نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کی سختیاں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا

دعوت الی اللہ کی وجہ سے کپڑوں کی کمی برداشت کرنا

حضرت خبّاب بن اَرتّ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حمزہ ؓ کو اس حال میں دیکھا کہ ہمیں اُن کے کفن کے لیے ایک چادرکے علاوہ اورکوئی کپڑانہ ملا (اور وہ بھی اتنی چھوٹی تھی) کہ جب ہم اس سے اُن کے پاؤں ڈھکتے تو اُن کا سر کھل جاتا اور جب سرڈھکتے تو پاؤں کھل جاتے۔ آخر ہم نے چادر سے اُن کے سر کو ڈھک دیا اور اُن کے پیروں پر اِذخر گھاس ڈال دی۔2 حضرت شفاء بنتِ عبداللہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضور ﷺ کی خدمت میں کچھ مانگنے کے لیے آئی، تو آپ (دینے سے) معذرت کرنے لگے (کہ آپ کے پاس کچھ تھا ہی نہیں) اورمیں(تعلق کی وجہ سے) آپ سے کچھ ناراض ہونے لگی۔ اتنے میں نماز کا وقت آگیا۔میں وہاں سے نکل کر اپنی بیٹی کے پاس گئی جو شرحبیل بن حسنہ ؓ کے نکاح میں تھی۔ میں نے شرحبیل کو گھر میں پایا۔ میں نے کہا: نماز کا وقت ہوگیا ہے اور تم ابھی تک گھر میں ہو۔ اورمیں اسے ملامت کرنے لگی۔ اس نے کہا: اے خالہ جان! آپ مجھے ملامت نہ کریں۔ میرے پاس ایک ہی کپڑا تھا جسے حضور ﷺ عاریتاً لے گئے ہیں۔ تو میں نے کہا:میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! میں آج آپ سے ناراض ہورہی تھی اور آپ کی یہ حالت ہے (کہ کپڑا بھی دوسرے سے مانگ کر پہنا ہوا ہے) اور مجھے معلوم نہیں۔ پھر حضرت شرحبیل نے کہا: وہ بھی ایک ایسی قمیض تھی جسے ہم نے پیوند لگا رکھا تھا۔1 حضرت ابنِ عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے پاس حضرت ابو بکر صدیق ؓبھی تھے۔حضرت ابو بکر نے ایک چوغہ پہنا ہوا تھا جس کے گریبان میں اپنے سینہ پر (بٹن کے بجائے) کانٹے لگا رکھے تھے کہ اتنے میں حضرت جبرائیل ؑ تشریف لائے اور حضور ﷺکو اللہ کا سلام پہنچایا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! کیابات ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ حضرت ابوبکرنے چوغہ پہن رکھا ہے جس کے گریبان میں (بٹن کے بجائے) کانٹے لگا رکھے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اے جبرائیل! ابو بکرنے اپنا سارا مال فتحِ مکہ سے پہلے ہی مجھ پر (یعنی میرے دین پر ) خرچ کردیا (اب ان کے پاس اتنا بھی نہیں بچا کہ وہ بٹن لگاسکیں)۔ حضرت جبرائیل ؑ نے کہا: آپ ابو بکر کو اللہ کاسلام پہنچا دیں اور ان سے فرمائیں کہ تمہارا ربّ تم سے پوچھ رہا ہے کہ تم اپنے اس فقر میں مجھ سے راضی ہویا ناراض؟ حضور ﷺ نے حضرت ابو بکرکی طرف متوجہ ہوکر فرمایا: اے ابوبکر! یہ جبرائیل ؑ ہیں جو تمہیں اللہ کا سلام کہہ رہے ہیں، اور اللہ تعالیٰ پوچھ رہے ہیں کہ تم اپنے اس فقر میں مجھ سے راضی ہو یاناراض؟ حضرت ابو بکر (یہ سن کر ) رو پڑے اور کہنے لگے: کیا میں اپنے ربّ سے ناراض ہوسکتا ہوں؟ میں اپنے ربّ سے (اس حال میں بھی) راضی ہوں۔ میں اپنے ربّ سے راضی ہوں۔ 2 حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد ﷺ کی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ سے شادی کی، اور (تنگ دستی کی وجہ سے یہ حال تھا کہ) میرے اور اُن کے پاس مینڈھے کی کھال کے علاوہ اور کوئی بستر نہیں تھا، جس پررات کو ہم سوجاتے تھے اور دن میں ہم اس پر پانی لادنے والے اُونٹ کوچارہ کھلاتے تھے۔ اور حضرت فاطمہ کے علاوہ میرے پاس کوئی خادم بھی نہیں تھا۔ 1 حضرت ابو بُردہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد (حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ) نے کہا: اگر تم ہمیں بارش ہونے کے بعد حضور ﷺ کے ساتھ دیکھتے تو تمہیں ہمارے کپڑوں کی بو بھیڑ جیسی لگتی (کیوں کہ ہمارے اکثر کپڑے بھیڑ کی اُون کے ہوتے تھے)۔ 2 ابنِ سعد اس حدیث کو حضرت ابوبُردہ سے اس طرح نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوبُردہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد حضرت ابو موسیٰ ؓ نے فرمایا: اے میرے بیٹے! اگر تم ہمیں بارش ہونے کے بعدحضور ﷺ کے ساتھ دیکھتے تو تم ہمارے اُونی کپڑوں سے بھیڑ جیسی بُو محسوس کرتے۔ 3 اسی طرح طبرانی نے حضرت ابو موسیٰ ؓ سے یہ حدیث روایت کی ہے، اور اس میں مزید یہ مضمون بھی ہے کہ ہمارے کپڑے اُون کے ہوتے تھے اور کھانے کے لیے صرف دو کالی چیزیں ہوتیں تھی یعنی کھجور اور پانی۔4 حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے ستّر اہلِ صُفّہ کو اس حال میں دیکھا ہے کہ اُن میں سے کسی کے پاس بھی بڑی چادرنہ تھی، یا تو لنگی تھی یا کمبل تھا (یا چھوٹی چادر تھی) جسے انھوں نے اپنی گردن میں باندھ رکھا تھا۔ کسی کی لنگی آدھی پنڈلی تک ہوتی اورکسی کی ٹخنے کے قریب تک، اور وہ لنگی کو ہاتھ سے پکڑ کر رکھتے تاکہ اُن کا ستر نظرنہ آجائے۔5 حضرت واثلہ بن اسقع ؓ فرماتے ہیں: میںاہلِ صُفّہ میںسے تھا۔ ہم میں سے کسی کے پاس بھی پورے کپڑے نہیں تھے، اور ہمارے جسموں پرمیل اور غبار اتنا ہوتا تھا کہ جب ہمیں پسینہ آتا تھا تو سارے جسم پر میل اور غبار کی دھاریاں پڑ جاتی تھیں۔1 حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور حضرت عائشہ کے پاس اُن کی ایک باندی بیٹھی ہوئی تھی جس نے پانچ درہم والی قمیض پہن رکھی تھی۔ حضرت عائشہ نے اس آدمی سے کہا: ذرا میری اس باندی کی طرف نظر اٹھا کر دیکھو کہ یہ اس قمیض کو گھرمیں بھی پہننے کے لیے راضی نہیں، حالاں کہ حضور ﷺ کے زمانے میں میرے پاس ایسی ہی ایک قمیض تھی، تو مدینہ میں جس عورت کوبھی(شادی کے لیے )سجایا جاتا تھا وہ آدمی بھیج کر مجھ سے یہ قمیض عاریتاً لے لیا کرتی تھی۔2