہ مضمون مزید ہے کہ عتبہ نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ سردار بننا چاہتے ہیں تو ہم اپنے سارے جھنڈے آپ کے سامنے گاڑ دیں گے (اس زمانے کا دستور تھا کہ جھنڈا سردار کے گھر گاڑاجاتا تھا ) اور پوری زندگی آپ ہمارے سردار رہیں گے۔ اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ جب آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : {فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صٰعِقَۃً مِّثْلَ صٰعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ O} تو عتبہ نے آپ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر کہا کہ آپ (مزید قرآن پڑھنا) بس کردیں ۔ اس کے بعد عتبہ گھر جاکر بیٹھ رہا اور قریش کے پاس نہ گیا تو ابوجہل نے کہا: اللہ کی قسم! اے قریش !ہمیں تو یہی نظر آرہا ہے کہ عتبہ محمد کی طرف مائل ہوگیا ہے اور اسے محمد کا کھانا پسند آگیا اور یہ اس نے اس وجہ سے کیا ہے کہ وہ غریب ہوگیا ہے، چلو ہم اس کے پاس چلتے ہیں۔ چناں چہ سب عتبہ کے پاس پہنچے تو ابوجہل نے کہا: او عتبہ ! اللہ کی قسم! ہم تمہارے پاس اس وجہ سے آئے ہیں کہ تم محمد کی طرف مائل ہوگئے ہو اور تمہیں اُن کی بات پسند آگئی ہے۔ اگر تمہیں مال کی ضرورت ہے تو ہم تمہیں اتنا مال جمع کرکے دے دیں گے کہ تمہیں محمد کے کھانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔اس پرعتبہ بگڑگیااور اس نے خدا کی قسم کھاکر کہاکہ وہ کبھی محمد سے بات نہیں کرے گا۔ اور کہا کہ تم لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ میں قریش کے سب سے زیادہ مال دار لوگوں میں سے ہوں، لیکن بات یہ ہے کہ میں محمد کے پاس گیا تھا۔ پھر عتبہ نے سارا واقعہ تفصیل سے بیان کیا اور کہا: اللہ کی قسم! محمد نے میری بات کا ایسا جواب دیا جو نہ جادو ہے نہ شعر ہے اور نہ کہانت ہے، اور محمد نے یہ آیات پڑھ کر سنائیں: بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ {حٰمٓ O تَنْزِیْلٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِO} سے لے کر {فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُکُمْ صٰعِقَۃً مِّثْلَ صٰعِقَۃِ عَادٍ وَّثَمُوْدَ O} تک ، تو میں نے اُن کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور اُن کو رشتہ داری کا واسطہ دے کر کہا کہ وہ بس کردیں ۔اور تم جانتے ہو کہ محمد جب کوئی بات کہتے ہیں وہ غلط نہیں ہوتی تو مجھے ڈر ہوا کہ تم پر کہیں عذاب نہ اُتر آئے۔1 حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ قریش حضور ﷺ کے بارے میں مشورہ کرنے کے لیے جمع ہوئے اور آپ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ تو عتبہ بن ربیعہ نے قریش سے کہا: مجھے اجازت دو میں محمد کے پاس جاکر ان سے بات کروں، مجھے امید ہے کہ میں تم لوگوں کی نسبت اُن سے زیادہ نرم بات کرلوں گا۔ عتبہ وہاں سے اُٹھ کر آپ کے پاس آکر بیٹھ گیا اور کہنے لگا: اے میرے بھتیجے! میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ ہم سب میں سب سے زیادہ بہترین گھر والے اور سب سے زیادہ بڑے رتبے والے ہیں، لیکن آپ نے اپنی قوم کو ایسی مصیبت میں مبتلا کردیا کہ کسی نے اپنی قوم کو ویسی مصیبت میں مبتلا نہ کیا ہوگا۔ اگر اس کام سے آپ مال جمع کرنا چاہتے ہیں تو آپ کی قوم اس بات کی ذمہ دار ہے کہ وہ آپ کو اتنا مال جمع کرکے دیں گے کہ آپ ہم میں سب سے زیادہ مال دار ہوجائیں گے۔ اگر آپ سرداری حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا سب سے بڑا سردار بنالیں گے کہ آپ کی قوم میں آپ سے بڑا کوئی سردار نہ ہوگا اور ہم آپ کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا کریں گے۔ اور اگر یہ سب کچھ جنات کے ایسے اثر کی وجہ سے ہے جسے آپ اپنے آپ سے خود زائل نہیں کرسکتے ہیں ،تو جب تک آپ ہم کو مزید علاج کی تلاش میں معذور نہیں قرار دیں گے ہم آپ کے علاج کرانے کے لیے اپنے خزانے خرچ کرتے رہیں گے۔ اور اگر آپ بادشاہ بننا چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ بنالیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: اے ابو الولید ! تم اپنی بات پوری کرچکے ؟ عتبہ نے کہا: جی ہاں۔ حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں کہ آپ نے سورۂ حم سجدہ پڑھنی شروع کی یہاں تک کہ آیت ِسجدہ بھی پڑھ لی۔ پھر آپ نے سجدۂ تلاوت کیا لیکن عتبہ اپنی پشت کے پیچھے ہاتھ ٹیکے بیٹھا رہا (یعنی اس نے سجدہ نہ کیا) اس کے بعد آپ نے باقی سورت تلاوت فرمائی۔ جب آپ تلاوت سے فارغ ہوئے تو عتبہ وہاں سے کھڑا ہوگیا (لیکن وہ ان آیات کو سن کر اتنا مرعوب ہوگیا تھا کہ)اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنی قوم کو جاکرکیا بتائے۔ جب قریش نے اس کو واپس آتے ہوئے دیکھا تو آپس میں کہنے لگے کہ جس حالت کے ساتھ یہ تمہارے پاس سے گیا تھا اب اس کا چہرہ بتارہا ہے کہ اب اس کی وہ حالت باقی نہیں رہی۔ عتبہ اُن کے پاس آکر بیٹھ گیا اور کہنے لگا: اے جماعت ِقریش ! میں نے اُن کو وہ تمام باتیں کہہ دیں جن کا تم نے مجھ کو حکم دیا تھا۔ یہاں تک کہ جب میں اپنی پوری بات کہہ چکا تو اس نے مجھے ایسا کلام سنایا کہ اللہ کی قسم !میرے کانوں نے ویسا کلام کبھی نہیں سنا، اور مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے کیا جواب دوں۔ اے قریش! آج تم میری مان لو آیندہ چاہے نہ ماننا ۔اس آدمی کو اپنے حال پر چھوڑ دو اور اس سے الگ تھلگ رہو، کیوں کہ اللہ کی قسم! وہ جس کام پر لگے ہوئے ہیں وہ اسے چھوڑنے والے نہیں ہیں۔ باقی عربوں میں اسے کام کرنے دو، کیوں کہ اگر وہ اُن عربوں پر غالب آگئے تو اُن کی برتری تمہاری برتری ہوگی اور اُن کی عزت تمہاری عزت ہوگی، اور اگر وہ عرب ان پر غالب آگئے تو تمہارے بیچ میں آئے بغیر دوسروں کے ذریعہ سے تمہارا مقصد حاصل ہوجائے گا۔ اس پر قریش نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے اے ابوالولید! کہ تم بھی بے دین ہوگئے ہو۔ 1 حضرت مِسْوَر بن مَخْرمہ اور حضرت مروان کہتے ہیں کہ حضورﷺ (عمرہ کے ارادے سے) مدینہ سے صلحِ حدیبیہ کے موقع پر چلے۔ اس کے بعد بخاری نے پوری حدیث ذکر کی ہے جیسے کہ لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بننے والے اَخلاق کے باب میں آئے گی۔ اس حدیث میں یہ مضمون بھی ہے کہ حضورﷺ اور صحابۂ کرام ؓ وادیٔ حدیبیہ میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ اتنے میں بدیل بن ورقاء اپنی قوم خزاعہ کی ایک جماعت کو لے کر آئے اور یہ لوگ اہلِ تہامہ میں سے آپ کے سب سے زیادہ خیر خواہ تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں کعب بن لُؤی اور عامر بن لُؤی کے پاس سے آرہا ہوں۔ انھوں نے حدیبیہ کے چشموں پر پڑاؤ ڈالا ہوا ہے اور( وہ لڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہوکر سارا سامان لے کر آئے ہیں حتی کہ) اُن کے ساتھ نئی بیاہی اور پرانی بیاہی اونٹنیاں بھی ہیں اور وہ آپ سے لڑنا چاہتے ہیں اور آپ کو بیت اللہ سے روکیں گے۔ تو آپ نے فرمایا: ہم کسی سے لڑنے کے لیے نہیں آئے بلکہ ہم تو عمرہ کرنے آئے ہیں۔ (ہم بہت حیران ہیں کہ وہ لڑائی کے لیے تیار ہوکر آگئے ہیں حالاں کہ ) لڑائیوں نے تو قریش کو بہت تھکا دیا ہے اور اُن کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اگر وہ چاہیں تو میں اُن سے ایک عرصہ تک کے لیے صلح کرنے کو تیار ہوں۔ اس عرصہ میں وہ میرے اور لوگوں کے درمیان کوئی مداخلت نہیں کریں گے (اور میں اس عرصہ میں دوسرے لوگوں کو دعوت دیتا رہوں گا) اگر دعوت دے کر میں لوگوں پر غالب آگیا (اور لو گ میرے دین میں داخل ہوگئے) تو پھر قریش کی مرضی ہے اگر وہ چاہیں تو وہ بھی اس دین میں داخل ہوجائیں جس میں دوسرے لوگ داخل ہوئے ہوںگے، اور اگر میں غالب نہ آیا (اور دوسرے لوگوں نے غالب آکر مجھے ختم کردیا ) تو پھر یہ لوگ آرام سے رہیں گے۔ اور اگر وہ (اس دین میں داخل ہونے سے) انکار کردیں تو اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے !میں اُن سے اِس دین کے لیے ضرور لڑوںگا یہاں تک کہ میری گردن میرے جسم سے الگ ہوجائے (یعنی مجھے مار دیا جائے) اور اللہ کا دین ضرور چل کر رہے گا ۔ 1 ’’طبرانی‘‘ میں ان دونوں حضرات حضرت مِسْور اورحضرت مروان سے یہی حدیث منقول ہے جس کے آخر میں یہ مضمون ہے کہ آپ نے فرمایا: قریش کی حالت پر بڑا افسوس ہے کہ لڑائی اُن کو کھا گئی ہے (یعنی لڑائی نے اُن کو بہت کمزور کردیا ہے اور وہ پھر لڑنے کے لیے تیار ہوگئے ہیں)۔ اس بات میں اُن کا کیا نقصان ہے کہ وہ مجھے دوسرے عربوں میں دعوت کا کام کرنے دیں اور بیچ میں مداخلت نہ کریں۔ اگر دوسرے عربوں نے غالب آکر مجھے ختم کردیا تو قریش کی دلی منشا پوری ہوجائے گی، اور اگر اللہ نے مجھے عربوں پر غالب کردیا تو وہ قریش بھی سارے کے سارے اسلام میں داخل ہوجائیں، اور اگر قریش اسلام میں داخلہ قبول نہ کریں تو مجھ سے لڑیں اور اس وقت اُن کے پاس قوت بھی ہوگی۔ قریش کیا سمجھتے ہیں، اللہ کی قسم! جس دین کو دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے میں اس کی وجہ سے اُن سے لڑتا رہوں گا یہاںتک کہ یا تواللہ تعالیٰ مجھے غالب کردے گا، یا یہ گردن میرے جسم سے الگ ہوجائے گی۔ 1 حضرت سہل بن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے غزوۂ خیبر کے دن فرمایا کہ کل میں یہ جھنڈا ایسے شخص کو دوںگا جس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ خیبر فتح فرمائیں گے، اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ حضرت سہل فرماتے ہیں کہ لوگوں نے ساری رات اس فکر میں گزاری کہ دیکھیے صبح جھنڈا کس کو ملتا ہے۔ صبح ہوتے ہی سب حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہر ایک کو یہ تمنا تھی کہ جھنڈا اس کو ملے۔ تو آپ نے فرمایا کہ علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ !اُن کی آنکھیں دُکھ رہی ہیں۔ حضرت سہل فرماتے ہیں کہ حضورﷺنے آدمی بھیج کر حضرت علی کو بلایا۔ وہ آئے تو اُن کی آنکھوں پر حضورﷺ نے دم فرمایا اور اُن کے لیے دعا فرمائی، وہ فوراً ایسے صحت یاب ہوگئے کہ جیسے کوئی تکلیف ہی نہ تھی اور ان کو جھنڈا دیا، تو حضرت علیؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں ان سے اس لیے لڑوں تاکہ وہ ہمارے جیسے ہوجائیں ؟ آپ نے فرمایا کہ تم اطمینان سے چلتے رہو یہاں تک کہ اُن کے میدان میں پہنچ جاؤ، پھر اُن کو اِسلام کی دعوت دو اور اللہ تعالیٰ کے جو حق اُن پر واجب ہیں وہ اُن کو بتاؤ۔ اللہ کی قسم! تمہارے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو ہدایت دے دیں یہ تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ تمہیں سرخ اونٹ مل جائیں۔2 حضرت مِقْداد بن عمرو ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حَکَم بن کیسا ن کو گرفتار کیا تو ہمارے امیر صاحب نے اُن کی گردن اُڑانے کا ارادہ کیا، تو میں نے کہا: آپ اسے رہنے دیں ہم اسے حضورﷺ کی خدمت میں لے کر جائیں گے۔ چناں چہ ہم انھیں حضورﷺ کی خدمت میں لے کر آئے۔ حضورﷺ اُن کو اسلام کی دعوت دینے لگے اور بہت دیر تک دعوت دیتے رہے، جب زیادہ دیر ہوگئی تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ اس سے کس امید پر بات کررہے ہیں؟ اللہ کی قسم! یہ کبھی بھی مسلمان نہیں ہوگا۔ آپ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑادوں تاکہ یہ جہنم رسید ہوجائے۔ لیکن حضورﷺ نے حضرت عمر کی بات کی طرف کوئی توجہ نہ فرمائی اور اسے مسلسل دعوت دیتے رہے یہاں تک کہ حکم مسلمان ہوگئے ۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ جوںہی میں نے اُن کو مسلمان ہوتے ہوئے دیکھا تو اگلے پچھلے تمام خیالات نے مجھے گھیر لیا اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ جس بات کو حضورﷺ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں میں اس بات میں کیسے جسارت کربیٹھتا ہوں۔ پھر میں نے یہ سوچا کہ میں نے اللہ و رسولﷺ کی خیر خواہی میں بات کی تھی۔ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ حضرت حَکَمؓ مسلمان ہوئے اور بہت اچھے مسلمان بنے اور اللہ کے راستے میں جہاد کرتے رہے یہاں تک بیرِ مَعُونہ کے موقع پر شہادت کا مرتبہ پایا اور حضورﷺ اُن سے راضی تھے اور وہ جنت میں داخل ہوئے ۔1 حضرت زُہری کی روایت میں اس طرح سے ہے کہ حضرت حَکَم نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ تم ایک اللہ کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیںہے، اور اس بات کی گواہی دو کہ محمد(ﷺ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ اس پر حضرت حَکَم نے کہا کہ میں نے اسلام کو قبول کرلیا۔ اس پر حضورﷺنے اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا کہ اگرمیں اس کے بارے میں ابھی تمہاری بات مان کر اسے قتل کردیتا تو یہ دوزخ میں چلا جاتا۔2 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضورِ اَقدسﷺنے حضرت حمزہ ؓ کے قاتل وَحشی بن حرب کے پاس اسلام کی دعوت دینے کے لیے آدمی بھیجا۔ حضرت وحشی نے جواب میں یہ پیغام بھیجا کہ آپ مجھے کیسے اسلام کی دعوت دے رہے ہیں حالاں کہ آپ خود یہ کہتے ہیں کہ قاتل اورمشرک اور زانی دوزخ میں جائیں گے، اور قیامت کے دن اُن پر عذاب دُگنا ہوگا، اور ہمیشہ ذلیل ہوکر جہنم میں پڑے رہیں گے۔ اور میں نے یہ سب کام کیے ہیں تو کیا میرے لیے آپ کے خیال میں ان برے کاموں کی سزا سے بچنے کی کوئی گنجایش ہے؟ تو اللہ عزوجل نے فوراً یہ آیت نازل فرمائی: {اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰ تِہِمْ حَسَنٰتٍ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاO}1 جس کا ترجمہ یہ ہے: مگر جس نے توبہ کی اور یقین لایا اور کیا کچھ کام نیک ، سو اُن کو بدل دے گا اللہ برائیوں کی جگہ بھلائیاں ،اور ہے اللہ بخشنے والا مہربان ۔ اس آیت کو سن کر حضرت وحشی نے کہا: توبہ اور ایمان اور عمل صالح کی شرط بہت کڑی ہے شاید میں اسے پورا نہ کرسکوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {اِنَّ اللّٰہََ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ}2 جس کا ترجمہ یہ ہے کہ بے شک اللہ نہیں بخشتا اس کو جو اس کا شریک کرے اور بخشتا ہے اس سے نیچے کے گناہ جس کے چاہے۔ اس پر حضرت وحشی نے کہا :مغفرت تو اللہ کے چاہنے پر موقوف ہوگئی، پتہ نہیں اللہ مجھے بخشیں گے یا نہیں۔ کیا اس کے علاوہ کچھ اور گنجایش ہے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِط اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاط اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ O}3 جس کا ترجمہ یہ ہے:اے بندو میرے جنہوں نے کہ زیادتی کی ہے اپنی جان پر! آس مت توڑو اللہ کی مہربانی سے، بے شک اللہ بخشتا ہے سب گناہ، وہ جو ہے وہی ہے گناہ معاف کرنے والا مہربان۔ اس پر حضرت وحشی ؓ نے فرمایا کہ ہاں یہ ٹھیک ہے اور مسلمان ہوگئے۔ اس پر لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! ہم نے بھی وہی گناہ کیے ہیں جو حضرت وحشی نے کیے تھے، تو یہ آیت ہمارے لیے بھی ہے؟ آپ نے فرمایا :ہاں یہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے ۔4 حضرت ابنِ عباس ؓ فرماتے ہیں: کچھ مشرک لوگوں نے خوب قتل کیا تھا اور خوب زنا کیا تھا۔ وہ لوگ حضورِ اَقدسﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگے: آپ جو بات کہتے ہیں اور جس کی آپ دعوت دیتے ہیں وہ بہت اچھی ہے۔ آپ ہمیں بتائیں کہ ہم نے جو گناہ کیے ہیں کیا اُن کاکوئی کفارہ ہوسکتا ہے؟ اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں: {وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ وَلَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا یَزْنُوْنَ}1 اور {قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاط اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ O}2 (پچھلی حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ یہ آیات حضرت وحشی کے بارے میں نازل ہوئی تھیں، اس حدیث سے یہ معلوم ہورہا ہے کہ یہ آیات چند مشرک لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔) 3 حضرت ابوثعلبہ خُشَنیؓ فرماتے ہیں کہ حضورِ اَقدسﷺ ایک مرتبہ سفر غزوہ سے واپس تشریف لائے۔ آپ نے مسجد میں جاکر دو رکعت نماز پڑھی، اور آپ کو یہ بات پسند تھی کہ سفر سے واپسی پر پہلے مسجد میں جائیں اور اس میں دو رکعت نماز پڑھیں، پھر حضرت فاطمہؓکے گھر جائیں اور اس کے بعد اپنی اَزواجِ مُطَہَّرات کے گھروں میں جائیں۔ چناں چہ ایک مرتبہ سفر سے واپس تشریف لائے اور اپنی اَزواجِ مُطَہَّرات کے گھروں سے پہلے حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لے گئے تو حضرت فاطمہ نے اپنے گھر کے دروازے پر آپ کا استقبال کیا اور آپ کے چہرہ ٔاَنور اور آنکھوں کا بوسہ لینے لگیںاور رونے لگیں تو اُن سے حضورﷺ نے فرمایا: کیوں روتی ہو؟ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی یہ حالت دیکھ کر رو رہی ہوں کہ آپ کا رنگ (سفر کی مشقت کی وجہ سے) بدل چکاہے اور آپ کے کپڑے پرانے ہوگئے۔ توان سے آپ نے فرمایا: اے فاطمہ ! مت روؤ، اللہ نے تمہارے باپ کو ایسا دین دے کر بھیجا ہے جس کو اللہ رُوئے زمین کے ہر پکے گھر میںاور ہر کچے گھر میں اور ہر اُونی خیمہ میں ضرور داخل کریں گے۔ جو اسلام میں داخل ہوں گے وہ عزت پائیں گے اور جو داخل نہیں ہوں گے وہ ذلیل ہوں گے ۔اور دنیا کے جتنے حصہ میں رات پہنچتی ہے اتنے حصہ میں یہ دین بھی پہنچے گا یعنی ساری دنیا میں پہنچ کر رہے گا ۔ 4 حضرت تمیم داری ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورِ اَقدسﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جہاں تک دن رات پہنچتے ہیں (یعنی ساری دنیا میں) یہ دین ضرور پہنچے گا، اور ہر پکے اور کچے گھر میں اللہ تعالیٰ اس دین کو ضرور داخل کریں گے، ماننے والے کو عزت دے کر اور نہ ماننے والے کو ذلیل کرکے۔ چناں چہ اسلام اور اہل اسلام کو اللہ پاک عزت دیں گے اور کفر کو ذلیل و رسوا کریں گے۔ حضرت تمیم داری فرمایا کرتے تھے کہ میں نے اس منظر کو اپنے خاندان میں اچھی طرح دیکھا کہ ان میں سے جو مسلمان ہوئے خیر و شرافت اور عزت نے اُن کے قدم چومے، اور جو کافر رہے وہ ذلیل ہوئے ان کو چھوٹا بننا پڑا اور جزیہ دینا پڑا۔ 1 حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ ؓ نے مجھے تُسْتَر کی فتح کی خوش خبری سنانے کے لیے حضرت عمرؓ کے پاس بھیجا۔ قبیلہ بکر بن وائل کے چھ آدمی مرتد ہوکر مشرکین سے جاملے تھے، اُن کے بارے میں حضرت عمرنے مجھ سے پوچھا کہ بکر بن وائل کے اُن آدمیوں کا کیا ہوا؟ میں نے کہا :اے امیر المؤمنین! وہ لوگ مرتد ہوکر مشرکین سے جاملے تھے، ان کا علاج تو یہی تھا کہ اُن کو قتل کردیا جاتا۔ تو حضرت عمر نے فرمایا: وہ لوگ صحیح سالم میرے ہاتھ آجاتے تو یہ مجھے ساری دنیا کے سونے چاندی سے زیادہ پسند ہوتا۔ میں نے کہا: اے امیر المومنین! اگر وہ آپ کے ہاتھ آجاتے تو آپ اُن کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے؟ انھوں نے مجھ سے فرمایا کہ وہ اسلام کے جس دروازے سے باہر نکل گئے تھے میں اُن پر اسی دروازے سے واپس آجانے کو پیش کرتا، پھر اگر وہ اسلام کی طرف واپس آجاتے تو میں اُن کے اسلام کو قبول کرلیتا ورنہ انھیں جیل خانہ میں ڈال دیتا۔ 2 حضرت عبدالرحمن قاری کہتے ہیں: حضرت ابو موسیٰ ؓ کی طرف سے ایک آدمی امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت عمر نے اس سے لوگوں کے حالات پوچھے جو اُس نے بتائے۔ پھرحضرت عمر نے فرمایا کہ کیا کوئی عجیب وغریب بات تمہارے ہاں پیش آئی ہے؟ اس نے کہا :ہاں! یہ عجیب بات پیش آئی ہے کہ ایک آدمی مسلمان ہوکر پھر کافر ہوگیا۔ حضرت عمرنے فرمایا: تم نے اس کے ساتھ کیا برتاؤ کیا؟ اس نے کہا: اسے بلا کر اس کی گردن اُڑا دی۔ حضرت عمر نے فرمایا:کیا تم نے اسے تین دن قید کیا اور روزانہ اسے ایک روٹی کھلائی اور اس سے توبہ کروائی ؟ (اگر تم ایسا کرلیتے تو) شاید وہ توبہ کرلیتا اور اللہ کے دین میں واپس آجاتا۔ اے اللہ! اس موقع پر میں موجود نہیں تھا اور نہ ایسا کرنے کا میں نے حکم دیا تھا، اور اب جب مجھے اس واقعہ کا علم ہوا میں اس سے راضی بھی نہیں ہوا ۔ 1 حضرت عمرو بن العاص ؓ نے امیر المؤمنین حضرت عمرؓ کو ایک خط لکھا جس میں انھوں نے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا کہ وہ اسلام میں داخل ہوا پھر کافر ہوگیا ، پھر اسلام میں داخل ہوا پھر کافر ہوگیا یہاں تک کہ ایسا اس نے کئی مرتبہ کیا۔ کیا اس سے اسلام قبول کیا جائے گا؟ تو حضرت عمر نے اُن کو یہ جواب لکھا کہ جب تک اللہ پاک لوگوں سے اسلام قبول کرتے رہیں، تم بھی اس سے اسلام قبول کرتے رہو، لہٰذا اب اس پر اسلام پیش کرکے دیکھو اگر وہ قبول کرلے تو اسے چھوڑ دو ورنہ اس کی گردن اُڑا دو۔ 2 حضرت ابو عمران جَونی کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کا ایک راہب کے پاس سے گزر ہوا، آپ وہاںکھڑے ہوگئے۔ لوگوں نے راہب کو پکارا کر کہا: یہ امیر المؤمنین ہیں۔ اس نے جھانک کر دیکھا تو اس پر تکالیف اٹھانے اور مجاہدہ کرنے اور ترک ِدنیا کے آثار نمایاں تھے (یعنی مجاہدوں کی کثرت کی وجہ سے بہت خستہ حال اور کمزور ہورہا تھا)۔ اسے دیکھ کر حضرت عمر ؓ رودیے تو اُن سے کسی نے کہا: (آپ مت روئیں ) یہ تو نصرانی ہے(مسلمان نہیں ہے)۔ تو حضرت عمرنے فرمایا: یہ مجھے معلوم ہے لیکن مجھے اس پر ترس آرہا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ O تَصْلٰی نَارًا حَامِیَۃً O}3 یاد آرہا ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ (بہت سے لوگ) محنت کرنے والے تھکے ہوئے ہیں، گریں گے دہکتی ہوئی آگ میں ۔(یعنی کافر لوگ جو دنیا میں بڑی بڑی ریاضت کرتے ہیں اللہ کے ہاں کچھ قبول نہیں ہوتی، اس لیے دنیا کی مشقتیں اٹھانے کے باوجود دوزخ میں جائیں گے) مجھے اس بات پر ترس آیا کہ دنیا میں تھکادینے والی محنت کررہا ہے اور اتنے مجاہدے برداشت کررہا ہے ،لیکن مر کر پھر بھی دوزخ میں جائے گا۔1