دین اور شریعت

بندوں کے حقوق

ایک طرف شریعت نے انسان کو اپنے نفس اور جسم کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے، تو دوسری طرف یہ بھی قید لگادی کہ ان حقوق کو ادا کرنے میں وہ کوئی ایسا طریقہ نہ اختیار کرے جس سے دوسرے لوگوں کے حقوق متاثر ہوں۔کیونکہ اس طرح اپنی خواہشات اور ضرورتیں پوری کرنے سے انسان کا اپنا نفس بھی گندہ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی طرح طرح کے نقصانات پہنچتے ہیں۔ چنانچہ شریعت نے چوری، لوٹ مار، رشوت، خیانت، سودخواری اور جعلسازی کو حرام کیا ہے۔ کیونکہ ان ذرائع سے انسان جو کچھ بھی فائدہ اٹھاتا ہے وہ دراصل دوسروں کے نقصان سے حاصل ہوتا ہے۔ جھوٹ، غیبت، چغلخوری اور بہتان تراشی کو بھی حرام کیا ہے۔ کیونکہ یہ سب افعال دوسروں کے لیے نقصان رساں ہیں۔ جوئے، سٹے اور لاٹری کو بھی حرام کیا ہے۔ کیونکہ اس میں ایک شخص کا فائدہ ہزاروں آدمیوں کے نقصان پر مبنی ہوتا ہے۔دھوکے اور فریب کے لین دین اور ایسے تمام تجارتی معاہدات کو بھی حرام کیا ہے جن میں کسی ایک فریق کو نقصان پہنچنے کا امکان ہو۔ قتل اور فتنہ و فساد کو بھی حرام کیا ہے۔ کیونکہ ایک شخص کو اپنے کسی فائدے یا اپنی کسی خواہش کی تسکین کے لیے دوسروں کی جان لینے یا ان کو تکلیف پہنچانے کا حق نہیں ہے۔ زنا اور عمل قوم لوط کو بھی حرام کیا ہے۔ کیونکہ یہ افعال ایک طرف خود اس شخص کی صحت کو خراب اور اس کے اخلاق کو گندہ کرتے ہیں جو ان کا ارتکاب کرتا ہے اور دوسری صرف ان سے تمام سوسائٹی میں بے حیائی اور بداخلاقی پھیلتی ہے، گندی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، نسلیں خراب ہوتی ہیں، فتنے برپا ہوتے ہیں، انسانی تعلقات بگڑتے ہیں اور تہذیب و تمدن کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ یہ تو پابندیاں ہیں جو شریعت نے اس غرض سے لگائی ہیں کہ ایک شخص اپنے نفس اور جسم کے حقوق ادا کرنے کے لیے دوسروں کے حقوق تلف نہ کرے۔مگر انسانی تمدن کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کو نقصان نہ پہنچائے۔ بلکہ اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ لوگوں میں باہمی تعلقات اس طرح قائم کئے جائیں کہ وہ سب ایک دوسرے کی بہتری کے میں مددگار ہوں۔ اس غرض کےلیے شریعت نے جو قوانین بنائے ہیں ان کا محض ایک خلاصہ ہم یہاں بیان کرتے ہیں: انسانی تعلقات کی ابتداء خاندان سے ہوتی ہے ۔ اس لئے سب سے پہلے اس پر نظر ڈالو۔ خاندان دراصل اس مجموعہ کو کہتے ہیں جو شوہر بیوی اور بچوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کے لئے اسلامی قاعدہ یہ ہے کہ روزی کمانا اور خاندان کی ضروریات مہیا کرنا اور اپنے بیوی بچوں کی حفاظت کرنا مرد کا فرض ہے۔ اور عورت کا فرض یہ ہے کہ مرد جو کچھ کما کر لائے، اس سے وہ گھر کا انتظام کرے۔ شوہر اور بچوں کو زیادہ سے زیادہ آسائش بہم پہنچائے اور بچوں کی تربیت کرے اور بچوں کا فرض یہ ہے کہ ماں باپ کی اطاعت کریں، ان کا ادب ملحوظ رکھیں اور جب بڑے ہوں تو ان کی خدمت کریں۔ خاندان کے اس انتظام کو درست رکھنے کے لئے اسلام نے دو تدبیریں اختیار کی ہیں۔ ایک یہ کہ شوہر اور باپ کو گھر کا حاکم مقرر کردیا ہے۔ کیونکہ جس طرح ایک شہر کا انتظام ایک حاکم کے بغیر اور ایک مدرسہ کا انتظام ایک ہیڈماسٹر کے بغیر درست نہیں رہ سکتا، اسی طرح گھر کا انتظام بھی ایک حاکم کے بغیر درست نہیں رہ سکتا۔ جس گھر میں ہر ایک اپنی مرضی کا مختار ہوگا، اس گھر میں خواہ مخواہ افراتفری مچے گی، آسائش اور خوشی نام کو نہ رہے گی۔ شوہر ایک طرف تشریف لے جائیں گے، بیوی دوسری طرف کا راستہ لے گی اور بچوّں کی مٹّی پلید ہوگی۔ ان سب خرابیوں کو دور کرنے کے لئے گھر کا ایک حاکم ہونا ضروری ہے، اور وہ مرد ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ وہ گھر والوں کی پرورش اور حفاظت کا ذمہ دار ہے۔دوسری تدبیر یہ ہے کہ گھر سے باہر کے سب کاموں کابوجھ مرد پر ڈال کر عورت کو حکم دیا گیا ہے کہ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ جائے۔ اس کو بیرون خانہ کے فرائض سے اسی لئے سبکدوش کیا گیا ہے کہ وہ سکون کے ساتھ اندرون خانہ کے فرائض انجام دے اور اس کے باہر نکلنے سے گھر کی آسائش اور بچوں کی تربیت میں خلل نہ واقع ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورتیں بالکل گھر سے باہر قدم ہی نہ نکالیں، ضرورت پیش آنے پر ان کو جانے کی اجازت ہے۔ مگر شریعت کا منشا یہ ہے کہ ان کے فرائض کا اصلی دائرہ ان کا گھر ہونا چاہیے اور ان کی قوت تمام تر گھر کی زندگی کو بہتر بنانے پر صرف ہونی چاہیے۔ خون کے رشتوں اور شادی بیاہ کے تعلقات سے خاندان کا دائرہ پھیلتا ہے۔ اس دائرے میں جو لوگ ایک دوسرے سے وابستہ ہوتے ہیں، ان کے تعلقات درست رکھنے اور ان کو ایک دوسرے کا مددگار بنانے کے لیے شریعت نے مختلف قاعدے مقرر کئے ہیں جو بڑی حکمتوں پر مبنی ہیں۔ ان میں سے چند قاعدے یہ ہیں: 1. جن مردوں اور عورتوں کو فطرتاً ایک دوسرے کےساتھ گھل مل کر رہنا پڑتا ہے ان کو ایک دوسرے کے لیے حرام کردیا ہے۔ مثلاً ماں اور بیٹا، باپ اور بیٹی، سوتیلی بیٹی اور سوتیلا باپ، سوتیلی ماں اور سوتیلا بیٹا، بھائی اور بہن، دودھ شریک بھائی اور بہن، چچا اور بھتیجی، پھوپھی اور بھتیجا، ماموں اور بھانجی، خالہ اور بھانجہ، ساس اور داماد، خسر اور بہو۔ ان سب رشتوں کو حرام کرنے کے بیشمار فائدوں میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ ایسے مرد اور عورتوں کے تعلقات نہایت پاک رہتے ہیں اور وہ خالص محبت اور بے لوث اور بے تکلف ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں۔ 2. حرام رشتوں کے علاوہ کنبے کے دوسرے مردوں اور عورتوں کے درمیان شادی بیاہ کو جائز قرار دیا گیا تاکہ آپس کے تعلقات اور زیادہ بڑھیں، جو لوگ ایک دوسرے کی عادتوں اور خصلتوں سے واقف ہوتے ہیں ان کے درمیان شادی بیاہ کا تعلق زیادہ کامیاب ہوتا ہے اجنبی گھرانوں میں جوڑ لگانے سے اکثر ناموافقت کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی لیے اسلام میں کفو والے کو غیر کفر پر ترجیح دی گئی ہے۔ 3. کنبے میں غریب اور امیر، خوشحال اور بدحال سب ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اسلام کا حکم یہ ہے کہ ہر شخص پر سب سے زیادہ حق اس کے رشتہ داروں کا ہے۔ اس کا نام شریعت میں صلۂ رحمی ہے جس کی بہت تاکید کی گئی ہے۔ رشتہ داروں سے بے وفائی کرنے کو قطع رحمی کہتے ہیں اور یہ اسلام میں بہت بڑا گناہ ہے۔ کوئی قرابت دار مفلس ہو یا اس پر کوئی مصیبت آئے تو خوشحال عزیزوں کا فرض ہے کہ اس کی مدد کریں۔ صدقہ و خیرات میں بھی خاص طور پر رشتہ داروں کے حق کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔ 4. وراثت کا قانون بھی اس طرح بنایا گیا ہے کہ جو شخص کچھ مال چھوڑ کر مرے، خواہ وہ کم ہو یا زیادہ ، بہر حال وہ ایک جگہ سمٹ کر نہ رہ جائے، بلکہ اس کے رشتہ داروں کو تھوڑا یا بہت حصہ پہنچ جائے۔ بیٹا ، بیٹی، بیوی، شوہر، ماں، باپ، بھائی، بہن انسان کے سب سے زیادہ قریبی حقدار ہیں۔ اس لیے وراثت میں پہلے ان ہی کے حصے مقرر کئے گئے ہیں۔ یہ اگر نہ ہوں تو ان کے بعد جو رشتہ دار قریب تر ہوں ان کو حصہ پہنچتا ہے۔ اور اس طرح ایک شخص کے مرنے کے بعد اس کی چھوڑی ہوئے دولت بہت سے عزیزوں کے کام آتی ہے۔ اسلام کا یہ قانون دنیامیں بے نظیر قانون ہے اور اب دوسری قومیں بھی اس کی نقل کررہی ہیں۔ مگر افسوس کہ مسلمان اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے اکثر اس قانون کی خلاف ورزی کرنے لگے ہیں۔ خصوصاً لڑکیوں کا حصہ نہ دینے کی رسم پاکستان اور ہندوستان کے مسلمانوں میں بہت پھیلی ہوئی ہے۔حالانکہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور قرآن کے صریح احکام کی مخالفت ہے۔ خاندان کے بعد انسان کے تعلقات اپنے دوستوں، ہمسایوں اہل محلہ، اہل شہر اور ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جن سے اس کو کسی نہ کسی طرح کے معاملات پیش آتے ہیں۔ اسلام کا حکم یہ ہے کہ ان سب کےساتھ راستبازی، انصاف اور حسن اخلاق برتو، کسی کو تکلیف نہ پہنچاؤ، کسی کی دل آزاری نہ کرو، فحش گوئی اور بدکلامی سے بچو، ایک دوسرے کی مدد کرو، بیماروں کی عیادت کے لیے جاؤ، کوئی مرجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو، کسی پر مصیبت آئے تو اس سے ہمدردی کرو، جو غریب، محتاج، معذور لوگ ہوں ان کو ڈھانک چھپا کر مدد پہنچاؤ۔ یتیموں اور بیواؤں کی خبرگیری کرو۔ بھوکوں کو کھانا کھلاؤ۔ ننگوں کو کپڑے پہناؤ۔ بے کاروں کو کام پر لگانے میں مدد دو۔ اگر تم کو خدا نے دولت دی ہے تو اس کو صرف اپنے عیش میں نہ اڑادو۔ چاندی سونے کے برتن استعمال کرنا اور ریشمی لباس پہننا اور اپنے روپے کو فضول تفریحوں، اسائشوں میں ضائع کرنا اسی لیے اسلام میں ممنوع ہے کہ جو دولت ہزاروں بندگان خدا کو رزق بہم پہنچاسکتی ہے، اسے کوئی شخص صرف اپنے ہی اوپر خرچ نہ کردے، یہ ایک ظلم ہے کہ جس روپے سے بہتوں کے پیٹ پل سکتے ہوں وہ محض ایک زیور کی شکل میں تمہارے جسم پر لٹکا رہے، یا ایک برتنی کی شکل میں تمہاری میز پر سجا کرے، یا ایک قالین بنا ہوا تمہارے کمرے میں پڑا رہے، یا آتش بازی بن کر آگ میں جل جائے۔ اسلام تم سے تمہاری دولت چھیننا نہیں چاہتا، جو کچھ تم نے کمایا ہے یا ورثہ میں پایا ہے اس کے وارث تم ہی ہو۔ وہ تمہیں اس بات کا پورا حق دیتا ہے کہ اپنی دولت سے لطف اٹھاؤ۔ وہ اس کو بھی جائز رکھتا ہے کہ جو نعمت خدا نے تم کو دی ہے اس کا اثر تمہارے لباس اور مکان اور سواری میں ظاہر ہو۔ مگر اس کی تعلیم کا مقصد یہ ہے کہ تم ایک سادہ اور معتدل زندگی اختیار کرو، اپنی ضرورتوں کو حد سے نہ بڑھاؤ اور اپنے نفس کے ساتھ اپنے عزیزوں، دوستوں، ہمسایوں، اہل ملک اور اہل قوم اور عام انسانوں کے حقوق کا بھی خیال رکھو۔ ان چھوٹے دائروں سے نکل کر اب بڑے دائرے پر نظر ڈالو، جو تمام دنیا کے مسلمانوں پر حاوی ہے۔ اس دائرے میں اسلام نے ایسے قوانین اور ضابطے مقرر کئے ہیں جن سے مسلمان ایک دوسرے کی بھلائی میں مددگار ہوں اور برائیاں رونما ہونے کی صورتیں جہاں تک ممکن ہو پیدا ہی نہ ہونے دی جائیں۔ مثال کے طور پر ان میں چند کی طرف ہم یہاں اشارہ کرتے ہیں: 1. قومی اخلاق کی حفاظت کے لیے یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ جن عورتوں اور مردوں کے درمیان حرام رشتے نہیں ہیں وہ ایک دوسرے سے آزادانہ میل جول نہ رکھیں۔ عورتوں کی سوسائٹی الگ رہے اور مردوں کی الگ۔ عورتیں زیادہ تر خانگی زندگی کے فرائض کی طرف متوجہ رہیں۔ اگر ضرورتاً باہر نکلیں تو بناؤ سنگھار کے ساتھ نہ نکلیں۔ سادہ کپڑے پہن کر آئیں، جسم کو اچھی طرح ڈھانکیں۔ چہرہ اور ہاتھ اگر کھولنے کی شدید ضرورت نہ ہو تو ان کو بھی چھپائیں۔ اور اگر واقعی کوئی ضرورت پیش آجائے تو صرف اس کو پورا کرنے کے لیے ہاتھ منہ کھولیں۔ اس کے ساتھ مردوں کو حکم دیا کہ غیر عورتوں کی طرف دیکھنے سے پرہیز کریں۔ اچانک نظر پڑجائے تو نظر ہٹالیں، دوبارہ دیکھنے کی کوشش کرنا معیوب ہے اور اس سے ملنے کی کوشش معیوب تر، ہر مرد اور عورت کا فرض ہے کہ وہ اپنے اخلاق کی حفاظت کرے۔اور خدا نے خواہشات نفسانی کو پورا کرنے کے لیے نکاح کا جو دائرہ مقرر کردیا ہے اس سے باہر نکلنے کی کوشش کیا معنی، خواہش بھی اپنے دل میں پیدا نہ ہونے دیں۔ 2. قومی اخلاق ہی کی حفاظت کے لیے یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ کوئی مرد گھٹنے اورناف کے درمیان کا حصہ ، اور کوئی عورت چہرے اور ہاتھ کے سوا اپنے جسم کا کوئی حصہ کسی کے سامنے نہ کھولےخواہ وہ اس کا قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔ اس کو شریعت کی زبان میں “ستر” کہتے ہیں اور اس کا چھپانا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اسلام کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں حیا کا مادہ پیدا ہو اور وہ بے حیائیاں نہ پھیل سکیں جن سے آخر کار بداخلاقی پیدا ہوتی ہے۔ 3. اسلام ایسی تفریحوں اور مشغلوں کو بھی پسند نہیں کرتا جو اخلاق کو خراب کرنے والے اور بری خواہشات کو ابھارنے والے اور وقت اور صحت اور روپے کو ضائع کرنے والے ہوں۔تفریح بجائے خود نہایت ضروری چیز ہے۔ انسان میں زندگی کی روح اور عمل کی طاقت پیدا کرنے کے لیے کام اور محنت کے ساتھ اس کا ہونا بھی لازم ہے۔ مگر وہ ایسی ہونی چاہیے جو روح کو تازہ کرنے والی ہو نہ کہ اور زیادہ غلیظ اور کثیف بنانے والی ۔ بیہودہ تفریحیں جن میں ہزاروں آدمی ایک ساتھ بیٹھ کر جرائم کے فرضی واقعات اور بے شرمی کے نظارے دیکھتے ہیں، تمام قوموں کے اخلاق و عادات کو بگاڑنے والی چیزیں ہیں، خواہ بظاہر کیسی ہی خوش نما ہوں۔ 4. قومی اتحاد اور فلاح و بہبود کےلیے مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ آپس کی مخالفت سے بچیں، فرقہ بندی سے پرہیز کریں، کسی معاملہ میں اختلاف رائے ہو تو نیک نیتی کے ساتھ قرآن اور حدیث سے اس کافیصلہ کرنے کی کوشش کریں۔ اگر تصفیہ نہ ہوسکے تو آپس میں لڑنے کے بجائے خدا پر اس کا فیصلہ چھوڑدیں۔ قومی فلاح و بہبود کے کاموں میں ایک دوسرے کی معاونت کریں۔ اپنی قوم کے سرداروں کی اطاعت کرتے رہیں۔ جھگڑے برپا کرنے والوں سے الگ ہوجائیں اور آپس کی لڑائیوں سے اپنی طاقت کو برباد اور اپنی قوم کو رسوا نہ کریں۔ 5. مسلمانوں کو غیر مسلم قوموں سے علوم فنون حاصل کرنے اور ان کے کارآمد طریقے سیکھنے کی پوری اجازت ہے۔ مگر زندگی میں ان کی نقالی کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ایک قوم دوسری قوم کی نقالی اسی وقت کرتی ہے جب وہ اپنی ذلت اور کمتری تسلیم کرلیتی ہے۔ یہ غلامی کی بدتریں قسم ہے، اپنی شکست کا کھلا اعلان ہے اور اس کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ نقالی کرنے والی قوم کی تہذیب فنا ہوجاتی ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیر قوموں کی معاشرت اختیار کرنے سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ یہ بات معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ کسی قوم کی طاقت اس کے لباس یا اس کے طرز زندگی کی وجہ سے نہیں ہوتی، بلکہ اس کے علم اور اس کی تنظیم اور اس کی قوت عمل کے سبب سے ہوتی ہے۔ پس اگر طاقت حاصل کرنا چاہتے ہو تو وہ چیزیں لو جن سے قومیں طاقت حاصل کرتی ہیں۔نہ کہ وہ چیزیں جن سے قومیں غلام ہوتی ہیں اور آخرکار دوسروں میں جذب ہوکر اپنی قومی ہستی فنا کردیتی ہیں۔ غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کرنے میں مسلمانوں کو تعصب اور تنگ نظری کی تعلیم نہیں دی گئی ہے۔ ان کے بزرگوں کو برا کہنے یا ان کے مذہب کی توہین کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ان سے خود جھگڑا نکالنے سے بھی روکا گیا ہے۔ وہ اگر ہمارے ساتھ صلح و آشتی رکھیں اور ہمارے حقوق پر دست درازی نہ کریں تو ہم کو بھی ان کے ساتھ صلح رکھنے اور دوستی کا برتاؤ کرنے اور انصاف کے ساتھ پیش آنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ہماری اسلامی شرافت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سب سے بڑھ کر انسانی ہمدردی اور خوش اخلاقی برتیں، کج خلقی اور ظلم اور تنگ دلی مسلمان کی شان سے بعید ہے۔ مسلمان دنیا میں اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ حسن اخلاق اور شرافت اور نیکی کا بہترین نمونہ بنے اور اپنے اصولوں سے دلوں کو مسخر کرے۔