عبادات

حج

چوتھا فرض حج ہے، یہ عمر میں صرف ایک مرتبہ ادا کرنا ضروری ہے۔ اور وہ بھی ان کےلیے جو مکہ معظمہ تک جانے کا خرچ برداشت کرسکتے ہوں۔ جہاں اب مکہ معظمہ آبات ہے یہاں اب سے ہزاروں برس پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک چھوٹا سا گھر اللہ کی عبادت کے لیے بنایا تھا۔ اللہ نے ان کے خلوص اور محبت کی یہ قدر فرمائی کہ اس کو اپنے گھر قرار دیا اور فرمایا کہ جس کو ہماری عبادت کرنی ہو وہ اسی گھر کی طرف رخ کرکے عبادت کرے اور فرمایا کہ ہر مسلمان خواہ دنیا کے کسی کونے میں ہو، بشرط استطاعت عمر میں کم از کم ایک مرتبہ اس گھر کی زیارت کے لیے آئےاور اسی محبت کے ساتھ ہمارے اس گھر کا طواف کرے جس کے ساتھ ہمارا پیارا بندہ ابراہیم طواف کرتا تھا۔پھر یہ بھی حکم دیا کہ جب ہمارے گھر کی طرف آؤ تو اپنے دلوں کو پاک کرو، نفسانی خواہشات کو روکو، خوں ریزی اور بدکاری اور بدزبانی سے بچو، اسی ادب و احترام اور عاجزی کے ساتھ آؤ جس کے ساتھ تو کو اپنے مالک کے دربار میں حاضر ہونا چاہیے۔یہ سمجھو کہ ہم اس بادشاہ کی خدمت میں جارہے ہیں جو زمین اور آسمان کا حاکم ہے اور جس کے مقابلہ میں سب انسان فقیر ہیں۔ اس عاجزی کے ساتھ جب آؤگے اور خلوص دل کے ساتھ ہماری عبادت کروگے تو ہم تمہیں اپنی نوازشوں سے مالا مال کردیں گے۔ ایک لحاظ سے دیکھو تو حج سب سے بڑی عبادت ہے۔ خدا کی محبت اگر انسان کے دل میں نہ ہو تو وہ اپنے کاروبار چھوڑ کر اپنے عزیزوں اور دوستوں سے جدا ہوکر اتنے لمبے سفر کی زحمت ہی کیوں کرے گا، اس لیے حج کا ارادہ خود ہی محبت اور اخلاص کی دلیل ہے۔ پھر جب انسان اس سفر کے لیے نکلتا ہے تو اس کی کیفیت عام سفروں جیسی نہیں ہوتی۔ اس سفر میں زیادہ تر اس کی توجہ خدا کی طرف رہتی ہے۔ اس کے دل میں شوق اور ولولہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جوں جوں کعبہ قریب آتا جاتا ہے ، محبت کی آگ اور زیادہ بھڑکتی ہے۔ گناہوں اور نافرمانیوں سے دل خود بخود نفرت کرتا ہے، پچھلے گناہوں پر شرمندگی ہوتی ہے، آئندہ کے لیے خدا سے دعا کرتا ہے کہ فرماں برداری کی توفیق بخشے، عبادت اور ذکر الہیٰ میں مزہ آنے لگتا ہے، سجدے لمبے لمبے ہونے لگتے ہیں اور دیر تک سراٹھانے کو جی نہیں چاہتا۔ قرآن پڑھتا ہے تو اس میں کچھ لطف ہی اور آتا ہے۔ روزہ رکھتا ہے تو اس کی حلاوت ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ پھر جب وہ حجاز کی سرزمین پر قدم رکھتا ہے تو اسلام کی ساری ابتدائی تاریخ اس کی آنکھوں کے سامنے پھرجاتی ہے۔ چپے چپے پر خدا سے محبت کرنے والوں اور اس کے نام پر جان نثار کرنے والوں کے آثار دکھائی دیتے ہیں، وہاں کی ریت کا ایک ایک ذرہ اسلام کی عظمت پر گواہی دیتا ہے اور وہاں کی ہر کنکری پکارتی ہے یہ ہے وہ سرزمین جہاں سے خدا کا کلمہ بلند ہوا۔اس طرح مسلمان کا دل خدا کے عشق اور اسلام کی محبت سے بھر جاتا ہے اور وہاں سے وہ ایسا گہرا اثر لے کر آتا ہے جو مرتے دم تک دل سے محو نہیں ہوتا۔ دین کے ساتھ اللہ نے حج میں دنیا کے بھی بے شمار فائدے رکھے ہیں۔ حج کی وجہ سے مکہ دنیا کے مسلمانوں کا مرکز بنادیا گیا ہے۔ زمین کے ہر کونے سے اللہ کا نام لینے والے ایک زمانے میں وہاں جمع ہوجاتے ہیں۔ ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔ آپس میں اسلامی محبت قائم ہوتی ہے۔ یہ نقش دلوں میں بیٹھ جاتا ہے کہ مسلمان خواہ کسی ملک اور کسی نسل کے ہوں سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ایک ہی قوم ہیں۔ اس بنا پر حج ایک طرف خدا کی عبادت ہے تو اس کے ساتھ ہی وہ تمام دنیاکے مسلمانوں کی کانفرنس بھی ہے اور مسلمانوں کی عالم گیر برادری میں اتحاد پیدا کرنے کاسب سے بڑا ذریعہ بھی۔