72. Al-Jinnالجن
The Jinn · Meccan · 28 ayahs · 2 rukus · محترمہ رفعت اعجاز
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُوْۤا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاۙ﴿1﴾
(اے پیغمبر !) لوگوں سے کہہ دو کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے اس کتاب کو سنا تو کہنے لگے کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنایَّهْدِیْۤ اِلَى الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِهٖ١ؕ وَ لَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَاۤ اَحَدًاۙ﴿2﴾
جو بھلائی کا رستہ بتاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے اور ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گےوَّ اَنَّهٗ تَعٰلٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّ لَا وَلَدًاۙ﴿3﴾
اور یہ کہ ہمارے رب کی عظمت، شان بہت بڑی ہے وہ نہ بیوی رکھتا ہے نہ اولاد۔وَّ اَنَّهٗ كَانَ یَقُوْلُ سَفِیْهُنَا عَلَى اللّٰهِ شَطَطًاۙ﴿4﴾
اور یہ کہ ہم میں سے بعض بیوقوف اللہ کے بارے میں جھوٹ افترا کرتے ہیںوَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلَى اللّٰهِ كَذِبًاۙ﴿5﴾
اور ہمارا یہ خیال تھا کہ انسان اور جن اللہ کی نسبت جھوٹ نہیں بولتےوَّ اَنَّهٗ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُمْ رَهَقًاۙ﴿6﴾
اور یہ کہ بعض بنی آدم بعض جنات کی پناہ پکڑا کرتے تھے اس سے ان کی سرکشی اور بڑھ گئی۔وَّ اَنَّهُمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ اَحَدًاۙ﴿7﴾
اور یہ کہ ان کا بھی یہی اعتقاد تھا جس طرح تمہارا تھا کہ اللہ کسی کو نہیں جلائے گا۔وَّ اَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّ شُهُبًاۙ﴿8﴾
اور یہ کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو ہم نے اس کو مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہوا پایاوَّ اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ١ؕ فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ یَجِدْ لَهٗ شِهَابًا رَّصَدًاۙ﴿9﴾
اور یہ کہ پہلے ہم وہاں بہت سے مقامات پر خبریں سننے بیٹھا کرتے تھے اب کوئی سننا چاہے تو اپنے لئے انگارا تیار پائے۔وَّ اَنَّا لَا نَدْرِیْۤ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًاۙ﴿10﴾
اور یہ کہ ہمیں معلوم نہیں کہ اس سے اہل زمین کے حق میں برائی مقصود ہے یا ان کے رب نے ان کے لئے بھلائی کا ارادہ فرمایا ہےوَّ اَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنَّا دُوْنَ ذٰلِكَ١ؕ كُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًاۙ﴿11﴾
اور یہ کہ ہم میں کوئی نیک ہیں اور کوئی اور طرح کے ہمارے کئی طرح کے مذہب ہیںوَّ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِی الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًاۙ﴿12﴾
اور یہ کہ ہم نے یقین کرلیا ہے کہ ہم زمین میں خواہ کہیـں ہوں اللہ کو ہرا نہیں سکتے اور نہ بھاگ کر اس کو تھکا سکتے ہیںوَّ اَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدٰۤى اٰمَنَّا بِهٖ١ؕ فَمَنْ یُّؤْمِنْۢ بِرَبِّهٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّ لَا رَهَقًاۙ﴿13﴾
اور جب ہم نے ہدایت کی کتاب سنی اس پر ایمان لے آئے تو جو شخص اپنے رب پر ایمان لاتا ہے اس کو نہ نقصان کا خوف ہے، نہ ظلم کاوَّ اَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَ مِنَّا الْقٰسِطُوْنَ١ؕ فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا﴿14﴾
اور یہ کہ ہم میں بعض فرمانبردار ہیں اور بعض نافرمان گناہ گار ہیں تو جو فرمانبردار ہوئے وہ سیدھے رستے پر چلے۔وَ اَمَّا الْقٰسِطُوْنَ فَكَانُوْا لِجَهَنَّمَ حَطَبًاۙ﴿15﴾
اور جو گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنےوَّ اَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَى الطَّرِیْقَةِ لَاَسْقَیْنٰهُمْ مَّآءً غَدَقًاۙ﴿16﴾
(اور اے پیغمبر ﷺ ! یہ بھی ان سے کہہ دو) کہ اگر یہ لوگ سیدھے رستے پر رہتے تو ہم ان کے پینے کو بہت سا پانی دیتےلِّنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهٖ یَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًاۙ﴿17﴾
تا کہ اس سے ان کی آزمائش کریں اور جو شخص اپنے رب کی یاد سے منہ پھیرے گا وہ اس کو سخت عذاب میں داخل کرے گاوَّ اَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰهِ فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًاۙ﴿18﴾
اور یہ کہ مسجدیں خاص اللہ کی ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی اور کی عبادت نہ کرووَّ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ یَدْعُوْهُ كَادُوْا یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِ لِبَدًا٢ؕ۠ع﴿19﴾
اور جب اللہ کے بندے (محمد ﷺ اس کی عبادت کو کھڑے ہوئے تو کافر ان کے گرد ہجوم کرلینے کو تھےقُلْ اِنَّمَاۤ اَدْعُوْا رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِهٖۤ اَحَدًا﴿20﴾
کہہ دو کہ میں تو اپنے رب ہی کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کو اس کا شریک نہیں بناتاقُلْ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا﴿21﴾
یہ بھی کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نفع اور نقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتاقُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللّٰهِ اَحَدٌ١ۙ۬ وَّ لَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًاۙ﴿22﴾
یہ بھی کہہ دو کہ اللہ کے عذاب سے مجھے کوئی بچا نہیں سکتا اور میں اس کے سوا کہیں پناہ کی جگہ نہیں دیکھتااِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِسٰلٰتِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاِنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ﴿23﴾
ہاں اللہ کی طرف سے احکام کا اور اس کے پیغاموں کا پہنچا دینا ہی میرے ذمہ ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے پیغمبر کی نافرمانی کرے گا تو ایسوں کے لیے جہنم کی آگ ہے ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّ اَقَلُّ عَدَدًا﴿24﴾
یہاں تک کہ جب یہ لوگ وہ دن دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ مددگار کس کے کمزور اور شمار کن کا تھوڑا ہےقُلْ اِنْ اَدْرِیْۤ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَهٗ رَبِّیْۤ اَمَدًا﴿25﴾
کہہ دو کہ جس دن کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے میں نہیں جانتا کہ وہ عنقریب آنے والا ہے یا میرے رب نے اس کی مدت دراز کردی ہےعٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ﴿26﴾
وہی غیب کی بات جاننے والا ہے اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا۔اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ یَسْلُكُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًاۙ﴿27﴾
ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے تو اس کو غیب کی باتیں بتا دیتا ہے اس کے آگے اور اس کے پیچھے نگہبان مقرر کردیتا ہےلِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَیْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَیْءٍ عَدَدًا۠ع﴿28﴾
تا کہ معلوم کرے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغام پہنچا دئیے ہیں۔ اور یوں تو اس نے ان کی سب چیزوں کو ہر طرف سے قابو کر رکھا ہے اور ایک ایک چیز گن رکھی ہے