صحابۂ کرام کی صفات کے بارے میں صحابۂ کرام کے اقوال

صحابۂ کرام کی صفات کے بارے میں صحابۂ کرام کے اقوال

اللہ تعالیٰ کے قول: {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ}1(تم ہو بہتر سب اُمتوں سے جو بھیجی گئی عالم میں) کی تفسیر کے بارے میں حضرت سُدِّی حضرت عمر ؓ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو أَنْتُمْ فرماتے (جس کا ترجمہ ’’تم‘‘ ہے) پھر تو ہم سب مراد ہوتے (چاہے ہم اَمر بالمعروف اور نہی عن المنکرکریں یا نہ کریں)، لیکن اللہ تعالیٰ نیکُنْتُمْ فرمایا جو محمدﷺ کے صحابۂ کرام ؓکے بارے میں خاص ہے (اس کا ترجمہ ’’تھے تم‘‘ ہے) وہ ’’خیرِاُمت‘‘ ہیں اور جو اُن جیسے کام کرے گا وہ ’’خیرِاُمت‘‘ بنے گا۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے {کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ} آیت تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا کہ جو شخص اس (خیر) اُمت میں سے ہونا چاہتا ہے وہ اس شرط کو پورا کرے جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں (خیر اُمت ہونے کے لیے) ذکر فرمائی ہے 2 (اور وہ شرط امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے)۔ حضرت ابن ِمسعود ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام بندوں کے دلوں پر پہلی دفعہ نگاہ ڈالی تو اُن میں سے محمدﷺ کو پسند فرمایا اور انھیں اپنا رسول بنا کر بھیجا اور اُن کو اپنا علم ِخاص عطا فرمایا۔ پھر دوبارہ لوگوں کے دلوں پر نگاہ ڈالی اور آپ کے لیے صحابہ ؓ کو چنا اور اُن کو اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبیﷺ کی ذمہ داری کا اٹھانے والا بنایا۔ لہٰذا جس چیز کو مؤمن (یعنی صحابۂ کرام) اچھا سمجھیں گے وہ چیز اللہ کے ہاں بھی اچھی ہوگی، اور جس چیز کو بُرا سمجھیں گے وہ چیز اللہ کے ہاں بھی بُری ہوگی۔ 3 حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جو آدمی کسی کے طریقے کو اختیار کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وہ اُن لوگوں کا طریقہ اختیار کرے جو دنیا سے جاچکے ہیں۔اور یہ لوگ نبی اکرمﷺ کے صحابہ ہیں جو کہ اس اُمت میں سب سے بہترین اور سب سے زیادہ نیک دل اور سب سے زیادہ گہرے علم والے اور سب سے کم تکلّف برتنے والے تھے۔ یہ ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی صحبت کے لیے اور اپنے دین کو دنیا میں پھیلانے کے لیے چن لیا ہے۔ لہٰذا ان جیسے اخلاق اور ان جیسی زندگی گزارنے کے طریقے اپناؤ۔ ربّ ِکعبۃُ اللہ کی قسم! نبی کریمﷺ کے یہ تمام صحابہ ہدایت ِمستقیم پر تھے۔1 حضرت ابن ِمسعود ؓ (اپنے زمانہ کے لوگوں کو مخاطب ہوتے ہوئے) فرماتے ہیں کہ تم حضورﷺ کے صحابہ سے زیادہ روزے رکھتے ہو، اور زیادہ نمازیں پڑھتے ہو، اور زیادہ محنت کرتے ہو حالاں کہ وہ تم سے زیادہ بہتر تھے۔ لوگوں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! (یہ ابنِ مسعود ؓ کی کنیت ہے) وہ ہم سے کیوں بہتر ہیں ؟ تو انھوں نے فرمایا: اس لیے کہ وہ تم سے زیادہ دنیا سے بے رغبت اور آخرت کے تم سے زیادہ مشتاق تھے۔ 2 حضرت ابو وائل کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ (ابن ِمسعودؓ) نے سنا کہ ایک آدمی یوں کہہ رہا تھا کہ کہاںہیں وہ لوگ جو دنیا سے بے رغبت ہیں اور آخرت کے مشتاق ہیں؟ تو حضرت عبداللہ نے فرمایا کہ وہ تو جابیہ والے وہ لوگ ہیں (جابیہ ملک شام کی ایک بستی کا نام ہے جو کہ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں اسلامی لشکروں کا مرکز تھا جن کا قیصر روم سے مقابلہ ہوا تھا) جن میں سے پانچ سو مسلمانوں نے یہ عہد کیا تھا کہ قتل ہوجائیں گے مگرواپس نہیں جائیں گے۔ لہٰذا ان لوگوں نے (اس زمانے کے رواج کے مطابق جان دینے کے لیے) سرمنڈوادیے اور دشمن میں گھس گئے اور ایک کے علاوہ باقی سب شہید ہوگئے، اسی نے آکر اُن کے شہید ہونے کی خبر دی ۔ 3 حضرت ابن ِعمر ؓ نے ایک آدمی سے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ کہاں ہیں وہ لوگ جو دنیا سے بے رغبت ہیں اور آخرت کے مشتاق ہیں؟ تو حضرت ابن عمرنے اسے حضورِ اَقدسﷺ کی اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ کی قبریں دکھا کر کہا کہ ان کے بارے میں تم پوچھ رہے ہو ۔4 حضرت ابواَرا کہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن حضرت علیؓ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے اور دا ہنی طرف رُخ کرکے بیٹھ گئے تو ایسے معلوم ہورہا تھا کہ آپ بے چین اور غمگین ہیں حتی کہ جب سورج مسجد کی دیوار سے ایک نیزہ بلند ہوا تو انھوں نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر اپنے ہاتھ کو پلٹ کر فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں نے حضرت محمدﷺ کے صحابہ کو دیکھا ہے، آج اُن جیسا کوئی نظر نہیں آتا ہے۔ صبح کے وقت اُن کی یہ حالت ہوتی تھی کہ رنگ زرد اور بال بکھرے ہوئے اور جسم غبار آلود ہوتا تھا۔ اُن کی پیشانی پر (سجدہ کا) اتنا بڑا نشان نمایاں ہوتا تھا جتنا بڑا نشان بکری کے گھٹنے پر ہوتا ہے۔ ساری رات اللہ کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے اور کھڑے ہو کر قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے گزار دیتے تھے، اور سجدہ اور قیام ہی میں راحت حاصل کرتے تھے۔ جب صبح ہوجاتی اور وہ اللہ کا ذکر کرتے تو ایسے جھومتے جیسے کہ تیز ہوا کے دن (یا بادِ صبا کے وقت) درخت جھومتا ہے، اور اس طرح روتے کہ کپڑے گیلے ہوجاتے۔ خدا کی قسم! (اُن کے رونے سے یوں نظر آتا تھا کہ) گویا انھوں نے رات غفلت میں گزار دی ہو۔ پھر حضرت علی ؓ کھڑے ہوگئے اور اس کے بعد کبھی آہستہ ہنستے ہوئے بھی نظر نہ آئے یہاں تک کہ اللہ کے دشمن ابن ِملجم فاسق نے آپ کو شہید کردیا ۔ 1 حضرت ضِرار بن ضَمْرہ کنانی حضرت معاویہ ؓ کی خدمت میں گئے تو حضرت معاویہ نے اُن سے فرمایا کہ میرے سامنے حضرت علی ؓ کے اَوصاف بیان کیجیے۔ تو حضرت ضِرار نے کہا: اے امیر المؤمنین ! آپ مجھے معاف رکھیں۔ اس پر حضرت معاویہ نے فرمایا کہ میں معافی نہیں دوں گا ضرور بیان کرنے ہوں گے۔تو حضرت ضِرارنے کہا کہ اگر اُن کے اَوصاف کو بیان کرنا ضروری ہی ہے تو سنیے کہ حضرت علی اُونچے مقصد والے (یا بڑی عزت والے) اور بڑے طاقت ور تھے۔ فیصلہ کن بات کہتے اور عدل و اِنصاف والا فیصلہ کرتے تھے۔ آپ کے ہر پہلو سے علم پھوٹتا تھا (یعنی آپ کے اَقوال و اَفعال اور حرکات و سکنات سے لوگوں کو علمی فائدہ ہوتا تھا) اور ہر طرف سے دانائی ظاہر ہوتی تھی۔ دنیا اور دنیا کی رونق سے اُن کو وحشت تھی۔ رات اور رات کے اندھیرے سے اُن کا دل بڑا مانوس تھا (یعنی رات کی عبادت میں اُن کا دل بہت لگتا تھا)۔ اللہ کی قسم ! وہ بہت زیادہ رونے والے اور بہت زیادہ فکر مند رہنے والے تھے۔ اپنی ہتھیلیوں کو الٹتے پلٹتے اور اپنے نفس کو خطاب فرماتے۔ (سادہ) اور مختصر لباس اور موٹا جھوٹا کھانا پسند تھا۔ اللہ کی قسم ! وہ ہمارے ساتھ ایک عام آدمی کی طرح رہتے ۔ جب ہم اُن کے پاس جاتے تو ہمیں اپنے قریب بٹھالیتے اور جب ہم اُن سے کچھ پوچھتے تو ضرور جواب دیتے۔ اگرچہ وہ ہم سے بہت گھل مل کر رہتے تھے لیکن اس کے باوجود اُن کی ہیبت کی وجہ سے ہم اُن سے بات نہیں کرسکتے تھے۔ جب آپ تبسم فرماتے تو آپ کے دانت پروئے ہوئے موتیوں کی طرح نظر آتے۔ دین داروں کی قدر کرتے، مسکینوں سے محبت رکھتے۔ کوئی طاقت ور اپنے غلط دعویٰ میں کامیابی کی آپ سے توقع نہ رکھ سکتا، اور کوئی کمزور آپ کے اِنصاف سے نااُمید نہ ہوتا۔ اور میںاللہ کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ میں نے اُن کو ایک دفعہ ایسے وقت میں کھڑے ہوئے دیکھا کہ جب رات کی تاریکی چھاچکی تھی اور ستارے ڈوب چکے تھے اور آپ اپنی محراب میں اپنی ڈاڑھی پکڑے ہوئے جھکے ہوئے تھے، اور اس آدمی کی طرح تَلمَلا رہے تھے جسے کسی بچھو نے کاٹ لیا ہو، اور غمگین آدمی کی طرح رورہے تھے۔ اور اُن کی صدا گویا اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی ہے کہ بار بار یَا رَبَّنَا! یَا رَبَّنَا! فرماتے اور اللہ کے سامنے گڑگڑاتے ۔ پھر دنیا کو مخاطب ہوکر فرماتے کہ اے دنیا! تو مجھے دھوکہ دینا چاہتی ہے، میری طرف جھانک رہی ہے۔ مجھ سے دور ہوجا، مجھ سے دور ہوجا، کسی اور کو جاکر دھوکہ دے۔ میں نے تجھے تین طلاقیں دیں، کیوں کہ تیری عمر بہت تھوڑی ہے اور تیری مجلس بہت گھٹیا ہے۔ تیری وجہ سے آدمی آسانی سے خطرہ میں مبتلا ہوجاتا ہے (یا تیرا درجہ بہت معمولی ہے)۔ ہائے ہائے! (کیا کروں) زادِ سفر تھوڑا ہے اور سفر لمبا ہے اور راستہ وحشت ناک ہے۔ یہ سن کر حضرت معاویہ کے آنسوآنکھوں سے بہنے لگے، اُن کو روک نہ سکے اور اپنی آستین سے اُن کو پونچھنے لگے۔ اور لوگ ہچکیاں لے کر اتنے رونے لگے کہ گلے رُندھ گئے۔ اس پر حضرت معاویہ نے فرمایا: بے شک ابو الحسن (یعنی حضرت علیؓ) ایسے ہی تھے۔ اللہ ان پر رحمت نازل فرمائے ۔ اے ضِرار!تمہیں اُن کی وفات کا کیسا رنج ہے؟ حضرت ضِرار نے کہا: اس عورت جیسا غم ہے جس کا اِکلوتا بیٹا اس کی گود میں ذبح کردیا گیا ہو کہ نہ اس کے آنسو تھمتے ہیں اور نہ اس کا غم کم ہوتا ہے۔ پھر حضرت ضِرار اٹھے اور چلے گئے۔ 1 حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر ؓ سے پوچھا گیا کہ کیا نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓ ہنسا کرتے تھے؟ انھوں نے فرمایا کہ ہاں، مگر اس حال میں کہ ایمان اُن کے دلوں میں پہاڑوں سے بھی بڑا تھا۔2 حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ یمن کے چند رُفقا ئے سفر کو دیکھا جن کے کجاوے چمڑے کے تھے، تو اُن کو دیکھ کر فرمایا کہ جو آدمی حضورِ اَقدس ﷺ کے صحابہ ؓ جیسے لوگوں کو دیکھنا چاہتا ہے وہ ان کو دیکھ لے۔3 حضرت ابو سعید مَقْبُری بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابو عبیدہ ؓ طاعون میں مبتلا ہوئے تو انھوں نے فرمایا: اے معاذ !تم لوگوں کو نماز پڑھاؤ ۔ چناں چہ حضرت معاذ ؓ نے لوگوں کو نماز پڑھائی، پھر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کا انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد حضرت معاذنے کھڑے ہوکر لوگوں میں یہ بیان فرمایا کہ اے لوگو! اپنے گناہوں سے پکی سچی توبہ کرو ،کیوں کہ اللہ کا جو بندہ بھی اپنے گناہوں سے توبہ کرکے اللہ کے سامنے حاضر ہوگا اللہ اس کی ضرور مغفرت فرمادیں گے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! تمہیں ایسے آدمی کے جانے کا رنج و صدمہ ہوا ہے کہ خدا کی قسم !میں نے کوئی ایسا اللہ کا بندہ نہیں دیکھا جواُن سے زیادہ کینے سے پاک ہو اور اُن سے زیادہ نیک دل اور اُن سے زیادہ شر و فساد سے دور رہنے والا اور اُن سے زیادہ آخرت سے محبت کرنے والا اور اُن سے زیادہ تمام لوگوں کی بھلائی چاہنے والا ہو ۔ لہٰذا اُن کے لیے دعائے رحمت کرو اور اُن کی نماز ِجنازہ پڑھنے کے لیے باہر میدان میں چلو۔ خدا کی قسم! آیندہ اُن جیساتمہارا کوئی امیر نہیں ہوگا۔ پھر لوگ میدان میں جمع ہوگئے اور حضرت ابوعبیدہ کا جنازہ لایا گیا اور حضرت معاذ نے آگے بڑھ کر اُن کی نماز ِجنازہ پڑھائی۔ پھر جب جنازہ قبر تک پہنچا تو اُن کی قبر میں حضرت معاذ بن جبل ، حضرت عمرو بن العاص اور حضرت ضحّاک بن قیس ؓ اُترے اور اُن کی نعش کو بغلی قبر میں اتارا اور باہر آکر اُن کی قبر پر مٹی ڈالی۔ پھر حضرت معاذ بن جبل نے (قبر کے سرہانے کھڑے ہوکر حضرت ابو عبیدہ کو خطاب کرتے ہوئے) فرمایا: اے ابوعبیدہ! میں تمہاری ضرور تعریف کروں گا اور (اس تعریف کرنے میں) کوئی غلط بات نہیں کہوں گا، کیوں کہ مجھ کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا اندیشہ ہے ۔ اللہ کی قسم !جہاں تک میں جانتا ہوں آپ اُن لوگوں میں سے تھے جو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتے ہیں، اور جو زمین پر عاجزی کے ساتھ چلتے ہیں، اورجو جہالت کی بات کا ایسا جواب دیتے ہیں جس سے شر ختم ہوجائے، اور جو مال خرچ کرنے کے موقع پر خرچ کرنے میں نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ ضرورت سے کم خرچ کرتے ہیں، بلکہ اُن کاخرچ اعتدال پر ہوتا ہے ۔ اللہ کی قسم! آپ اُن لوگوں میں سے ہیں جو دل سے اللہ کی طرف جھکنے والے اور تواضع کرنے والے ہیں، جو یتیم اور مسکین پر رحم کرتے ہیں ،اور خائن اور متکبّر قسم کے لوگوں سے بغض رکھتے ہیں۔1 حضرت رِبعی بن حِراش کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حضرت معاویہ ؓ کی مجلس میں آنے کی اجازت چاہی اور حضرت معاویہ کے پاس قریش کے مختلف خاندان بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت سعید بن العاص ؓ حضرت معاویہ کے دائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے۔ جب حضرت معاویہ نے حضرت ابن عباس کو آتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: اے سعید! میں ابنِ عباس سے ایسے سوالات کروں گا جن کا وہ جواب نہیں دے سکیں گے۔ حضرت سعید نے اُن سے فرمایا کہ ابنِ عباس جیسے آدمی کے لیے تمہارے سوالات کے جوابات دینا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ جب حضرت ابنِ عباس آکر بیٹھ گئے تو اُن سے حضرت معاویہ نے فرمایا کہ آپ ابوبکر ؓ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو حضرت ابنِ عباس نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ابوبکر پر رحم فرمائے! وہ اللہ کی قسم! قرآن کی تلاوت فرمانے والے، اور کجی سے دور، اور بے حیائی سے غفلت برتنے والے، اور برائی سے روکنے والے، اور اپنے دین کو خوب اچھی طرح جاننے والے، اور اللہ سے ڈرنے والے، اور رات کو عبادت کرنے والے، اور دن کو روزہ رکھنے والے، اور دنیا سے محفوظ، اور مخلوق کے ساتھ عدل و انصاف کا عزم رکھنے والے، اور نیکی کا حکم کرنے اور خود نیکی پر چلنے والے، اور تمام حالات میں اللہ کا شکر کرنے والے ،اور صبح و شام اللہ کاذکر کرنے والے ، اور دینی ضرورتوں کے لیے اپنے نفس کو دبالینے والے تھے ۔ا ور وہ پرہیزگاری اور قناعت میں، اور زُہد اور پاک دامنی میں، اور نیکی اور احتیاط میں ،اور دنیا کی بے رغبتی اور حسنِ سلوک کا اچھا بدلہ دینے میں، اپنے تمام ساتھیوں سے آگے تھے۔ جو اُن پر عیب لگائے اس پر قیامت تک اللہ کی لعنت ہو۔ حضرت معاویہ ؓ نے فرمایا کہ آپ حضرت عمر بن الخطّاب ؓ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو حضرت ابن عباسؓنے فرمایا کہ اللہ ابوحفص (یہ حضرت عمرؓ کی کنیت ہے) پر رحم کرے ! اللہ کی قسم ! وہ اسلام کے مددگار ساتھی، اور یتیموں کا ٹھکانا ، ایمان کا خزانہ، اور کمزوروں کی جائے پناہ ،اور پکے مسلمانوں کی جائے قرار ،اور اللہ کی مخلوق کے لیے قلعہ، اور تمام لوگوں کے لیے مددگار تھے۔ وہ صبر و احتساب کے ساتھ اللہ کے دینِ حق کو لے کر کھڑے ہوئے (آخرت کے ثواب اور اللہ کی رضامندی کی اُمید میں ہر تکلیف پر صبر کیا ) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے دینِ اسلام کو غالب فرمادیا اور کئی ملکوں پر اللہ نے مسلمانوں کو فتح دی اور تمام علاقوں میں چشموں اور ٹیلوں پر تمام اَطراف و اَکناف ِعالم میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہونے لگا۔ وہ بدگوئی کے وقت بڑے وقار والے اور فراخی و تنگی ہرحال میں اللہ کا شکر کرنے والے، ہر گھڑی اللہ کا ذکر کرنے والے تھے۔ جو اُن سے بغض رکھے یومِ حسرت تک (یعنی قیامت تک) اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ حضرت معاویہ ؓ نے فرمایا کہ آپ حضرت عثمان بن عفان ؓ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ابوعمرو (یہ حضرت عثمان ؓ کی کنیت ہے) پر رحمت نازل فرمائے! وہ بڑے شریف سسرال والے، اور نیک لوگوں سے بہت جوڑ رکھنے والے، اورمجاہدین میں سب سے زیادہ جم کر مقابلہ کرنے والے، اور بڑے شب بیدار،اور اللہ کے ذکر کے وقت بہت زیادہ رونے والے، دن رات اپنے مقصد کے لیے فکر مند رہنے والے، ہر بھلے کام کے لیے تیار، اور ہر نجات دینے والی نیکی کے لیے بھاگ دوڑ کرنے والے، اور ہر ہلاک کرنے والی برائی سے دور بھاگنے والے تھے۔ انھوں نے غزوۂ تبوک کے موقع پر اسلامی لشکر کو بہت سارا سامان دیا تھا اور یہودی سے خرید کر بیر رُوْمَہ (کنواں) مسلمانوں کے لیے وقف کردیا تھا۔ آپ حضرت مصطفی ﷺ کے داماد تھے، اُن کی دو صاحبزادیوں سے شادی کی تھی۔ جو اُن کو برا بھلا کہے اللہ تعالیٰ اسے تا قیامت پشیمانی میں مبتلا رکھے۔ پھر حضرت معاویہ ؓ نے فرمایا: آپ حضرت علی بن ابی طالبؓ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو حضرت ابنِ عباس ؓنے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ابوالحسن (یہ حضرت علی ؓ کی کنیت ہے) پر رحمت نازل فرمائے! اللہ کی قسم! وہ ہدایت کا جھنڈا اور تقویٰ کا غار اور عقل کا گھر اور رونق کا ٹیلہ تھے۔ رات کی اندھیریوں میں چلنے والوں کے لیے روشنی تھے۔ اور عظیم سیدھے راستے کی دعوت دینے والے، اور پہلے آسمانی صحیفوں اور کتابوں کو جاننے والے، قرآن کی تفسیر بیان کرنے والے، اور وعظ و نصیحت کرنے والے ،اور ہدایت کے اسباب میں ہمیشہ لگے رہنے والے، اور ظلم واذیّت رسانی کے چھوڑنے والے، اور ہلاکت کے راستوں سے ہٹ کر چلنے والے تھے۔ تمام مؤمنوں اور متقیوںمیں سے بہترین، اور تمام کرتہ اور چادر پہننے والے انسانوںکے سردار، اور حج وسعی کرنے والوں میں سے افضل، اور عدل و مساوات کرنے والوں میں سب سے بڑے جواں مرد تھے، اور انبیا اور نبی مصطفی علیٰ نبینا و ؑ کے علاوہ تمام دنیا کے انسانوں سے زیادہ اچھے خطیب تھے جنہوں نے دونوں قبلوں بیت المقدس اور بیت اللہ کی طرف نماز پڑھی۔ کیا کوئی مسلمان اُن کی برابری کرسکتا ہے؟ جب کہ وہ تمام عورتوں میں سے بہترین عورت (حضرت فاطمہ ؓ) کے خاوند تھے اور حضور ﷺ کے دو نواسوں کے والد تھے۔ میری آنکھوں نے نہ اُن جیسا کبھی دیکھا اور نہ آیندہ قیامت تک کبھی دیکھ سکیں گی۔ جو اُن پر لعنت کرے اس پر اللہ اور اس کے بندوں کی قیامت تک لعنت ہو۔ پھر حضرت معاویہ ؓ نے فرمایا کہ آپ حضرت طلحٰہ اور حضرت زبیر ؓ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ حضرت ابنِ عباس ؓنے فرمایا کہ اللہ اُن دونوں پر رحمت نازل فرمائے! اللہ کی قسم! وہ دونوں پاک باز ، نیک، صاف ستھرے مسلمان، شہید اور عالم تھے۔اُن دونوں سے ایک لغزش ہوئی جسے اللہ تعالیٰ اِن شاء اللہ اس وجہ سے ضرور معاف فرمادیں گے کہ ان دونوں حضرات نے شروع سے دین کی مدد کی اور اِبتدا سے حضور ﷺ کی صحبت میں رہے اور بہت نیک اور عمدہ کام کیے ۔ حضرت معاویہ ؓ نے فرمایا کہ آپ حضرت عباس ؓ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو حضرت ابنِ عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ حضرت ابو الفضل (یہ حضرت عباس ؓ کی کنیت ہے) پر رحمت نازل فرمائے! وہ اللہ کی قسم! حضور ﷺ کے والد ماجد کے سگے بھائی اور اللہ کے بَرگزیدہ انسان، یعنی حضور ﷺ کی آنکھ کی ٹھنڈک اور تمام لوگوں کے لیے جائے پناہ اور حضورﷺ کے تمام چچوں کے سردار تھے۔ تمام اُمور میں بڑی بصیرت رکھتے تھے اور ہمیشہ انجام پر نظر رہتی تھی۔ علم سے آراستہ تھے۔ اُن کی فضیلت کے تذکرہ کے وقت دوسروں کی فضیلتیں ہیچ معلوم ہوتی ہیں۔ اُن کے خاندان کے قابلِ فخر کارناموں کے سامنے دوسرے خاندانوں کے کارنامے پیچھے رہ گئے۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا جب کہ اُن کی تربیت اس عبدالمطلب نے کی جو ہر نقل و حرکت والے انسانوں میں سب سے زیادہ بزرگ اور قریش کے تمام پیادہ اور سواروں سے زیادہ قابلِ فخر تھے۔ یہ ایک لمبی حدیث کا حصہ ہے۔ 1