دین اور شریعت
احکام شریعت معلوم کرنے کے ذرائع
شریعت ِ محمدی کے اصول اور احکام معلوم کرنے کے لیے ہمارے پاس دو ذریعے ہیں۔ ایک قرآن مجید، دوسرے حدیث، قرآن مجید کے متعلق تو تم جانتے ہو کہ وہ اللہ کا کلام ہے اور اس کا ہر لفظ اللہ کی طرف سے ہے۔ رہی حدیث، تو اس سے وہ روایتیں مراد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم تک پہنچی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی قرآن کی تشریح تھی۔ نبی ہونے کے بعد سے 23/ سال کی مدت تک آپ ہر وقت تعلیم اور ہدایت میں مشغول رہے اور اپنی زبان اور اپنے عمل سے لوگوں کو بتاتے رہے کہ اللہ کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ اس زبردست زندگی میں صحابی مرد اور صحابیہ عورتیں اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عزیز رشتہ دار اور آپ کی بیویاں سب کی سب آپ کی ہر بات غور سے سنتے تھے، ہر کام پر نگاہ رکھتے تھے، اور ہر معاملہ میں جو ان کو پیش آتا تھا، آپ سے شریعت کا حکم دریافت کرتے تھے۔ کبھی آپ فرماتے فلاں کام کرو اور فلاں کام نہ کرو، جو لوگ حاضر ہوتے وہ اس فرمان کو یاد کرلیتے تھے۔ اسی طرح کبھی آپ کوئی کام کسی خاص طریقے پر کرتے تھے، دیکھنے والے اس کو بھی یاد رکھتے تھے اور نہ دیکھنے والوں کو بیان کردیتے تھے کہ آپ نے فلاں کام فلاں طریقے پر کیا تھا۔ اسی طرح کبھی کوئی شخص آپ کے سامنے کوئی کام کرتا تو آپ یا تو اس پر خاموش رہتے یا پسندیدگی کا اظہار فرماتے یا منع کردیتے تھے، ان سب باتوں کو بھی لوگ محفوظ رکھتے تھے۔ ایسی جتنی باتیں صحابی مردوں اور صحابیہ عورتوں سے لوگوں نے سنیں، ان کو بعض نے حفظ کرلیا اور بعض نے لکھ لیا اور یہ بھی یاد کرلیا کہ یہ خبر ہم کو کس سے پہنچی ہے، پھر ان سب روایتوں کو رفتہ رفتہ کتابوں میں جمع کرلیا گیا۔ اس طرح حدیث کا ایک بڑا ذخیرہ فراہم ہوگیا، جس میں خصوصیت کے ساتھ امام مالک اور امام بخاری اور امام مسلم اور امام ترمذی اور امام ابوداؤد اور امام نسائی اور امام ابن ماجہ کی کتابیں بہت مستند خیال کی جاتی ہیں۔