63. Al-Munaafiqoonالمنافقون

The Hypocrites · Medinan · 11 ayahs · 2 rukus · محترمہ رفعت اعجاز

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ١ۘ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ﴿1﴾

    اے نبی ﷺ !) جب منافق لوگ آپ کے پاس آتے ہـیں تو کہتے ہیں، ہم اقرار کرتے ہیں کہ آپ ﷺ بیشک اللہ کے پیغمبر ہیں ٖاور اللہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ ظاہر کرتا ہے کہ منافق (دل سے اعتقاد نہ رکھنے کی وجہ سے) جھوٹے ہیں۔
  2. اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿2﴾

    انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ اور ان کے ذریعے سے (لوگوں کو) راہ خدا سے روک رہے ہیں کچھ شک نہیں کہ جو کام یہ کرتے ہیں برے ہیں۔
  3. ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ﴿3﴾

    یہ اس لیے کہ یہ پہلے تو ایمان لائے پھر کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی سو اب یہ سمجھتے ہی نہیں۔
  4. وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ١ؕ وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ١ؕ كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ١ؕ یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْ١ؕ هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ﴿4﴾

    اور جب آپ ان کو دیکھو تو ان کے ڈیل ڈول اچھے لگیں اور جب بولتے ہیں تو آپ ان کی باتوں کو توجہ سے سنتے ہو گویا لکڑیاں ہیں جو دیواروں سے لگائی گئی ہیں۔ (بزدل اتنے) کہ ہر زور کی آواز کو سمجھیں کہ ان پر بلا آئی۔ یہ آپ کے دشمن ہیں ان سے ہوشیار رہنا، اللہ ان کو ہلاک کرے یہ کہاں بہکے پھرتے ہیں۔
  5. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا یَسْتَغْفِرْ لَكُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ لَوَّوْا رُءُوْسَهُمْ وَ رَاَیْتَهُمْ یَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ﴿5﴾

    اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول اللہ تمہارے لیے مغفرت مانگیں تو سر ہلا دیتے ہیں اور آپ ان کو دیکھو کہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں
  6. سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ لَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ﴿6﴾

    آپ ان کے لیے مغفرت مانگو یا نہ مانگو ان کے حق میں برابر ہے۔ اللہ ان کو ہرگز نہ بخشے گا۔ بیشک اللہ نافرمانوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
  7. هُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى یَنْفَضُّوْا١ؕ وَ لِلّٰهِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَهُوْنَ﴿7﴾

    یہی ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس رہتے ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو۔ یہاں تک کہ یہ خود بخود بھاگ جائیں۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں، لیکن منافق نہـیں سمجھتے۔
  8. یَقُوْلُوْنَ لَئِنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ١ؕ وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿8﴾

    کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر مدینہ پہنچے تو ہم عزت والے ذلیل لوگوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے، حالانکہ عزت اللہ کی ہے۔ اس کے رسول ﷺ کی اور مومنوں کی لیکن منافق نہیں جانتے۔
  9. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴿9﴾

    مومنو ! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دے اور جو ایسا کرے گا تو وہ لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
  10. وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَیَقُوْلَ رَبِّ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنِیْۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿10﴾

    اور جو مال ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے اس وقت سے پیشتر خرچ کرلو کہ تم میں سے کسی کی موت آجائے تو اس وقت کہنے لگو کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت کیوں نہ دی تاکہ میں خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا
  11. وَ لَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿11﴾

    اور جب کسی کی موت آجاتی ہے تو اللہ اس کو ہرگز مہلت نہیں دیتا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔