نبوت

پیغمبر کی پہچان

جس طرح دوسرے علوم و فنون کے باکمال لوگ ایک خاص قسم کا ذہن اور ایک خاص قسم کی طبیعت لے کر پیدا ہوتے ہیں، اسی طرح پیغمبر بھی ایک خاص قسم کی طبیعت لے کر آتے ہیں۔ ایک پیدائشی شاعر کا کلام سنتے ہی ہم کو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ شاعری کی خاص قابلیت لے کر پیدا ہوا ہے، کیونکہ دوسرے لوگ خواہ کتنی ہی کوشش کریں ویسا شعر نہیں کہہ سکتے۔ اسی طرح ایک پیدائشی مقرر، ایک پیدائشی انشاپرداز، ایک پیدائشی موجد، ایک پیدائشی لیڈر بھی اپنے کارناموں سے صاف پہچان لیا جاتا ہے، کیونکہ ان میں سے ہر ایک اپنے کام میں غیر معمولی قابلیت کا اظہارکرتا ہے جو دوسروں میں نہیں ہوتی۔ ایسا ہی حال پیغمبر کا بھی ہے۔ اس کے ذہن میں وہ باتیں آتی ہیں جو دوسرے لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتیں۔وہ ایسے مضامین بیان کرتا ہے جو اس کے سوا کوئی دوسرا انسان بیان نہیں کرسکتا۔ اس کی نظر ایسی باریک باتوں تک خودبخود پہنچ جاتی ہے ، جن تک دوسروں کی نظر برسوں کے غورفکر کے بعد بھی نہیں پہنچتی۔ وہ جو کچھ کہتا ہے ہماری عقل اس کو قبول کرتی ہے، ہمارا دل گواہی دیتا ہے کہ ضرور ایسا ہی ہونا چاہیے۔ دنیا کے تجربات اور کائنا ت کے مشاہدوں سے اس کی ایک ایک بات سچی ثابت ہوتی ہے۔ لیکن اگر ہم خود ویسی بات کہنا چاہیں تو نہیں کہہ سکتے۔ پھر اس کی طبیعت ایسی پاکیزہ ہوتی ہے کہ وہ ہر معاملہ میں سچا، سیدھا اور شریفانہ طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ کبھی کوئی غلط بات نہیں کہتا، کوئی برا کام نہیں کرتا، ہمیشہ نیکی اور صداقت کی تعلیم دیتا ہے اور جو کچھ دوسروں سے کہتا ہے اس پر خود عمل کرکے دیکھاتا ہے۔ اس کی زندگی میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ وہ جو کچھ کہے اس کے خلاف عمل کرے۔ اس کے قول یا عمل میں کوئی ذاتی غرض نہیں ہوتی۔ وہ دوسروں کے بھلے کی خاطر خود نقصان اٹھاتا ہے اور اپنے بھلے کے لیے کسی کا نقصان نہیں کرتا۔ اس کی ساری زندگی سچائی، شرافت، پاک طینتی، بلند خیالی، اور اعلی درجہ کی انسانیت کا نمونہ ہوتی ہے جس میں ڈھونڈنے سے بھی کوئی عیب نظر نہیں آتا۔ انہی چیزوں کو دیکھ کر صاف پہچان لیا جاتا ہے کہ یہ شخص خدا کا سچا پیغمبر ہے۔