74. Al-Muddaththirالمدثر
The Cloaked One · Meccan · 56 ayahs · 2 rukus · محترمہ رفعت اعجاز
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
یٰۤاَیُّهَا الْمُدَّثِّرُۙ﴿1﴾
اے کپڑے میں لپٹے ہوئےقُمْ فَاَنْذِرْ۪ۙ﴿2﴾
اٹھو اور ہدایت کر دووَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ۪ۙ﴿3﴾
اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرووَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْ۪ۙ﴿4﴾
اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ۪ۙ﴿5﴾
اور ناپاکی سے دور رہو۔وَ لَا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ۪ۙ﴿6﴾
اور اس نیت سے احسان نہ کرو کہ اس سے زیادہ کے طالب ہووَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ﴿7﴾
اور اپنے رب کے لیے صبر کرو۔فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ﴿8﴾
جب صور پھونکا جائے گا۔فَذٰلِكَ یَوْمَئِذٍ یَّوْمٌ عَسِیْرٌۙ﴿9﴾
وہ دن مشکل کا دن ہوگاعَلَى الْكٰفِرِیْنَ غَیْرُ یَسِیْرٍ﴿10﴾
یعنی کافروں پر آسان نہ ہوگاذَرْنِیْ وَ مَنْ خَلَقْتُ وَحِیْدًاۙ﴿11﴾
ہمیں اس شخص سے سمجھ لینے دو جس کو ہم نے اکیلا پیدا کیاوَّ جَعَلْتُ لَهٗ مَالًا مَّمْدُوْدًاۙ﴿12﴾
اور مال کثیر دیا۔وَّ بَنِیْنَ شُهُوْدًاۙ﴿13﴾
اور ہر وقت اس کے پاس حاضر رہنے والے بیٹے دئیے۔وَّ مَهَّدْتُّ لَهٗ تَمْهِیْدًاۙ﴿14﴾
اور ہر طرح کے سامان میں وسعت دی۔ثُمَّ یَطْمَعُ اَنْ اَزِیْدَۗۙ﴿15﴾
ابھی خواہش رکھتا ہے کہ اور زیادہ دیں۔كَلَّا١ؕ اِنَّهٗ كَانَ لِاٰیٰتِنَا عَنِیْدًاؕ﴿16﴾
ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔۔ یہ ہماری آیتوں کا دشمن رہا ہے۔سَاُرْهِقُهٗ صَعُوْدًاؕ﴿17﴾
ہم اسے صعود پر چڑھائیں گےاِنَّهٗ فَكَّرَ وَ قَدَّرَۙ﴿18﴾
اس نے فکر کیا اور تجویز کی۔فَقُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ﴿19﴾
یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی۔ثُمَّ قُتِلَ كَیْفَ قَدَّرَۙ﴿20﴾
پھر یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کیثُمَّ نَظَرَۙ﴿21﴾
پھر تامل کیاثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَۙ﴿22﴾
پھر تیوڑی چڑھائی اور منہ بگاڑ لیاثُمَّ اَدْبَرَ وَ اسْتَكْبَرَۙ﴿23﴾
پھر پشت پھیر کر چلا اور قبول حق سے غرور کیافَقَالَ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُۙ﴿24﴾
پھر کہنے لگا کہ یہ تو جادو ہے جو اگلوں سے چلا آرہا ہےاِنْ هٰذَاۤ اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِؕ﴿25﴾
پھر بولایہ خدا کا کلام نہیں بلکہ بشر کا کلام ہے۔سَاُصْلِیْهِ سَقَرَ﴿26﴾
ہم عنقریب اس کو آگ میں ڈالیں گےوَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُؕ﴿27﴾
اور تم کیا سمجھے کہ آگ کیا ہےلَا تُبْقِیْ وَ لَا تَذَرُۚ﴿28﴾
(وہ آگ ہے) کہ نہ باقی رکھے اور نہ چھوڑےلَوَّاحَةٌ لِّلْبَشَرِۚۖ﴿29﴾
اور بدن کو جھلس کر سیاہ کردے گیعَلَیْهَا تِسْعَةَ عَشَرَؕ﴿30﴾
اس پر داروغہ ہیںوَ مَا جَعَلْنَاۤ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَلٰٓئِكَةً١۪ وَّ مَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ اِلَّا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۙ لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ یَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِیْمَانًا وَّ لَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ۙ وَ لِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْكٰفِرُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ مَا هِیَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْبَشَرِ۠ع﴿31﴾
اور ہم نے دوزخ کے داروغہ فرشتے بنائے ہیں اور ان کا شمار کافروں کی آزمائش کے لیے مقرر کیا ہے اور اس لیے کہ اہل کتاب یقین کریں اور مومنوں کا یقین اور زیادہ بڑھے ”اہل کتاب اور مومن شک نہ لائیں۔ اور اس لیے کہ جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے اور جو کافر ہیں کہیں کہ اس مثال کے بیان کرنے سے اللہ کا کیا مقصد ہے۔ اسی طرح اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور تمہارے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یہ بنی آدم کے لیے نصیحت ہے۔كَلَّا وَ الْقَمَرِۙ﴿32﴾
ہاں ہاں ہمیں چاند کی قسموَ الَّیْلِ اِذْ اَدْبَرَۙ﴿33﴾
اور رات کو جب پیٹھ پھیرنے لگےوَ الصُّبْحِ اِذَاۤ اَسْفَرَۙ﴿34﴾
اور صبح کی جب روشن ہواِنَّهَا لَاِحْدَى الْكُبَرِۙ﴿35﴾
کہ وہ آگ ایک بہت بڑی آفت ہےنَذِیْرًا لِّلْبَشَرِۙ﴿36﴾
اور بنیآدم کے لیے خوف کا موجب ہےلِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّتَقَدَّمَ اَوْ یَتَاَخَّرَؕ﴿37﴾
جو کوئی تم میں سے آگے بڑھے یا پیچھے رہےكُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ﴿38﴾
ہر ایک اپنے کئے ہوئے کاموں میں پھنسا ہےاِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ﴿39﴾
مگر داہنی طرف والے نیک لوگفِیْ جَنّٰتٍ١ۛؕ۫ یَتَسَآءَلُوْنَۙ﴿40﴾
کہ وہ بہشت کے باغوں میں ہوں گے اور پوچھتے ہوں گے۔عَنِ الْمُجْرِمِیْنَۙ﴿41﴾
یعنی آگ میں جلنے والے گنہگاروں سےمَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ﴿42﴾
کہ تم دوزخ میں کیوں پڑے ہو ؟قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ﴿43﴾
وہ جواب دیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھےوَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ﴿44﴾
اور نہ فقیروں کو کھانا کھلاتے تھےوَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَۙ﴿45﴾
اور اہل باطل کے ساتھ مل کر حق سے انکار کرتے تھےوَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِۙ﴿46﴾
اور روز جزا کو جھٹلاتے تھےحَتّٰۤى اَتٰىنَا الْیَقِیْنُؕ﴿47﴾
یہاں تک کہ ہمیں موت آگئی۔فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَؕ﴿48﴾
تو اس حال میں سفارش کرنے والوں کی سفارش ان کے حق میں کچھ فائدہ نہ دے گیفَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِیْنَۙ﴿49﴾
ان کو کیا ہوا ہے کہ نصیحت سے منہ موڑے ہوئے ہیںكَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ﴿50﴾
گویا گدھے ہیں کہ بدک جاتے ہیںفَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ﴿51﴾
یعنی شیر سے ڈر کر بھاگ جاتے ہیںبَلْ یُرِیْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ﴿52﴾
اصل میں ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی ہوئی کتاب آئےكَلَّا١ؕ بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ﴿53﴾
ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کو آخرت کا خوف ہی نہیںكَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌۚ﴿54﴾
کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہےفَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗؕ﴿55﴾
تو جو چاہے اسے یاد رکھے۔وَ مَا یَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ۠ع﴿56﴾
اور یاد بھی تبھی رکھیں گے جب اللہ چاہے۔ وہی ڈرنے کے لائق اور بخشش کا مالک ہے