23. Al-Muminoonالمؤمنون
The Believers · Meccan · 118 ayahs · 6 rukus · محترمہ رفعت اعجاز
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَۙ﴿1﴾
یقینا ایمان والوں نے فلاح پائی۔الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ صَلَاتِهِمْ خٰشِعُوْنَۙ﴿2﴾
جو اپنی نماز میں خشوع و حضوع اختیار کرتے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَۙ﴿3﴾
جو بےہودہ باتوں سے دور رہتے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِلزَّكٰوةِ فٰعِلُوْنَۙ﴿4﴾
جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَۙ﴿5﴾
جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ﴿6﴾
سوائے اپنی بیویوں اور ان عورتوں کے جو ان کی ملکیت میں ہوں کہ ان (سے مباشرت کرنے میں) وہ قابل ملامت نہیں ہیں۔فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْعٰدُوْنَۚ﴿7﴾
البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں ‘ تو وہ حد سے بڑھنے والے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ لِاَمٰنٰتِهِمْ وَ عَهْدِهِمْ رٰعُوْنَۙ﴿8﴾
اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد و پیمان کا پاس رکھتے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَۘ﴿9﴾
اور جو نمازوں کی حفاظت کرتے ہیںاُولٰٓئِكَ هُمُ الْوٰرِثُوْنَۙ﴿10﴾
یہی لوگ وہ وارث ہیں۔الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿11﴾
جو میراث میں فردوس پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ﴿12﴾
اور یقینا ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے پیدا کیا ہے۔ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِیْ قَرَارٍ مَّكِیْنٍ۪﴿13﴾
پھر اس کو ایک مضبوط اور محفوظ جگہ میں نطفہ بنا کر رکھاثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ﴿14﴾
پھر نطفے سے جما ہوا خون بنایا پھر اس جمے ہوئے خون سے گوشت کی بوٹیاں بنائی پھر اس بوٹی سے ہڈیاں بنائیں پھر ان ہڈیوں پر گوشت چڑھایا، پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا۔ تو اللہ جو سب سے بہتر بنانے والا ہے بڑا بابرکت ہے۔ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَیِّتُوْنَؕ﴿15﴾
پھر اس کے بعد تم مر نے والے ہو۔ثُمَّ اِنَّكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ﴿16﴾
پھر قیامت کے روز اٹھا کھڑے کیے جاؤ گے۔وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ﴿17﴾
اور یقینا ہم نے تمہارے اوپر کی جانب سات آسمان بنا دیے اور ہم خلقت سے غافل نہیں ہیں۔وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ فَاَسْكَنّٰهُ فِی الْاَرْضِ١ۖۗ وَ اِنَّا عَلٰى ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقٰدِرُوْنَۚ﴿18﴾
اور ہم ہی نے آسمان سے ایک اندازے کے مطابق پانی نازل کیا پھر اس کو زمین میں ٹھہرا دیا اور ہم اس کو (نابود بھی کرسکتے ہیں) لے جائیں تو لے جاسکتے ہیں۔فَاَنْشَاْنَا لَكُمْ بِهٖ جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ١ۘ لَكُمْ فِیْهَا فَوَاكِهُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ﴿19﴾
پھر ہم نے (اس سے) تمہارے لیے کھجوروں اور انگوروں کے باغ اگائے جن میں تمہارے لیے بہت سے میوے پیدا ہوتے ہیں جن کو تم کھاتے ہو۔وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ﴿20﴾
اور وہ درخت بھی ہم ہی نے پیدا کیا جو طور سینا میں پیدا ہوتا ہے (یعنی زیتون کا درخت) کہ کھانے کے لیے روغن اور سالن لیے ہوئے اگتا ہے۔وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ﴿21﴾
اور تمہارے لیے چار پایوں میں بھی عبرت اور نشانی ہے کہ جو ان کے پیٹوں میں ہے اس سے ہم تمہیں دودھ پلاتے ہیں اور تمہارے لیے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور بعض کو تم کھاتے بھی ہو۔وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَ۠ع﴿22﴾
ان پر اور کشتیوں پر تم سوار ہوتے ہو۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ﴿23﴾
اور ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو انہوں نے ان سے کہا اے قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں کیا تم ڈرتے نہیں۔فَقَالَ الْمَلَؤُا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یُرِیْدُ اَنْ یَّتَفَضَّلَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَنْزَلَ مَلٰٓئِكَةً١ۖۚ مَّا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَۚ﴿24﴾
تو ان کی قوم کے کافر سردار کہنے لگے ”یہ تو تم جیسا ہی آدمی ہے تم پر بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے، اگر اللہ چاہتا تو فرشتے اتاردیتا۔ ہم نے اپنے باپ دادا میں تو یہ بات پہلے کبھی سنی نہیں۔اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلٌۢ بِهٖ جِنَّةٌ فَتَرَبَّصُوْا بِهٖ حَتّٰى حِیْنٍ﴿25﴾
اس آدمی کو تو دیوانگی کی بیماری ہے تو اس کے بارے میں کچھ دیر انتظار کرو۔قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ﴿26﴾
نوح نے کہا ”پروردگار انہوں نے مجھے جھٹلایا ہے تو میری مدد کر۔فَاَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ اَنِ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا فَاِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ فَاسْلُكْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ﴿27﴾
پس ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے سامنے ہمارے حکم سے ایک کشتی بنائو پھر جب ہمارا حکم آپہنچے اور (تنور پانی سے بھر کر) جوش مارنے لگے تو سب قسم کے حیوانات میں سے نر و مادہ جوڑا جوڑا کشتی میں بٹھا لو اور اپنے گھر والوں کو بھی سوائے ان کے جن کی ہلاکت کا حکم پہلے سے ہوچکا ہے۔ اور ظالموں کے بارے میں ہم سے کچھ نہ کہنا وہ ضرور ڈبو دیے جائیں گے۔فَاِذَا اسْتَوَیْتَ اَنْتَ وَ مَنْ مَّعَكَ عَلَى الْفُلْكِ فَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴿28﴾
اور جب تم اور تمہارے ساتھی کشتی میں بیٹھ جاؤ تو (اللہ کا شکر کرتے ہوئے) کہنا کہ سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں ظالموں سے نجات بخشی۔وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ﴿29﴾
اور یہ بھی دعا کرنا کہ اے رب ! ہمارے ہم کو مبارک جگہ پر اتارنا اور تو سب سے بہتر اتارنے والا ہے۔اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ وَّ اِنْ كُنَّا لَمُبْتَلِیْنَ﴿30﴾
بیشک اس میں نشانیاں ہیں اور ہمیں تو آزمائش کرنی تھی۔ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَۚ﴿31﴾
پھر ان کے بعد ہم نے ایک جماعت اور پیدا کی۔فَاَرْسَلْنَا فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ۠ع﴿32﴾
اور انہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا جس نے ان سے کہا کہ ”اللہ ہی کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تو کیا تم ڈرتے نہیں“ ؟۔وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ الْاٰخِرَةِ وَ اَتْرَفْنٰهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ مَا هٰذَاۤ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ١ۙ یَاْكُلُ مِمَّا تَاْكُلُوْنَ مِنْهُ وَ یَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُوْنَ۪ۙ﴿33﴾
تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے اور آخرت کے آنے کو جھوٹ سمجھتے تھے اور دنیا کی زندگی میں ہم نے ان کو آسودگی دے رکھی تھی کہنے لگے کہ ”یہ تو تم ہی جیسا آدمی ہے جیسا کھانا تم کھاتے ہو اسی طرح کا یہ بھی کھاتا ہے اور جو پانی تم پیتے ہو اسی طرح کا یہ بھی پیتا ہے۔وَ لَئِنْ اَطَعْتُمْ بَشَرًا مِّثْلَكُمْ اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَۙ﴿34﴾
اور اگر تم نے اپنے ہی جیسے آدمی کا کہنا مان لیا تو اس وقت تم گھاٹے میں پڑگئے۔اَیَعِدُكُمْ اَنَّكُمْ اِذَا مِتُّمْ وَ كُنْتُمْ تُرَابًا وَّ عِظَامًا اَنَّكُمْ مُّخْرَجُوْنَ۪ۙ﴿35﴾
کیا یہ تم سے یہ کہتا ہے کہ جب تم مرجاؤ گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجاؤ گے تو پھر تم زندہ کیے جاؤ گے۔هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ﴿36﴾
دور ہے بہت دور جو تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ۪ۙ﴿37﴾
زندگی تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے کہ اسی میں ہم مرتے اور جیتے ہیں اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔اِنْ هُوَ اِلَّا رَجُلُ اِ۟فْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا وَّ مَا نَحْنُ لَهٗ بِمُؤْمِنِیْنَ﴿38﴾
یہ تو ایک ایسا آدمی ہے جس نے اللہ پر جھوٹ بہتان لگایا ہے اور ہم اس کو ماننے والے نہیں۔قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ﴿39﴾
پیغمبر نے کہا ”اے رب ! انہوں نے مجھے جھوٹا سمجھا ہے تو میری مدد کر۔قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ﴿40﴾
فرمایا کہ ”یہ تھوڑے ہی عرصہ میں پشیمان ہو کر رہ جائیں گے۔فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴿41﴾
پھر ان کو چنگھاڑ نے آپکڑا وعدہ برحق کے مطابق تو ہم نے ان کو کوڑا کرکٹ بنا دیا پس ظالم لوگوں پر لعنت ہے۔ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ﴿42﴾
پھر ان کے بعد ہم نے اور جماعتیں پیدا کیں۔مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ﴿43﴾
کوئی جماعت اپنے وقت سے نہ آگے جاسکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ﴿44﴾
پھر ہم پے در پے اپنے پیغمبر بھیجتے رہے جب بھی کسی امت کے پاس اس کا پیغمبر آتا تھا تو وہ اسے جھٹلاتے تھے تو ہم بھی بعض کو بعض کے پیچھے ہلاک کرتے اور ان پر عذاب لاتے رہے اور ان کی کہانیاں بناتے رہے پس جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان پر لعنت۔ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ﴿45﴾
پھر ہم نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو اپنی نشانیاں اور کھلی سند دے کر بھیجا۔اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ﴿46﴾
فرعون اور اس کی جماعت کی طرف تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگ تھے۔فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ﴿47﴾
کہنے لگے ”کیا ہم اپنے جیسے ان دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں اور ان کی قوم کے لوگ ہمارے خدمت گار ہیں۔فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ﴿48﴾
تو ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا آخر ہلاک کردیے گئے۔وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ﴿49﴾
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں۔وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ع﴿50﴾
اور ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ اور ان کی ماں کو اپنی نشانی بنایا تھا اور ان کو ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور جہاں صاف پانی جاری تھا پناہ دی تھی۔یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ﴿51﴾
اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھائو اور نیک عمل کرو جو عمل تم کرتے ہو میں ان سے واقف ہوں۔وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ﴿52﴾
اور یہ تمہاری جماعت حقیقت میں ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا رب ہوں تو مجھ سے ہی ڈرو۔فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ﴿53﴾
پھر انہوں نے آپس میں اپنے کام کو متفرق کردیا اور ٹکڑے ٹکڑے کردیا جو چیز جس فرقے کے پاس ہے وہ اس سے خوش ہو رہا ہے۔فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ﴿54﴾
تو ان کو ایک مدت تک ان کی غفلت میں رہنے دو۔اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ﴿55﴾
کیا لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جو دنیا میں ان کو مال اور بیٹوں سے مدد دیتے ہیں۔نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ﴿56﴾
تو اس سے ان کی بھلائی میں جلدی کر رہے ہیں ؟ نہیں ! بلکہ یہ سمجھتے ہی نہیں۔اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ﴿57﴾
اور جو اپنے رب کے خوف سے ڈرتے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ﴿58﴾
اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان لاتے ہیںوَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ﴿59﴾
اور جو اپنے رب کے ساتھ شرک نہیں کرتے۔وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ﴿60﴾
اور جو دے سکتے ہیں دیتے ہیں اور ان کے دل اس بات سے ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ﴿61﴾
یہی لوگ نیکیوں میں جلدی کرتے اور یہی ان سب پر آگے بڑھنے والے ہیں۔وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿62﴾
اور ہم کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے اور ہمارے پاس کتاب ہے جو سچ سچ کہہ دیتی ہے اور ان لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ﴿63﴾
مگر ان کے دل ان باتوں کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے سوا اور اعمال بھی ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں۔حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ﴿64﴾
یہاں تک کہ جب ہم نے ان میں سے آسودہ حال لوگوں کو پکڑ لیا تو وہ اس وقت تلملا اٹھیں گے۔لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ﴿65﴾
آج مت تلملائو بیشک آج تم مدد نہیں کیے جاؤ گے۔قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ﴿66﴾
میری آیتیں تم کو پڑھ کر سنائی جاتی تھیں اور تم الٹے پائوں پھر پھرجاتے تھے۔مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ﴿67﴾
ان سے سر کشی کرتے ‘ کہانیوں میں مشغول ہوتے اور بیہودہ باتیں کرتے تھےاَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘﴿68﴾
کیا انہوں نے اس کلام پر غور نہیں کیا یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آئی ہے جو ان کے باپ دادا کے پاس نہیں آئی تھی۔اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘﴿69﴾
یا یہ اپنے پیغمبر کو جانتے نہیں اس لیے ان کو مانتے نہیں۔اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ﴿70﴾
کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے دیوانگی ہے ؟ ایسا نہیں بلکہ وہ ان کے پاس حق کو لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے ہیں۔وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ﴿71﴾
اور اگر حق ان کی خواہشات پر چلے تو آسمان اور زمین جو کچھ ان میں ہیں سب خراب ہوجائے بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت پہنچا دی ہے اور وہ اس نصیحت سے منہ پھیر رہے ہیں۔اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ﴿72﴾
کیا تم ان سے نصیحت کے بدلے میں کچھ مانگتے ہو ؟ تیرے رب کا دیا ہوا مال بہت اچھا ہے اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿73﴾
اور تم تو ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاتے ہو۔وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ﴿74﴾
اور جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے راستے سے ٹیڑھے مڑ گئے ہیں۔وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ﴿75﴾
اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو تکلیف انہیں پہنچے دور کردیں تو پھر بھی بھٹکتے ہوئے اپنی شرارت میں لگے رہیں گے۔وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ﴿76﴾
اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑ لیا تھا پھر نہ انہوں نے اپنے رب کے آگے عاجزی کی اور نہ گڑ گڑائے۔حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ع﴿77﴾
یہاں تک کہ جب ہم ان پر ایک سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تب وہ ناامید ہوجائیں گے۔وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ﴿78﴾
اور وہی تو ہے جس نے تمہارے کان ‘ آنکھیں اور دل بنائے لیکن تم کم شکر گزرای کرتے ہو۔وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ﴿79﴾
اور وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور اسی کی طرف تم جمع کیے جاؤ گے۔وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿80﴾
اور وہی ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے۔ رات اور دن کا بدلتے رہنا اسی کا کام ہے کیا تم سمجھتے نہیں۔بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ﴿81﴾
بات یہ ہے کہ جو بات اگلے کافر کہتے تھے اسیطرح کی بات یہ کہتے ہیں۔قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ﴿82﴾
کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے۔لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ﴿83﴾
یہ وعدہ ہم سے اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا سے بھی ہوتا چلا آیا ہے۔ یہ کچھ بھی نہیں بلکہ صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿84﴾
فرمادیں کہ اگر تم جانتے ہو تو بتائو کہ زمین اور جو کچھ زمین میں ہے سب کس کا ہے ؟سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ﴿85﴾
جھٹ بول اٹھیں گے کہ ”اللہ کا کہو کہ پھر تم سوچتے کیوں نہیں ؟قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ﴿86﴾
ان سے پوچھو کہ سات آسمانوں کا کون مالک ہے ؟ اور عرش عظیم کا کون مالک ہے ؟سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ﴿87﴾
فوراً کہہ دیں گے یہ سب چیزیں اللہ ہی کی ہیں۔ کہو کہ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ؟قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿88﴾
کہو کہ اگر تم جانتے ہو تو بتائو کہ وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی بادشاہی ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا۔سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ﴿89﴾
فوراً کہہ دیں گے کہ (ایسی بادشاہی تو) اللہ ہی کی ہے۔ کہو کہ پھر تم پر جاود کہاں سے پڑجاتا ہے ؟بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ﴿90﴾
بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس حق پہنچا دیا ہے اور یہ جو بت پرستی کیے جاتے ہیں بیشک جھوٹے ہیں۔مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ﴿91﴾
اللہ نے نہ تو کسی کو اپنا بیٹا بنایا ہے اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ‘ ایسا ہو تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوقات کو لے کر چل دیتا اور ایک دوسرے پر غالب آجاتا۔ یہ لوگ جو کچھ اللہ کے بارے میں کہتے ہیں اللہ اس سے پاک ہے۔عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ع﴿92﴾
وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور مشرک جو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ اللہ کی ذات اس سے بہت بلند ہے۔قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ﴿93﴾
اے محمد ﷺ !) کہو کہ جس عذاب کا ان کفار سے وعدہ ہوا ہے اگر (تو میری زندگی میں ان پر نازل کر کے) مجھے دکھائے۔رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴿94﴾
تو اے میرے رب ! مجھے اس سے محفوظ رکھنا اور ان ظالموں میں شامل نہ کرنا۔وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ﴿95﴾
اور جو وعدہ ہم ان سے کر رہے ہیں ہم تم کو دکھا کر ان پر نازل کرنے پر قادر ہیںاِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ﴿96﴾
اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے۔وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ﴿97﴾
اور کہو کہ اے پروردگار ! میں شیطان کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ﴿98﴾
اور اے رب اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آموجود ہوں۔حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ﴿99﴾
یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو کہے گا ”اے اللہ مجھے پھر دنیا میں واپس بھیج دے۔لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ﴿100﴾
تاکہ میں اس میں جو چھوڑ آیا ہوں نیک کام کروں۔“ ہرگز نہیں یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا (مگر اس پر عمل نہیں ہوگا) اور ان کے پیچھے برزخ ہے کہ جہاں وہ اس دن تک رہیں گے جس دن دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ﴿101﴾
پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس وقت نہ ان میں رشتہ داریاں رہیں گی اور نہ کوئی ایک دوسرے کو پوچھے گا۔فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿102﴾
تو جن کے وزن بھاری ہوں گے وہ فلاح پانے والے ہیں۔وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ﴿103﴾
اور جن کے بوجھ ہلکے ہوں گے وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے خود کو نقصان میں رکھا وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گےتَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ﴿104﴾
آگ ان کے مونہوں کو جھلس دے گی اور وہ اس میں پریشان ہوں گے۔اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ﴿105﴾
کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں ؟ نہیں تم ان کو (سن کر) جھٹلاتے تھے۔قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ﴿106﴾
اے ہمارے رب ! ہم پر ہماری بدنصیبی چھا گئی اور ہم راستے سے بھٹک گئے۔رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ﴿107﴾
اے ہمارے رب ! ہم کو اس میں سے نکال دے اگر ہم پھر ایسے کام کریں تو ظالم ہوں گے۔قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ﴿108﴾
اللہ فرمائے گا کہ اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ﴿109﴾
میرے بندوں میں ایک گروہ تھا جو دعا کیا کرتا تھا ”اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ﴿110﴾
تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیچھے میری یاد بھی بھول گئے اور تم ہمیشہ ان سے ہنسی کیا کرتے تھےاِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ﴿111﴾
آج میں نے ان کو ان کے صبر کا بدلہ دیا کہ بیشک وہ کامیاب ہونے والے ہیں۔قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ﴿112﴾
) اللہ پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے ؟قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ﴿113﴾
وہ کہیں گے کہ ہم ایک روز یا دن کا کچھ حصہ رہے تھے شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے۔قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿114﴾
اللہ فرمائے گا کہ ”وہاں تم بہت ہی کم رہے کاش تم جانتے ہوتے۔اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ﴿115﴾
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا تھا اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئو گے۔فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ﴿116﴾
تو اللہ جو سچا بادشاہ ہے اس کی شان اس سے اونچی ہے اس کا کوئی معبود نہیں وہی عرش کریم کا مالک ہے۔وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ﴿117﴾
اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تو اس کا حساب اللہ ہی کے پاس ہوگا کچھ شک نہیں کہ کافر کامیاب نہیں ہونگے۔وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ع﴿118﴾
اور اللہ سے دعا کیا کرو کہ میرے رب ! مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔