ایمان مفصل

عقیدۂ آخرت کی صداقت

عقیدۂ آخرت کی ضرورت اور اس کی منفعت تم کو معلوم ہوگئی۔ اب ہم مختصر طور پر تمہیں یہ بتاتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عقیدہ آخرت کے متعلق بیان فرمایا ہے، عقل کی رو سے بھی وہی صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اگرچہ اس عقیدے پر ہمارا ایمان صرف رسول خداکے اعتماد پر ہے، عقل پر اس کا مدار نہیں ہے۔ لیکن جب ہم غور فکر سے کام لیتے ہیں تو ہم کو آخرت کے متعلق تمام عقیدوں میں سب سے زیادہ یہی عقیدہ مطابق عقل معلوم ہوتا ہے۔ آخرت کے متعلق دنیا میں تین مختلف عقیدے پائے جاتے ہیں: ایک گروہ کہتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد فنا ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد کوئی زندگی نہیں، یہ دہریوں کا خیال ہے جو سائنسداں ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کا نتیجہ بھگتنے کے لیے بار بار اسی دنیا میں جنم لیتا ہے۔ اگر اس کے اعمال برے ہیں تو وہ دوسرے جنم میں کوئی جانور مثلاً کتا یا بلی بن کر آئے گا، یا کوئی درخت بن کر پیدا ہوگا یا کسی بدتر درجہ کے انسان کی شکل اختیار کرے گا۔ اور اگر اچھے اعمال ہیں تو زیادہ زیادہ اونچے درجے پر پہنچے گا۔ یہ خیال محض خام مذہبوں میں پایا جاتا ہے۔ اب پہلے گروہ کے عقیدے پر غور کرو، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مرنے کے بعد کسی کو زندہ ہوتے ہم نے نہیں دیکھا۔ ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ جو مرتا ہے وہ مٹی میں مل جاتا ہے۔ لہذا مرنے کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ مگر غور کرو کیا یہ کوئی دلیل ہے؟ مرنے کے بعد تم نے کسی کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا تو تم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہو کہ ” ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کیا ہوگا”۔ اس سے آگے بڑھ کر تم یہ دعوی جو کرتے ہو کہ ” ہم جانتے ہیں کہ مرنے کےبعد کچھ نہ ہوگا”۔ اس کا تمہارے پاس کیا ثبوت ہے؟ ایک گنوار نے اگر ہوائی جہاز نہیں دیکھا تو وہ کہہ سکتا ہے کہ “مجھے معلوم نہیں کہ ہوائی جہاز کیا چیز ہے”۔ لیکن جب وہ کہے گا کہ ” میں جانتا ہوں ، ہوائی جہاز کوئی چیز نہیں ہے”۔ تو عقلمند اس کو احمق کہیں گے۔ اس لیے کہ اس کا کسی چیز کر نہ دیکھنا یہ معنی نہیں رکھتا کہ وہ کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ ایک کیا، اگر ساری دنیاکے لوگوں نے بھی کسی چیز کو نہ دیکھاہو تو یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ نہیں ہے یا نہیں ہوسکتی۔ اس کےبعد دوسرے عقیدے کو لیجیے، اس عقیدے کی رو سے ایک شخص جو اس وقت انسان ہے وہ اس لیے انسان ہوگیا کہ جب وہ جانور تھا تو اس نے اچھے عمل کیےتھے۔ اور ایک جانور جو اس وقت جانور ہے وہ اس لیے جانور ہوگیا کہ انسان کی جون میں اس نے برے عمل کیے تھے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ انسان اور حیوان اور درخت ہونا سب دراصل پہلے جنم کے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پہلے کیا چیز تھی؟ اگر کہتے ہو کہ پہلے انسان تھا تو ماننا پڑے گا کہ اس سے پہلے حیوان یا درخت ہو، ورنہ پوچھا جائے کہ انسان کا قالب اس کو کس اچھے عمل کے بدلے میں ملا۔ اگر کہتے ہو کہ حیوان تھا یا درخت تھا تو، ماننا پڑے گا کہ اس سے پہلے انسان ہو، ورنہ سوال ہوگا کہ درخت یا حیوان کا قالب اس کو کس برے عمل کی سزا میں ملا؟ غرض یہ ہے کہ اس عقیدے کے ماننے والے مخلوقات کی ابتدا کسی جون سے بھی قرار نہیں دے سکتے، کیونکہ ہر جون سے پہلے ایک جون ہونی ضروری ہے تاکہ بعد والی جون کو پہلی جون کے عمل کا نتیجہ قرار دیا جائے ۔ یہ بات صریح عقل کے خلاف ہے۔ اب تیسرے عقیدے کو لو۔ اس مین سب سے پہلے یہ بیان کیا گیا ہے کہ “ایک دن قیامت آئے گی اور خدا اپنے کارخانے کو توڑ پھوڑ کر نئے سرے سے ایک دوسرا زیادہ اعلی درجہ کا پائدار کارخانہ بنائے گا۔ یہ ایسی بات ہے کہ جس کے صحیح ہونےمیں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ دنیا کے اس کارخانے پر جتنا غور کیا جاتا ہے اتنا ہی زیادہ اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ یہ دائمی کارخانہ نہیں ہے۔ کیونکہ جتنی قوتیں کام کررہی ہیں وہ سب محدود ہوچکے ہیں کہ ایک دن سورج ٹھنڈا اور بے نور ہوجائے گا، سیارے ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے اور دنیا تباہ ہوجائے گی۔ دوسری بات یہ بیان کی گئی ہے کہ “انسان کو دوبارہ زندگی بخشی جائے گی” کیا یہ ممکن ہے؟ اگر ناممکن ہے تو اب جو زندگی انسان کو حاصل ہے یہ کیسے ممکن ہوگئی؟ ظاہر ہے کہ جس خدا نے اس دنیا میں انسان کو پیدا کیا ہے وہ دوسری دنیا میں بھی پیدا کرسکتا ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ “انسان نے اس دنیا کی زندگی میں جتنے عمل کیے ہیں ان سب کا ریکارڈ محفوظ ہے اور وہ حشر کے دن پیش ہوگا”۔ یہ ایسی چیز ہے جس کا ثبوت آج ہم کو اس دنیامیں بھی مل رہا ہے۔ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ جو آواز ہمارے منہ سے نکلتی ہے وہ ہوا میں تھوڑی سی لہر پیدا کرکے فنا ہوجاتی ہے۔ مگر اب معلوم ہوا کہ ہر آواز اپنے گرد و پیش کی چیزوں پر اپنا نقش چھوڑ جاتی ہے جس کو دوبارہ پیدا کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ گراموفون کا ریکارڈ اسی اصول پر بنا ہے۔ اسی سے یہ معلوم ہوا کہ ہماری ہر حرکت کا ریکارڈ ان تمام چیزوں پر منقوش ہورہا ہے جن کے ساتھ اس حرکت کا کسی طورپر تصادم ہوتا ہے۔ جب حال یہ ہے تو یہ بات بالکل یقینی معلوم ہوتی ہے کہ ہمارا پورا نامۂ اعمال محفوظ ہے اور دوبارہ اس کو حاضر کیا جاسکتا ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کہ “خدا حشر کے دن عدالت کرے گا اور حق کے ساتھ ہمارے اچھے اور برے اعمال کی جزا و سزا دے گا”۔ اس کو کون ناممکن کہہ سکتا ہے؟ اس میں کون سی بات خلاف عقل ہے؟ عقل تو خود یہ چاہتی ہے کہ کبھی خدا کی عدالت ہو اور ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلے کیے جائیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص نیکی کرتا ہے اور اس کاکوئی فائدہ اس کو دنیا میں حاصل نہیں ہوتا۔ایک شخص بدی کرتا ہے اور اس سے کوئی نقصان اس کو نہیں پہنچتا۔ یہی نہیں بلکہ ہم ہزاروں مثالیں ایسی دیکھتے ہیں کہ ایک شخص نے نیکی کی اور اسے الٹا نقصان ہوا۔ ایک دوسرے شحص نے بدی کی اور وہ خوب مزے کرتا رہا۔ اس قسم کے واقعات کو دیکھ کر عقل مطالبہ کرتی ہے کہ کہیں نہ کہیں نیک آدمی کو نیکی کا اور شریر آدمی کو شرارت کا پھل ملنا چاہیے۔ آخری چیز جنت اور دوزخ ہے، ان کا وجود بھی ناممکن نہیں، اگر سورج اور چاند اور مریخ اور زمین کو خدا بنا سکتا ہے تو آخر جنت اور دوزخ نہ بناسکنے کی کیا وجہ ہے؟ جب وہ عدالت کرے گا اور لوگوں کو جزا و سزا دے گا تو جزا پانے والوں کے لیے کوئی عزت اور لطف و مسرت کا مقام اور سزا پانے والوں کے لیے کوئی ذلت اور رنج اور تکلیف کا مقام بھی ہونا چاہیے۔ ان باتوں پر جب تم غور کروگے تو تمہاری عقل خود کہدے گی کہ انسان کے انجام کے متعلق جتنے عقیدے دنیامیں پائے جاتے ہیں ان میں سب سے زیادہ دل کو لگتا ہوا عقیدہ یہی ہے۔ اور اس میں کوئی چیز خلاف یا ناممکن نہیں ہے۔ پھر جب ایسی ایک بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسے سچے نبی نے بیان کی ہے اور اس میں سراسر ہماری بھلائی ہے، تو عقلمندی یہ ہے کہ اس پر یقین کیاجائے، نہ یہ کہ خواہ مخواہ بلا کسی دلیل کے شک کیا جائے۔