نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابۂ کرام ؓ کی سختیاں، بھوک اور پیاس برداشت کرنا

حضرت سعید بن زید اور ان کی بیوی، حضرت عمر کی بہن، حضرت فاطمہ ؓ کا سختیاں برداشت کرنا

حضرت قیس بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن زید بن عمر و بن نفیل ؓ کو مسجدِ کوفہ میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے (اِسلام لانے سے پہلے) مجھے اِسلام لانے کی وجہ سے باندھ رکھا تھا۔ 2 ’’بخاری‘‘ میں حضرت قیس کی ایک روایت میںیہ ہے کہ اگر تم مجھے اس وقت دیکھتے جس وقت حضرت عمر ؓ مسلمان نہیں ہوئے تھے، اور انھوں نے مجھے اور اپنی بہن کو باندھ رکھا تھا۔3 حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓگردن میں تلوار لٹکائے ہوئے گھر سے باہر نکلے۔ انھیں بنو زُہرہ کا ایک آدمی ملا، اس نے کہا: اے عمر! کہاں کا ارادہ ہے؟ حضرت عمر نے کہا: میرا ارادہ ہے کہ (نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذٰلِک!) میں محمد ( ؑ ) کو قتل کر دو ں۔ اس نے کہا: اگر تم محمد ( ؑ) کو قتل کر دوگے تو بنو ہاشم اور بنو زُہرہ سے کیسے بچوگے؟ حضرت عمر نے اس سے کہا: میرا خیال یہ ہے کہ تو بھی بے دین ہوچکا ہے اور جس دین پر تو تھا اس کو تو چھوڑ چکا ہے۔ اس نے کہا: کیا میں تم کو اس سے بھی زیادہ عجیب بات نہ بتاؤں؟ حضرت عمر نے کہا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: تمہاری بہن اور بہنوئی دونوں بے دین ہوچکے ہیں، اور جس دین پر تم ہو اس کو وہ دونوں چھوڑ چکے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر غصہ میں بھرگئے اور (اپنی بہن کے گھر کو) چل دیے۔ جب وہ بہن اور بہنوئی کے گھر پہنچے تو وہاں مہاجرین میں سے حضرت خباب ؓ بیٹھے ہوئے تھے۔ جب حضرت خباب نے حضرت عمر کی آہٹ سنی تو وہ گھر کے اندر چھپ گئے۔ حضرت عمر نے گھر میں داخل ہوتے ہی کہا کہ یہ پست آواز کیا تھی جو میں نے تمہارے پاس سے سنی؟ وہ لوگ سورۂ طٰہٰ ٰپڑھ رہے تھے۔ ان دونوں نے کہا: ہم آپس میں بات کر رہے تھے اور کچھ نہیں تھا۔ حضرت عمر نے کہا: شاید تم دونوں بھی (اس نبی ﷺ کی طرف) مائل ہوگئے ہو؟ تو اُن کے بہنوئی نے ان سے کہا: اے عمر! اگر حق تمہارے دین کے علاوہ کسی اور دین میں ہو تو پھر تمہارا کیا خیال ہے؟ یہ سنتے ہی حضرت عمر اپنے بہنوئی پر جھپٹے اور اُن کو بہت بری طرح سے روندا۔ اُن کی بہن اُن کو اپنے خاوند سے ہٹانے کے لیے آئیں تو اپنی بہن کو حضرت عمر نے اس زور سے مارا کہ اُن کے چہرے سے خون نکل آیا۔ اُن کی بہن کو بھی غصہ آگیا۔ انھوں نے غصہ سے کہا: اے عمر! اگر حق تمہارے دین کے علاوہ کسی اور دین میں ہو تو پھر ؟ اور انھوں نے (بلند آواز سے) کلمۂ شہادت أَشْہَدُ أَنْ لَّا إِلٰـہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ پڑھا۔ جب حضرت عمر مایوس ہوگئے تو کہا: مجھے بھی وہ کتاب دو جو تمہارے پاس ہے تاکہ میں اسے پڑھوں۔ اور حضرت عمر ؓ کتاب پڑھ لیا کرتے تھے۔ اُن کی بہن نے کہا: تم ناپاک ہو اور اس کتاب کو صرف پاک آدمی ہی ہاتھ لگاسکتے ہیں، اس لیے کھڑے ہوکر یا تو غسل کرو یا وضو۔ حضرت عمر نے کھڑے ہوکر وضو کیا۔ پھر حضرت عمر نے اس کتاب کو لے کر سورتِ طٰہٰ پڑھنا شروع کی یہاں تک کہ اس آیت تک پہنچ گئے: {اِنَّنِیْ اَنَا اللّٰہُ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدْنِیْلا وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ} 1 تو حضرت عمر نے کہا کہ مجھے بتاؤ کہ محمد (ﷺ) کہاں ہیں؟ جب حضرت خبّاب نے حضرت عمر کی یہ بات سنی تو وہ گھر کے اندر سے باہر آئے اور کہا کہ اے عمر! تمہیں بشارت ہو۔ حضور ﷺ نے جمعرات کی رات میں یہ دعا مانگی تھی کہ اے اللہ! اِسلام کو عمر بن خطّاب یا عمرو بن ہشام (ابو جہل) کے (مسلمان ہونے کے) ذریعہ سے عزت عطا فرما۔ مجھے اُمید ہے کہ حضور ﷺ کی دعا تمہارے حق میں قبول ہوئی ہے۔ اس وقت حضور ﷺ اس گھر میں تھے جو صفا پہاڑ کے دامن میں تھا۔ حضرت عمر یہاں سے چل کر اس گھر (دارِ اَرقم) میں پہنچے۔ اس وقت گھر کے دروازہ پر حضرت حمزہ اور حضرت طلحہ ؓ اور حضور ﷺ کے کچھ صحابہ موجود تھے۔ جب حضرت حمزہ نے دیکھا کہ اُن کے ساتھی حضرت عمر کے آنے سے خوف محسوس کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا: ہاں! یہ عمر ہے۔ اگر اللہ نے ان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا ہے تو یہ مسلمان ہوکر حضور ﷺ کا اتباع کرلیں گے، اور اگر اللہ کا اس کے علاوہ کسی اور بات کا ارادہ ہے تو ان کو قتل کرنا ہمارے لیے آسان بات ہے۔ اس وقت حضور ﷺ گھر کے اندر تھے اور آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی۔ چناںچہ (وحی نازل ہونے کے بعد) حضورﷺ باہر حضرت عمر کے پاس تشریف لائے، اور اُن کے گریبان اور تلوار کے پرتلے کو پکڑ کر فرمایا: کیا تم باز آنے والے نہیں ہو اے عمر ؟ (اسی کا انتظار کر رہے ہو کہ) اللہ تعالیٰ تم پر وہی ذلت اور سزا نازل کردے جو اس نے ولیدبن مغیرہ پر نازل کی ہے۔ اے اللہ ! یہ عمر بن خطّاب ہے ۔ اے اللہ ! عمر بن خطّاب کے ذریعہ دین کو عزت عطا فرما۔ حضرت عمر نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور وہ مسلمان ہوگئے۔ (مسلمان ہونے کے بعد) انھوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ باہر (مسجدِ حرام کو نماز پڑھنے کے لیے) تشریف لے چلیں۔1 حضرت ثوبان ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے یہ دعا مانگی: اے اللہ! عمر بن خطّاب کے ذریعہ دین کو عزت عطا فرما۔ اس رات کے شروع کے حصہ میں حضرت عمر کی بہن { اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَO}2 پڑھ رہی تھیں۔ حضرت عمر نے اُن کو اِتنا مارا کہ انھیں یہ گمان ہوا کہ انھوں نے اپنی بہن کو قتل کر ڈالا ہے۔ جب صبح تہجد کے وقت حضرت عمر اٹھے تو انھوں نے اپنی بہن کی آواز سنی جوکہ { اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ O}3 پڑھ رہی تھیں تو حضرت عمر نے کہا: اللہ کی قسم! نہ تو یہ شعر ہے اور نہ یہ سمجھ میں نہ آنے والا پست کلام ہے۔ چناںچہ وہ وہاں سے چل کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انھوں نے دروازہ پر حضرت بلال کو پایا۔ انھوں نے دروازہ کھٹکھٹایا (یا دھکا دیا)۔ حضرت بلال نے پوچھا: یہ کون ہے؟ حضرت عمر نے کہا: عمر بن خطّاب ہے۔ حضرت بلال نے کہا: ذرا ٹھہرو، میں تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے لوں ۔ حضرت بلال نے عرض کیا: یا رسول اللہ! عمر دروازے پر ہیں۔ آپ نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ کا عمر کے ساتھ خیر کا اِرادہ ہے تو وہ اسے دین میں داخل کر دیںگے۔ آپ نے حضرت بلال سے کہا: دروازہ کھول دو۔ (انھوں نے دروازہ کھول دیا، حضورﷺ باہر تشریف لائے) اور حضور ﷺ نے حضرت عمر کو دونوں بازوؤں سے پکڑ کر زور سے ہلایا اور فرمایا: تم کیا چاہتے ہو ؟ تم کس لیے آئے ہو ؟ حضرت عمر نے کہا: آپ جس چیز کی دعوت دیتے ہیں وہ میرے سامنے پیش کریں۔ آپ نے فرمایا: تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ وحدہٗ لا شریک لہٗ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور محمد ( ؑ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔ چناںچہ حضرت عمر اسی جگہ مسلمان ہوگئے اور عرض کیا: (یا رسول اللہ!) باہر تشریف لے چلیں۔1 حضرت عمرؓ کے غلام اسلم بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ میں تم کو اپنا اِسلام لانے کا شروع کا قصہ بیان کروں ؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے فرمایا: میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ حضور ﷺ پر سختی کرنے والا تھا۔ ایک مرتبہ میں سخت گرم دن میں مکہ کے ایک راستہ پر چلا جا رہا تھا کہ مجھے قریش کے ایک آدمی نے دیکھ لیا اور اس نے مجھ سے پوچھا: اے خطّاب کے بیٹے! کہاں جا رہے ہو ؟ میں نے کہا: اس آدمی (یعنی حضور ﷺ) کے پاس (قتل کرنے کی نیت سے) جانے کا ارادہ ہے۔ اس آدمی نے کہا کہ (محمد ﷺ کی) یہ بات تو تمہارے گھر میں داخل ہوچکی ہے اور تم یہ کہہ رہے ہو۔ میں نے کہا: یہ کیسے ؟ اس نے کہا: تمہاری بہن اس آدمی کے پاس جا چکی ہے (اور ان کے دین میں داخل ہوچکی ہے)۔ چناںچہ میں غصہ میں بھرا ہوا واپس لوٹا اور میں نے بہن کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ حضور ﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جو کوئی ایسا آدمی مسلمان ہوتا جس کے پاس کچھ نہ ہوتا تو ایسے ایک یا دو آدمی ایسے شخص کے حوالے کردیتے جو اُن کا خرچ برداشت کرلے۔ چناںچہ حضور ﷺ نے اپنے صحابہ میں سے دو آدمی میرے بہنوئی کے حوالے کر رکھے تھے۔ جب میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو انہو ںنے اندر سے پوچھا: کون ہے؟ میں نے کہا: عمر بن خطّاب۔ وہ لوگ اپنے ہاتھ میں کتاب (قرآن شریف) لیے ہوئے پڑھ رہے تھے۔ جب انھوں نے میری آواز سنی تو کھڑے ہوکر گھر میں چھپ گئے اور صحیفہ وہاں ہی رہ گیا۔ جب میری بہن نے دروازہ کھولا تو میں نے کہا: او اپنی جان کی دشمن! تو بے دین ہوگئی ہے۔ اور ایک چیز اٹھاکر میں نے اس کے سر پر مار دی۔ میری بہن رونے لگی اور اس نے کہا: اے خطاب کے بیٹے! جو تو نے کرنا ہے کرلے، میں تو مسلمان ہوچکی ہوں۔ چناںچہ میں اندر گیا اور تخت پر بیٹھ گیاتو میں نے دیکھا کہ دروازے کے بیچ میں ایک صحیفہ پڑا ہوا ہے۔ میں نے کہا: یہ صحیفہ یہاں کیسے ؟ تو میری بہن نے مجھ سے کہا: اے خطاب کے بیٹے! اپنے سے اسے دور رکھو ،کیوں کہ تم غسلِ جنابت نہیں کرتے ہو اور پاکی حاصل نہیں کرتے ہو اور اسے صرف پاک لوگ ہاتھ لگا سکتے ہیں۔ لیکن میں اصرار کرتا رہا، آخر میری بہن نے مجھے وہ صحیفہ دے دیا ۔ اس کے بعد’’ مسندِ بزار‘‘ میں حضرت عمر ؓ کے اِسلام لانے کا اور اس کے بعد اُن کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا مفصل ذکر ہے۔1