دین اور شریعت

عالمگیر اور دائمی شریعت

یہ اس شریعت کے احکام اور قوانین کا ایک بہت ہی سرسری خلاصہ ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے تمام دنیا کے لیے اور ہمیشہ کے لیے بھیجی گئی ۔ اس شریعت میں انسان اور انسان کے درمیان بجز عقیدے اور عمل کے کسی اور چیز کی بنا پر فرق نہیں کیا گیا ہے جن مذہبوں اور شریعتوں میں نسل اور ملک اور رنک کے لحاظ سے انسانوں میں امتیاز کیا گیا ہے وہ کبھی عالمگیر نہیں ہوسکتیں۔ کیونکہ ایک نسل کا انسان دوسری نسل کا انسان نہیں بن سکتا، نہ ساری دنیا سمٹ کر ایک ملک میں سماسکتی ہے، نہ حبشی کی سیاہی اور چینی کی زردی اور فرنکی کی سپیدی کبھی بدل سکتی ہے۔ اس لیے اس قسم کے مذاہب اور قوانین لازمی طور پر ایک ہی قوم میں رہتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں اسلام کی شریعت ایک عالمگیر شریعت ہے۔ ہر شخص جو لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ پر ایمان لاغے وہ شریعت کی رو سے مسلمانوں کی قوم میں بالکل مساوی حقوق کے ساتھ داخل ہوسکتا ہے۔ یہاں نسل، زبان، ملک، وطن، رنگ، کسی چیز کا بھی کوئی امتیاز نہیں۔ پھر یہ شریعت ایک دائمی شریعت بھی ہے۔ اس کے قوانین کسی مخصوص قوم اور مخصوص زمانے کے رسم و رواج پر مبنی نہیں ہیں۔ بلکہ اس فطرت کے اصول پر مبنی ہیں جس پر انسان پیدا کیا گیا ہے۔ جب یہ فطرت ہر زمانے اور ہر حال میں قائم ہے تو وہ قوانین بھی ہر زمانے اور ہر حال میں قائم رہنے چاہیئیں جو اس پر مبنی ہوں۔