50. Qaafق
The letter Qaaf · Meccan · 45 ayahs · 3 rukus · محترمہ رفعت اعجاز
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ﴿1﴾
قۗ قرآن مجید کی قسمبَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ﴿2﴾
لیکن ان لوگوں نے تعجب کیا کہ انہی میں سے ایک ڈرانے والا ان کے پاس آیا تو کافر کہنے لگے کہ ”یہ بات تو بڑی عجیب ہےءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ﴿3﴾
بھلا جب ہم مرگئے مٹی ہوگئے تو پھر زندہ ہوں گے ؟ یہ زندہ ہونا عقل سے دور ہےقَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ﴿4﴾
ان کے جسموں کو زمین جتنا کھا کھا کر کم کرتی جاتی ہے ہم کو معلوم ہے اور ہمارے پاس تحریری یاد داشت بھی ہے۔بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ﴿5﴾
بلکہ عجیب بات یہ ہے کہ جب ان کے پاس دین حق آپہنچا تو انہوں نے اس کو جھوٹ سمجھا سو یہ ایک الجھی ہوئی بات میں پڑ رہے ہیں۔اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ﴿6﴾
کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیونکر بنایا اور کیونکر سجایا اور اس میں کہیں شگاف تک نہیںوَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ﴿7﴾
اور زمین کو دیکھو اسے ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑ رکھ دیے اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائیںتَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ﴿8﴾
تاکہ رجوع کرنے والے بندے ہدایت اور نصیحت حاصل کریں۔وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ﴿9﴾
اور آسمان سے برکت والا پانی اتارا اور اس سے باغ اور گلستان اگائے اور کھیتی کا اناج۔وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ﴿10﴾
اور لمبی لمبی کھجوریں جن کا خوشہ تہ بہتہ ہوتا ہے۔رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ﴿11﴾
یہ سب کچھ بندوں کو روزی دینے کے لیے کیا ہے اور اس پانی سے ہم نے شہر مردہ (مردہ زمین) کو زندہ کیا بس اسی طرح (قیامت کے روز) نکل پڑنا ہے۔كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ﴿12﴾
اس سے پہلے نوح کی قوم اور کنوئیں والے اور ثمود جھٹلا چکے ہیں۔وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ﴿13﴾
عاد فرعون اور لوط کے بھائیوَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ﴿14﴾
بن کے رہنے والے اور تبع کی قوم غرص ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہماری وعید بھی پوری ہو کر رہیاَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ع﴿15﴾
کیا ہم پہلی بار پیدا کر کے تھک گئے ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ دوبارہ پیدا کرنے پر شک میں پڑگئے ہیںوَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ﴿16﴾
اور ہم ہی نے انسان کو پیدا کیا ہے اور جو خیالات اس کے دل میں گزرتے ہیں (ہم ان کو جانتے ہیں) اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ﴿17﴾
جب وہ کوئی کام کرتا ہے تو دو لکھنے والے جو دائیں بائیں بیٹھتے ہیں لکھ لیتے ہیں۔مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ﴿18﴾
کوئی بات اس کی زبان پر نہیں آتی مگر ایک نگہبان اس کے پاس تیار رہتا ہے۔وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ﴿19﴾
اور موت کی بےہوشی حقیقت کھولنے کو طاری ہوگئی (اے انسان) یہی وہ حالت ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ﴿20﴾
اور صور پھونکا جائے گا۔ یہی عذاب کی وعید کا دن ہے۔وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ﴿21﴾
اور ہر شخص ہمارے سامنے آئے گا ایک فرشتہ اس کے ساتھ چلانے والا ہوگا اور ایک اس کے عملوں کی گواہی دینے والالَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ﴿22﴾
یہ دن ہے کہ اس سے تو غافل ہو رہا تھا اب ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہےوَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ﴿23﴾
اور اس کا ساتھی فرشتہ کہے گا کہ ”یہ اعمال نامہ میرے پاس حاضر ہےاَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ﴿24﴾
حکم ہوگا کہ ہر سرکش ناشکرے کو دوزخ میں ڈال دو۔مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ﴿25﴾
جو مال میں بخل کرنے والا حد سے بڑھنے والا اور شبہ نکالنے والا تھا۔اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ﴿26﴾
جس نے اللہ کے ساتھ اور معبود مقرر کر رکھے تھے تو اس کو سخت عذاب میں ڈالدو۔قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ﴿27﴾
اس کا ساتھی (فرشتہ) کہے گا کہ ”اے میرے رب میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی رستے سے دور بھٹکا ہوا تھا۔قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ﴿28﴾
اللہ کہے گا کہ ”ہمارے ساتھ جھگڑا نہ کرو ہم تمہارے پاس پہلے ہی عذاب کی خبر بھیج چکے تھے۔مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ع﴿29﴾
ہمارے ہاں بات بدلا نہیں کرتی اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے۔یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ﴿30﴾
اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کہ ”کیا تو بھر گئی ”؟ وہ کہے گی ”کچھ اور بھی ہے ؟۔ ’وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ﴿31﴾
اور بہشت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی بالکل دور نہ ہوگیهٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ﴿32﴾
یہی وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ہر رجوع لانے والے حفاظت کرنے والے سے۔مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ﴿33﴾
جو اللہ سے بغیر دیکھے ڈرتا رہا اور رجوع لانے والا دل لے کر آیااِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ﴿34﴾
اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ﴿35﴾
وہاں جو چاہیں گے ان کے لیے حاضر ہے اور ہمارے ہاں اور بھی بہت کچھ ہے۔وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ﴿36﴾
اور ہم نے ان سے پہلے کئی اُمتیں ہلاک کر ڈالیں وہ ان سے قوت میں کہیں بڑھ کر تھے وہ شہروں میں گشت کرنے لگے کیا کوئی بھاگنے کی جگہ ہے۔اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ﴿37﴾
جو شخص دل آگاہ رکھتا ہے یا (دل سے) متوجہ ہو کر سنتا ہے اس کے لیے اس میں نصیحت ہے۔وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ﴿38﴾
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو مخلوقات ان کے درمیان ہے سب کو چھ دن میں بنا دیا اور ہم ذرا بھی نہیں تھکے۔فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ﴿39﴾
تو جو کچھ یہ کفار بکتے ہیں اس پر صبر کرو آفتاب کے طلوع ہونے سے پہلے اور اس کے غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو۔وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ﴿40﴾
اور رات کے بعض اوقات میں بھی اور نماز کے بعد بھی اس کے نام کی پاکی بیان کروَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ﴿41﴾
اور سنو جس دن پکارنے والا نزدیک کی جگہ سے پکارے گا۔یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ﴿42﴾
جس دن لوگ چیخ یقینا سن لیں گے وہی نکل پڑنے کا دن ہے۔اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ﴿43﴾
ہم ہی تو زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا١ؕ ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ﴿44﴾
اس دن زمین ان پر پھٹ پڑے گی اور وہ جھٹ پٹ نکل کھڑے ہوں گے یہ جمع کرنا ہمیں آسان ہے۔نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ع﴿45﴾
یہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے اور آپ ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو، پس جو ہمارے عذاب کی خبر سے ڈرے اس کو قرآن سے نصیحت کرتے رہو۔