دین اور شریعت

تصوف

فقہ کا تعلق انسان کےظاہری عمل سے ہے، وہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ تم کو جیسا اور جس طرح حکم دیا گیا تھا اس کو تم بجالائے یا نہیں۔ اگر بجا لائے ہو تو فقہ کو اس سے کچھ بحث نہں کہ تمہارے دل کا کیا حال تھا۔ دل کے حال سے جو چیز بحث کرتی ہے اس کا نام تصوف ہے۔ مثلاً تم نماز پڑھتے ہو اس عبادت میں فقہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ تم نے ٹھیک سے وضو کیاہے، قبلہ رو کھڑے ہوئے ہو، نماز کے تمام ارکان ادا کیے ہیں، جو چیزیں نمازمیں پڑھی جاتی ہیں وہ سب پڑھ لی ہیں، اور جس وقت جتنی رکعتیں مقرر کی گئی ہیں، ٹھیک اسی وقت اتنی ہی رکعتیں پڑھی ہیں، جب تم نے یہ سب کردیا تو فقہ کی رو سے تمہاری نماز پوری ہوگئی۔ لیکن تصوف یہ دیکھتا ہے کہ اس عبادت میں تمہارے دل کا کیا حال رہا۔ تم خدا کی طرف متوجہ ہوئے یا نہیں؟ تمہارا دل دنیا کے خیالات سے پاک ہوا یا نہیں؟ تمہارے اندر نماز سے خدا کا خوف اور اس کے حاضر و ناظر ہونے کا یقین اور صرف اسی کی خوشنودی چاہنے کا جذبہ بھی پیدا ہوا یا نہیں؟ اس نماز نے تمہاری روح کو کس قدر پاک کیا؟ تمہارے اخلاق کہاں تک درست کیے؟ تم کو کس حد تک سچاّ اور پکاّ عملی مسلمان بنادیا ہے؟ یہ تمام باتیں جو نماز کے اصل مقصد سے تعلق رکھتی ہیں جس قدر کمال کے ساتھ حاصل ہوں گی تصوّف کی نظر میں تمہاری نماز اتنی ہی زیادہ کام ہوگی اور ان میں جتنا نقص رہے گا اسی لحاظ سے وہ تمہاری نماز کو ناقص قرار دے گا۔ اسی طرح شریعت کے جتنے احکام ہیں ان سب میں فقہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ تم کو جو حکم جس صورت میں دیا گیا تھا، اسی صورت میں تم اسے بجالائے یا نہیں۔ اور تصوّف یہ دیکھتا ہے کہ اس حکم پر عمل کرنے میں تمہارے اندر خلوص اور نیک نیتی اور سچی اطاعت کس قدر تھی۔ اس فرق کو تم ایک مثال سے اچھی طرح سمجھ سکتے ہو۔ جب کوئی شخص تم سے ملتا ہے تو تم اس پر دو حیثیتوں سے نظر ڈالتے ہو، ایک حیثیت تو یہ ہوتی ہے کہ وہ صحیح و تندرست ہے یا نہیں۔ اندھا، لنگڑا لولا تو نہیں ہے۔ خوبصورت ہے یا بدصورت، اچھے کپڑے پہنے ہوئے ہے یا میلا کچیلا ہے۔ دوسری حیثیت یہ ہوتی ہےکہ اس کے اخلاق کیسے ہیں، اس کی عادات و خصائل کا کیا حال ہے، اس عقل، سمجھ بوجھ کیسی ہے، وہ عالم ہے یا جاہل، نیک ہے یابد۔ ان میں سے پہلی نظر گویا فقہ کی ہے اور دوسری نظر گویا تصوّف کی ہے، دوستی کے لیے جب تم کسی شخص کو پسند کرنا چاہو گے تو اس کی شخصیت کے دونوں پہلوؤں کو دیکھوگے، تمہاری خواہش یہ ہوگی کہ اس کے ظاہر بھی اچھا ہو اور باطن بھی اچھا۔ اسی طرح اسلام میں بھی پسندیدہ زندگی وہی ہے جس میں شریعت کے احکام کی پابندی ظاہر کے اعتبار سے بھی صحیح ہو اور باطن کے اعتبار سے بھی۔ جس شخص کی ظاہری اطاعت درست ہے مگر باطن میں اطاعت کی روح نہیں ہے۔ اس کے عمل کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی آدمی خوبصورت ہو مگر مردہ ہو۔ اور جس شخص کے عمل میں تمام باطنی خوبیاں موجود ہوں، مگر ظاہری اطاعت درست نہ ہو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص بہت شریف اور نیک ہو مگر بدصورت اور اپاہج ہو۔ اس مثال سے تم کو فقہ اور تصوف کا باہمی تعلق بھی معلوم ہوگیا ہوگا۔ مگر افسوس ہے کہ بعد کے زمانوں میں علم اور اخلاق کے زوال سے جہاں اور بہت سی خرابیاں پیدا ہوئیں، تصوف کے پاک چشمے کو بھی گندہ کردیا گیا۔ لوگوں نے طرح طرح کے غیر اسلامی فلسفے گمراہ قوموں سے سیکھے اور ان کو تصوف کے نام سے اسلام میں داخل کردیا۔ عجیب عجیب قسم کے عقیدوں اور طریقوں پر تصوف کا نام چسپاں کیا۔ جن کی کوئی اصل قرآن اور حدیث میں نہیں ہے۔ پھر اس قسم کے لوگوں نے رفتہ رفتہ اپنے آپ کو شریعت کی پابندی سے بھی آزاد کرلیا۔وہ کہتے ہیں کہ تصوف کو شریعت سے کوئی واسطہ نہیں، یہ کوچہ ہی دوسرا ہے۔ صوفی کو قانون اور قاعدے کی پابندی سے کیا سروکار۔ اس قسم کی باتیں اکثر جاہل صوفیوں سے سننے میں آتی ہیں، مگر دراصل یہ بالکل غلط ہیں۔ اسلام میں کسی ایسے تصوف کی گنجائش نہیں ہے جو شریعت کے احکام سے بے تعلق ہو۔ کسی صوفی کو یہ حق نہیں کہ وہ نماز اور روزے اور حج اور زکوٰۃکی پابندی سے آزاد ہوجائے۔ کوئی صوفی ان قوانین کے خلاف عمل کرنے کا حق نہیں رکھتا جو معاشرت اور معیشت اور اخلاق اور معاملات اور حقوق و فرائض اور حدود ِ حلال و حرام کے متعلق خدا اور رسول نے بتائے ہیں۔کوئی ایسا شخص جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح پیروی نہ کرتا ہو اور آپ کے مقرر کیے ہوئے طریقہ کا پابند نہ ہو مسلمان صوفی کہلانے کا مستحق ہی نہیں ہے۔ تصوف تو درحقیقت خدا اور رسول کی سچی محبت بلکہ عشق کا نام ہے۔ اور عشق کا تقاضا یہ ہے کہ خدا کے احکام اور اس کے رسول کی پیروی سے بال برابر انحراف نہ کیا جائے۔ پس اسلامی تصوف شریعت سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ بلکہ شریعت کے احکام کو انتہائی خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ بجالانے اور اطاعت میں خدا کی محبت اور اس کے خوف کی روح بھردینے ہی کا نام تصوف ہے۔