صحابۂ کرام ؓ کا اپنے وطن کو چھوڑنا
نبی کریم ﷺ اور حضرت ابو بکر ؓ کی ہجرت
صحابۂ کرام ؓنے کس طرح اپنے پیارے وطنوں کو چھوڑا حالاں کہ وطن کا چھوڑنا انسان کے لیے بڑا مشکل کام ہے۔ اور انھوں نے وطن بھی اس طرح چھوڑا کہ پھر موت تک اپنے وطن کو واپس نہ گئے۔ اور یہ وطن چھوڑنا کس طرح اُن کو دنیا اور متاعِ دنیا سے زیادہ محبوب ہوگیا تھا۔ اور انھوں نے دین کو کس طرح دنیاپر مقدّم کیا اور نہ دنیا کے ضائع ہونے کی پروا کی اور نہ اس کے فنا ہونے کی طرف توجہ کی۔ اور وہ کس طرح اپنے دین کو فتنہ سے بچانے کے لیے ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ کی طرف بھاگے پھرتے تھے، (اُن کی حالت ایسی تھی کہ ) گویا کہ وہ آخرت ہی کے لیے پیداکیے گئے ہیں اور وہ صرف آخرت ہی کی فکر کرنے والے ہیں۔ چناںچہ (اس کے نتیجہ میں) ایسا نظرآتا تھا کہ دنیا صرف اُن ہی کے لیے پیدا کی گئی ہے۔
نبی کریم ﷺ اور حضرت ابو بکر ؓ کی ہجرت
حضرت عروہ سے مرسلاً منقول ہے کہ حضور ﷺ حج کے بعد ذی الحجہ کے بقیہ دن اور محرّ م اور صفر مکہ میں ٹھہرے رہے۔ اور جب مشرکینِ قریش کو اس بات کا یقین ہوگیا کہ حضور ﷺ یہاں سے جانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے مدینہ میں ٹھکانا اور حفاظت کی جگہ بنا دی ہے، اور انھیں معلوم ہوگیاکہ اَنصار مسلمان ہوگئے ہیں اور مہاجرین اُن کے پاس جا رہے ہیں، تو انھوں نے حضور ﷺ کے خلاف انتہائی قدم اٹھانے کا فیصلہ کر لیا اور یہ طے کر لیا کہ وہ حضور ﷺ کو پکڑ کر رہیں گے۔ پھر (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِک!) یا تو اُن کو قتل کردیں گے یا قید کردیں گے۔ عمروبن خالد راوی کو شک ہے کہ قید کرنے کا ذکرہے، یا زمین پر گھسیٹنے کا (بظاہر قید کرنے کا ذکر ہے)، یا آپ کو مکہ سے نکال دیں گے، یا آپ کو باندھ رکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو اُن کی اس سازش سے باخبر کردیا اور یہ آیت نازل فرمائی:
{وَاِذْ یَمْکُرُ بِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْکَ اَوْ یَقْتُلُوْکَ اَوْ یُخْرِجُوْکَط وَیَمْکُرُوْنَ وَیَمْکُرُ اللّٰہُ ط وَاللّٰہُ خَیْْرُ الْمٰکِرِیْنَ O}1
اور جب فریب کرتے تھے کافر کہ تجھ کو قید کردیں یا مار ڈالیں یا نکال دیں، اور وہ بھی داؤ کرتے تھے اور اللہ بھی داؤ کرتا تھا، اور اللہ کا داؤ سب سے بہترہے۔
جس دن حضور ﷺ حضرت ابو بکر ؓ کے گھر تشریف لے گئے اس دن آپ کو یہ خبر لگی کہ آپ رات کو جب اپنے بستر پر لیٹ جائیں گے تو وہ کافر رات کو آپ پر حملہ کر دیں گے۔ چناںچہ رات کے اندھیرے میںآپ اور حضرت ابوبکر مکہ سے نکل کر غارِ ثور تشریف لے گئے۔ اور یہ وہی غار ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ذکرفرمایا ہے۔ اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ حضور ﷺ کے بستر پر آکر لیٹ گئے تاکہ جاسوسوں کو حضور ﷺ کے جانے کا پتہ نہ چلے (اور وہ یہ سمجھتے رہیں کہ یہ حضور ﷺ ہی لیٹے ہوئے ہیں)۔ اور مشرکینِ قریش ساری رات اِدھر اُدھر پھرتے رہے اور مشورے کرتے رہے کہ بستر پرلیٹے ہوئے آدمی کو ایک دم پکڑ لیں گے۔ وہ یوںہی مشورے کرتے رہے اور کوئی فیصلہ نہ کرسکے اور باتوں ہی باتوں میں صبح ہوگئی۔ جب صبح ہوئی تو انھوں نے دیکھاکہ حضرت علی بستر سے اُٹھ رہے ہیں۔ مشرکین نے اُن سے حضور ﷺ کے بارے میں پوچھا توحضرت علی نے بتایا کہ انھیں حضور ﷺ کے بارے میں کچھ خبر نہیں ہے۔ اس وقت انھیں پتہ چلا کہ حضور ﷺ تو جا چکے۔ آپ کی تلاش میں وہ مشرک سوار ہوکرہر طرف چل پڑے اور آس پاس کے چشموں والوں کو بھی پیغام بھیجا کہ وہ حضور ﷺ کو گرفتار کرلیں انھیں بڑا اِنعام ملے گا۔ اور وہ تلاش کرتے ہوئے اس غار تک پہنچ گئے جس میں حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر تھے، حتیٰ کہ وہ غارکے اوپر بھی چڑھ گئے اور حضور ﷺ نے اُن کی آوازیں بھی سن لیں۔ حضرت ابو بکر تو اس وقت بہت ڈر گئے، اور اُن پر خوف اور غم طاری ہوگیا تو اس وقت حضور ﷺ نے ان سے فرمایا:
{لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا} 2 غم نہ کرو یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
اور آپ نے دعا مانگی۔ چناںچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوراً آپ پر سکینہ نازل ہوئی (جیسے کہ قرآن مجید میں ہے):
{فَاَنْزَلَ اللّٰہُ سَکِیْنَتَہٗ عَلَیْْہِ وَاَیَّدَہٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْہَا وَجَعَلَ کَلِمَۃَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا السُّفْلٰی ط وَکَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الْعُلْیَا ط وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ O}1
پھر اللہ نے اتاری اپنی طرف سے اس پر تسکین اور اس کی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں کہ تم نے نہیں دیکھیں، اور نیچے ڈالی بات کافروں کی۔ اور اللہ کی بات ہمیشہ اوپر ہے۔ اور اللہ زبردست ہے حکمت والا۔
حضرت ابو بکر ؓ کے پاس کچھ دودھ والی بکریاں تھیں جو روزانہ شام کواُن کے اور ان کے گھر والوں کے پاس مکہ آجاتی تھیں (اور یہ اُن کا دودھ پی لیا کرتے تھے)۔ حضرت ابو بکر کے غلام حضرت عامر بن فُہَیرہ ؓ بڑے امانت دار، دیانت دار اور بڑے پکے مسلمان تھے۔ انھیں حضرت ابو بکر نے (کسی رہبر کو اُجرت پر لینے کے لیے) بھیجا۔ چناںچہ انھوں نے بنو عبد بن عدی کا ایک آدمی اُجرت پر لے لیا جسے ابن الاُرَ یْقِط کہا جاتا تھا، جو کہ قریش کے بنو سہم یعنی بنو عاص بن وائل کا حلیف تھا۔یہ عدوی آدمی اس وقت مشرک تھااوروہ لوگوں کو راستہ بتانے کا کام کرتا تھا۔ ان دنوں وہ ہماری سواریاں لے کے چھپا رہا۔ شام کے وقت مکہ کے تمام حالات لے کر حضرت عبداللہ بن ابی بکر ؓ ان دونوں حضرات کے پاس آتے اور حضرت عامر بن فُہَیرہ ہر رات بکریاں لے کر آتے۔ یہ حضرات اُن کا دودھ نکال کر پی لیتے اور ذبح کر کے گوشت کھالیتے۔ پھر صبح صبح حضرت عامر بکریاں لے کر لوگوں کے چرواہوں میں جا ملتے اور اُن کا کسی کو بھی پتہ نہ چلتا۔ یہاں تک کہ جب ان حضرات کے بارے میں شور وغل بند ہوگیا اور حضرت عامر بن فُہَیرہ نے آکر ان حضرات کو بتایا کہ ان کے بارے میں لوگ خاموش ہوگئے ہیں تو حضرت عامربن فُہَیرہ اور ابنِ اُرَیْقِط ان حضرات کی دو اونٹنیاں لے کر آگئے، اور یہ حضرات غار میں دو رات اور دو دن گزار چکے تھے۔ پھر یہ حضرات وہاں سے چلے اور ان کے ساتھ حضرت عامر بن فُہَیرہ تھے جو اِن حضرات کی اونٹنیوں کو ہانکتے اور ان کی خدمت کرتے اور ان کی (مختلف کاموں میں) اعانت کرتے۔ حضرت ابو بکر اُن کو اپنے پیچھے باری باری بٹھالیتے۔ حضرت عامر بن فُہَیرہ اور بنو عدی کے قبیلہ کے راستہ بتانے والے کے علاوہ اور کوئی ان حضرات کے ساتھ نہ تھا۔ 1
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ حضرت ابو بکر ؓ کے گھر روزانہ صبح یا شام کسی ایک وقت ضرور تشریف لاتے۔ چناںچہ جس دن اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو ہجرت کرنے کی اور اپنی قوم کے درمیان میں سے مکہ سے چلے جانے کی اجازت دی، اس دن آپ عین دوپہر کے وقت ہمارے ہاں تشریف لائے۔ اس وقت آپ پہلے کبھی تشریف نہیںلایا کرتے تھے۔ جب آپ کو حضرت ابو بکر نے دیکھا تو انھوں نے کہا کہ ضرور کوئی نئی بات پیش آئی ہے جس کی وجہ سے حضور ﷺ اس وقت (عادت کے خلاف) تشریف لائے ہیں۔ جب حضور ﷺ اندر آگئے توآپ کو جگہ دینے کے لیے حضرت ابوبکراپنی چارپائی سے ذرا پرے ہٹ گئے اور حضور ﷺ بیٹھ گئے۔ حضرت ابوبکر کے پاس اس وقت میں اور میری بہن اسماء بنتِ ابی بکر ؓ کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جو تمہارے پاس بیٹھے ہوئے ہیں انھیں باہر بھیج دو۔ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ دونوں تو میری بیٹیاں ہیں۔ میرے ماںباپ آپ پر قربان ہوں! ان کے یہاں رہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے چلے جانے اور ہجرت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ حضرت ابو بکر نے کہا: یا رسول اللہ! میں (اس سفرِ ہجرت میں) آپ کے ساتھ جانا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم بھی ساتھ چلو۔
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم! مجھے معلوم نہیں تھا کہ انسان خوشی کی وجہ سے بھی رویا کرتا ہے۔ اس دن حضرت ابو بکر کو روتے ہوئے دیکھ کر یہ پتہ چلا۔ پھر انھوں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! یہ دو سواریاں میں نے اس وقت کے لیے تیار کر رکھی تھیں۔ ان حضرات نے عبداللہ بن اُرَیْقِط کو راستہ بتانے کے لیے اُجرت پر لیا۔ یہ قبیلہ بنودُئل بن بکر کا تھا اور اس کی والدہ بنو سہم بن عمرو میں سے تھی اور یہ مشرک تھا۔ اور اسے اپنی دونوں سواریاں دے دیں۔ اور جو وقت اس سے مقرر کیا تھا اس وقت تک وہ ان دونوں سواریوں کو چراتا رہا۔2
علامہ بَغَوی نے ایک عمدہ اسناد کے ذریعہ حضرت عائشہ ؓ سے اسی حدیث کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور اس میں یہ مضمون ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ نے عرض کیا: ساتھ رہنے کی درخواست ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: منظور ہے۔ حضرت ابو بکر نے کہا: میرے پاس دو سواریاں ہیں جن کو چھ مہینے سے اس وقت کے لیے گھاس کھلا رہا ہوں، آپ ان میں سے ایک لے لیں۔ آپ نے فرمایا: میں ویسے نہیں لوںگا، بلکہ اسے خریدوں گا۔ چناںچہ حضور ﷺ نے حضرت ابو بکر سے وہ سواری خریدی۔ پھر وہ دونوں حضرات وہاں سے چلے اور غار میں جاکر ٹھہر گئے۔ آگے اور حدیث ذکرکی ہے۔1
حضرت اسماء بنتِ ابی بکر ؓ فرماتی ہیںکہ حضور ﷺ مکہ میںروزانہ ہمارے پاس دو دفعہ تشریف لاتے تھے۔ ایک دن آپ عین دوپہر کے وقت تشریف لائے۔ میں نے کہا: اے ابا جان! یہ رسول اللہ ﷺ ہیں۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! اس وقت کسی خاص بات کی وجہ سے آئے ہیں۔ (حضرت ابوبکر ؓ حضور ﷺ کے پاس گئے) حضور ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہوگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہاں سے چلے جانے کی اجازت دے دی ہے؟ حضرت ابو بکر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کے ساتھ جانا چاہتا ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے، تم میرے ساتھ چلو۔ حضرت ابو بکر نے کہا کہ میرے پاس دو سواریاں ہیں جنھیں میں اتنے عرصہ سے آج کے انتظار میں گھاس کھلا رہا ہوں ان میں سے ایک آپ لے لیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: میں قیمت دے کرلوںگا۔حضرت ابو بکر نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! اگر آپ اسی میں خوش ہیںتو قیمت دے کر لے لیں۔ حضرت اسماء ؓ فرماتی ہیں کہ ہم نے ان دونوں حضرات کے لیے سفر کا کھانا تیار کیا اور اپنے کمربند کوپھاڑ کر دو ٹکڑے کیے اور ایک ٹکڑے سے زادِ سفرکو باندھ دیا۔ پھروہ دونوں حضرات چلے اورثورپہاڑکے غار میں جا ٹھہرے۔ جب وہ دونوں حضرات اس غار تک پہنچے تو حضرت ابو بکر حضور ﷺ سے پہلے اس غارکے اندر گئے اور ہر سوراخ میں انگلی ڈال کر دیکھا کہ کہیں اس میں کوئی موذی جانور تو نہیں ہے (جو حضورﷺ کو تکلیف پہنچائے)۔ جب کفار کو یہ دونوں حضرات (مکہ میں) نہ ملے تو وہ اُن کی تلاش میں چل پڑے اور حضور ﷺکو ڈھونڈکرلانے والے کے لیے سو اونٹنیوں کا انعام مقرر کیا اور مکہ کے پہاڑوں پر پھرتے پھرتے اس پہاڑپر پہنچ گئے جہاں یہ دونوں حضرات تھے۔ ان میں سے ایک آدمی غار کی طرف منہ کیے ہوئے تھا۔ اس کے بارے میں حضرت ابوبکرنے کہا: یا رسول اللہ! یہ آدمی تو ہمیں دیکھ رہاہے۔ آپ نے فرمایا: ہرگز نہیں۔ فرشتے ہمیںاپنے پروںسے چھپائے ہوئے ہیں۔ چناںچہ وہ آدمی بیٹھ کرغارکی طرف منہ کرکے پیشاب کرنے لگا، تو حضور ﷺ نے فرمایا: اگر یہ ہمیں دیکھ رہا ہوتا تو ایسے نہ کرتا۔ وہ دونوں حضرات وہاں تین رات رہے۔ حضرت ابو بکر ؓ کے غلام حضرت عامربن فُہَیرہ شام کے وقت حضرت ابو بکرکی بکریاں لے آتے اور آخر رات میں اُن کے پاس سے بکریاں لے کر چلے جاتے اور چراگاہ میں جاکر چرواہوں کے ساتھ مل جاتے۔ شام کو چرواہوں کے ساتھ واپس آتے (لیکن) آہستہ آہستہ چلتے(اورپیچھے رہ جاتے) جب رات کا اندھیرا ہوجاتا تو اپنی بکریاںلے کر ان دونوں حضرات کے پاس پہنچ جاتے۔ چرواہے یہ سمجھتے کہ وہ انھی کے ساتھ ہیں۔ حضرت عبداللہ بن ابی بکر ؓ دن کو مکہ میں رہ کر حالات معلوم کرتے رہتے اور جب رات کا اندھیرا ہوتا تو وہ ان دونوں حضرات کو جا کر سارے حالات بتادیتے،اور پھر آخر رات میں ان حضرات کے پاس سے چل پڑتے اور صبح کو مکہ پہنچ جاتے۔ (تین راتوں کے بعد) یہ دونوں حضرات غار سے نکلے اور ساحلِ سمندر کا راستہ اختیار کیا۔ کبھی حضرت ابو بکر حضور ﷺ کے آگے چلنے لگتے، جب اُن کو پیچھے سے کسی کے آنے کا خطرہ ہوتا تو آپ کے پیچھے چلنے لگتے۔ سارے سفر میںیوںہی (کبھی آگے کبھی پیچھے) چلتے رہے۔ چوں کہ حضرت ابو بکر ؓ لوگوں میں مشہور تھے اس وجہ سے راستہ میں انھیں کوئی (پہچاننے والا) ملتا اوریہ پوچھتا کہ یہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ تو آپ کہتے: یہ راستہ دکھانے والا ہے جو مجھے راستہ دکھا رہا ہے۔ ان کا مطلب یہ ہوتاکہ مجھے دین کا راستہ دکھا رہا ہے اوردوسرا یہ سمجھتا کہ انھیں سفر کاراستہ دکھارہا ہے۔جب یہ حضرات قُدَید کی آبادی پر پہنچے جو اُن کے راستہ میں پڑتی تھی تو ایک آدمی نے بنو مُدْلج کے پاس آکر بتایا کہ میں نے سمندر کی طرف جاتے ہوئے دو سواروںکو دیکھا ہے اورمیراخیال یہ ہے کہ یہ قریش کے وہی دو آدمی ہیںجنھیں تم ڈھونڈرہے ہو۔ توسراقہ بن مالک نے کہا: یہ دوسوار تواُن لوگوں میں سے ہیں جن کو ہم نے لوگوں کے کسی کام کے لیے بھیجا ہے۔ (سراقہ سمجھ تو گئے کہ یہ حضور ﷺ اور حضرت ابو بکر ہیں، لیکن لوگوں سے چھپانے کے لیے یہ کہہ دیا) پھر سراقہ نے اپنی باندی کو بلا کر اس کے کان میں یہ کہا کہ وہ اُن کا گھوڑا (آبادی سے) باہر لے جائے۔ پھر وہ ان دونوں حضرات کی تلاش میں چل پڑے۔ سراقہ کہتے ہیں کہ میں ان دونوں کے قریب پہنچا اور پھر انھوں نے اپنا قصہ بیان کیا جیسے کہ آگے آئے گا۔1
حضرت ابنِ سیرین کہتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں چند لوگوں کا تذکرہ ہوا اور لوگوں نے ایسی باتیںکہیں جس سے یہ معلوم ہو رہا تھاکہ وہ لوگ حضرت عمر کو حضرت ابو بکر سے افضل سمجھتے ہیں۔ جب حضرت عمر کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! ابوبکر کی ایک رات عمر کے سارے خاندان (کی زندگی) سے بہتر ہے، اور ابو بکر کاایک دن عمر کے سارے خاندن (کی زندگی) سے بہتر ہے۔ جس رات حضور ﷺ گھرسے نکل کر غار تشریف لے گئے تھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر بھی تھے۔ حضرت ابو بکر کچھ دیر حضور ﷺ کے آگے چلتے اور کچھ دیر پیچھے۔ حضور ﷺ اس بات کو سمجھ گئے اور آپ نے فرمایا: اے ابوبکر! تمہیں کیا ہوا؟ کچھ دیر میرے پیچھے چلتے ہواور کچھ دیر میرے آگے؟ انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جب مجھے خیال آتاہے کہ پیچھے سے کوئی تلاش کرنے والا نہ آجائے تو میں پیچھے چلنے لگتاہوں، اور پھر جب مجھے خیال آتا ہے کہ آگے کوئی گھات میں نہ بیٹھا ہو تو میں آگے چلنے لگتا ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا: ابوبکر! اگرخدانخواستہ کوئی حادثہ پیش آئے تو کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ وہ میرے بجائے تمہیں پیش آئے؟ حضرت ابو بکر نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! یہی بات ہے۔ جب یہ دونوں حضرات غار تک پہنچے تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ذرا یہاں ہی ٹھہریں میں آپ کے لیے غار کو صاف کرلوں۔ چناںچہ حضرت ابو بکر ؓ نے اندر جا کر غار کو صاف کیا،پھرباہر آئے تو خیال آیا کہ انھوں نے سوراخ ابھی صاف نہیں کیے تو انھوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابھی آپ ذرا اور ٹھہریں، میں سوراخ بھی صاف کر لوں۔ چناںچہ اندر جاکر غار کو اچھی طرح صاف کیا، پھر آکرعرض کیا: یا رسول اللہ! اندر تشریف لے آئیں۔ آپ اندر تشریف لے گئے ۔پھر حضرت عمر ؓ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! (حضرت ابو بکر ؓ کی) یہ ایک رات عمر کے پورے خاندان سے بہترہے۔1
حضرت حسن بصری کہتے ہیں کہ حضورﷺ اور حضرت ابو بکر ؓ غار میں تشریف لے گئے اور قریش بھی حضور ﷺ کو ڈھونڈتے ہوئے وہاں پہنچ گئے، لیکن جب انھوں نے غار کے دروازے پرمکڑی کا جالا تنا ہوا دیکھا توکہنے لگے: اس غار کے اندر کوئی نہیں گیا۔ حضور ﷺ کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور حضرت ابوبکر پہرہ دے رہے تھے۔ حضرت ابو بکر نے حضور ﷺ سے عرض کیا: یہ آپ کی قوم آپ کو ڈھونڈ رہی ہے۔ اللہ کی قسم! مجھے تو اپنی جان کا کوئی غم نہیں ہے، لیکن مجھے تو اس بات کا غم ہے کہ مجھے آپ کے بارے میں کوئی ناگوار بات نہ دیکھنی پڑے۔ حضور ﷺ نے اُن سے کہا: اے ابو بکر! مت ڈرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ 2
اِمام احمد نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ نے اُن سے یہ بیان کیا کہ جب ہم غار میں تھے تو میں نے حضور ﷺ سے عرض کیا: اگر ان کافروں میں سے کوئی اپنے پیروں کی طرف نظر ڈالے گا تو وہ ہمیں اپنے قدموں کے نیچے دیکھ لے گا۔ آپ نے فرمایا: اے ابوبکر! تمہارا اُن دو آدمیوں کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے۔ 3
حضرت براء بن عازب ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر ؓ نے (میرے والد) حضرت عازب ؓ سے تیرہ درہم میں ایک زِین خریدی۔ حضرت ابو بکر نے حضرت عازب سے کہا کہ (اپنے بیٹے) براء سے کہوکہ وہ یہ زِین میرے گھرپہنچا دے۔ حضرت عازب نے کہا: پہلے آپ ہمیں یہ بتائیں کہ جب حضور ﷺ (مکہ سے) ہجرت کے لیے چلے تھے اور آپ اُن کے ساتھ تھے تو آپ نے کیا کیا تھا؟ پھر میں براء سے کہوں گا۔ حضرت ابو بکر نے کہا: ہم (غار سے) شروع رات میں نکلے اور ساری رات چلتے رہے۔ پھر اگلے سارے دن تیزی سے چلتے رہے، پھراگلی رات چلتے رہے حتیٰ کہ اس سے اگلا دن ہوگیا اور دوپہر ہوگئی اور گرمی تیز ہوگئی۔ پھرمیں نے اپنی نظر دوڑائی کہ کہیں کوئی سایہ آجائے جہاں ہم ٹھہرجائیں تو مجھے ایک چٹان نظر آئی۔ میں جلدی سے وہاںگیا تووہاں ابھی کچھ سایہ باقی تھا۔ میں نے اس جگہ کو حضور ﷺ کے لیے برابر کیا اور آپ کے لیے ایک پوستین بچھا دی اور میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ذرا لیٹ جائیں۔ چناںچہ آپ لیٹ گئے۔ پھرمیں نکل کر دیکھنے لگا کہ کوئی تلاش کرنے والا اِدھر تو نہیں آرہا، تومجھے بکریوں کا ایک چرواہا نظر آیا۔میں نے کہا: اے لڑکے! تم کس کے چرواہے ہو؟ اس نے قریش کے ایک آدمی کانام لیا جسے میں نے پہچان لیا۔
میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہاری بکریوں میںدودھ ہے؟ اس نے کہا: ہے۔ میں نے کہا: کچھ دودھ مجھے نکال کر دے سکتے ہو؟ (یعنی کیاتمہیں یوں دودھ دینے کی اِجازت ہے؟) اس نے کہا: ہاں، دے سکتا ہوں۔ میرے کہنے پر اس نے ایک بکری کی ٹانگیں باندھیں۔ پھراس نے اس کے تھن سے غبار کو صاف کیا، پھراس نے اپنے ہاتھوں سے غبارکو صاف کیا۔ میرے پاس ایک برتن تھا جس کے منہ پرکپڑا بندھا ہوا تھا۔ اس نے مجھے تھوڑا سا دودھ نکال کر دیا۔ میں نے پیالہ میں پانی ڈالا جس سے نیچے تک کاحصہ ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر میں حضور ﷺ کی خدمت میں آیا توآپ بیدار ہوچکے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! دودھ پی لیں۔ آپ نے اتنا پیا کہ میں خوش ہوگیا۔ پھر میں نے کہا: چلنے کا وقت ہوگیا ہے۔ چناںچہ ہم وہاں سے چل پڑے۔
مکہ والے ہمیں تلاش کر رہے تھے۔ سراقہ بن مالک بن جُعْشُم کے علاوہ اور کوئی ہم تک نہ پہنچ سکا۔ یہ اپنے گھوڑے پر سوار تھا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ ڈھونڈنے والا ہم تک پہنچ گیا۔ آپ نے فرمایا: غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ پھر وہ سراقہ جب ہمارے اور قریب آگیا یہاں تک کہ ایک یا دو یا تین نیزوں تک کافاصلہ رہ گیا تو میں نے کہا: یارسول اللہ! یہ ڈھونڈنے والا ہمارے بالکل قریب آگیا ہے۔ اور میں رو پڑا۔ آپ نے فرمایا: کیوں روتے ہو؟ میں نے کہا: میں اپنی وجہ سے نہیں رو رہاہوں،بلکہ آپ کی وجہ سے رو رہاہوں۔ آپ نے اس کے لیے یہ بد دعا کی: اے اللہ! آپ ہمیں اس سے جیسے چاہیں بچا لیں۔ تو ایک دم اس کے گھوڑے کے پاؤںپیٹ تک سخت زمین میں دھنس گئے اور وہ اپنے گھوڑے سے کُودا اور کہا: اے محمد! مجھے یقین ہے کہ یہ آپ کا کام ہے۔ آپ اللہ سے دعا کریں کہ میں جس مصیبت میں گرفتار ہو گیا ہوں وہ مجھے اس سے نکال دے۔ اللہ کی قسم! مجھے پیچھے جتنے ڈھونڈنے والے ملیں گے میں ان سب کو آپ کے بارے میں مغالطہ میں ڈال دوں گا (اور آپ کے پیچھے کسی کو نہیں آنے دوں گا)۔ اوریہ میرا ترکش ہے آپ اس میں سے ایک تیرلے لیں، فلانی جگہ آپ میرے اونٹوں اور بکریوںکے پاس سے گزریں گے (آپ یہ تیر دکھا کر) جتنی بکریوںکی آپ کو ضرورت ہو لے لیں۔ آپ نے فرما یا: مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے۔ پھر آپ نے اس کے لیے دعا فرمائی، وہ اس مصیبت سے خلاصی پاکر اپنے ساتھیوں کے پاس واپس چلا گیا۔
پھر حضور ﷺ وہاںسے چل دیے (اور میں آپ کے ساتھ تھا) یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے۔ لوگوں نے آپ کا استقبال کیا۔ لوگ راستے کے دونوںطرف چھتوں پر چڑھ گئے، اور راستے میں خادم اور بچے دوڑے پھر رہے تھے اور کہہ رہے تھے: اَللّٰہُ أَکْبَرُ! رسول اللہ ﷺ آگئے، محمدﷺ آگئے۔ مدینہ کے لوگ آپس میںجھگڑنے لگے کہ حضور ﷺ کس کے مہمان بنیں؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا: آج رات تو میں عبدالمطّلب کے ماموں بنو نجّار کے ہاں ٹھہروں گا۔ اس طرح میں اُن کا اِکرام کرناچاہتاہوں۔ (چناںچہ آپ وہاں ٹھہرے) جب صبح ہوئی تو آپ کو (اللہ کی طرف سے) جہاں ٹھہرنے کا حکم ملا وہاں تشریف لے گئے ۔ 1
حضرت عروہ بن زبیرؓ فرماتے ہیں کہ حضرت زُبیر ؓ مسلمانوں کے ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ ملکِ شام سے واپس آ رہے تھے کہ راستہ میں ان سے حضور ﷺ کی ملاقات ہوئی۔ حضرت زُبیرنے حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر کو سفید کپڑے پہنائے۔ اور مدینہ میں مسلمانوں نے حضور ﷺ کے مکہ سے روانہ ہونے کی خبر سن لی تھی۔ مدینہ کے مسلمان روزانہ صبح کو حرّہ تک آپ کے استقبال کے لیے آتے اور آپ کا انتظارکرتے، اورجب دوپہر کو گرمی تیز ہوجاتی تو مدینہ واپس چلے جاتے۔ ایک دن بہت دیر انتظار کرکے مسلمان واپس ہوئے۔ جب یہ لوگ اپنے گھروں کو پہنچے تو ایک یہودی ایک قلعہ پر کسی چیز کو دیکھنے کے لیے چڑھا۔ اس کی نظر حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں پر پڑی جوکہ سفیدکپڑے پہنے ہوئے تھے اوران حضرات کے آنے کی وجہ سے سَراب ہٹتا جارہاتھا۔(گرمی کی وجہ سے ریگستان میں جو ریت پانی کی طرح نظر آتی ہے اسے سَراب کہتے ہیں) اس یہودی سے نہ رہا گیا اس نے بلند آواز سے کہا: اے عرب والو! یہ تمہارے حضرت ہیں جن کا تم انتظار کررہے تھے۔ تومسلمان ہتھیاروں کی طرف لپکے (اس زمانے میںاستقبال کے لیے ہتھیار بھی لگائے جاتے تھے) اور ( ہتھیار لگاکر) مسلمانوں نے حرّہ مقام پر جا کر حضور ﷺ کا استقبال کیا۔
آپ اُن سب کو لے کر حرّہ کے دا ہنی جانب مُڑ گئے اور بنو عمر و بن عوف کے ہاں جا کر ٹھہرے۔ وہ پیر کا دن اور ربیع الاول کا مہینہ تھا۔ حضرت ابو بکر تو لوگوں کے استقبال میں کھڑے ہوگئے۔ حضور ﷺ خاموش بیٹھے ہوئے تھے تو اَنصار میں سے جن لوگوں نے حضور ﷺ کو اب تک نہیں دیکھا تھا وہ آآکر حضرت ابو بکر کو سلام کرنے لگے، یہاں تک کہ جب حضور ﷺ پر دھوپ آئی تو حضرت ابوبکر آکر اپنی چادرسے آپ پر سایہ کرنے لگے، تب لوگوں کو حضور ﷺ کا پتہ چلا۔ حضور ﷺ دس راتوں سے زیادہ بنو عمرو بن عوف کے ہاں ٹھہرے اور آپ نے وہاں اس مسجد کی بنیاد رکھی جس کے بارے میں قرآن مجید میں ہے:
{لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی}1
البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد دھری گئی پرہیزگاری پر۔
اور اس میں حضور ﷺ نے نماز پڑھی۔ پھر آپ اپنی سواری پرسوار ہوکر چل پڑے اور لوگ بھی آپ کے ساتھ چل رہے تھے، یہاںتک کہ آپ کی اُونٹنی مدینہ میں اس جگہ جا کر بیٹھ گئی جہاں مسجدِ نبوی ہے۔ اور ان دنوں وہاں مسلمان مرد نماز پڑھا کرتے تھے اور وہ جگہ دو یتیم لڑکوں (حضرت سہیل اور حضرت سہل ؓ ) کی تھی جہاں کھجوریں سُکھایا کرتے تھے۔ یہ دونوں حضرت اَسعد بن زُرارہ کی پرورش میں تھے۔ جب آپ کی اونٹنی بیٹھ گئی تو آپ نے فرمایا کہ ان شاء اللہ یہی ہمارے ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ پھر آپ نے ان دونوں بچوں کو بلایا اور مسجد بنانے کے لیے ان سے اس جگہ کا سوداکرنا چاہا تو ان بچوں نے کہا: یا رسول اللہ! نہیں (ہم بیچنانہیں چاہتے ہیں بلکہ ) ہم یہ زمین آپ کو ہدیہ کر دیتے ہیں۔ آپ نے ان بچوں سے یہ زمین بطور ہدیہ لینے سے انکار کردیا اور اُن سے وہ جگہ خریدی (کیوں کہ نابالغ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی زمین کو ہدیہ نہیں کرسکتے تھے)، پھر اس جگہ مسجد بنائی۔ حضور ﷺ بھی صحابہ ؓ کے ساتھ مسجد کی تعمیر کے لیے کچی اینٹیںاٹھانے لگے۔ اور آپ اینٹیں اٹھاتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہے تھے:
ھٰذَ الْحِمَالُ لَا حِمَالُ خَیْبَرْ
ھٰذَا أَبَرُّ رَبَّنَا وَأَطْھَرْ
یہ اٹھائی جانے والی اینٹیں خیبر میں اٹھائی جانے والی کھجور اور کشمش کی طرح نہیں ہیں۔ اے ہمارے رب!بلکہ یہ توان سے زیادہ بھلی اور زیادہ پاک ہیں۔
اور یہ شعر بھی پڑھ رہے تھے:
اَللّٰھُمَّ اِنَّ الْأَجْرَ أَجْرُ الْاٰخِرَۃْ
فَارْحَمِ الْأَ نْصَارَ وَالْمُھَاجِرَۃْ
اے اللہ! اصل اجر و ثواب تو آخرت کا اجر و ثواب ہے۔ تو اَنصار اور مہاجرین پر رحم فرما ۔
پھر آپ نے ایک مسلمان کا شعر پڑھا لیکن اس مسلمان کا نام مجھے نہیں بتایا گیا۔ ابنِ شہاب کہتے ہیں: ہمیں حدیثوں میں یہ کہیں نہیں ملا کہ حضور ﷺ نے ان اشعار کے علاوہ اور کسی کا پورا شعر پڑھا ہو۔ 1
حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں کہ میں بھی بچوں کے ساتھ دوڑاپھر رہا تھا۔ سب لوگ کہہ رہے تھے کہ محمد (ﷺ)آگئے۔ میں دوڑا تو پھر رہاتھا لیکن مجھے نظر کچھ نہیں آرہا تھا، یہاں تک کہ حضور ﷺ اور آپ کے ساتھی حضرت ابو بکر ؓ دونوں تشریف لے آئے اور مدینہ کی ایک غیر آباد جگہ آکربیٹھ گئے۔ پھر انھوں نے ایک دیہاتی آدمی کو بھیجا جو اَنصار کو ان دونوں حضرات (کے آنے)کی خبرکردے۔ چناںچہ تقریباً پانچ سو اَنصار ان حضرات کے استقبال کے لیے نکلے اور ان دونوں حضرات کی خدمت میں پہنچ کر ان حضرات نے عرض کیا: آپ دونوں حضرات تشریف لے چلیں آپ دونوں حضرات امن میں ہیں، اور آپ دونوں حضرات کی بات مانی جائے گی۔ آپ اور آپ کے ساتھی حضرت ابو بکر ان استقبال کرنے والوں کے درمیان چل رہے تھے۔ تمام مدینہ والے استقبال کے لیے نکل آئے یہاں تک کہ کنواری لڑکیاں گھروں کی چھتوں پر ایک دوسرے سے آگے بڑھ بڑھ کر حضور ﷺ کو دیکھ رہی تھیں اور ایک دوسری سے پوچھ رہی تھیں کہ ان میں حضور ﷺ کون سے ہیں؟ ان میں حضور ﷺ کون سے ہیں؟ اس جیسا منظر ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ﷺ کو اس دن بھی دیکھا تھا جس دن آپ مدینہ تشریف لائے تھے اور اس دن بھی دیکھا تھا جس دن آپ کا انتقال ہوا تھا ، ان دو دنوں جیسا کوئی دن میں نے نہیںدیکھا ۔ 1
حضرت ابنِ عائشہ فرماتے ہیںکہ حضور ﷺ مدینہ تشریف لائے تو عورتیں اور بچے یہ اَشعار خوشی میں پڑھ رہے تھے:
طَلَـعَ الْبَدْرُ عَلَـیْنَـا
مِنْ ثَنِیَّاتِ الْوَدَاعٖ
وَجَبَ الشُّکْرُ عَلَیْنَا
مَــا دَعَــا لِلّٰہِ دَاعٖ
وَدَاع کی گھاٹیوں سے چودھویں کا چاند ہم پر نکلا۔ جب تک کوئی بھی اللہ کی دعوت دیتا رہے گا ہم پر شکر واجب رہے گا۔ 2