6. Al-An'aamالأنعام
The Cattle · Meccan · 165 ayahs · 20 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ﴿1﴾
ہر تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور روشنی کو بنایا اس پر بھی جو کافر ہیں وہ اپنے پروردگار کے برابر (دوسروں کو) ٹھہرا رہے ہیں۔هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ﴿2﴾
وہ (اللہ) وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر ایک وقت مقرر کیا اور معین وقت اسی کے علم میں ہے پھر بھی تم شک رکھتے ہو۔وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ﴿3﴾
اور وہی (ایک) اللہ آسمانوں میں ہے اور زمین میں (بھی) ۔ وہ تمہارے پوشیدہ (حال) کو بھی جانتا ہے (اور ظاہر (حال) کو بھی اور جو کچھ تم کرتے رہتے ہو اسے بھی وہ جانتا ہے۔وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ﴿4﴾
اور جو نشانی بھی ان کے پاس ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے آتی ہے وہ اس سے اعراض ہی کیا کرتے ہیں۔فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿5﴾
سو انہوں نے (کلام) حق کو بھی جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا۔ سوعنقریب ہی انہیں خبر معلوم ہوجائے گی اس چیز کی جس کے بارے میں وہ تمسخر کیا کرتے تھے۔اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ﴿6﴾
کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم ان کے قبل کتنی جماعتوں کو ہلاک کرچکے ہیں جنہیں ہم نے روئے زمین پر وہ قوت دے رکھی تھی جو تمہیں نہیں دی ہے۔ اور ہم نے ان پر خوب کثرت سے بارش باسائی اور ہم نے ان کے نیچے نہریں بہائیں پھر ہم نے انہیں ان کے گناہوں کے باعث ہلاک کرڈالا اور ہم نے ان کے بعد دوسری جماعتوں کو پیدا کردیا۔وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ﴿7﴾
اور اگر ہم آپ پر کوئی نوشتہ کاغذ پر (لکھا ہوا) نازل کرتے اور اس کو یہ اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے جب بھی جن لوگوں نے کفر اختیار کر رکھا ہے یہی کہتے کہ یہ تو بس ایک کھلا ہوا جادو ہے۔وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ﴿8﴾
اور یہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ۔ حالانکہ اگر ہم کوئی فرشتہ اتار دیتے تو قصہ ہی ختم ہوجاتا اور ان کو ذرا مہلت نہ ملتی۔وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ﴿9﴾
اور اگر ہم اس کو فرشتہ ہی تجویز کرتے تو اسے بھی آدمی ہی بناتے اور ان پر (پھر) وہی اشتباہ ڈالتے جس اشتباہ میں وہ اب (پڑے ہوئے) ہیں۔وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ع﴿10﴾
اور آپ سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر کیا گیا ہے پھر ان لوگوں کو جو ان (پیغمبروں) کی ہنسی اڑاتے تھے اسی (عذاب) نے آگھیرا جس پر وہ تمسخر کیا کرتے تھے۔قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ﴿11﴾
آپ کہیے کہ زمین پر چلو پھرو پھر دیکھ لو کہ تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا۔قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿12﴾
آپ کہیے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے یہ (سب) کس کی ملک ہے ؟ کہہ دیجئے کہ اللہ (ہی) کی ہے۔ اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے۔ یقیناً تمہیں اکٹھا کرے گا قیامت کے دن اس کے باب میں کوئی شک نہیں جن لوگوں نے اپنے کو گھاٹے میں کر رکھا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے۔وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿13﴾
اور اسی کی ملک ہے جو کوئی بھی رات اور دن میں رہتا ہے اور وہ بڑا سننے والا ہے بڑا جاننے والا ہے۔قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ﴿14﴾
آپ کہیے کہ کیا میں اللہ کے سوا جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ (سب) کو کھلاتا ہے (خود) اس کو کھلایا نہیں جاتا کسی (اور) کو کار ساز قرار دے لوں ؟ ۔ آپ کہہ دیجیے کہ مجھے تو یہ حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام قبول کروں اور (یہ کہ) تم کہیں مشرکوں میں نہ ہوجانا۔قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿15﴾
کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ﴿16﴾
جس کسی پر سے وہ (عذاب) اس روز ہٹا لیا جائے گا اس پر اللہ نے بڑا رحم کیا اور یہی کھلی کامیابی ہے۔وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿17﴾
اور اگر اللہ تجھے کوئی دکھ پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا (بھی کوئی) نہیں بجز (خود) اسی کو اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر شے پر پوری قدرت رکھنے والا۔وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ﴿18﴾
وہ غالب ہے اپنے بندوں کے اوپر اور وہ بڑا صاحب حکمت ہے بڑا باخبر ہے۔قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ﴿19﴾
آپ کہیے شہادت سب سے بڑھ کر کس چیز کی ہے ؟ کہہ دیجیے کہ اللہ کی کہ وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔ اور میرے پاس یہ قرآن بہ طور وحی بھیجا گیا ہے کہ میں اس کے ذریعہ سے تمہیں ڈراؤں اور اس کو جسے یہ پہنچے۔ تو کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور معبود بھی شریک ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ میں تو گواہی نہیں دیتا آپ کہہ دیجیے کہ وہ تو بس ایک ہی معبود ہے اور میں اس سے بری ہوں جو شرک تم کرتے ہو۔اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ع﴿20﴾
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دے رکھی ہے وہ ان (صاحب) کو پہچانتے ہیں جس طرح اپنے لڑکوں کو پہچانتے ہیں۔ جن لوگوں نے اپنے کو گھاٹے میں کر رکھا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے۔وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ﴿21﴾
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو جھوٹ بہتان اللہ پر لگائے اور اس کی نشانیوں کو جھٹلائے بیشک وہ ظالموں کو فلاح نہیں دیتا۔وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ﴿22﴾
(وہ دن یاد رکھو) جس دن ہم ان سب کو اکٹھے کریں گے پھر جو لوگ شرک کرتے رہے ہیں ان سے کہیں گے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جس کے لئے تم دعوی کیا کرتے تھے۔ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ﴿23﴾
پھر ان کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہ ہوگا کہ وہ یوں کہیں گے کہ قسم اللہ اپنے پروردگار کی کہ ہم مشرک نہ تھے۔اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ﴿24﴾
دیکھ تو یہ کیسا اپنے متعلق جھوٹ بول گئے اور ان سے وہ (سب) چیزیں ضائع ہوگئیں جنہیں یہ گڑھا کرتے تھے۔وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ﴿25﴾
اور ان میں ایسے بھی ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں۔ اور ہم نے ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیئے ہیں کہ وہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے۔۔ اور اگر وہ ساری (کی ساری) نشانیاں دیکھ لیں (جب بھی) ان پر ایمان نہ لائیں۔ یہاں تک کہ یہ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے جھگڑتے ہیں جنہوں نے کفراختیار کر رکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ تو نری اگلوں کی خرافات ہیں۔وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ﴿26﴾
اور یہ اس سے (دوسروں کو) روکتے ہیں اور (خود بھی) اس سے الگ رہتے ہیں اور یہ (لوگ کسی اور کو نہیں) اپنے ہی کو تباہ کررہے ہیں اور (اس کی بھی) خبر نہیں رکھتے۔وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿27﴾
اور اگر آپ ان کو اس وقت دیکھیں جب یہ دوزخ پر کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ کاش ہم پھر واپس بھیج دئیے جائیں تو ہم اپنے پروردگار کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ہم ایمان والوں میں سے جائیں۔بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ﴿28﴾
ہاں اب ان پر وہ چیز ظاہر ہوکررہی جسے اس کے قبل چھپایا کرتے تھے۔ اور اگر یہ واپس بھیج دیئے جائیں جب بھی یہ پھر وہی کریں جس سے یہ روکے گئے تھے اور یقیناً یہ (بالکل) جھوٹے ہیں۔وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ﴿29﴾
اور یہ کہتے ہیں کہ زندگی تو بس ہماری اسی دنیا کی زندگی ہے اور ہم زندہ اٹھائے جانے والے نہیں۔وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ع﴿30﴾
اور اگر آپ اس وقت دیکھتے ہوں جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے۔ اور وہ ان سے ارشاد کرے گا کیا یہ (قیامت) ۔ امر واقعی نہیں ؟ یہ کہیں گے بیشک ہے قسم ہے ہمیں اپنے پروردگار کی وہ ارشاد کرے گا اچھا تو عذاب (کامزہ) چکھو اس کفر کے بدلہ میں جو تم کیا کرتے تھے۔قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ﴿31﴾
یقیناً وہ لوگ گھاٹے میں آگئے جنہوں نے اللہ سے ملنے کو جھٹلایا یہاں تک کہ جب وہ (مقرر) گھڑی ان پر یک بیک آپہنچے گی۔ تو بول اٹھیں گے ہائے افسوس ہماری کوتاہی پر جو ہم اس کے بارے میں کرتے تھے۔ اس حال میں کہ وہ اپنے گناہ اپنی پشتوں پر لادے ہوں گے۔ دیکھو تو (کیا ہی) برا (بوجھ) ہے جس کو یہ لادے (لادے پھر رہے) ہوں گےوَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿32﴾
اور دنیوی زندگی تو کچھ بھی نہیں بجز کھیل تماشہ کے اور تقوی رکھنے والوں کے حق میں یقیناآخرت کا گھر کہیں بہتر ہے تو کیا تم عقل سے کام ہی نہیں لیتے۔قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ﴿33﴾
بیشک ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں وہ آپ کو رنج پہنچاتا ہے تو یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ (یہ ظالم تو) اللہ کی نشانیوں ہی سے انکار کردیتے ہیں۔وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ﴿34﴾
اور آپ سے قبل پیغمبر خوب جھٹلائے جاچکے ہیں سو انہوں نے اس پر صبر کیا کہ ان کی تکذیب کی گئی اور انہیں ایذا دی گئی یہاں تک کہ انہیں ہماری نصرت آپہنچی اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور پیغمبروں کے کچھ قصے تو آپ کو پہنچ ہی چکے ہیں۔وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ﴿35﴾
اور آپ پر اگر ان کا اعراض گراں گزرتا ہے۔ تو اگر آپ کے بس میں ہو کہ زمین (میں جانے) کے لئے کوئی سرنگ یا آسمان (پر جانے) کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈلیں تو ضرور کوئی نشان ان کے لئے آئیں۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان (سب) کو ہدایت پر جمع کردیتا۔ تو آپ نادانوں میں سے نہ ہوجائیے۔اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ﴿36﴾
قبول تو بس وہی لوگ کرتے ہیں جو سنتے ہیں۔ اور مردوں کو اللہ جلا کھڑا کرے گا پھر وہ اس کی طرف واپس لائے جائیں گے۔وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿37﴾
اور یہ کہتے ہیں کہ ان (صاحب) پر کوئی معجزہ ان کے پروردگار کی طرف سے کیوں نہیں اتارا گیا۔ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ بیشک قادر ہے (ایسا) معجزہ اتارنے پر لیکن ان میں سے زیادہ تر ایسے ہیں جو (خود ہی) علم نہیں رکھتے۔وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ﴿38﴾
اور جو بھی جانور زمین پر چلنے والا ہے اور جو بھی پرند اپنے دونوں بازوؤں سے اڑنے والا ہے وہ سب تمہارے ہی طرح کے گروہ ہیں ہم نے اپنے رجسٹر میں کوئی چیز نہیں چھوڑ رکھی ہے پھر یہ (سب) اپنے پروردگار کے پاس جمع کئے جائیں گے۔وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿39﴾
اور جو لوگ ہمارے نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں (طرح طرح کی) تاریکیوں میں (گرفتار) اللہ جسے چاہے اسے بےراہ کردے اور جسے چاہے وہ سیدھی راہ پر لگا دے۔قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿40﴾
آپ کہیے کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آپڑے یا (قیامت کی) گھڑی آپڑے تو کیا اللہ کے سوا اور کو پکاروگے (بتاؤ) اگر سچے ہو۔بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ع﴿41﴾
نہیں بلکہ خاص اسی کو پکارو گے پھر جس (مصیبت کے ہٹانے) کے لئے اسے پکارتے ہو وہ چاہے تو اسے دور بھی کردے اور تم ان سب کو بھول بھال بھی جاؤ جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ﴿42﴾
اور بلاشبہ ہم نے آپ سے قبل (اور بھی) امتوں کی طرف (پیغمبر) بھیجے پھر ہم نے انہیں تنگدستی اور تکلیف میں مبتلا کیا تاکہ وہ ڈھیلے پڑجائیں۔فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿43﴾
سو جب انہیں ہماری طرف سے سزا پہنچی تو وہ کیوں نہ ڈھیلے پڑگئے بلکہ ان کے دل تو (ویسے ہی سخت رہے۔ اور جو کچھ وہ کرتے رہے شیطان اسے ان کی نظر میں خوشنما کر دکھاتا رہا۔فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ﴿44﴾
پھر جب وہ اس چیز کو جس کی نہیں نصیحت کی جاتی تھی وہ بھلائے رہے تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ جب وہ اس پر جو انہیں ملا تھا اترا گئے تو ہم نے ان کو دفعۃ پکڑ لیا اور وہ دھک سے رہ گئے۔فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿45﴾
اس طرح جڑکاٹ دی گئی ان لوگوں کی جو ظلم کرتے تھے اور ساری حمد اللہ سارے جہانوں کے پروردگار ہی کیلئے ہے۔قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ﴿46﴾
آپ کہہ دیجے کہ اچھا یہ تو بتلاؤ کہ اللہ اگر تمہاری شنوائی اور تمہاری بینائی سلب کرلیے اور تمہارے دلوں پر مہر کردے تو بجز اللہ کے اور کون معبود ہے جو یہ (چیزیں) تمہیں دے دے ؟ آپ دیکھئے ہم کس کس طرح دلائل (توحید) بیان کرتے ہیں اور یہ پھر بھی بےرخی کئے ہوئے ہیں۔قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ﴿47﴾
آپ کہہ دیجیے کہ اچھا یہ تو بتلاؤ کہ اگر تمہارے اوپر اللہ کا عذاب اچانک یا خبرداری میں آپڑے تو کیا بجز ظالم لوگوں کے کوئی اور بھی ہلاک کیا جائے گا ؟ ۔وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴿48﴾
اور ہم پیغمبروں کو تو بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہی کی حیثیت سے بھیجتے ہیں تو جو کوئی بھی ایمان لے آئے اور اپنی درستی کرلے تو ان لوگوں کے لئے نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ یہ لوگ غمگین ہوں گے۔وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ﴿49﴾
اور جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں انہی کو عذاب لگے گا اس لئے کہ وہ (عبودیت سے) تجاوز کر جاتے ہیں۔قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ع﴿50﴾
آپ کہہ دیجیے کہ میں تم سے یہ تو نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں تم سے کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو بس اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس آتی ہے آپ کہیے کہ اندھا اور بینا کہیں برابر ہوسکتے ہیں ؟ تو کیا تم غور نہیں کرتے۔وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ﴿51﴾
اور آپ اس (وحی شدہ قرآن) کے ؟ ذریعہ سے انہیں ڈرائیے جو اندیشہ رکھتے ہیں اس امر کا کہ وہ اپنے پروردگار کے پاس جمع کئے جائیں گے اس حال میں کہ ان کے حق میں نہ کوئی مددگار ہوگا نہ کوئی شفیع شاید کہ وہ ڈرنے لگیں۔وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴿52﴾
اور ان لوگوں کو نہ نکالئے جو اپنے پروردگار کو صبح وشام پکارتے ہیں۔ خاص اسی کی رضا کا قصد کرتے ہوئے آپ کے ذمہ ان کا حساب ذرا بھی نہیں اور نہ ان کے ذمہ آپ کا ذرا بھی حساب ہے جس سے آپ انہیں نکالنے لگیں اور آپ کا شمار بےانصافوں میں ہوجائے۔وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ﴿53﴾
اور اس طرح ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈال رکھا ہے جس سے یہ لوگ کہیں گے کہ کیا یہی لوگ ہمارے درمیان میں سے ہیں جن پر اللہ نے اپنا فضل کیا ہے ؟ ۔ کیا للہ شکرگزاروں سے خوب واقف نہیں ؟ ۔وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿54﴾
اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری نشانیوں پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ کہہ دیجیے کہ تم پر سلامتی ہو تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر رحمت لازم کر رکھی ہے۔ بیشک تم میں سے جو کوئی نادانی سے برائی کربیٹھے پھر وہ اس کے بعد توبہ کرلے اور اپنی حالت درست کرلے تو وہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ع﴿55﴾
اسی طرح ہم کھول کر بیان کرتے رہتے ہیں نشانیوں کو تاکہ مجرموں کا طریقہ واضح ہو کررہے۔قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ﴿56﴾
آپ کہہ دیجئے کہ مجھے اس سے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے رہتے ہو آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہ کروں گا ورنہ میں بھی بےراہ ہوجاؤں گا اور راہ پر چلنے والوں میں نہ رہوں گا۔قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ﴿57﴾
آپ کہہ دیجئے کہ میرے پاس تو دلیل ہے میرے پرو ودگار کی طرف سے اور تم اسی کو جھٹلاتے ہو جس چیز کا تم تقاضا کررہے ہو وہ میرے پاس نہیں۔ حکم (تو اور کسی کا) نہیں بجز اللہ کے وہی حق کو بتلاتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ﴿58﴾
آپ کہہ دیجئے کہ اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جس کا تم تقاضا کررہے ہو تو (اب تک) میرے تمہارے درمیان قصہ فیصل ہوچکا ہوتا اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو۔وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ﴿59﴾
اور اس کے پاس ہیں غیب کے خزانے انہیں بجز اس کے کوئی نہیں جانتا۔ اور وہی جانتا ہے جو کچھ خشکی اور سمندر میں ہے اور کوئی پتہ نہیں گرتا مگر یہ کہ وہ اسے جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور خشک چیز مگر (یہ کہ یہ سب) روشن کتاب میں (موجود) ہیں۔وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿60﴾
وہ وہی تو ہے جو رات میں تمہیں وفات دے دیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے رہتے ہو اسے جانتا ہے پھر تمہیں اس سے جگا دیتا ہے کہ میعاد معین تمام کردی جائے۔ پھر اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے پھر وہ بتا دے گا جو کچھ تم کرتے رہتے تھے۔وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ﴿61﴾
اور وہ غالب ہے اپنے بندوں کے اوپر اور وہ تمہارے اوپر نگران (فرشتے) بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آجاتی ہے تو اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتہ) قبض کرلیتے ہیں اور وہ ذرا کوتاہی نہیں کرتےثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ﴿62﴾
پھر وہ (سب) واپس لائے جائیں گے اپنے مالک حقیقی کے پاس۔ سن رکھو کہ فیصلہ اسی کو ہوگا اور وہ بہت ہی جلد حساب لے لے گا۔قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ﴿63﴾
آپ کہیے کہ تمہیں کون نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے (اور) اسے تم پکارتے رہتے ہو عاجزی سے اور چپکے چپکے کہ اگر وہ ہمیں نجات دے دے ان (مصیبتوں) سے تو ہم یقیناً شکر گزاروں میں (داخل) ہو کر رہیں۔قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ﴿64﴾
آپ کہہ دیجیے اللہ ہی تمہیں نجات دیتا ہے ان سے اور ہر غم سے اس کے بعد بھی تم شرک کرنے لگتے ہو۔قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ﴿65﴾
آپ کہہ دیجیے کہ وہ (اس پر بھی) قادر ہے کہ تمہارے اوپر کوئی عذاب مسلط کردے تمہارے اوپر سے یا تمہارے پیروں کے نیچے سے یا تمہیں گروہ گروہ کرکے بھڑا دے اور تمہیں ایک دوسرے کو لڑائی (کا مزہ) چکھا دے آپ دیکھئے ہم کس کس طرح دلائل کو الٹ پھیر کر بیان کرتے ہیں شاید کہ وہ لوگ سمجھ جائیں۔وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ﴿66﴾
اور آپ کی قوم نے اس کی تکذیب کی ہے درآنحالیکہ وہ برحق ہے آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہارے اوپر کچھ داروغہ تو ہوں نہیں۔لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ﴿67﴾
ہر (کے وقوع) کا ایک وقت معین ہے اور تمہیں معلوم ہی ہو کر رہے گا۔وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴿68﴾
اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری نشانیوں کو مشغلہ بناتے ہوں۔ تو ان سے کنارہ کش ہوجایہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں اور اگر شیطان تجھے بھلا دے تو یاد آجانے کے بعد (ایسے) ظالم لوگوں کے پاس مت بیٹھ۔وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ﴿69﴾
اور جو لوگ بچتے رہتے ہیں ان پر ان کی باز پرس کا کوئی اثر نہیں پہنچے گا البتہ (ان کے ذمہ بھی) نصیحت ہے شاید کہ وہ بچنے لگیں۔وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ع﴿70﴾
اور ان لوگوں کو چھوڑے رہ جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنارکھا ہے اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ اور اس (قرآن) کے ذریعہ سے سمجھاتا بھی رہ تاکہ کوئی شخص اپنے کئے کے بدلے پھنس نہ جائے اللہ کے سوا نہ اس کا کوئی کار ساز ہے نہ سفارشی اور اگر وہ ہر (ممکن) معاوضہ بھی دے (جب بھی) اس سے قبول نہ کیا جائے گا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے کرتوت کے بدلہ پھنسے ہیں ان کے لئے پینے کو تیز گرم پانی ہوگا اور عذاب دردناک ہوگا بہ عوض اس کفر کے جو یہ کرتے رہے ہیں۔قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿71﴾
آپ کہہ دیجیے کہ کیا ہم (مسلمان) اللہ کے سوا ایسے کو پکاریں جو نہ ہم کو نفع پہنچا سکے اور نہ ہم کو نقصان پہنچا سکے اور (کیا) ہم الٹے پاؤں واپس پھرجائیں بعد اس کے کہ ہم کو اللہ ہدایت دے چکا ہے جیسے کوئی شخص ہو کہ اسے شیطانوں نے (کہیں) زمین پر بےراہ کردیا ہو (اور وہ) بھٹکتا پھرتا ہو۔ اس کے ساتھی ہوں کہ وہ اس کو ہدایت کی جانب بلا رہے ہوں کہ ہمارے پاس آ۔۔ آپ کہہ دیجئے کہ راہ تو بس اللہ کی (بتائی ہوئی) راہ ہے اور ہم کو حکم ہوا ہے کہ (سارے) جہانوں کے پروردگار کے (پورے) مطیع ہوجائیں۔وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ﴿72﴾
اور یہ کہ نماز کے پابند رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور وہ وہی ہے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے۔وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ﴿73﴾
اور وہ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا مقصد کے ساتھ اور جس روز وہ کہے گا کہ ہوجابس وہ ہوجائے گا ۔ اسی کا قول بااثر ہے اور اسی کی حکومت ہوگی اس روز جب صور پھونکا جائے گا وہ غیب اور ظاہر (دونوں) کا علم رکھنے والا ہے اور وہ حکمت والا ہے خبر رکھنے والا۔وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿74﴾
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ابرہیم ؑ نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ کیا تم بتوں کو معبود قرار دیتے ہو ؟ بیشک میں تو تمہیں اور تمہیں قوم کو کھلی ہوئی گمراہی میں (مبتلا) دیکھتا ہوں۔وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ﴿75﴾
اور اسی طرح ابراہیم ؑ کو ہم نے دیکھا دی آسمانوں اور زمین کی حکومت تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ﴿76﴾
تو یوں ہوا کہ جب رات ابراہیم پر چھاگئی انہوں نے ایک تارہ کو دیکھا بولے یہی میرا پروردگار ہے لیکن جب وہ غروب ہوگیا تو بولے میں غروب ہوجانے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ﴿77﴾
پھر جب چاند کو دیکھا چمکتے ہوئے تو بولے یہی میرا پروردگار ہے لیکن جب وہ (بھی) غروب ہوگیا تو بولے کہ اگر میرا پروردگار مجھے ہدایت نہ کرتا رہے تو میں بھی گمراہ لوگوں میں سے ہوجاؤں۔فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ﴿78﴾
پھر جب سورج کو چمکتے ہوئے دیکھا تو بولے یہی میرا پروردگار ہے یہی سب سے بڑا لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو بولے اے لوگو میں اس شرک سے بری (اور بیزار) ہوں جو تم کیا کرتے ہو۔اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ﴿79﴾
یقیناً میں نے تو اپنا رخ یکسو ہو کر اس کی طرف کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ﴿80﴾
اور ان کی قوم لگی ان سے جھگڑنے وہ بولے کہ کیا یہ جھگڑا مجھ سے اللہ کی باب میں کرتے ہو ؟ درآنحالیکہ وہ مجھے ہدایت کرچکا ہے۔ میں ان سے نہیں ڈرتا جنہیں تم (اللہ کا) شریک ٹھیرا رہے ہو ہاں البتہ اگر میرا پروردگار ہی کوئی امر چاہے میرا پروردگار ہر چیز کو علم سے گھیرے ہوئے ہے تو کیا تم خیال نہیں کرتے۔وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ﴿81﴾
اور میں اس سے کیوں ڈرنے لگا جس کو تم نے شریک ٹھیرا رکھا ہے درآنحالیکہ تم تو اس سے ڈرتے نہیں ہو کہ تم نے اللہ کا شریک ٹھیرایا ہے جن کے باب میں اس نے تم پر کوئی بھی دلیل نہیں اتاری ہے سو دونوں گروہوں میں سے امن کا زیادہ حقدار کون ہے ؟ اگر تم جانتے ہو۔اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ع﴿82﴾
جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو شرک سے مخلوط نہیں کیا ایسوں ہی کے لئے تو امن ہے اور وہی ہدایت یاب ہیں۔وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ﴿83﴾
یہ تھی ہماری دلیل جو ہم نے ابراہیم ؑ کو ان کی قوم کے مقابلہ پر دی تھی ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کرتے ہیں بیشک آپ کا پروردگار بڑا حکمت والا ہے بڑا علم والا ہے۔وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ﴿84﴾
اور ہم نے ابراہیم ؑ کو اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ عطا کئے ہر ایک کو ہم نے ہدایت کی۔ اور نوح ؑ کو ہم ہدایت دے چکے تھے زمانہ ماقبل میں اور ان کی نسل میں سے۔ داؤد ؑ اور سلیمان ؑ اور ایوب ؑ اور یوسف ؑ اور موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو اور ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیا کرتے ہیں۔وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ﴿85﴾
(اور ہم نے ہدایت دی) زکریا ؑ اور یحییٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ اور الیاس ؑ کو (یہ) سب صالحین میں سے تھے۔وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ﴿86﴾
اور (ہم نے ہدایت دی تھی) اسمعیل ؑ اور الیسع ؑ اور یونس ؑ اور لوط ؑ کو اور (ان میں سے) ہر ایک کو ہم نے جہان والوں پر فضلیت دی تھی۔وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿87﴾
(ہم نے ہدایت دی تھی) ان کے کچھ باپ دادوں کو اور ان کی کچھ اولاد کو اور ان کے کچھ بھائیوں کو اور ہم نے ان (سب) کو برگزیدہ کیا اور ہم نے ان (سب) کو راہ راست کی ہدایت کی تھی۔ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿88﴾
یہ اللہ کی (راہ) ہدایت ہے اس کی ہدایت وہ اپنے بندوں میں کردیتا ہے جس کو وہ چاہے اور اگر وہ شرک کرتے تو جو کچھ وہ کرتے رہے سب ان سے اکارت جاتا۔اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ﴿89﴾
یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں ہم نے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی تھی سو اگر یہ لوگ اس سے انکار کردیں تو ہم نے اس کے (ماننے کے) لئے ایسے لوگ مقرر کردئیے ہیں جو اس کے منکر نہیں ہیں۔اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ع﴿90﴾
یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت کی تھی سو آپ بھی ان کے طریقہ پر چلئے آپ کہہ دیجیے میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا وہ (یعنی قرآن) تو بس ایک نصحیت ہے (دنیا) جہان والوں کے لئے۔وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ﴿91﴾
اور انہوں نے اللہ کو نہیں پہنچانا جو اس کے پہچاننے کا حق تھا جب انہوں نے (یہ) کہہ دیا کہ خدا نے کسی بشر پر کوئی بھی چیز نہیں اتاری۔ آپ کہئے کہ وہ کتاب کس نے نازل کی تھی جسے لے کر موسیٰ ؑ آئے تھے (بجائے خود بھی) نور اور لوگوں کے لئے ہدایت بھی جس کو تم نے (مختلف) اوراق کر رکھا ہے کہ ظاہر کردیتے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو اور تم سکھائے گئے وہ جو تم نہیں جانتے تھے نہ تم اور نہ تمہارے باپ دادا آپ کہیے کہ اللہ نے پھر آپ انہیں ان کے مشغلوں میں بیہودگی سے پڑے ہوئے رہنے دیجیے۔وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ﴿92﴾
اور یہی کتاب ہے کہ ہم نے اس کو نازل کیا ہے برکت والی ہے تصدیق کرنے والی ہے اس کی جو اس سے پہلے ہوچکی ہیں تاکہ آپ ڈرائیں ام القری اور اس کے گرد والوں کو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس (کتاب) پر بھی ایمان لے آتے ہیں اور وہ اپنی نماز کی حفاظت رکھنے والے ہیں۔وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ﴿93﴾
اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ تہمت گڑھ لے یا کہنے لگے کہ میرے اوپر وحی آتی ہے درآنحالیکہ اس پر کچھ بھی وحی نہیں کی گئی ہے اور (اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا) جو کہے کہ جیسا (کلام) خدا نے نازل کیا ہے میں بھی (ایسا ہی) نازل کروں گا۔ کاش آپ اس وقت دیکھیں جب (یہ) ظالم موت کی سختیوں میں ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ (ان کی طرف) بڑھا رہے ہوں کہ اپنی جانیں (جلد) نکالو۔ آج تمہیں ذلک کا عذاب ملے گا بہ اس کے کہ تم اللہ پر جھوٹ اور اللہ کے ذمے ناحق باتیں جوڑا کرتے تھے اور تم اللہ کی نشانیوں کے مقابلہ میں تکبر کیا کرتے تھے۔وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ع﴿94﴾
اور اب تو تم ہمارے پاس تنہا تنہا آئے جیسا کہ ہم نے تمہیں اول بار پیدا کیا تھا اور اپنے پیچھے چھوڑ آئے جو کچھ ہم نے تم کو دیا تھا اور ہم تمہارے ہمراہ ان شفاعت کرنے والوں کو نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم دعوی کرتے تھے کہ وہ تمہارے معاملہ میں (ہمارے) شریک ہیں اب تو تمہارے آپس کا تعلق ٹوٹ کررہا اور تم سے گئے گزرے ہوئے وہ دعوے جو تم کرتے رہتے تھے۔اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ﴿95﴾
بیشک (اللہ ہی) دانہ اور گٹھلیوں کو پھاڑنے والا ہے وہی جاندار کو بےجان سے نکالتا ہے اور بےجان کو جاندار سے نکالنے والا ہے وہی تمہارا اللہ ہے سو تم کہاں الٹے چلے جارہے ہو۔فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ﴿96﴾
وہ صبح کا برآمد کرنے والا ہے اور اسی نے رات کو راحت کی چیز بنائی اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے یہ ٹھہرایا ہوا ہے بڑے غلبہ والے کا بڑے علم والا کا۔وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ﴿97﴾
وہ وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ تم ان کے ذریعہ سے خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راہ پاؤ بیشک ہم نے دلائل کھول کر بیان کردیئے ہیں ان لوگوں کے لئے جو خبر رکھتے ہیں۔وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ﴿98﴾
اور وہ وہی تو ہے جس نے تم (انسانوں) کو پیدا کیا ایک ہی شخص سے پھر ایک جگہ زیادہ رہنے کی اور ایک جگہ چندے رہنے کی بیشک ہم نے دلائل خوب کھول کر بیان کردیئے ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿99﴾
اور وہ وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی روئیدگی کو نکالا۔ پھر ہم نے اس سے سبز شاخ نکالی کہ ہم اس سے اوپر تلے چڑھے دانے نکالتے ہیں اور کجھور کے درختوں سے یعنی ان کے گپھوں سے خوشہ (نکلتے ہیں) نیچے کو لٹکے ہوئے اور (ہم نے) باغ انگور اور زیتون اور انار کے (پیدا کئے) باہم مشابہ اور غیر مشابہ۔ اس کے پھل کو دیکھو جب وہ پھلتا ہے اور اس کے پکنے کو (دیکھو) بیشک ان سب میں دلائل ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان کی طلب رکھتے ہیں۔وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ع﴿100﴾
اور لوگوں نے اللہ کا شریک جنات کو قرار دے رکھا ہے درآنحالیکہ اس نے انہیں پیدا کیا ہے اور لوگوں نے اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں محض بےسند تراش رکھی ہیں پاک اور برتر ہے وہ اس سے جو کچھ یہ (اس کے باب میں) بیان کرتے ہیں۔بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴿101﴾
موجد ہے آسمانوں اور زمین کا اس کے اولاد کہاں سے ہوسکتی ہے ؟ درآنحالیکہ اس کے بیوی ہی نہیں اور اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا اور وہی ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ﴿102﴾
یہ ہے اللہ تمہارا پروردگار کوئی خدا نہیں بجز اس کے ہر شے کا پیدا کرنے والا پس اسی کی عبادت کرو اور وہی ہر چیز کا کار ساز ہے۔لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ﴿103﴾
اسے نگاہیں نہیں گھیر سکتیں اور وہ نگاہوں کو گھیرے ہوئے ہے اور وہ بڑا باریک بین ہے بڑا باخبر ہے۔قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ﴿104﴾
اب تمہارے پاس روشن دلائل تمہارے پروردگار کے پاس سے پہنچ چکے ہیں سو جو کوئی بصارت سے کام لے گا وہ اپنے ہی لئے اور جو کوئی اندھا رہے گا اس پر (وبال) رہے گا اور میں کوئی تمہارے اوپر نگران تو ہوں نہیں۔وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ﴿105﴾
اور اسی طرح ہم دلائل کو (خوب) پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں جس سے یہ (کافر) یوں کہیں گے کہ آپ نے پڑھ لیا ہے۔ اور تاکہ ہم اس (قرآن) کو خوب کھول دیںاِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ﴿106﴾
ان لوگون کے لئے علم رکھتے ہیں۔ پیروی کئے جائیے اس کی جو آپ کے پروردگار کی جانب سے وحی کیا گیا ہے کوئی خدا نہیں ہے بجز اس کے اور مشرکوں کی جانب سے بےالتفات رہیے۔وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ﴿107﴾
اور اگر اللہ کی مشیت (یہی) ہوتی تو (لوگ) یہ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان پر کوئی نگران نہیں بنایا ہے اور نہ آپ ان پر مختار ہیں۔وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿108﴾
اور انہیں دشنام نہ دو جن کو یہ (لوگ) اللہ کے سوا پکارتے رہتے ہیں ورنہ یہ لوگ اللہ کو حد سے گزر کر براہ جہل دشنام دیں گے۔ اسی طرح ہم نے ہر طریق کے لوگوں کی نظر میں ان کا عمل خوشنما بنارکھا ہے پھر ان سب کو اپنے پروردگار کے پاس جانا ہے سو وہ انہیں جتلا دے گا جو کچھ بھی وہ کرتے رہتے تھے۔وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿109﴾
اور انہوں نے اللہ کی قسم بڑے زور سے کھا کر کہا کہ اگر ان کے پاس کوئی نشان آجائے تو وہ ضرور ہی اس پر ایمان لے آئیں آپ کہہ دیجئے نشانیاں تو (سب) اللہ ہی کے پاس ہیں اور تم خبر نہیں رکھتے کہ جب وہ نشان آجائے گا (جب بھی) یہ ایمان نہیں لائیں گے۔وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ع﴿110﴾
اور ہم بھی ان کے دلوں کو اور ان کی نظروں کو پھیردیں گے جیسا کہ یہ لوگ اس کے اوپر پہلی بار ایمان نہیں لائے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رہیں گے۔وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ﴿111﴾
اور خواہ ہم ان پر فرشتوں ہی کو اتار دیتے اور (خواہ) ان سے مردے (بھی) باتیں کرنے لگتے اور (خواہ) ہم ہر چیز کو ان کے پاس ان کے سامنے ہی لاکرجمع کردیتے جب بھی یہ لوگ ایمان لانے کے نہ تھے۔ سوا اس کے کہ اللہ ہی چاہے لیکن ان میں سے زیادہ تر جہالت ہی سے کام لیتے ہیں۔وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ﴿112﴾
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن (بہت سے) شیطان انسان اور جنات (دونوں) میں سے پیدا کردیئے تھے ایک دوسرے کو چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے ہیں دھوکے کے لئے۔ اور اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو یہ ایسا نہ کرسکتے سو آپ انہیں اور جو کچھ یہ افتراء کررہے ہیں اس کو چھوڑے رکھیے۔وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ﴿113﴾
تاکہ اس (فریب آمیز بات) کی طرف ان لوگوں کے دل مائل ہوجائیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور تاکہ اس کو یہ پسند کرنے لگیں اور تاکہ یہ مرتکب ہونے لگیں اس کے جس کے مرتکب ہورہے ہیں۔اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ﴿114﴾
تو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو بہ طور حاکم تلاش کروں درآنحالیکہ اسی نے ہی تو تمہارے پاس کتاب مفصل نازل کی ہے۔ اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (آسمانی) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ (یعنی قرآن) واقعیت کے ساتھ آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ سو آپ شک کرنے والوں میں نہ ہوجائیں۔وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿115﴾
اور آپ کے پروردگار کا یہ (کلام) صدق وعدل کے لحاظ سے کامل ہے کوئی بدل نہیں سکتا اس کے کلام کو اور وہی خوب سننے والا ہے پورا علم رکھنے والا ہے۔وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ﴿116﴾
اور جو (لوگ) زمین پر (آباد) ہیں ان میں سے اکثر کا کہنا اگر آپ ماننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بھٹکا کر رہیں۔ یہ تو بس اٹکل ہی کی پیروی کرتے ہیں اور محض گمان میں پڑے رہتے ہیں۔اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ﴿117﴾
بیشک آپ کا پروردگار خوب واقف ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہی راہ پائے ہوؤں کو بھی خوب جانتا ہے۔فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ﴿118﴾
سو اس (جانور) میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیاجائے اگر تم اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو۔وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ﴿119﴾
اور تمہارے لئے آخر کیا وجہ ہے کہ تم ایسے (جانور) میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیاجاچکا ہے جب کہ (اللہ) نے تمہیں تفصیل بتا دی ہے ان (جانوروں) کی جنہیں اس نے تم پر حرام کیا ہے۔ سوا اس کے کہ اس کے لئے تم مضطر ہوجاؤ اور یقیناً بہت سے لوگ اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کرتے رہتے ہیں بلاکسی علم کے بیشک آپ کا پروردگار ہی خوب جانتا ہے حد سے نکل جانے والوں کو۔وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ﴿120﴾
اور چھوڑ دو گناہ کے ظاہر کو (بھی) اور اس کے باطن کو (بھی) بیشک جو لوگ گناہ کما رہے ہیں انہیں عنقریب بدلہ مل جائے گا اس کا جو کچھ کہ وہ کرتے رہتے ہیں۔وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ع﴿121﴾
اور اس (جانور) میں سے مت کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو بیشک یہ بےحکمی ہے اور بیشک شیاطین اپنے دوستوں کو پٹی پڑھا رہے ہیں تاکہ وہ تم سے حجت کریں اور اگر تم ان کا کہا ماننے لگو تو یقیناً تم (بھی) مشرک ہوجاؤ گے۔اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿122﴾
کیا جو شخص مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کردیا اور ہم نے اس کے لئے ایک نور بنا دیا کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے وہ اس کی طرح ہوسکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے (اور) ان سے نکلنے نہیں پاتا۔ اسی طرح کافروں کی نظر میں خوشنما کردیا گیا ہے جو کچھ وہ کرتے رہتے ہیں۔وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ﴿123﴾
اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے رئیسوں ہی کو جرائم کا مرتکب بنایا تاکہ وہ وہاں چال چلا کریں حالانکہ وہ چال بس اپنے ہی خلاف چلتے ہیں اور (اس کو بھی) نہیں سمجھتے۔وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ﴿124﴾
اور جب انہیں کوئی نشان پہنچتا ہے۔ تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم کو بھی وہی نہ ملے جو اللہ کے پیغمبروں کو مل چکا ہے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی رسالت کا اہل ہے۔ جو لوگ مجرم ہیں ضرور انہیں اللہ کے پاس (پہنچ کر) ذلت نصیب ہوگی اور عذاب سخت (بھی) اس شرارت کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے۔فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿125﴾
اللہ جس کے لئے ارادہ کرلیتا ہے کہ اسے ہدایت نصیب کردے اس کا سینہ وہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔ اور جس کے لئے وہ ارادہ کرلیتا ہے کہ اسے گمراہ رکھے اس کے سینہ کو وہ تنگ (اور) بہت تنگ کردیتا ہے جیسے اسے آسمان میں چڑھنا پڑ رہا ہو۔ اس طرح اللہ گندگی ڈالے رکھتا ہے ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے۔وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ﴿126﴾
اور یہی تیرے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے۔ ہم نے آیتوں کو خوب کھول کر بیان کردیا ہے ان لوگوں کے لیے جو نصیحت کرتے ہیں۔لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿127﴾
ان کے واسطے سلامتی کا گھر ہے ان کے پروردگار کے پاس اور وہی ان کا دوست ہے بہ سبب اس کے کہ جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ﴿128﴾
اور وہ دن (یاد کرنے کے قابل ہے) جب (اللہ) ان سب کو جمع کرے گا (اور کہا جائے گا) اے جماعت جنات ! تم نے بڑا حصہ لیا انسانوں (کی گمراہی) میں۔ اور انسانوں میں سے ان کے دوست (بھی) کہیں گے اے ہمارے پروردگار (واقعی) ہم نے ایک دوسرے سے فائدہ حاصل کیا تھا اور ہم آپہنچے اپنی میعاد معین تک جو تو نے ہمارے لئے معین کی تھی۔ (اللہ) فرمائے گا تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اس میں (ہمیشہ کو) رہو گے سوا اس کے کہ اللہ ہی (نکالنا) چاہے بیشک آپ کا پروردگار بڑا حکمت والا ہے بڑا علم والا ہے۔وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ع﴿129﴾
اور اسی طرح ہم ظالموں کو ایک دوسرے کے قریب رکھیں گے بہ سبب ان اعمال کے جو وہ کرتے رہے تھے۔یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ﴿130﴾
اے جماعت جن وانس ! کیا تمہارے پاس تمہی میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے (جو) میرے احکام تمہیں سناتے تھے اور تمہیں اسی آج کے دن کے وقوع سے ڈرایا کرتے تھے بولیں گے (بیشک) ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں۔ ان کو (آج) دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور وہ اپنے خلاف خود گواہی دیں گے کہ بیشک ہم کافر رہے۔ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ﴿131﴾
یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ کا پروردگار بستیوں کو ظلم کی پاداش میں اس حال میں ہلاک نہیں کردیتا کہ وہاں کے باشندے بیخبر ہوں۔وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ﴿132﴾
اور ہر ایک کے لئے درجے ہیں جیسے اس نے عمل کئے ہیں اور جو کچھ یہ کرتے رہتے ہیں آپ کا پروردگار اس سے بیخبر نہیں۔وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ﴿133﴾
اور آپ کا پروردگار غنی ہے صاحب رحمت ہے۔ وہ چاہے تو تم (سب) کو اٹھا لے اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہاری جگہ لا بسائے جس طرح تم کو پیدا کردیا ایک دوسری قوم کی نسل سے۔اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ﴿134﴾
وہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بیشک آکر رہے گا اور تم (اللہ کو) ہرا انہیں سکتے۔قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ﴿135﴾
آپ کہہ دیجئے اے میری قوم والو ! عمل کرتے رہو اپنے طریقہ پر میں (اپنے طور پر) عمل کر رہا ہوں عنقریب ہی تم کو معلوم ہوجائے گا کہ انجام کار کس کے حق میں (نافع) ہے یقیناً ظالموں کو فلاح نہیں ہونے کی۔وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ﴿136﴾
اور ان لوگوں نے کھیتی اور مویشیوں میں سے جو (اللہ ہی نے) پیدا کئے ہیں کچھ حصہ اللہ کا مقرر کر رکھا ہے۔ اور اپنے خیال کے مطابق کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) اللہ کا ہے اور یہ (حصہ) ہمارے دیوتاؤں کا اور پھر جو (حصہ) ان کے دیوتاؤں کے لئے ہوتا ہے وہ تو اللہ کی طرف پہنچتا نہیں اور جو حصہ اللہ کا ہوتا وہ ان کے دیوتاؤں کی طرف پہنچ جاتا کیسی بری ہے ان کی تجویز ! ۔وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ﴿137﴾
اور اسی طرح ان کے دیوتاؤں نے بہت سے مشرکوں کی نظر میں ان کی اولاد کے قتل کو خوشنمابنا رکھا ہے۔ جس سے وہ انہیں برباد کرڈالیں اور ان کے دین کو ان پر مخبوط کردیں اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو آپ ان کو اور ان کی گڑھنت کو (ان کے حال پر) چھوڑے رہیں۔وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ﴿138﴾
اور کہتے ہیں اپنے خیال کے مطابق کہ یہ (فلاں فلاں) مواشی اور کھیت ممنوع ہیں انہیں کوئی نہیں کھا سکتا سوا ان کے جن کو ہم چاہیں اور (فلاں) چوپائے ہیں کہ ان کی پشت حرام کردی گئی ہے اور (فلاں) چوپائے ہیں کہ ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے ہیں (یہ سب) اللہ ہی پر بہتان باندھے ہوئے۔ (اللہ) انہیں ابھی بدلہ دیتا ہے اس بہتان کا جو یہ باندھ رہے ہیں۔وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ﴿139﴾
اور کہتے ہیں کہ ان چوپایوں کے شکم میں جو کچھ ہے وہ خالص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری بیویوں کے لئے حرام ہے۔ اور اگر وہ مردہ ہو تو اس میں وہ سب شریک ابھی (اللہ) ان سے بدلہ لیتا ہے ان کے (اس) بیان پر بیشک وہ بڑا حکمت والا ہے بڑا علم والا۔قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ع﴿140﴾
بڑے ہی گھاٹے میں وہ لوگ آگئے جنہوں نے اپنی اولاد کو قتل کردیا از راہ حماقت بغیر کسی بنیاد کے۔ اور جو کچھ انہیں اللہ نے نصیب کر رکھا تھا اسے (اپنے اوپر) حرام کرلیا اللہ پر افتراء کرتے ہوئے (یہ لوگ) خوب ہی بھٹکے اور (کسی طرح) راہ یاب نہ ہوئے۔وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ﴿141﴾
اور وہ وہی (اللہ) تو ہے جس نے باغ پیدا کئے (ٹیٹوں پر) چڑھائے ہوئے اور بغیر چڑھائے ہوئے اور کھجور کے درخت اور کھیتی کہ ان کے کھانے کی چیزیں مختلف ہوتی ہیں اور زیتوں اور انار باہم مشابہ (بھی) اور غیر مشابہ (بھی) ۔ اس کے پھلوں میں سے کھاؤ جب وہ نکل آئے اور اس کا حق (شرعی) اس کے کاٹنے کے دن ادا کردیا کرو۔ اور اسراف مت کرو بیشک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ﴿142﴾
اور چوپایوں میں بڑے قد کے (بھی) ہیں اور چھوٹے قد کے (بھی) اللہ نے تمہیں جو کچھ دے رکھا ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ وہ تو تمہارا کھلا ہوا دشمن ہےثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ﴿143﴾
(اللہ نے) آٹھ جوڑے (پیدا کئے) ۔ دو قسمیں بھیڑ میں سے اور دو قسمیں بکری میں سے آپ کہیے کہ (اللہ نے) آیا دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادوں کو یا اس (بچہ) کو جس کو دونوں مادائیں اپنے رحم میں لئے ہوئے ہیں مجھے بتلاؤ تو دلیل کے ساتھ اگر تم سچے ہو۔وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ع﴿144﴾
اور (اسی طرح) دو قسمیں ہیں اونٹ میں (بھی) اور دو قسمیں ہیں گائے میں (بھی) آپ کہیے کہ (اللہ نے) آیا دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادوں کو یا اس (بچہ) کو جسے دونوں مادہ اپنے رحموں میں لئے ہوئے ہیں۔ کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے تم کو اس کا حکم دیا تھا۔ تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے بغیر علم کے تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے اللہ تو ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿145﴾
آپ کہہ دیجے مجھ پر جو وحی آئی ہے اس میں تو میں (اور) کچھ نہیں حرام پاتا کسی کھانے والے کے لئے جو اسے کھائے سوا اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون کیا سؤر کا گوشت ہو کیوں کہ وہ (بالکل) گندہ ہے۔ یا جو فسق (کا ذریعہ) ہو غیر اللہ کے لئے نامزد کیا گیا۔ لیکن جو کوئی بیقرار ہوجائے اور طالب لذت نہ ہو نہ حد سے تجاوز کرے تو بیشک آپ کا پروردگار بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ﴿146﴾
اور جو لوگ کہ یہودی ہوئے ان پر ہم نے کھر والے کل جانور حرام کردیئے تھے۔ اور گائے اور بکری میں سے ہم نے ان پر ان دونوں کی چربیاں حرام کی تھیں بجز اس (چربی) کے جو ان کے پشتوں پر یا ان کی انتڑیوں میں لگی ہوئی ہو یا جو ہڈی سے ملی ہوئی ہو یہ سزا دی تھی ہم نے ان کو ان کی شرارت پر اور ہم ہی یقیناً سچے ہیں۔فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ﴿147﴾
سو اگر یہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ کہہ دیجیے کہ تمہارا پروردگار بڑی وسیع رحمت والا ہے اور اس کا عذاب مجرم لوگوں سے ٹل نہیں سکتا۔سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ﴿148﴾
جو لوگ شرک کرتے ہیں اب کہیں گے کہ اللہ اگر چاہتا تو شرک نہ ہم کرتے نہ ہمارے باپ دادا کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کرسکتے۔ اسی طرح جھٹلایا تھا ان لوگوں نے بھی جو ان سے قبل ہوئے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کو چکھا۔ آپ کہیے کہ آیا تمہارے پاس ہے کوئی دلیل ؟ (ہو) تو اسے ہمارے سامنے ظاہر کرو۔ تم تو نری گمان کی پیروی کرتے ہو اور محض اٹکل سے کام لیتے ہو۔قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ﴿149﴾
آپ کہہ دیجیے کہ پوری حجت تو اللہ ہی کی رہی اور اگر (اللہ) چاہتا تو سب کو ضرور ہدایت دے دیتا۔قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ع﴿150﴾
آپ کہیے کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو اس پر گواہی دیں کہ اللہ نے ان (چیزوں) کو حرام کیا ہے۔ اور اگر وہ (جھوٹی) گواہی دیں بھی دیں تو آپ نہ ان کے ساتھ گواہی دیجیے اور نہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کیجیے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اپنے پروردگار کے برابر (دوسروں) کو ٹھیراتے رہتے ہیں۔قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ﴿151﴾
آپ کہیے کہ آؤ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں وہ چیزیں جو تم پر تمہارے پروردگار نے حرام کی ہیں (یعنی یہ کہ) اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھیراؤ اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرتے رہو۔ اور اپنی اولاد کو افلاس (کے خیال) سے قتل مت کردیا کرو ہم ہی تم کو بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی۔ اور بےحیائیوں کے پاس بھی نہ جاؤ (خواہ) وہ علانیہ ہوں اور (خواہ) پوشیدہ۔ اور جس جان کو اللہ نے محفوظ کر رکھا ہے اسے قتل مت کرو بجز حق (شرعی) کے۔ اس (سب) کا اللہ نے تمہیں حکم دے رکھا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو۔وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ﴿152﴾
اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر اس طریق پر کہ جو مستحسن ہویہاں تک کہ وہ اپنی پختگی کو پہنچ جائے۔ اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کرو۔ ہم کسی شخص پر اس کے تحمل سے زائد بار نہیں ڈالتے۔ اور جب بولو تو عدل (کا خیال) رکھو اگرچہ وہ (شخص) قرابت دار ہی ہو۔ اور اللہ سے جو عہد کیا ہے اسے پورا کرو اس (سب) کا (اللہ نے) تمہیں حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ﴿153﴾
اور (یہ بھی کہہ دیجیے) کہ یہی میری سیدھی شاہراہ ہے سو اسی پر چلو اور (دوسری دوسری پگڈنڈیوں) راہوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو (اللہ کی) راہ سے جدا کردیں گی اس (سب) کا (اللہ نے) تمہیں حکم دیا ہے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ع﴿154﴾
پھر ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب دی جس سے اچھی طرح عمل کرنے والوں پر (نعمت) پوری ہو اور ہر (ضروری) چیز کی تفصیل (اس کے ذریعہ سے ہوجائے) اور (باعث) ہدایت ہو اور (ذریعہ) رحمت ہو تاکہ وہ لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات پر یقین لائیں۔وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ﴿155﴾
اور یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے بھیجا ہے (خیرو) برکت والی ہے سو (اب) اس کی پیروی کرو اور ڈرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ﴿156﴾
(اور اس لئے بھی) کہ کہیں تم یہ نہ کہنے لگتے کہ کتاب تو بس ان دو گروہوں پر اتاری گئی جو ہم سے پہلے تھے اور ہم تو ان کے پڑھنے پڑھانے سے نرے بیخبر ہی رہے۔اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ﴿157﴾
یا یوں کہنے لگتے کہ اگر ہم پر کتاب نازل ہوئی ہوتی تو ہم ان سے بھی بڑھ کر راہ پر ہوتے سو اب تو آچکی تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک روشن دلیل۔ اور ہدایت ہے اور رحمت ہے سو اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جو اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے اور اس سے (دوسروں کو) روکے ہم ابھی برے عذاب کے ساتھ ان لوگوں کو سزا دیں گے جو (دوسروں کو) روکتے ہیں بہ سبب ان کے (اس) روکنے کے۔هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ﴿158﴾
یہ لوگ (گویا) صرف اس کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا آپ کا پروردگار خود آئے یا آپ کے پروردگار کی کوئی نشانی آجائے۔ (حالانکہ) جس روز آپ کے پروردگار کی کوئی بڑی نشانی آپہنچے گی کسی شخص کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ لا چکا ہو یا اپنے ایمان کے ذریعہ سے اس نے کوئی نیکی نہ کرلی ہو۔ آپ کہہ دیجیے کہ تم انتظار کئے جاؤ ہم (بھی) منتظر ہیں۔اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ﴿159﴾
بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کردیا اور گروہ گروہ بن گئے آپ پر ان کی کچھ بھی ذمہ داری) نہیں ان کا معاملہ بس اللہ ہی کے حوالہ ہے۔ پھر وہی انہیں جتلا دے گا جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿160﴾
جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اس کو اس کے مثل دس (نیکیاں) ملیں گی۔ اور جو کوئی بدی لے کر آئے گا اس کو بس اس کے برابر ہی بدلہ ملے گا۔ اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ﴿161﴾
آپ کہہ دیجیے کہ مجھ کو میرے پروردگار نے ایک سیدھا راستہ بتا دیا ہے ایک دین مستحکم طریقہ ابراہیم ؑ راست رو کا اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿162﴾
آپ کہہ دیجیے کہ میری نماز اور میری (ساری) عبادتیں اور میری زندگی اور میری موت (سب) جہانوں کے پروردگار اللہ ہی کے لئے ہیں۔لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ﴿163﴾
(کوئی) اس کا شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم ملا ہے اور میں مسلموں میں سب سے پہلا ہوں۔قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ﴿164﴾
آپ کہیے کہ کیا میں اللہ کے سوا کسی کو بہ طور پروردگار تلاش کروں درآنحالیکہ وہی پروردگار ہے ہر چیز کا۔ اور جو شخص کچھ بھی حاصل کرتا ہے وہ اسی پر رہتا ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا پھر تم (سب) کی واپسی تمہارے پروردگار (ہی) کے پاس ہے سو وہی تم کو جتلائے گا جس جس چیز میں تم اختلاف کرتے تھے۔وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿165﴾
اور وہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین پر خلیفہ بنایا اور تم میں سے ایک کے رتبہ دوسرے پر بلند کئے تاکہ تمہیں ان چیزوں میں آزمائے جو اس نے تم کو دے رکھی ہیں۔ بیشک آپ کا پروردگار بہت جلد سزا دینے والا ہے اور بیشک وہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔