59. Al-Hashrالحشر

The Exile · Medinan · 24 ayahs · 3 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿1﴾

    اللہ ہی کی پاکی بیان کرتے ہیں جو کچھ بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ بڑا قوت والا ہے (بڑا) حکمت والا ہے۔
  2. هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ﴿2﴾

    وہ وہی ہے جس نے کفار اہل کتاب کو ان کے گھروں سے پہلی ہی بار اکٹھا کرکے نکال دیا۔ تمہارا گمان بھی نہ تھا کہ وہ نکلیں گے اور خود ان کا خیال یہ تھا کہ ان کے قلعے ان کو اللہ (کی گرفت) سے بچالیں گے۔ سو اللہ (کا عذاب) ان پر ایسی جگہ سے پہنچا کہ انہیں خیال بھی نہ تھا اور اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا تو وہ اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے ہی اجاڑ رہے تھے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی۔ سو اے دانش والو ! عبرت حاصل کرو۔
  3. وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ﴿3﴾

    اور اگر اللہ نے ان کے حق میں جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو وہ دنیا ہی میں انہیں (قتل کا) عذاب دیتا اور آخرت میں تو ان کے لئے عذاب دوزخ ہی ہے۔
  4. ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿4﴾

    یہ سب اسی سبب سے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو کوئی اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو پھر اللہ سزا دینے میں بڑا سخت ہے۔
  5. مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ﴿5﴾

    جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹے یا انہیں ان کی جڑوں پر قائم رہنے دیا سو یہ دونوں اللہ ہی کے حکم کے موافق ہیں۔ اور تاکہ اللہ نافرمانوں کو رسول کرے۔
  6. وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿6﴾

    اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان سے بطور فئے دلوایا سو تم نے اس کے لئے نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ۔ بلکہ اللہ اپنے پیغمبروں کو جس پر چاہے غلبہ دے دیتا ہے اور اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔
  7. مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ﴿7﴾

    جو کچھ اللہ اپنے رسول کو (دوسری) بسیتوں والوں سے بطور فئے دلوا دے سو وہ اللہ ہی کا حق ہے اور رسول کا اور (رسول کے) عزیزوں کا اور یتیموں کا اور مسکینوں کا اور مسافروں کا۔ تاکہ وہ (مال فئے) تمہارے تونگروں ہی کے قبضہ میں نہ آجائے۔ تو رسول جو کچھ تمہیں دے دیا کریں وہ لے لیا کرو اور جس سے وہ تمہیں روک دیں رک جایا کرو۔ اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سخت سزا دینے میں بڑا سخت ہے۔
  8. لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ﴿8﴾

    ان حاجت مندمہاجروں کا (یہ خاص طور پر) حق ہے جو اپنے گھروں اور اپنے مالوں سے جدا کردئے گئے ہیں اللہ کے فضل اور رضا مندی کے طلبگار ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یہی لوگ تو صادق ہیں۔
  9. وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ﴿9﴾

    اور ان لوگوں کا (بھی حق ہے) جو دارالاسلام اور ایمان میں ان کے قبل سے قرار پکڑے ہوئے ہیں اس سے جو ان کے پاس ہجرت کرکے آتا ہے اور اپنے دلوں میں کوئی رشک نہیں اس سے جو کچھ کہ انہیں ملتا ہے اپنے سے مقدم رکھتے ہیں اگرچہ خود فاقہ میں ہی ہو۔ اور جو اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا جائے سو ایسے ہی لوگ تو فلاح پانے والے ہیں۔
  10. وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿10﴾

    اور ان لوگوں کا (بھی حق ہے) جو ان کے بعد آئے (اور وہ) یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تو تو بڑا شفیق ہے بڑا مہربان ہے۔
  11. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ﴿11﴾

    کیا آپ نے منافقین کے حال پر نظر نہیں کی کہ اپنے بھائیوں سے کہ کفار اہل کتاب ہیں کہہ رہے تھے کہ اگر تم نکالے گئے تو قطعا ہم بھی تمہارے ساتھ نکل جائیں گے اور تمہارے معاملہ میں ہم کبھی کسی کا کہنا نہ مانیں گے اور اگر تم سے کسی کی لڑائی ہوگی تو ہم یقیناً تمہاری مدد کریں گے حالانکہ اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔
  12. لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ﴿12﴾

    (حالانکہ) اگر (اہل کتاب) نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہ نکلیں گے اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد نہ کریں گے اور اگر ان کی مدد کی بھی تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے پھر ان کی کوئی مدد نہ ہوگی۔
  13. لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ﴿13﴾

    بیشک تم لوگوں کا خوف ان کے دلوں میں اللہ سے بھی زیادہ ہے یہ اس لئے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ سے کام نہیں لیتے۔
  14. لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ﴿14﴾

    یہ لوگ تو سب مل کر بھی تم سے نہ لڑیں گے مگر ہاں حفاظت والی بستیوں یا دیواروں کی آڑ میں۔ ان کی لڑائی آپس میں (ہی) بڑی تیز ہے تو انہیں متفق خیال کرتا ہے حالانکہ ان کے قلب غیر متفق ہیں یہ اس لئے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو عقل کو کام میں نہیں لاتے۔
  15. كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ﴿15﴾

    (ان کی) مثال ان لوگوں کی سی ہے جو ان کے کچھ ہی قبل ہوئے ہیں جو اپنے کردار کا مزہ چکھ چکے ہیں اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔
  16. كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ﴿16﴾

    ان کی) مثال شیطان کی سی ہے۔ جو انسان سے کہتا ہے کہ کافر ہوجا پھر جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو (شیطان) کہنے لگتا ہے میرا تجھ سے کچھ واسطہ نہیں میں تو اللہ پروردگار عالم سے ڈرتا ہوں۔
  17. فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ع﴿17﴾

    سو آخری انجام دونوں کا یہ ہوا کہ دونوں دوزخ میں گئے جہاں ہمیشہ رہیں گے اور یہی سزا ہے ظالموں کی۔
  18. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ﴿18﴾

    اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ لے کہ اس نے کل کے واسطے کیا بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ کو تمہارے اعمال کی (پوری) خبر ہے۔
  19. وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴿19﴾

    اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیو جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا سو اللہ نے خود ان کی جانوں کو ان سے بھلادیا یہی لوگ تو نافرمان ہیں۔
  20. لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ﴿20﴾

    اہل دوزخ اور اہل جنت برابر نہیں اہل جنت توکامیاب لوگ ہیں۔
  21. لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ﴿21﴾

    اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تو اس کو دیکھتا کہ اللہ کے خوف سے سب جاتا پھٹ جاتا۔ اور ہم ان عجب (مؤثر) مضمونوں کو لوگوں کیلئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سوچیں۔
  22. هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ﴿22﴾

    اللہ وہی تو ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا وہی نہایت مہربان ہے بار بار رحم کرنے والا ہے۔
  23. هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ﴿23﴾

    اللہ وہی تو ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ بادشاہ ہے پاک ہے سالم ہے امن دینے والا ہے نگہبانی کرنے والا ہے زبردست ہے خرابی کا درست کرنے والا ہے بڑا عظمت والا ہے پاک ہے اللہ لوگوں کے شرک سے۔
  24. هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ع﴿24﴾

    وہی اللہ تو پیدا کرنے والا ہے ٹھیک ٹھیک بنانے والا ہے صورت بنانے والا ہے اسی کے اچھے اچھے نام ہیں اسی کی تسبیح کرتی ہیں جو چیزیں بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہی زبردست ہے حکمت والا ہے۔