اسلام
اسلام کےفائدے
یہ ہیں کفر کے نقصانات، آؤ اب ایک نظر یہ بھی دیکھو کہ اسلام کاطریقہ اختیار کرنے میں کیا فائدہ ہے۔ اوپر تم کو معلوم ہوچکا ہے کہ اس جہاں میں ہر طرف خدا کی خدائی کے نشانات پھیلے ہوئے ہیں۔ کائنات کا یہ عظیم الشان کارخاہ جو ایک مکمل نظام اور ایک اٹل قانون کے تحت چل رہا ہے جو اس بات پر گواہ ہے کہ اس کا بنانے والا اور چلانے والا ایک زبردست فرماں روا ہے۔ جس کی حکومت سے کوئی چیز سرتابی نہیں کرسکتی۔ تمام کائنات کی طرح خود انسان کی فطرت بھی یہی ہے کہ اس کی اطاعت کرے۔ چنانچہ بے سمجھے وہ رات دن اس کی اطاعت کرہی رہا ہے کیونکہ اس کےقانون قدرت کی خلاف ورزی کرکے وہ زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔
لیکن خدا نے انسان کو علم کی قابلیت ، سوچنے اور سمجھنے کی قوت اور نیک و بد کی تمیز دے کر ارادے اور اختیار میں تھوڑی سی آزادی بخش دی ہے۔ اس آزادی میں دراصل انسان کا امتحان ہے، اس کے علم کا امتحان ہے، اس کی عقل کا امتحان ہے، اس کی تمیز کا امتحان ہے اور اس بات کا امتحان ہے کہ اسے جو آزادی عطا کی گئی ہے اس کو وہ کس طرح استعمال کرتا ہے اور اس امتحان میں کوئی ایک طریقہ اختیار کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا ہے۔ کیونکہ مجبور کرنے سے امتحان کا مقصد ہے فوت ہوجاتا ہے۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ امتحان میں سوالات کا پرچہ دینے کے بعد اگر تم کو ایک خاص جواب دینے پر مجبور کردیا جائے تو ایسے امتحان سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ تمہاری اصل قابلیت تو اسی وقت کھلے گی جب تم کو ہر قسم کا جواب دینے کا اختیار حاصل ہو۔ اگر تم نے صحیح جواب دیا تو کامیاب ہوگے اور آئندہ ترقیوں کا دروازہ تمہارے لیے کھل جائے گا۔ اور اگر غلط جواب دیا تو ناکام ہوگے اور اپنی ناقابلیت سے خود ہی ترقی کا رستہ روک لوگے۔ بالکل اسی طرح اللہ تعالٰی نے بھی اپنے امتحان میں انسان کو آزاد رکھا ہے کہ جو طریقہ چاہے اختیار کرے۔
اب ایک شخص تو وہ ہے جو خود اپنیاور کائنات کی فطرتکو نہیں سمجھتا، اپنے خالق کی ذات و صفات کو پہچاننے میں غلطی کرتا ہے اور اختیار کی جو آزادی اسے دی گئی ہے، اس سے فائدہ اٹھا کر نافرمانی اور سرکشی کا طریقہ اختیار کرتا ہے۔ یہ شخص علم اور عقل اور تمیز اور فرض شناسی کے امتحان میں نکام ہوگیا۔ اس نے خود ثابت کردیا کہ وہ ہر حیثیت سے اندی درجے کا آدمی ہے۔ لہذا اس کاوہی انجام ہونا چاہیے جو تم نے اوپر دیکھ لیا۔
اس کے مقابلے میں ایک دوسرا شخص جو اس امتحان میں کامیاب ہوگیا۔ اس نے علم اور عقل سے صحیح کام لے کر خدا کو جانا اور مانا، حالانکہ وہ ایسا کرنے پر مجبور نہیں کیا گیا تھا۔ اس نے نیک و بد کی تمیز میں بھی غلطی نہ کی اور اپنے آزاد انتخاب سے نیکی ہی کو پسند کیا۔ حالانکہ وہ بدی کی طرف بھی مائل ہونے کا اختیار رکھتا تھا۔اس نے اپنی فطرت کو سمجھا، اپنے خدا کو پہچانا اور نافرمانی کا اختیار رکھنے کے باوجود خدا کی فرمانبرداری ہی اختیار کی۔ اس شخص کو امتحان میں اسی وجہ سے تو کامیابی نصیب ہوئی کہ اس نے اپنی عقل سے ٹھیک کام لیا، آنکھوں سے ٹھیک دیکھا، کانوں سے ٹھیک سنا، دماغ سے ٹھیک رائے قائم کی اور دل سے اسی بات کی پیروی کا فیصلہ کیا جو ٹھیک تھی۔ اس نے حق کو پہچان کر یہ بھی ثابت کردیا کہ وہ حق شناس ہے اور حق کے آگے سر جھکا کر یہ بھی دکھادیا کہ وہ حق پرست ہے۔
ظاہر ہے کہ جس شخص میں یا صفات موجود ہوں، اس کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہونا ہی چاہیے۔
وہ علم اور عمل کے ہر میدان میں صحیح راستہ اختیار کرے گا۔ اس لیے کہ جو شخص ذات خداوندی سے واقف ہے اور اس کی صفات کو پہچانتا ہے، وہ دراصل علم کی ابتدا کو بھی جانتا ہے اور اس کی انتہا کو بھی۔ ایسا شخص کبھی غلط راستوں میں بھٹک نہیں سکتا۔ اس کا پہلا قدم بھی صحیح پڑا ہے اور جس آخری منزل پر اسے جانا ہے، اس کو بھی وہ یقین کے ساتھ جانتا ہے۔ اب وہ فلسفیانہ غور خوض سے کائنات کے اسرار سمجھنے کی کوشش کرے گا۔مگر ایک کافر فلسفی کی طرح کبھی شکوک و شبہات کی بھول بھلیوں میں گم نہ ہوگا۔ وہ سائنس کے ذریعہ سے قدرت کے قوانین کو معلوم کرنے کی کوشش کرے گا۔کائنات کے چھپے ہوئے خزانوں کو نکالے گا۔ خدا نے جو قوتیں دنیا میں اور خود انسانوں کے وجود میں پیدا کی ہیں، ان سب کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر معلوم کرے گا۔ مگر خدا شناسی ہر موقع پر اس کے سائنس کے غلط استعمال سے روکے گی۔ وہ کبھی اس غلط فہمی میں نہ پڑے گا کہ میں ان چیزوں کا مالک ہوں۔ میں نے فطرت پر فتح پالی ہے، میں اپنے نفع کے لیے سائنس سے مدد لوں گا، دنیا کو زیر و زبر کردوں گا، لوٹ مار اور کشت و خون کرکے اپنی طاقت کا سکہ سارے جہاں میں بٹھادوں گا۔یہ ایک کافر سائنٹسٹ کا کام ہے۔ مسلم سائنٹسٹ جتنا زیادہ سائنس پرعبور حاصل کرے گا اتنا ہی زیادہ خدا پر اس کا یقین بڑھے گا۔ اور اتنا ہی زیادہ وہ خدا کا شکر گزار بندہ بنے گا۔ اس کا عقیدہ یہ ہوگا کہ میرے مالک نے میری قوت اور علم میں جو اضافہ کیا ہے، اس سے میں اپنی اور تمام انسانوں کی بھلائی کے لیے کوشش کروں گا۔ اور یہی اس کا صحیح شکریہ ہے۔
اس طرح تاریخ، معاشیات، سیاسیات، قانون اور دوسرے علوم و فنون میں بھی ایک مسلم اپنی تحقیق اور جدوجہد کے لحاظ سے ایک کافر کے مقابلہ میں کم نہ رہے گا۔ مگر دونوں کی نظر میں بڑا فرق ہوگا۔ مسلم ہر علم کا مطالعہ صحیح نظر سے کرے گا، اور صحیح نتیجہ پر پہنچے گا۔ تاریخ میں وہ انسان کے گزشتہ تجربوں سے ٹھیک ٹھیک سبق لے گا، قوموں کی ترقی و تنزل کے اسباب معلوم کرے گا۔ ان کی تہذیب و تمدن کی مفید چیزیں دریافت کرے گا، جن کی بدولت پچھلی قومیں تباہ ہوگئيں، معاشیات میں دولت کمانے اور خرچ کرنے کے ایسے طریقے معلوم کرے گا جن سے تمام انسانوں کا بھلا ہو، نہ ایک کا فائدہ اور بہتوں کا نقصان ہو، سیاسیات میں اس کی تمام توجہ اس طرف مبذول ہوگی کہ دنیا میں امن، عدل اور انصاف اور نیکی و شرافت کی حکومت ہو۔ کوئی شخص یا کوئی جماعت خدا کے بندوں کو اپنا بندہ نہ بنائے۔ کوئی شخص یا کوئی جماعت خدا کے بندوں کو اپنا بندہ نہ بنائے۔ حکومت اور اس کی تمام طاقتوں کو خدا کی امانت سمجھا جائے اور بندگان خدا کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے۔ قانون میں وہ اس نظر سے غور کرے گا کہ عدل و انصاف کے ساتھ لوگوں کے حقوق مقرر کئے جائیں اور کسی صورت سے کسی پر ظلم نہ ہونے پائے۔
مسلم کے اخلاق میں خدا ترسی، حق شناسی اور راست بازی ہوگی۔ وہ دنیا میں یہ سمجھ کر رہے گا کہ سب چیزوں کا مالک خدا ہے۔ میرے پاس اور سب انسانوں کے پاس جو کچھ ہے خدا ہی کا دیا ہوا ہے۔ میں کسی چیز کا حتی کہ خود اپنے جسم اور جسمانی قوتوں کا بھی مالک نہیں ہوں۔ سب کچھ خدا کی امانت ہے اور اس امانت میں تصرف کرنے کا جو اختیار مجھے دیا گیا ہے، اس کو خدا ہی کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔ ایک دن خدا مجھ سے اپنی یہ امانت واپس لے گا، اور اس وقت مجھ کو ایک ایک چیز کا حساب دینا ہوگا۔
یہ سمجھ کر جو شخص دنیا میں رہے اس کے اخلاق کا اندازہ کرو۔ وہ اپنے دل کو برے خیالات سے پاک رکھے گا۔ وہ اپنے دماغ کو برائی کی فکر سے بچائے گا۔ وہ اپنی آنکھوں کو بری نگاہ سے روکے گا۔ وہ اپنے کانوں کو برائی سننے سے باز رکھے گا۔ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے گا تاکہ اس سے حق کے خلاف کوئی بات نہ نکلے۔ وہ اپنے پیٹ کو حرام رزق سے بھرنے کے بجائے بھوکا رہنا زیادہ پسند کرے گا۔ وہ اپنے ہاتھوں کو ظلم کے لیے کبھی نہ اٹھائے گا۔وہ اپنے پاؤں کو برائی کے راستے پر کبھی نہ چلائے گا۔ وہ اپنے سر کو باطل کے سامنے کبھی نہ جھکائے گا، خواہ وہ کاٹ ہی کیوں نہ ڈالا جائے۔ وہ اپنی کسی خواہش اور کسی ضرورت کو ظلم اور ناحق کے راستہ پر کبھی نہ پورا کرے گا۔ وہ نیکی اور شرافت کا مجسمہ ہوگا۔حق اور صداقت کو ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھے گا۔ اور اس کے لیے اپنی ذات کے ہر فائدے اور اپنے دل کی ہر خواہش کو، بلکہ اپنی ذات کو بھی قربان کردے گا۔ وہ ظلم اور ناراستی کو ہر چیز سے زیادہ ناپسند کرے گا، اور کسی نقصان کے خوف سے یا کسی فائدے کے لالچ میں اس کا ساتھ دینے پر آمادہ نہ ہوگا، دنیا کی کامیابی بھی ایسے شخص کا حصہ ہے۔
اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی معزز اور شریف نہ ہوگا۔ کیونکہ اس کا سر خدا کے سوا کسی کے سامنے جھکنے والا نہیں۔ اور اس کا ہاتھ خدا کے سواکسی کے سامنے پھیلنے والا نہیں ۔ ذلت ایسے شخص کے پاس کیسے پھٹک سکتی ہے۔
اس سے بڑھ کر دنیامیں کوئی طاقتور بھی نہ ہوگا، کیونکہ اس کے دل میں خدا کے سوا کسی کا خوف نہیں اور اس کو خدا کے سوا کسی سے بخشش اور انعام کا لالچ بھی نہیں۔ کون سی طاقت ہے جو ایسے شخص کو حق اور راستی سے ہٹاسکتی ہو۔ اور کون سی دولت ہے جو اس کا ایمان خرید سکتی ہے۔
اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی غنی اور دولت مند بھی نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ عیش پرست نہیں، خواہشات نفس کا بندہ نہیں، حریص اور لالچی نہیں۔ اپنی جائز محنت سے جو کچھ کماتا ہے، اسی پر قناعت کرتا ہے اور ناجائز دولت کے ڈھیر بھی اگر اس کے سامنے لگادئے جائيں تو ان کو حقارت سے ٹھکرادیتا ہے، یہ اطمینان کی دولت ہے جس سے بڑی دولت انسان کے لئے نہیں ہوسکتی۔
اس سے بڑھ کر دنیامیں کوئی محبوب اور ہر دل عزیز بھی نہ ہوگا، کیونکہ وہ ہر شخص کا حق ادا کرے گا اور کسی کا حق نہ مارے گا۔ ہر شخص سے نیکی کرے گا اور کسی کے ساتھ برائی نہ کرے گا۔ بلکہ ہر شخص کی بھلائی کے لیے کوشش کرے گا۔ اور اس کے بدلے میں اپنے لیے کچھ نہ چاہے گا۔ لوگوں کے دل آپ سے آپ اس کی طرف کھنچیں گے اور ہر شخص اس کی عزت اور محبت کرنے پر مجبور ہوگا۔
اس سے بڑھ کر دنیامیں کسی کا اعتبار نہ ہوگا۔ کیونکہ وہ امانت میں خیانت نہ کرے گا۔ صداقت سے منہ نہ موڑے گا۔ وعدہ کا سچا اور معاملہ کا کھرا ہوگا۔ اور ہر کام میں یہ سمجھ کر ایمانداری برتے گا کہ کوئی دیکھنے والا ہو یا نہ ہو، مگر خدا تو سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ ایسے شخص کی ساکھ کا کیا پوچھنا، کون ہے جو اس پر بھروسہ نہ کرے گا؟
ایک مسلم کی سیرت کو اچھ طرح سمجھ لو تو تم کو یقین آجائے گا کہ مسلم کبھی دنیا میں ذلیل اور محکوم اور مغلوب بن کر نہیں رہ سکتا ۔ وہ ہمیشہ غالب اور حاکم ہی رہے گا۔ کیونکہ اسلام جو صفات اس میں پیدا کرتا ہے اس پر کوئی قوت غالب نہیں آسکتی۔
اس طرح دنیا میں عزت اور بزرگی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے بعد جب وہ اپنے خدا کے سامنے حاضر ہوگا تو اس پر خدا اپنی نعمتوں اور رحمتوں کی بارش کرےگا۔ کیونکہ جو امانت اس کے سپرد کی گئی تھی اس کا پورار پورا حق اس نے ادا کردیا۔ اور جس امتحان میں خدا نے اس کو ڈالا تھا اس میں وہ پورے پورے نمبروں کے ساتھ کامیاب ہوا۔ یہ ابدی کامیابی ہے جو دنیا سے لے کر آخرت تک مسلسل چلی جاتی ہے اور کہیں اس کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا۔
یہ اسلام ہے انسان کا فطری مذہب۔ یہ کسی قوم اور ملک کے ساتھ خاص نہیں۔ ہر زمانے اور ہر قوم اور ہر ملک میں جو خدا شناس اور حق پسند لوگ گزرے ہیں ان سب کا یہی مذہب تھا وہ سب مسلم تھے۔ خواہ ان کی زبان میں اس مذہب نام اسلام ہو یا کچھ اور۔