70. Al-Ma'aarijالمعارج
The Ascending Stairways · Meccan · 44 ayahs · 2 rukus · محترمہ رفعت اعجاز
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سَاَلَ سَآئِلٌۢ بِعَذَابٍ وَّاقِعٍۙ﴿1﴾
ایک مانگنے والے نے عذاب طلب کیا جو نازل ہو کر رہے گا۔لِّلْكٰفِرِیْنَ لَیْسَ لَهٗ دَافِعٌۙ﴿2﴾
یعنی کافروں پر اور کوئی اس کو ٹال نہ سکے گا۔مِّنَ اللّٰهِ ذِی الْمَعَارِجِؕ﴿3﴾
اور اللہ صاحب درجات کی طرف سے (نازل ہوگا)۔تَعْرُجُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ الرُّوْحُ اِلَیْهِ فِیْ یَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗ خَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَةٍۚ﴿4﴾
جس کی طرف روح الامین اور فرشتے چڑھتے ہیں اور اس روز (نازل ہوگا) جس کا اندازہ پچاس ہزار برس کا ہوگافَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا﴿5﴾
تو تم کفار کی باتوں کو حوصلے کے ساتھ برداشت کرتے رہواِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ﴿6﴾
وہ ان لوگوں کی نگاہوں میں دور ہےوَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًاؕ﴿7﴾
اور ہماری نظر میں قریبیَوْمَ تَكُوْنُ السَّمَآءُ كَالْمُهْلِۙ﴿8﴾
جس دن آسمان ایسا ہوجائے گا جیسے پگھلا ہو تانبا۔وَ تَكُوْنُ الْجِبَالُ كَالْعِهْنِۙ﴿9﴾
اور پہاڑ ایسے جیسے دھنکی ہوئی رنگین اونوَ لَا یَسْئَلُ حَمِیْمٌ حَمِیْمًاۚۖ﴿10﴾
اور کوئی دوست کسی کا پُر سان نہ ہوگایُّبَصَّرُوْنَهُمْ١ؕ یَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمِئِذٍۭ بِبَنِیْهِۙ﴿11﴾
حالانکہ ایک دوسرے کو سامنے دیکھ رہے ہوں گے اس روز گنہگار خواہش کرے گا کہ کسی طرح اس دن کے عذاب کے بدلے میں سب کچھ دیدے یعنی، اپنے بیٹے۔وَ صَاحِبَتِهٖ وَ اَخِیْهِۙ﴿12﴾
اور اپنی بیوی اور اپنے بھائی۔وَ فَصِیْلَتِهِ الَّتِیْ تُئْوِیْهِۙ﴿13﴾
اور اپنا خاندان جس میں وہ رہتا تھاوَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۙ ثُمَّ یُنْجِیْهِۙ﴿14﴾
اور جتنے آدمی زمین پر ہیں غرض سب کچھ دیدے اور خود کو عذاب سے چھڑالےكَلَّا١ؕ اِنَّهَا لَظٰىۙ﴿15﴾
لیکن ایسا ہرگز نہ ہوگا وہ بھڑکتی ہوئی آگ ہےنَزَّاعَةً لِّلشَّوٰىۚۖ﴿16﴾
کھال ادھیڑ ڈالنے والی۔تَدْعُوْا مَنْ اَدْبَرَ وَ تَوَلّٰىۙ﴿17﴾
ان لوگوں کو اپنی طرف بلائے گی جنہوں نے دین حق سے اعراض کیا اور منہ پھیرلیاوَ جَمَعَ فَاَوْعٰى﴿18﴾
مال جمع کیا اور بند کر رکھااِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ﴿19﴾
کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہےاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ﴿20﴾
جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو گھبرا اٹھتا ہےوَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ﴿21﴾
اور جب آسائش ملتی ہے تو بخیل بن جاتا ہےاِلَّا الْمُصَلِّیْنَۙ﴿22﴾
مگر نماز گزار۔الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآئِمُوْنَ۪ۙ﴿23﴾
جو باقاعدہ نماز پڑھتے ہیںوَ الَّذِیْنَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُوْمٌ۪ۙ﴿24﴾
اور جن کے مال میں حصہ مقرر ہےلِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ۪ۙ﴿25﴾
یعنی مانگنے والے اور نہ مانگنے والے کاوَ الَّذِیْنَ یُصَدِّقُوْنَ بِیَوْمِ الدِّیْنِ۪ۙ﴿26﴾
اور جو روز جزا کو سچ سمجھتے ہیںوَ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ عَذَابِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۚ﴿27﴾
اور جو اپنے رب کے عذاب سے خوف رکھتے ہیںاِنَّ عَذَابَ رَبِّهِمْ غَیْرُ مَاْمُوْنٍ﴿28﴾
) بیشک ان کے رب کا عذاب ہے ہی ایسا کہ اس سے بےخوف نہ ہوا جائےوَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ﴿29﴾
اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیںاِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ﴿30﴾
مگر اپنی بیویوں یا لونڈیوں سے کہ ان کے پاس جانے پر انہیں کچھ ملامت نہیںفَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ﴿31﴾
اور جو لوگ ان کے سوا اور کے خواستگار ہوں وہ حد سے نکل جانے والے ہیںوَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَ۪ۙ﴿32﴾
اور جو اپنی امانتوں اور وعدوں کا پاس رکھتے ہیںوَ الَّذِیْنَ هُمْ بِشَهٰدٰتِهِمْ قَآئِمُوْنَ۪ۙ﴿33﴾
اور جو اپنی گواہیوں پر قائم رہتے ہیںوَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَؕ﴿34﴾
اور جو اپنی نماز کو ہمیشہ پڑھتے ہیںاُولٰٓئِكَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّكْرَمُوْنَ٢ؕ۠ع﴿35﴾
یہی لوگ بہشت کے باغوں میں عزت و اکرام سے ہوں گےفَمَالِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا قِبَلَكَ مُهْطِعِیْنَۙ﴿36﴾
) تو ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ تمہاری طرف دوڑے چلے آتے ہیںعَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ﴿37﴾
اور دائیں بائیں سے گروہ گروہ ہو کر جمع ہوتے جاتے ہیںاَیَطْمَعُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّةَ نَعِیْمٍۙ﴿38﴾
کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع رکھتا ہے کہ نعمت کے باغ میں داخل کیا جائے گا ؟كَلَّا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ﴿39﴾
ہر گز نہیں ہم نے ان کو اس چیز سے پیدا کیا ہے جسے وہ جانتے ہیںفَلَاۤ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَ الْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَۙ﴿40﴾
ہمیں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کہ ہم طاقت رکھتے ہیںعَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْهُمْ١ۙ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ﴿41﴾
اس بات پر قادر ہیں کہ ان سے بہتر لوگ بدل لائیں اور ہم عاجز نہیں ہیںفَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَۙ﴿42﴾
تو (اے پیغمبر !) ان کو باطل میں پڑے رہنے دو اور کھیل لینے دو یہاں تک کہ جس دن کا وعدہ ان سے کیا جاتا ہے وہ ان کے سامنے آموجود ہویَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا كَاَنَّهُمْ اِلٰى نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَۙ﴿43﴾
اس دن یہ قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑیں گے جیسے۔ (شکاری) شکار کے جال کی طرف دوڑتے ہیںخَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ ذٰلِكَ الْیَوْمُ الَّذِیْ كَانُوْا یُوْعَدُوْنَ۠ع﴿44﴾
ان کی آنکھیں جھک رہی ہوں گی اور ذلت ان پر چھارہی ہوگی۔ یہی وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا