4. An-Nisaaالنساء

The Women · Medinan · 176 ayahs · 24 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا﴿1﴾

    اے لوگو اپنے پروردگار سے تقوی اختیار کرو جس نے تم (سب) کو ایک ہی جان سے پیدا کیا۔ اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا۔ اور ان دونوں سے بہ کثرت مرد اور عورتیں پھیلا دیے۔ اور اللہ سے تقوی اختیار کرو جس کے واسطہ سے ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔ اور قرابتوں کے باب میں بھی (تقوی اختیار کرو) ۔ بیشک اللہ تمہارے اوپر نگران ہے۔
  2. وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا﴿2﴾

    اور یتیوں کو ان کا مال پہنچا دو اور پاکیزہ کو گندی چیز سے مت تبدیل کرو اور ان کا مال مت کھاؤ اپنے مال مت کھاؤ اپنے مال کے ساتھ بیشک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔
  3. وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ﴿3﴾

    اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے باب میں انصاف نہ کرسکو گے۔ تو جو عورتیں تمہیں پسند ہوں۔ ان سے نکاح کرلو دو دو سے خواہ تین تین سے خواہ چار چار سے۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم عدل نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی پر بس کرو ۔ یا جو کنیز تمہاری ملک میں ہو۔ اس میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب تر ہے۔
  4. وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا﴿4﴾

    اور تم بیویوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دے دیا کرو۔ لیکن اگر وہ خوشدلی سے تمہارے لیے اس میں کا کوئی جزء چھوڑ دیں تو تم اسے مزہ دار اور خوشگوار سمجھ کر کھاؤ۔
  5. وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا﴿5﴾

    اور کم عقلوں کو اپنا وہ مال نہ دے دو جس کو اللہ نے تمہارے لیے مایہ زندگی بنایا ہے اور اس مال میں سے انہیں کھلاتے اور پہناتے رہو اور ان سے بھلائی کی بات کہتے رہو۔
  6. وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا﴿6﴾

    اور یتیموں کی جانچ کرتے رہو یہاں تک کہ وہ عمر نکاح کو پہنچ جائیں۔ تو اگر تم ان میں ہوشیاری دیکھ لو تو ان کے حوالہ ان کا مال کردو۔ اور مال کو جلد جلد اسراف سے اور اس خیال سے کہ یہ بڑے ہوجائیں گے۔ مت کھاڈالو بلکہ جو شخص خوشحال ہو وہ تو اپنے کو بالکل روکے رکھے۔ البتہ جو شخص نادار ہو وہ مناسب مقدار میں کھا سکتا ہے۔ اور جب ان کے مال ان کے حوالہ کرنے لگو تو ان پر گواہ بھی کرلیا کرو اور اللہ حساب لینے والا کافی ہے۔
  7. لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا﴿7﴾

    مردوں کے لیے بھی اس چیز میں حصہ ہے جس کو والدین اور نزدیک کے قرابت دار چھوڑ جائیں اور عورتوں کے لئے بھی اس چیز میں حصہ ہے جس کو والدین اور نزدیک کے قرابت دار چھوڑ جائیں اس (متروکہ) میں سے تھوڑا ہو یا زیادہ (بہرحا ل) ایک حصہ قطعی ہے۔
  8. وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا﴿8﴾

    اور جب تقسیم کے وقت اعزہ اور یتیم اور مسکین موجود ہوں تو انہیں بھی اس میں سے (کچھ) دے دو اور ان سے ہمدردی کی بات کہو۔
  9. وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا﴿9﴾

    اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ اپنے پیچھے چھوٹے بچے چھوڑ جائیں تو انکی انہیں (کیسی) فکر رہے پس چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور بات پکی کہیں۔
  10. اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ع﴿10﴾

    بیشک جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھالیتے ہیں وہ بس اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں۔ اور عنقریب وہ دہکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے
  11. یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا﴿11﴾

    اللہ تمہیں تمہاری اولاد (کی میراث) کے بارے میں حکم دیتا ہے۔ مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصہ کے برابر ہے۔ اور اگر دو سے زائد عورتیں (ہی) ہوں۔ تو ان کے لیے دو تہائی (حصہ) اس (مال) کا ہے جو مورث چھوڑ گیا ہے۔ اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اس کے لیے نصف (حصہ) ہے۔ اور مورث کے والدین یعنی ان دونوں میں ہر ایک کے لیے اس (مال) کا چھٹا حصہ ہے جو وہ چھوڑ گیا ہے۔ بشرطیکہ مورث کے کوئی اولاد ہو۔ اور اگر مورث کے کوئی اولاد نہ ہو اور اس کے والدین ہی اس کے وارث ہوں تو اس کی ماں کا ایک تہائی ہے۔ لیکن اگر مورث کے بھائی بہن ہوں تو اس کی ماں کے لیے ایک چھٹا حصہ ہے۔ وصیت کے نکالنے کے بعد کہ مورث اس کی وصیت کرجائے یا ادائے قرض کے بعد۔ تمہارے باپ ہوں کے تمہارے بیٹے تم نہیں جانتے ہو کہ ان میں سے نفع پہنچانے میں تم سے قریب تر کون ہے۔ یہ سب اللہ کی طرف سے مقرر ہے بیشک اللہ ہی علم والا ہے حکمت والا ہے۔
  12. وَ لَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّ لَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ١ۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِی الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ۙ غَیْرَ مُضَآرٍّ١ۚ وَصِیَّةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَلِیْمٌؕ﴿12﴾

    اور تمہارے لیے اس (مال) کا آدھا حصہ ہے جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں بشرطیکہ ان کے کوئی اولاد نہ ہو۔ اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لیے بیویوں کے ترکہ کی چوتھائی ہے۔ وصیت (نکالنے) کے بعد جس کی وہ وصیت کرجائیں یا ادائے قرض کے بعد۔ اور ان (بیویوں) کے لئے تمہارے ترکہ کی چوتھائی ہے۔ بشرطیکہ تمہارے کوئی اولاد نہ ہو لیکن اگر تمہارے کچھ اولاد ہو تو ان (بیویوں) کو تمہارے ترکہ کا آٹھواں حصے ملے گا۔ بعد وصیت (نکالنے) کے جس کی تم وصیت کرجاؤ یا ادائے قرض کے بعد اور اگر کوئی مورث مرد ہو یا عورت ایسا ہو جس کے نہ اصول ہوں نہ فروع اور اس کے ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو دونوں میں سے ہر ایک کے لیے ایک چھٹا حصہ ہے اور اگر یہ لوگ اس سے زائد ہوں تو وہ ایک تہائی میں شریک ہوں گے۔ بعد وصیت (نکالنے) کے جس کی وصیت کردی جائے یا ادائے قرض کے بعد بغیر کسی کے نقصان پہنچائے۔ یہ حکم اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اللہ بڑا علم والا ہے بڑا بردبار ہے۔
  13. تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ یُدْخِلْهُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ﴿13﴾

    یہ سب خداوندی ضابطے ہیں۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی (پوری) اطاعت کرے گا اللہ اسے (بہشت کے) باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے۔
  14. وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَهٗ یُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِیْهَا١۪ وَ لَهٗ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ع﴿14﴾

    اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا اور اس کے ضابطوں کی حدود سے باہر نکل جائے گا اسے وہ (دوزخ کی) آگ میں داخل کرے گا اس میں وہ ہمیشہ ہمیش پڑا رہے گا اور اسے ذلت دینے والا عذاب ہوگا۔
  15. وَ الّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِّسَآئِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوْا عَلَیْهِنَّ اَرْبَعَةً مِّنْكُمْ١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَاَمْسِكُوْهُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰى یَتَوَفّٰهُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِیْلًا﴿15﴾

    اور تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی کا کام کریں۔ ان پر چار (آدمی) اپنے میں سے گواہ کرلو سو اگر وہ گواہی دے دیں تو ان (عورتوں) کو گھروں کے اندر بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا خاتمہ کردے۔۔ یا اللہ انکے لیے کوئی (اور) راہ نکال دے۔
  16. وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا﴿16﴾

    اور تم میں سے کوئی دو جو وہ کام کریں انہیں اذیت پہنچاؤ۔ پھر اگر دونوں توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں۔ تو ان سے تعرض نہ کرو۔ بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے بڑا مہربان ہے۔
  17. اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا﴿17﴾

    توبہ جس کا قبول کرنا اللہ کے ذمہ ہے وہ تو بس انہی لوگوں کی ہے جو بری حرکت نادانی سے کربیٹھتے ہیں۔ اور پھر قریب ہی (وقت میں) توبہ کرلیتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کی توبہ اللہ قبول کرتا ہے۔ اور اللہ بڑا علم والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔
  18. وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا﴿18﴾

    ایسے لوگوں کی توبہ نہیں ہے۔ جو (برابر) گناہ کرتے رہیں یہاں تک کہ موت ان میں سے کسی کے سامنے آکھڑی ہو۔ (اور تب) وہ کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اور نہ ان لوگوں (کی توبہ) جو اسی حال میں مرتے ہیں کہ وہ کافر ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے
  19. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا﴿19﴾

    اے ایمان والو تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم عورتوں کے جبرا مالک ہوجاؤ۔ اور نہ انہیں اس غرض سے قید رکھو کہ تم نے انہیں جو کچھ دے رکھا ہے اس کا کچھ حصہ وصول کرلو بجر اس صورت کے کہ وہ صریح بدکرداری کی مرتکب ہوں۔ اور بیویوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے گزر بسر کیا کرو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو عجب کیا کہ تم ایک شے کو ناپسند کرو اور اللہ اس کے اندر کوئی بڑی بھلائی رکھ دے۔
  20. وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا﴿20﴾

    اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ (دوسری) بیوی بدلنا چاہو۔ اور تم اس بیوی کو (مال کا) انبار دے چکے ہو تو تم اس میں سے کچھ بھی واپس مت لو۔ کیا تم بہتان رکھ کر اور صریح گناہ کرکے اسے (واپس) لوگے۔
  21. وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا﴿21﴾

    اور تم کیسے اسے (واپس) لے سکتے ہو درآنحالیکہ ایک دوسرے سے خلوت کرچکے ہو اور وہ (بیویاں) تم سے ایک مضبوط اقرار لے چکی ہیں۔
  22. وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ع﴿22﴾

    اور ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہیں مگر ہاں جو کچھ ہوچکا (ہوچکا) ۔ بیشک یہ بڑی بےحیائی اور نفرت کی بات تھی اور بہت برا طریقہ تھا۔
  23. حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ﴿23﴾

    تمہارے اوپر حرام کی گئی ہیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھائی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی بیٹیاں جو تمہاری پرورش میں رہی ہیں اور جو تمہاری ان بیویوں سے ہوں جن سے تم نے صحبت کی ہے لیکن اگر ابھی تم نے ان بیویوں سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر کوئی گناہ نہیں اور جو بیٹے تمہاری نسل سے ہوں ان کی بیویاں اور یہ بھی (حرام ہے) کہ تم دو بہنوں کو یکجا کرو مگر ہاں جو ہوچکا (ہوچکا) بیشک اللہ بڑا بخشنے والا ہے بڑا مہربان ہے۔
  24. وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا﴿24﴾

    اور وہ عورتیں بھی (حرام کی گئی ہیں) جو قید نکاح میں ہوں بجز ان کے جو تمہاری ملک میں آجائیں۔ اللہ نے فرض کردیا ہے (ان احکام کو) تم پر اور جو ان کے علاوہ ہیں وہ تمہارے لئے حلال کردی گئی ہیں۔ یعنی تم انہیں اپنے مال کے ذریعہ سے تلاش کرو (اس طور پر کہ) قید نکاح میں لانے والے ہو نہ کہ مستی نکالنے والے۔ پھر جس طریقہ سے تم نے ان عورتوں سے لذت لی ہے سو انہیں ان کے مقرر شدہ مہر دے دو اور تم پر اس (مقدار) کے بارے میں کوئی گناہ نہیں جس پر تم لوگ مہر کے طے ہوجانے کے بعدباہم رضامند ہوجاؤ۔ بیشک اللہ بڑا جاننے والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔
  25. وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿25﴾

    اور تم میں سے جو کوئی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرسکے۔ تو وہ تمہاری (آپس کی) مسلمان کنیزوں سے جو تمہاری ملک (شرعی) میں ہوں (نکاح کرے) ۔ اور اللہ تمہارے ایمان (کی حالت) سے خوب واقف ہے۔ تم (سب) آپس میں ایک ہو۔ سو ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کرلیا کرو۔ اور ان کے مہر انہیں دے دیا کرومقرر کے موافق۔ اس طرح کہ وہ قید نکاح میں لائی جائیں نہ کہ مستی نکالنے والیاں ہوں اور نہ چوری چھپے آشنائی کرنے والیاں۔ پھر جب وہ (کنیزیں) قید نکاح میں آجائیں اور پھر اگر وہ (بڑی) بےحیائی کا ارتکاب کریں تو ان کے لئے اس سزا کا نصف ہے۔ جو آزاد عورتوں کے لیے ہے۔ یہ اس کے لئے ہے جو تم میں سے بدکاری کا اندیشہ رکھتا ہو۔ اور اگر تم ضبط سے کام لو تو تمہارے حق میں کہیں بہتر ہے۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا ہے اور بڑا مہربان ہے۔
  26. یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ﴿26﴾

    اللہ کو منظور ہے کہ تم سے (احکام) کھول کر بیان کردے اور تم کو تم سے قبل والوں کے حالات بتلادے اور تم پر توجہ فرمائے۔ اور اللہ بڑا علم والا ہے اور بڑا حکمت والا ہے۔
  27. وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا﴿27﴾

    اور اللہ کو منظور ہے کہ تمہارے حال پر توجہ فرمائے۔ اور جو لوگ خواہشوں کے بندے ہیں۔ انہیں یہ منظور ہے کہ تم بڑی بھاری کجی میں پڑجاؤ۔
  28. یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا﴿28﴾

    اللہ کو منظور ہے کہ تمہارے ساتھ تخفیف برتین اور انسان تو کمزور پیدا ہی کیا گیا ہے۔
  29. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا﴿29﴾

    اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طور پر نہ کھاؤ۔ ہاں البتہ کوئی تجارت باہمی رضامندی سے ہو۔ اور اپنی جانوں کو قتل مت کرو۔ بیشک اللہ تمہارے حق میں بڑا مہربان ہے۔
  30. وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا﴿30﴾

    اور جو کوئی ایسا کرے گا سرکشی اور ظلم کی راہ سے تو ہم عنقریب اس کو آگ میں ڈالیں گے اور یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔
  31. اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا﴿31﴾

    اگر تم ان برے کاموں سے جو تمہیں منع کئے گئے ہیں بچتے رہے تو ہم تم سے تمہاری (چھوٹی) برائیاں دور کردیں گے۔ اور تمہیں ایک معزز مقام پر داخل کردیں گے۔
  32. وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا﴿32﴾

    اور تم ایسے امر کی تمنا نہ کیا کرو جس میں اللہ نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ہے۔ مردوں کے لیے ان کے اعمال کا حصہ (ثابت) ہے اور عورتوں کے لئے انکے اعمال کا حصہ (ثابت) ہے۔ اور اللہ سے اس کے فضل کی طلب کرو۔ بیشک اللہ ہر چیز سے خوب واقف ہے۔
  33. وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ع﴿33﴾

    اور جو مال والدین اور قرابت دار چھوڑ جائیں اس کے لیے ہم نے وارث ٹھہرا دیئے ہیں۔ اور جن لوگوں سے عہد بندھے ہوئے ہیں انہیں ان کا حصہ دے دو۔ بیشک اللہ ہر چیز پر مطلع ہے۔
  34. اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا﴿34﴾

    مرد عورتوں کے سر ددھرے ہیں۔ اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر بڑائی دی ہے۔ اور اس لئے کہ مردوں نے اپنا مال خرچ کیا ہے۔ سو نیک بیویاں اطاعت کرنے والی اور پیٹھ پیچھے اللہ کی حفاظت سے حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔ اور جو عورتیں ایسی ہوں کہ تم ان کی سرکشی کا علم رکھتے ہو۔ تو انہیں نصیحت کرو۔ اور انہیں خوابگاہوں میں تنہا چھوڑ دو ۔ اور انہیں مارو۔ پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو ان کے خلاف بہانے نہ ڈھونڈو۔ بیشک اللہ بڑا رفعت والا ہے بڑا عظمت والا ہے۔
  35. وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا﴿35﴾

    اور اگر تمہیں دونوں کے درمیاں کشمکش کا علم ہو۔ تو تم ایک حکم مرد کے خاندان سے اور ایک حکم عورت کے خاندان سے مقرر کردو۔ اگر دونوں کی نیت اصلاح حال کی ہوگی تو اللہ دونوں کے درمیان موافقت پیدا کردے گا۔ بیشک اللہ بڑا علم رکھنے والا ہے ہر طرح باخبر ہے۔
  36. وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَاۙ﴿36﴾

    اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ کرو۔ اور حسن سلوک (رکھو) والدین کے ساتھ اور قرابت داروں کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینوں اور پاس والے پڑوسی اور دور والے پڑوسی اور ہم مجلس اور راہ گیر کے ساتھ اور جو تمہاری ملک میں ہے ان کے ساتھ۔ قطعا اللہ ایسوں کو دوست نہیں رکھتا جو خود بین ہیں فخار ہیں۔
  37. اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًاۚ﴿37﴾

    جو بخل کرتے رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کی تعلیم دیتے ہیں اور جو کچھ انہیں اللہ نے اپنے فضل سے دے رکھا ہے اسے چھپاتے ہیں۔ اور ہم نے کافروں کے لیے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
  38. وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا﴿38﴾

    اور جو لوگو اپنا مال لوگوں کے دکھانے کے لئے خرچ کرتے رہتے ہیں اور نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ روز آخرت پر (تو یہ سب کافروں ہی کے حکم میں داخل ہیں) ۔ اور جس کا مصاحب شیطان ہوا سو برا مصاحب ہوا۔
  39. وَ مَا ذَا عَلَیْهِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِهِمْ عَلِیْمًا﴿39﴾

    اور انہیں کیا خرابی لاحق ہوجاتی اگر یہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان لے آتے اور جو کچھ اللہ نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے۔ اور اللہ ان سے خوب واقف ہے
  40. اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ١ۚ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً یُّضٰعِفْهَا وَ یُؤْتِ مِنْ لَّدُنْهُ اَجْرًا عَظِیْمًا﴿40﴾

    بیشک اللہ ذرہ بھر سے ظلم نہیں کرے گا۔ اور اگر ایک نیکی ہوگئی تو اسے دوگنا کردے گا اور اپنے پاس سے اجر عظیم دے گا۔
  41. فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ﴿41﴾

    سو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک ایک گواہ حاضر کریں گے۔ اور ان لوگوں پر آپ کو بہ طور گواہ پیش کریں گے۔
  42. یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ع﴿42﴾

    جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور پیغمبر کی نافرمانی کی ہے وہ اس روز تمنا کریں گے کہ کاش زمین ان پر برابر کردی جائے اور اللہ پر کوئی بات نہ چھپا سکیں گے۔
  43. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا﴿43﴾

    اے ایمان والو نماز کے قریب نہ جاؤ اس حال میں کہ تم نشہ میں ہو یہاں تک کہ جو کچھ (منہ سے) کہتے ہو اسے سمجھنے لگو۔ اور نہ حالت جنابت میں جب تک کہ غسل نہ کرلو۔ بجز اس حال کے کہ تم مسافر ہو۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو۔ یا تم میں سے کوئی استنجا سے آیا ہو۔ یا تم اپنی بیویوں سے قربت کی ہو۔ پھر تم کو پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلیا کرو یعنی اپنے چہروں اور ہاتھوں پر ہاتھ پھیرلیا کرو۔ بیشک اللہ بڑا معاف کرنے والا ہے بڑا بخشنے والا ہے۔
  44. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ﴿44﴾

    کیا تو نے نہیں دیکھا کہ جنہیں کتاب سے حصہ ملا تھا وہ گمراہی کو مول لے رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم (بھی) گمراہ ہوجاؤ۔
  45. وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا﴿45﴾

    اللہ تمہارے دشمنوں سے خوف واقف ہے۔ اور اللہ کا حمایتی ہونا کافی ہے۔ اور اللہ کا مددگار ہونا کافی ہے۔
  46. مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا﴿46﴾

    جو لوگ یہودی ہوگئے ہیں ان میں سے ایسے بھی ہیں جو کلام کو اس کے موقعوں سے پھیرتے رہتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہم نے سنا مگر ہم نے مانا نہیں اور (ہماری) سنو اور تمہیں سنوایا نہ جائے اور ”راعنا“ میں زبانوں کو توڑ موڑ کر دین میں طعنہ زنی کی راہ سے اور اگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور ہم نے قبول کیا اور (ہماری) سنو اور ”انظرنا“ تو ان کے حق میں کہیں بہتر اور درست ترہوتا۔ لیکن اللہ نے تو ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کی ہے۔ سو وہ ایمان نہ لائیں گے مگر تھوڑے سے۔
  47. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا﴿47﴾

    اے وہ لوگوج نہیں کتاب مل چکی ہے اس (کتاب) پر ایمان لاؤ جسے ہم نے نازل کیا ہے تصدیق کرنے والی اس (کتاب) کی جو تمہارے پاس ہے۔ قبل اس کے کہ ہم چہروں کو مٹا ڈالیں اور چہروں کو ان کے پیچھے کی جانب الٹا دیں۔ یا ہم ان پر (اس طرح) لعنت کریں جس طرح ہم نے سبت والوں پر لعنت کی تھی۔ اور اللہ کا حکم پورا ہو کر ہی رہتا ہے۔
  48. اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا﴿48﴾

    اللہ اس کو تو بیشک نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔ لیکن اس کے علاوہ جس کسی کو بھی چاہے گا بخش دے گا اور جو کوئی (کسی کو) اللہ کا شریک ٹھہراتا ہے اس نے یقیناً ایک بڑا گناہ سمیٹا۔
  49. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا﴿49﴾

    کیا تو نے ان پر نظر نہیں کی جو اپنے پاکیزہ ٹھہراتے ہیں۔ حالانکہ اللہ جسے چاہے پاکیزہ ٹھہرائے۔ اور ان پر دھاگا برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔
  50. اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ع﴿50﴾

    دیکھ تو یہ لوگ اللہ پر کیسا جھوٹا طوفان باندھتے ہیں اور یہ کافی ہے جرم صریح کیلئے۔
  51. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا﴿51﴾

    کیا تو نے ان لوگوں پر نظر نہیں کی جنہیں کتاب سے بہرہ ور کیا گیا تھا۔ (اس پر بھی) یہ بت اور شیطان کو مانے ہوئے ہیں۔ اور کفر کرنے والوں کی بابت کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی لوگ زیادہ ہدایت یاب ہیں۔
  52. اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ﴿52﴾

    یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ اور جس پر اللہ لعنت کرے تو اس کا کوئی مددگار ہرگز نہ پائے گا۔
  53. اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ﴿53﴾

    کیا انہیں بھی کچھ اقتدار نصیب ہوجائے تو یہ تو لوگوں کو تل بھر بھی نہ دیں۔
  54. اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا﴿54﴾

    کیا یہ لوگوں پر حسد کررہے ہیں ان چیزوں کے باعث جو انہیں اللہ نے اپنے فضل سے دے رکھی ہیں۔ سو ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت دی ہے اور ہم نے انہیں بڑا اقتدار بھی دیا ہے۔
  55. فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا﴿55﴾

    اور ان میں سے کوئی کوئی تو اس پر ایمان لائے اور کوئی کوئی اس سے رکے رہے اور دہکتا ہوا جہنم ہی کافی ہے۔
  56. اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا﴿56﴾

    بیشک جن لوگوں نے ہماری نشانیوں کے ساتھ کفر کیا ہم انہیں عنقریب (دوزخ کی) آگ میں جھونکیں گے جب کبھی انکی جلدی پک جائیں گی ہم ان کی جلدوں کو بدل کر دوسری کردیا کریں گے تاکہ وہ (برابر تازہ) عذاب چکھتے رہیں۔ بیشک اللہ زبردست ہے حکمت والا ہے۔
  57. وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا﴿57﴾

    اور جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے انہیں ہم عنقریب باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں پڑی بہ رہی ہوں گی ان میں سے وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے ان کے لیے ان باغوں میں صاف ستھری بیویاں ہوں گی اور ہم انہیں بڑے گنجان سایہ میں لااتاریں گے۔
  58. اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا﴿58﴾

    اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کو ادا کرو۔ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ بیشک اللہ تم کو بہت ہی اچھی بات کی نصیحت کرتا ہے۔ بیشک اللہ بڑا سننے والا ہے بڑا دیکھنے والا ہے۔
  59. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ع﴿59﴾

    اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اور اپنے میں سے اہل اختیار کی اطاعت کرو۔ پھر اگر تم میں باہم اختلاف ہوجائے کسی چیز میں تو اس کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا لیا کرو۔ اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی خوشتر ہے۔
  60. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا﴿60﴾

    کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں کی جو دعوی رکھتے ہیں کہ وہ اس (کتاب) پر ایمان لے آئے ہیں جو آپ پر نازل کی گئی ہے اور جو آپ سے قبل نازل ہوچکی ہے۔ (لیکن) چاہتے یہ ہیں کہ اپنے مقدمہ طاغوت کے پاس لے جائیں۔ حالانکہ انہیں حکم مل چکا ہے کہ اس کے مقابلہ میں کفر اختیار کریں۔ اور شیطان تو چاہتا ہی یہ ہے کہ انہیں بھٹکا کر بہت دور دراز لے جائے۔
  61. وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ﴿61﴾

    اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس حکم کی طرف آؤ جسے اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول کی طرف آؤ تو آپ دیکھیں گے کہ منافقین آپ کی طرف سے بڑی پہلوتہی کررہے ہیں۔
  62. فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا﴿62﴾

    پھر کیسی گزرتی ہے جب ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے اپنے ہی ہاتھوں۔ پھر آپ کے پاس آتے ہیں اللہ کی قسم کھاتے ہوئے کہ ہمارا مقصد تو محض بھلائی اور مصالحت تھا۔
  63. اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا﴿63﴾

    یہ وہ لوگ ہیں کہ جو کچھ ان کے دلوں میں ہے اللہ (اسے) سب جانتا ہے تو آپ ان سے چشم پوشی کرجایا کیجئے۔ اور انہیں نصیحت کرتے رہئے اور انہیں ان کے باب میں مؤثر بات کہتے رہئے۔
  64. وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا﴿64﴾

    اور ہم نے جو بھی رسول بھیجا وہ اس غرض سے کہ اس کی اطاعت اللہ کے حکم سے کی جائے۔ اور کاش کہ جس وقت یہ اپنی جانوں پر زیادتی کربیٹھے تھے آپ کے پاس آجاتے پھر اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہتے اور رسول بھی ان حق میں مغفرت چاہتے تو یہ ضرور اللہ کو توبہ قبول کرنے والا اور مہربان پاتے۔
  65. فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا﴿65﴾

    سو آپ کے پروردگار کی قسم ہے کہ یہ لوگ ایمان دار نہ ہوں گے۔ جب تک یہ لوگ اس جھگڑے میں جو انکے آپس میں ہو آپ کو حکم نہ بنالیں اور پھر جو فیصلہ آپ کردیں اس سے اپنے دلوں میں تنگی نہ پائیں اور اس کو پورا پورا تسلیم کرلیں۔
  66. وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ﴿66﴾

    اور اگر ہم نے ان پر فرض کردیا ہوتا کہ اپنے آپ کو مارڈالو یا یہ کہ اپنے وطن سے نکل جاؤ تو اس کو ان میں سے نہ کرتے کوئی مگر بجز تھوڑے سے لوگوں کے۔ اور اگر یہ (لوگ) وہ کر ڈالتے جس کی انہیں نصیحت کی جاتی ہے تو ان کے حق میں یہ بہتر بھی ہوتا اور انہیں ثابت قدم رکھنے والا بھی۔
  67. وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ﴿67﴾

    اور اس وقت ہم انہیں ضرور اپنے پاس سے اجر عظیم دیتے۔
  68. وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا﴿68﴾

    اور ہم انہیں سیدھی شاہراہ دکھا دیتے۔
  69. وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ﴿69﴾

    اور جو کوئی اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا تو ایسے لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے (اپنا خاص) انعام کیا ہے (یعنی) پیغمبر اور اولیاء اور شہید اور صالحین اور یہ کیسے اچھے رفیق ہیں۔
  70. ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ع﴿70﴾

    یہ فضل ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ ہی کا علم کافی ہے۔
  71. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا﴿71﴾

    اے ایمان والو ! اپنی احتیاط کرلو پھر گروہ گروہ کوچ کرو یا اکٹھے۔
  72. وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا﴿72﴾

    اور یقیناً تم میں کوئی ایسا بھی ہے جو دیر لگا دیتا ہے۔ اور پھر تم پر اگر کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو کہتا ہے کہ بیشک مجھ پر اللہ نے بڑا فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ شریک نہ ہوا۔
  73. وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا﴿73﴾

    اور اگر تمہیں اللہ کا فضل پیش آتا ہے تو بول اٹھتا ہے (اس بےتعلقی کے ساتھ کہ) گویا تمہارے اور اس کے درمیان کوئی (رشتہ) محبت تھا ہی نہیں کہ کاش ! میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو میں بھی بڑی کامیابی حاصل کرتا۔
  74. فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا﴿74﴾

    تو (اگر یہ ہے تو) اسے چاہیے کہ اللہ کی راہ میں لڑے۔ A ان لوگوں سے جو دنیا کی زندگی خریدے ہوئے ہیں آخرت کے عوض میں۔ اور جو کوئی اللہ کی راہ میں لڑتا ہے تو مارا جائے یا جیت جائے (بہرصورت) ہم اس کو عنقریب اجر عظیم دیں گے۔
  75. وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ﴿75﴾

    اور تمہیں کیا (عذر) ہے کہ تم جنگ نہیں کرتے ہو اللہ کی راہ میں۔ اور ان لوگوں کے لئے جو کمزور ہیں مردوں میں سے اور عورتوں اور لڑکوں (میں سے) ۔ جو یہ کہہ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم کو اس بستی سے باہر نکال جس کے باشندے (سخت) ظالم ہیں۔ اور ہمارے لئے اپنی قدرت سے کوئی دوست پیدا کردے اور ہمارے لئے اپنی قدرت سے کوئی حمایتی کھڑا کردے۔
  76. اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ع﴿76﴾

    جو ایمان والے ہیں وہ تو اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں۔ اور جو کافر ہیں وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں۔ سو تم لڑو شیطان کے ساتھیوں سے اور شیطان کی چال تو لچر ہی ہوتی ہے۔
  77. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا﴿77﴾

    کیا تو نے ان لوگوں کے حال پر نظر نہیں کی جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رہو اور نماز کی پابندی کرو اور زکوٰۃ دیتے رہو۔ پھر جب ان پر قتال فرض کردیا گیا تو تو ان میں سے ایک گروہ انسانوں سے ایسا ڈرنے لگا جیسے اللہ سے ڈرنا (ہوتا) ہے یا اس سے بھی بڑھ کر ڈرنا۔ اور وہ لوگ بولے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہم پر قتال کیوں فرض کردیا کاش تھوڑی مدت تو اور ہم کو (جینے کی) مہلت دے دیتا۔ آپ کہہ دیجئے کہ دنیا کا سامان (بہت ہی) تھوڑا ہے اور آخرت اس کے لئے کہیں بہتر ہے جو تقوی (اختیار) کرے۔ اور تم پر دھاگے برابر بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔
  78. اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا﴿78﴾

    تم جہاں کہیں بھی ہوگے وہیں تمہاری موت آ لے گی خواہ تم مضبوط قلعوں ہی میں ہو۔ اور اگر انہیں کوئی سکھ پہنچ جاتا ہے تو کہتے ہیں یہ تو خدا کی طرف سے ہے اور اگر انہیں کوئی دکھ پیش آجاتا ہے تو کہتے ہیں یہ آپ کے سبب ہوا۔ کہہ دیجیے کہ ہر چیز اللہ ہی کی طرف سے ہے سو ان لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ گویا یہ بات ہی نہیں سمجھتے۔
  79. مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا﴿79﴾

    تجھے جو بھی سکھ پیش آتا ہے وہ بس اللہ ہی کی طرف سے ہے اور جو دکھ پہنچتا ہے وہ تیرے اپنے ہی سبب سے ہے۔ اور ہم نے آپ کو انسانوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔
  80. مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ﴿80﴾

    جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ ہی کی اطاعت کی۔ اور جو کوئی روگردانی کرلے سو ہم نے آپ کو ان پر نگران کرکے نہیں بھیجا ہے۔
  81. وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا﴿81﴾

    اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ طاعت (قبول ہے) ۔ لیکن آپ کے پاس سے باہر جاتے ہیں تو ان میں سے ایک جماعت شب کے وقت اس کے برخلاف مشورہ کرتی ہے جو کچھ کہ وہ کہہ چکے تھے اور اللہ ان کے رات والے مشوروں کو لکھتا جاتا ہے تو آپ ان کی طرف سے بےالتفات رہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھیے اور اللہ ہی کافی کارساز ہے۔
  82. اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا﴿82﴾

    کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ (کلام) اللہ کے سوا کسی (اور) کی طرف سے ہوتا تو اس کے اندر بڑا اختلاف پاتے۔
  83. وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا﴿83﴾

    اور انہیں جب کوئی بات امن یا خوف کی پہنچتی ہے تو یہ اسے پھیلا دیتے ہیں۔ اور اگر یہ لوگ اسے رسول کے یا اپنے میں سے صاحبان امر کے حوالہ کردیتے۔ تو ان میں سے جو لوگ استنباط کی صلاحیت رکھتے ہیں اس کی حقیقت بھی جان لیتے۔ اور اگر تم پر اللہ کی رحمت شامل نہ ہوتی تو تم (سب) بجز تھوڑے سے لوگوں کے شیطان کی پیروی کرنے لگ جاتے۔
  84. فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا﴿84﴾

    تو آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجئے۔ آپ پر ذمہ داری نہیں ڈالی جاتی بجز آپ کی اپنی ذات کے۔ اور آپ مسلمانوں کو بھی آمادہ کرتے رہیے۔ اور عجب نہیں کہ اللہ کافروں کا زور روک دے۔ اور اللہ بڑا ہی زور والا ہے بڑا ہی سزا والا ہے۔
  85. مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا﴿85﴾

    جو کوئی اچھی سفارش کرے گا اس کو اس میں سے حصہ ملے گا۔ اور جو کوئی بری سفارش لائے گا اس پر اس میں سے بار رہے گا۔ اور اللہ ہر چیز پر طاقت رکھنے والا ہے۔
  86. وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا﴿86﴾

    اور جب تمہیں سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر طور پر سلام کرو یا اسی کو لوٹا دو بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔
  87. اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ع﴿87﴾

    اللہ وہ ہے کہ کوئی معبود نہیں بجز اس کے وہ ضرور تم (سب) کو قیامت کے دن جمع کرے گا اس میں کوئی شبہ نہیں اور کون اللہ سے بڑھ کر بات میں سچا ہے۔
  88. فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا﴿88﴾

    سو تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم منافقین کے باب میں دو گروہ ہوگئے ہو۔ درآنحالیکہ اللہ نے ان کے کرتوتوں کے باعث انہیں الٹا پھیر دیا۔ کیا تم چاہتے ہو کہ انہیں راہ دکھاؤ جنہیں اللہ نے گمراہ کر رکھا ہے اور جسے اللہ گمراہ کردے ان کے لیے تو ہرگز راہ نہ پائے گا۔
  89. وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ﴿89﴾

    یہ لوگ تو دل سے چاہتے ہیں کہ تم بھی کفر کرو جیسے یہ لوگ کفر کررہے ہیں تاکہ تم (سب) برابر ہوجاؤ۔ سو تم ان میں سے (کسی کو) دوست نہ بنانا جب تک اللہ کی راہ میں ہجرت نہ کریں۔ اور اگر وہ روگردانی کریں تو انہیں پکڑو اور جہاں کہیں انہیں پاؤ انہیں قتل کرو اور ان میں سے (کسی کو) دوست اور مددگار نہ بناؤ۔
  90. اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا﴿90﴾

    بجز ایسوں کے جو ان لوگوں سے جاملتے ہیں جن کے اور تمہارے درمیان عہد ہے۔ یا تمہارے ہی پاس اس طرح آتے ہیں کہ ان کے سینے اس سے تنگ ہورہے ہیں کہ تم سے لڑیں یا اپنی ہی قوم سے لڑیں۔ اور اگر اللہ چاہتا تو انہیں تمہارے اوپر مسلط کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے۔ تو اگر وہ تمہیں چھوڑے رہیں اور تم سے قتال نہ کریں اور تمہارے ساتھ سلامت روی رکھیں تو اللہ نے ان کے خلاف تمہارے لئے کوئی راہ نہیں رکھی ہے۔
  91. سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ع﴿91﴾

    عنقریب کچھ لوگ اور بھی پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں۔ انہیں جب کبھی فساد کی طرف لوٹایا جاتا ہے تو اس میں پلٹ پڑتے ہیں۔ تو اگر یہ تمہیں چھوڑے نہ رہیں اور نہ تمہارے ساتھ سلامت روی رکھیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو (تم سے) روکیں تو تم بھی انہیں پکڑو اور انہیں قتل کرو جہاں کہیں بھی انہیں پاؤ یہی لوگ تو ہیں جن کے خلاف ہم نے تم کو صاف گرفت دین رکھی ہے۔
  92. وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا﴿92﴾

    اور یہ کسی مومن کے شایان نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کردے بجز اس کے کہ غلطی سے ایسا ہوجائے۔ اور جو کوئی کسی مومن کو غلطی سے قتل کرڈالے تو ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا (اس پر واجب ہے) اور خون بہا بھی جو اس کے عزیزوں کے حوالہ کیا جائے گا۔ سو اس کے کہ وہ لوگ (خود ہی) اسے معاف کردیں۔ تو اگر وہ ایسی قوم میں ہو جو تمہاری دشمن ہے درآنحالیکہ (وہ بذات خود) مومن ہے تو ایک مسلم غلام کا آزاد کرنا (واجب ہے) ۔ اور اگر ایسی قوم سے ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہے۔ تو خون بہا واجب ہے جو اس کے عزیزوں کے حوالہ کیا جائے گا اور ایک مسلم غلام کا آزاد کرنا (بھی) ۔ پھر جس کو یہ نہ میسر ہو اس پر دو مہینے کے لگا تار روزے رکھنا (واجب ہے) یہ توبہ اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ بڑا علم والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔
  93. وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا﴿93﴾

    اور جو کوئی کسی مومن کو قصدا قتل کردے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ پڑا رہے گا اور اللہ پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس کے لیے عذاب عظیم تیار رکھے گا۔
  94. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا﴿94﴾

    اے ایمان والو ! جب تم سفر کرو اللہ کی راہ میں تو خوب تحقیق کرلیا کرو۔ اور جو تمہیں سلام کرتا ہو۔ اسے یہ مت کہہ دیا کرو کہ تو تو مسلمان ہی نہیں۔ تودنیوی زندگی کا سامان تلاش کرتے ہو تو اللہ کے پاس تو (بہت) کثرت سے مال غنیمت ہے۔ ایسے ہی تم بھی تو پہلے تھے۔ پھر اللہ نے تم پر کرم کیا۔ تو (خوب) تحقیق کرلیا کرو بیشک تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کی خوب خبر رکھتا ہے۔
  95. لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ﴿95﴾

    مسلمانوں میں سے بلاعذر (گھر) بیٹھ رہنے والے اور اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ اللہ نے جان ومال سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجہ میں فضیلت دے رکھی ہے اور بھلائی کا وعدہ تو اللہ نے سب (ہی) سے کر رکھا ہے۔ اور اللہ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اجر عظیم کے لحاظ سے برتری دے رکھی ہے۔
  96. دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ع﴿96﴾

    یعنی اللہ کی طرف سے (بہت سے) درجے اور بخشش اور رحمت اور اللہ ہے ہی بڑا بخشش والا بڑا رحمت والا۔
  97. اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ﴿97﴾

    بیشک ان لوگوں کی جان جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کر رکھا ہے (جب) فرشتے قبض کرتے ہیں تو ان سے کہیں گے کہ تم کس کام میں تھے۔ وہ بولیں گے ہم اس ملک میں بےبس تھے۔ فرشتے کہیں گے کہ اللہ کی سرزمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے ؟ تو یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔
  98. اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ﴿98﴾

    بجز ان لوگوں کے جو مردوں اور عورتوں بچوں میں سے کمزور ہوں (کہ) نہ کوئی تدبیر ہی کرسکتے ہوں اور نہ کوئی راہ پاتے ہوں۔
  99. فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا﴿99﴾

    تو یہ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ انہیں معاف کردے گا اور اللہ تو ہے ہی بڑا معاف کرنے والا بڑا بخشنے والا۔
  100. وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ع﴿100﴾

    اور جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین پر جانے کی بہت جگہ اور گنجائش پائے گا۔ اور جو کوئی اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کرتا ہوا نکلے اور اسے پھر موت آئے۔ تو اس کا اجر یقیناً اللہ کے ذمہ ثابت رہا اور اللہ تو ہے ہی بڑا بخشنے والا بڑا مہربان۔
  101. وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا﴿101﴾

    اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر اس باب میں کوئی مضائقہ نہیں کہ نماز میں کمی کردیا کرو اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر لوگ تمہیں ستائیں گے۔ بیشک کافر تو تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہی ہیں
  102. وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا﴿102﴾

    اور جب آپ ان کے درمیان ہوں اور انکے کے لئے نماز قائم کریں تو چاہیے کہ ان میں کا ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوجائے اور وہ لوگ اپنے ہتھیار لئے رہیں۔ پھر جب وہ سجدہ کرچکیں تو اب چاہیے کہ وہ تم لوگوں کے پیچھے ہوجائیں اور دوسرا گروہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے آجائیں اور وہ آپ کے ساتھ نماز پڑھ لیں اور یہ لوگ بھی اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار (ساتھ) لئے رہیں۔ کافروں کی تو خواہش ہی یہ ہے کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان سے (ذرا) غافل ہوجاؤ تو یہ لوگ تمہارے اوپر یک بارگی ہی ٹوٹ پڑیں۔ اور تمہارے لئے اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ اگر تمہیں بارش سے تکلیف ہورہی ہو یا تم بیمار ہو تو اپنے ہتھیار اتار رکھو اور اپنے بچاؤ کا سامان لئے رہو۔ بیشک اللہ نے کافروں کیلئے ایک رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے
  103. فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًاع﴿103﴾

    پھر جب تم (اس) نماز کو ادا کرچکو تو اللہ کی یاد میں لگ جانا کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے۔ اور پھر جب تمہیں اطمینان حاصل ہوجائے تو نماز کی اقامت کرو۔ بیشک نماز تو ایمان والوں پر پابندی وقت کے ساتھ فرض ہے۔
  104. وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠﴿104﴾

    اور (مخالف) قوم کے تعاقب میں ہمت نہ ہارو۔ اگر تمہیں دکھ پہنچا تو وہ بھی تو دکھ اٹھائے ہوئے ہیں جیسے تم دکھ اٹھائے ہوئے ہو اور تم اللہ سے وہ امید لگائے ہوئے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔ اور اللہ تو ہے ہی بڑا علم والا بڑا حکمت والا۔
  105. اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ﴿105﴾

    یقیناً ہم نے آپ کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے تاکہ آپ لوگوں کے درمیان فیصلہ اس کے مطابق کریں جو اللہ آپ کو سجھا دیا ہے۔ اور (ان) خائنوں کے طرفدار نہ ہوجائیے۔
  106. وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ﴿106﴾

    اور آپ اللہ سے مغفرت چاہیے بیشک اللہ بڑا ہی مغفرت والا ہے بڑا ہی رحیم ہے۔
  107. وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ﴿107﴾

    اور ان لوگوں کی طرف سے وکالت نہ کیجئے جو اپنے حق میں خیانت کرتے رہے ہیں۔ اللہ کسی ایسے شخص کو نہیں چاہتا جو بڑا خائن اور گنہگار ہو۔
  108. یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا﴿108﴾

    یہ لوگ آدمیوں سے شرماتے ہیں اور اللہ سے نہیں شرماتے درآنحالیکہ وہ ان کے ساتھ اس وقت بھی رہتا ہے جب وہ رات میں اس بات کا مشورہ کرتے ہیں جو اسے پسند نہیں اور وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔
  109. هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا﴿109﴾

    تم لوگوں نے دنیوی زندگی میں تو ان کی طرف سے وکالت کرلی لیکن قیامت کے دن ان کی طرف سے اللہ کے سامنے کون وکالت کرے گا یا کون ان کا کام بنانے والا ہوگا۔
  110. وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴿110﴾

    اور جو کوئی بھی برائی کرے یا اپنی جان پر زیادتی کرے پھر اللہ سے مغفرت طلب کرے تو وہ اللہ کو بڑا مغفرت والا بڑی رحمت والا پائے گا۔
  111. وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا﴿111﴾

    اور جو کوئی کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا ارتکاب اپنی ہی جان کے خلاف کرتا ہے اور اللہ بڑا علم والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔
  112. وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ع﴿112﴾

    اور جو کوئی کسی قصور یا گناہ کا ارتکاب کرے پھر اس کی تہمت کسی بےگناہ پر لگا دے تو درحقیقت اس نے ایک بڑ ابہتان اور کھلا ہوا گناہ اپنے سر لے لیا۔
  113. وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا﴿113﴾

    اور اگر آپ پر اللہ کا فضل (خاص) اور رحمت نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تو تہیہ ہی کرلیا تھا کہ آپ کو بھٹکار کر رہیں گے حالانکہ یہ بس اپنے ہی آپ کو بھٹکا کر رہتے ہیں اور آپ کو کسی چیز میں بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اور اللہ نے آپ پر کتاب اور حکمت اتاری ہے اور آپ کو وہ سکھا دیا ہے جو آپ نہیں جانتے تھے۔ اور آپ پر اللہ کا بڑا ہی فضل ہے۔
  114. لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا﴿114﴾

    سرگوشیاں بہت سی ایسی ہیں جن میں کوئی بھلائی نہیں ہاں البتہ بھلائی یہ ہے کہ کوئی صدقہ کی ترغیب دے یا کسی اور نیک کام کی یا لوگوں کے درمیان اصلاح کی۔ اور جو کوئی اللہ کی رضا حاصل کرنے کو ایسا کرے گا۔ سو ہم اس کو عنقریب اجر عظیم دیں گے
  115. وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ع﴿115﴾

    اور جو کوئی بعد اس کے کہ اس پر (راہ) ہدایت کھل چکی رسول کی مخالفت کرے گا اور مومنین کے راستہ کے علاوہ (کسی راستہ کی) پیروی کرے گا ہم اسے کرنے دیں گے جو کچھ وہ کرتا ہے اور پھر ہم اسے جہنم میں جھونکیں گے۔ اور وہ برا ٹھکانا ہے۔
  116. اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا﴿116﴾

    یقیناً اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے سوا (اور گناہوں کو) بخش دے گا جس کے لیے منظور ہوگا اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ یقیناً بڑی دور کی گمراہی میں پڑگیا۔
  117. اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ﴿117﴾

    یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر پکارتے بھی ہیں تو بس زنانی چیزوں کو۔ اور یہ لوگ پکارتے بھی ہیں تو بس شیطان سرکش کو۔
  118. لَّعَنَهُ اللّٰهُ١ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ﴿118﴾

    اس پر لعنت کی ہے اللہ نے۔ اور وہ کہہ چکا ہے کہ میں تیرے بندوں میں اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں گا۔
  119. وَّ لَاُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّهُمْ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًاؕ﴿119﴾

    اور میں انہیں گمراہ کرکے رہوں گا اور ان میں ہوس پیدا کرکے رہوں گا اور انہیں حکم دوں گا۔ چناچہ وہ چوپایوں کے کانوں کو تراشیں گے۔ اور انہیں حکم دوں گا تو وہ اللہ کی بناوٹ میں تبدلی کریں گے۔ اور جو کوئی اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا دوست بنائے گا وہ یقیناً کھلے ہوئے نقصان میں رہے گا۔
  120. یَعِدُهُمْ وَ یُمَنِّیْهِمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا﴿120﴾

    (شیطان) ان سے وعدے ہی کرتا اور ہوسیں ہی دلاتارہتا ہے اور شیطان ان سے وعدہ فریب کی راہ سے کرتا ہے۔
  121. اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١٘ وَ لَا یَجِدُوْنَ عَنْهَا مَحِیْصًا﴿121﴾

    یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے اور یہ لوگ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہ پائیں گے
  122. وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا﴿122﴾

    اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے عمل نیک کئے ہم انہیں عنقریب (بہشت کے) باغوں میں داخل کریں گے کہ ان کے نیچے نہریں پڑی بہ رہی ہوں گی ان میں ہمیشہ ہمیش کو رہیں گے اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون بات کا سچا ہے ؟ ۔
  123. لَیْسَ بِاَمَانِیِّكُمْ وَ لَاۤ اَمَانِیِّ اَهْلِ الْكِتٰبِ١ؕ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖ١ۙ وَ لَا یَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا﴿123﴾

    نہ تمہاری تمناؤں پر ہے نہ اہل کتاب کی تمناؤں پر (بلکہ) جو کوئی بھی برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ اور وہ اللہ کو چھوڑ کر اپنے لیے نہ کوئی دوست پائے گا نہ مددگار
  124. وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ نَقِیْرًا﴿124﴾

    اور جو کوئی نیکیوں پر عمل کرے گا (خواہ) مرد ہو یا عورت اور وہ صاحب ایمان ہو تو ایسے (سب) لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔
  125. وَ مَنْ اَحْسَنُ دِیْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَّ اتَّبَعَ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ اتَّخَذَ اللّٰهُ اِبْرٰهِیْمَ خَلِیْلًا﴿125﴾

    اور دین میں اس سے بہتر کون ہے جو اپنا رخ اللہ کی طرف جھکا دے اور وہ مخلص بھی ہو۔ اور ابراہیم ؑ راست رو کے مذہب کی پیروی کرے۔ اور اللہ نے تو ابراہیم ؑ کو اپنا دوست بنالیا۔
  126. وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطًا۠ع﴿126﴾

    اور اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ ہر چیزکا احاطہ کئے ہوئے ہے۔
  127. وَ یَسْتَفْتُوْنَكَ فِی النِّسَآءِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِیْهِنَّ١ۙ وَ مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ فِیْ یَتٰمَى النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا تُؤْتُوْنَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَ تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ١ۙ وَ اَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰى بِالْقِسْطِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِهٖ عَلِیْمًا﴿127﴾

    لوگ آپ سے عورتوں کے باب میں فتوی طلب کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے اور تمہیں انکے بارے میں (وہی) فتوی دیتا ہے۔ وہ (آیات بھی) جو تمہیں کتاب کے اندر ان یتیم عورتوں کے باب میں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جنہیں وہ نہیں دیتے ہو جو ان کیلئے مقرر ہوچکا ہے۔ اور اس سے بیزار ہو کہ ان سے نکاح کرو۔ اور جو (آیات) کمزور بچوں کے (باب میں ہیں) اور (جو آیات اس باب میں ہیں) کہ یتیموں کے معاملات میں انصاف برتو۔ اور تم جو کچھ بھی نیکی کروگے سو اللہ اس کا خوب علم رکھتا ہے۔
  128. وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًا١ؕ وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ١ؕ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ١ؕ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا﴿128﴾

    اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بےالتفاتی کا اندیشہ ہو تو اس میں ان کیلئے کوئی مضائقہ نہیں کہ دونوں آپس میں ایک خاص طریق پر صلح کرلیں۔ اور صلح (بہرحال) بہتر ہے۔ اور طبیعتوں میں تو بخل ہوتا ہی ہے۔ اور اگر تم حسن سلوک رکھو اور تقوی اختیار کئے رہو تو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ بیشک اس کی پوری خبر رکھتا ہے۔
  129. وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا كُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِ١ؕ وَ اِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا﴿129﴾

    اور تم سے یہ تو ہو ہی نہیں سکتا کہ تم بیویوں کے درمیان (پورا پورا) عدل کرو خواہ تم اس کی (کیسی ہی) خواہش رکھتے ہو۔ تو تم بالکل ایک ہی طرف نہ ڈھلک جاؤ۔ اور اسے ادھر میں لٹکی ہوئی کی طرح چھوڑ دو ۔ اور اگر تم (اپنی) اصلاح کرلو اور تقوی اختیار کرو تو اللہ بیشک بڑا بخشنے والا ہے بڑا مہربان ہے۔
  130. وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِیْمًا﴿130﴾

    اور اگر دونوں جدا ہی ہوجائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنے (فضل کی) وسعت سے بےنیاز کردے گا۔ اور اللہ ہے ہی بڑا وسعت والا بڑا حکمت والا۔
  131. وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَنِیًّا حَمِیْدًا﴿131﴾

    اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے (سب) اللہ ہی کی ملک ہے۔ اور ہم نے ان لوگوں کو جنہیں تم سے قبل کتاب مل چکی ہے اور خود تمہیں بھی حکم دیا ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور اگر ناشکری کرو گے تو (یاد رہے کہ) جو کچھ بھی آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ ہی کی ملک ہے۔ اور اللہ بڑا بےنیاز ہے ستودہ صفات ہے۔
  132. وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا﴿132﴾

    اور جو کچھ بھی آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے (سب) اللہ ہی کی ملک ہے اور اللہ ہی کافی کار ساز ہے۔
  133. اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ اَیُّهَا النَّاسُ وَ یَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى ذٰلِكَ قَدِیْرًا﴿133﴾

    وہ اگر چاہے تو اے لوگو تم (سب) کو لے جائے اور دوسروں کو لے آئے۔ اور اللہ اس پر قادر ہی ہے۔
  134. مَنْ كَانَ یُرِیْدُ ثَوَابَ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا۠ع﴿134﴾

    جو کوئی دنیا کا انعام چاہتا ہے تو اللہ کے پاس تو دنیا اور آخرت (دونوں) کا انعام موجود ہے۔ اور اللہ بڑا سننے والا ہے بڑا دیکھنے والا ہے۔
  135. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ١ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا﴿135﴾

    اے ایمان والو انصاف پر خوب قائم رہنے والے اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے رہو۔ چاہے وہ تمہارے یا (تمہارے) والدین اور عزیزوں کے خلاف ہی ہو۔ وہ امیر ہو یا مفلس اللہ (بہر حال) دونوں سے زیادہ حقدار ہے۔ تو خواہش نفس کی پیروی نہ کرنا۔ کہ (حق سے) ہٹ جاؤ۔ اور اگر تم کجی کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس سے خوب خبردار ہے۔
  136. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا﴿136﴾

    اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول اور (اس) کتاب پر ایمان لاؤ جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اس (جنس) کتاب پر بھی جو وہ اس سے قبل نازل کرچکا ہے۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں اور قیامت کے دن سے کفر کرتا ہے وہ گمراہی میں بہت دور جاپڑا ہے۔
  137. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ﴿137﴾

    بیشک جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں ترقی کرتے گئے اللہ ہرگز نہ ان کی مغفرت کرے گا اور نہ انہیں سیدھی راہ دکھائے گا۔
  138. بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاۙ﴿138﴾

    آپ منافقین کو سنا دیجئے کہ ان کے لیے عذاب دردناک ہے۔
  139. اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ﴿139﴾

    (یعنی وہ لوگ) جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بنائے ہوئے ہیں کیا ان کے پاس عزت کی تلاش کررہے ہو سو عزت تو ساری اللہ ہی کی ہے۔
  140. وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ١ۖ٘ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ﴿140﴾

    اور وہ تمہارے اوپر یہ (فرمان) کتاب میں نازل ہی کرچکا ہے کہ جب تم اللہ کی نشانیوں کے ساتھ کفر اور تمسخر ہوتا ہواسنو تو ان لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہوجائیں کہ اس حال میں یقیناً تم بھی انہی جیسے ہوجاؤ گے۔ بیشک اللہ دوزخ میں منافقوں اور کافروں سب کو اکٹھا کرے گا۔
  141. اِ۟لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ۖ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠ع﴿141﴾

    (یہ وہ لوگ ہیں) جو تمہارے لئے مصیبت کے منتظر رہتے ہیں تو اگر تمہیں اللہ کی جانب سے فتح حاصل ہوگئی تو یہ کہنے لگتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اور اگر کافروں کو حصہ مل گیا تو (ان سے) کہنے لگتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہیں آنے لگے تھے اور ہم نے تمہیں مسلمانوں سے بچا نہیں لیا۔ تو اللہ ہی تم (سب) لوگوں کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا۔ اور اللہ کافروں کا ہرگز مومنوں پر غلبہ نہ ہونے دے گا۔
  142. اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ﴿142﴾

    بیشک منافقین تو اللہ سے چال چل رہے ہیں حالانکہ اللہ انہی کی چالوں کو ان پر الٹ رہا ہے۔ اور یہ لوگ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو بہت ہی کاہلی سے کھڑے ہوتے ہیں (صرف) لوگوں کو دکھاتے ہیں اور اللہ کی یاد کچھ یوں ہی سی کرتے ہیں۔
  143. مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا﴿143﴾

    درمیان ہی میں معلق نہ (پورے) ادھر ہی کے ہیں نہ (پورے) ادھر ہی کے اور جسے اللہ گمراہ رکھے تو اس کے لئے تو کوئی راہ نہ پائے گا۔
  144. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا﴿144﴾

    اے ایمان والو ! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست مت بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ کی حجت صریح قائم کرلو ؟ ۔
  145. اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ﴿145﴾

    یقیناً منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہوں گے اور تو ان کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔
  146. اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا﴿146﴾

    البتہ جو لوگ توبہ کرلیں اور (اپنی) اصلاح کرلیں اور اللہ کا سہارا پکڑے رہیں اور اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کرلیں تو یہ لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے۔ اور اللہ مومنوں کو عنقریب اجر عظیم دے گا۔
  147. مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا﴿147﴾

    اللہ کو تمہارے عذاب سے کیا کرنا ہے اگر تم شکر گزاری کرو اور ایمان لے آؤ اللہ تو بڑا قدر دان ہے بڑا علم والا ہے۔
  148. لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا﴿148﴾

    اللہ منہ پھوڑ کر برائی کرنے کو (کسی کے لئے بھی) پسند نہیں کرتا سوا مظلوم کے اور اللہ تو ہے ہی خوب سننے والا خوج جاننے والا۔
  149. اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا﴿149﴾

    تم کسی بھلائی کو ظاہر کرو یا چھپاؤ یا کسی برائی سے درگزر کرجاؤ۔ تو اللہ تو (بہرصورت) بڑا معاف کرنے والا ہے بڑا قدرت والا ہے۔
  150. اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا﴿150﴾

    بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے پیغمبروں کے درمیان فرق رکھیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم کسی پر تو ایمان لائے ہیں اور کسی کے ہم منکر ہیں۔ اور یہ چاہتے ہیں کہ ایک راہ درمیانی نکالیں۔
  151. اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا﴿151﴾

    تو یہی لوگ حقیقی کافر ہیں۔ اور ہم نے کافروں کے لئے ایک عذاب رسوا کرنے والا تیار کر رکھا ہے۔
  152. وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ع﴿152﴾

    اور جو لوگ اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور وہ لوگ ان کے درمیان فرق بھی نہیں کرتے۔ تو ایسے لوگوں کو (اللہ) ضرور ان کا اجر دے گا اور اللہ تو ہے ہی بڑا مغفرت والا بڑا رحم والا۔
  153. یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا﴿153﴾

    آپ سے اہل کتاب فرمائش کرتے ہیں کہ آپ ان کے اوپر ایک نوشتہ آسمان سے اتروادیں۔ سو یہ تو موسیٰ ؑ سے اس سے بھی بڑی فرمائش کرچکے ہیں۔ (ان سے) یہ بولے تھے کہ ہمیں اللہ کو کھلم کھلا دکھا دو۔ سو ان کی (اس) زیادتی پر انہیں کڑک بجلی نے آپکڑا پھر بعد اس کے کہ ان کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں آچکی تھیں انہوں نے گوسالہ کو (معبود) تجویز کرلیا لیکن ہم نے اس سے (بھی) درگزر کیا اور ہم نے موسیٰ ؑ کو ایک صریح اقتدار عطا کیا۔
  154. وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا﴿154﴾

    اور ہم نے ان کے اوپر طور کو معلق کردیا تھا ان سے قول وقرار کے لیے اور ہم نے ان سے کہا کہ دروازہ (شہر) میں داخل ہوعاجزی کے ساتھ اور ہم نے ان سے کہا کہ سبت کے بارے میں زیادتی نہ کرنا اور ہم نے ان سے سخت قول وقرار لیا۔
  155. فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪﴿155﴾

    سو ہم نے یہ سب کچھ ان کی عہد شکنی اور بہ سبب آیات الہی سے ان کے کفر کے اور بہ سبب ان کے قتل ناحق انبیاء کے اور بہ سبب ان کے اس قول کے کہ ہمارے قلوب محفوظ ہیں (ہم نے انہیں سزا میں مبتلا کیا) ۔ نہیں بلکہ ہے یہ) اللہ نے ان پر مہرلگا دی یہ سبب ان کے کفر کے۔ سو وہ ایمان نہیں لاتے مگر (بہت) تھوڑا سا۔
  156. وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ﴿156﴾

    نیز بہ سبب ان کے کفر کے اور بہ سبب ان کے مریم ؑ پر بہتان عظیم رکھنے کے۔
  157. وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ﴿157﴾

    اور بہ سبب ان کے (اس) قول کے کہ ہم نے عیسیٰ ؑ ابن مریم کو مار ڈالا جو مسیح ؑ اور اللہ کے پیغمبر تھے۔۔ حالانکہ نہ وہ آپ کو مار ڈال سکے اور نہ آپ کو سولی ہی پر چڑھا پائے۔ بلکہ ان پر شبہ ڈال دیا گیا۔ اور یہ لوگ آپ ؑ کے بارے میں اختلاف کررہے ہیں۔ وہ آپ ؑ کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے۔ ان کے پاس کوئی (صحیح) تو ہے نہیں ہاں بس گمان کی پیروی ہے۔ اور یقینی بات ہے کہ انہوں نے آپ کو مار نہیں ڈالا۔
  158. بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا﴿158﴾

    بلکہ آپ ؑ کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور اللہ بڑا قوت والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔
  159. وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ﴿159﴾

    اور ہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو آپ ؑ پر اپنے مرتے وقت ایمان نہ لے آئے۔ اور آپ ؑ قیامت کے دن ان پر گواہ (کی حیثیت سے پیش) ہوں گے۔
  160. فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ﴿160﴾

    سو یہود کی (ایسی ہی) زیادتیوں کے باعث ہم نے ان پر بہت سی چیزیں جو ان پر حلال تھیں حرام کردیں۔ اور اس سبب سے بھی کہ وہ اللہ کی راہ سے بہت روکتے تھے۔
  161. وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا﴿161﴾

    اور (اس سبب سے بھی کہ) وہ سود لیتے تھے حالانکہ انہیں اس کی ممانعت کردی گئی تھی۔ اور (اس سبب سے بھی کہ) وہ دوسروں کا مال ناحق کھالیتے تھے۔ اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لیے ہم نے عذاب درد ناک تیار کر رکھا ہے۔
  162. لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ع﴿162﴾

    البتہ ان میں جو لوگ علم میں پختہ اور ایمان والے ہیں کہ ایمان رکھتے ہیں اس (کتاب) پر جو آپ پر اتری ہے اور اس پر (بھی) جو آپ سے قبل اتر چکی ہے اور نماز کے پابند اور زکوٰۃ کے ادا کرنے والے ہیں اور اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں ایسوں کو ہم اجر عظیم ضرور دیں گے۔
  163. اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ﴿163﴾

    یقیناً ہم نے آپ پر وحی بھیجی ہے جیسی کہ ہم نے نوح ؑ اور ان کے بعد کے نبیوں کی طرف وحی بھیجی تھی اور ہم نے ابراہیم ؑ اور اسمعیل ؑ اور اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ اور اولاد یعقوب ؑ اور عیسیٰ ؑ اور ایوب ؑ اور یونس ؑ اور ہارون ؑ اور سلیمان ؑ پر وحی بھیجی تھی۔ اور ہم نے داؤد ؑ کو ایک صحیفہ دیا تھا۔
  164. وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ﴿164﴾

    اور (دوسرے) پیغمبروں پر کہ ان کا حال ہم پیشتر آپ سے بیان کرچکے ہیں (ہم نے وحی بھیجی تھی) اور ایسے پیغمبروں پر (بھی) کہ ان کا حال ہم آپ سے بیان نہیں کیا۔ اور اللہ نے موسیٰ ؑ سے (خاص طور پر) کلام فرمایا۔
  165. رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا﴿165﴾

    اور پیغمبروں کو (ہم نے بھیجا) خوشخبری سنانے والے اور ڈارنے والے (بناکر) تاکہ لوگوں کو پیغمبروں کے (آنے کے) بعد اللہ کے سامنے عذر نہ باقی رہ جائے۔ اور اللہ تو ہے ہی بڑا زبردست بڑا حکمت والا۔
  166. لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ﴿166﴾

    لیکن۔ (اس کے ساتھ) اللہ گواہی دے رہا ہے اس (کتاب) کے ذریعہ سے جو اس نے آپ پر نازل کی (اور) اسے اس سے اپنے (کمال) علم سے نازل کیا ہے۔ ۔ اور فرشتے (بھی) گواہی دے رہے ہیں اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔
  167. اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا﴿167﴾

    یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے (دوسروں کو) روکا وہ بڑی ہی دور کی گمراہی میں جا پڑے ہیں
  168. اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ﴿168﴾

    یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کیا۔ اللہ ایسا نہیں کہ انہیں بخش دے اور نہ یہ ہے کہ انہیں کوئی راستہ دکھائے
  169. اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا﴿169﴾

    بجر راہ جہنم کے۔ اس میں وہ پڑے رہیں گے (ہمیشہ ہمیش کو) اور اللہ کے نزدیک یہ آسان ہے۔
  170. یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا﴿170﴾

    اے لوگو ! یقیناً تمہارے پاس (یہ) رسول تمہارے پروردگار کے پاس سے آئے ہیں سچی بات لے کر۔ پس ایمان لاؤ یہ تمہارے حق میں بہتر ہوگا۔ اور اگر تم کفر کرتے رہے۔ تو بیشک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ بڑا علم والا ہے بڑا حکمت والا۔
  171. یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ع﴿171﴾

    اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ اور اللہ کے بارے میں کوئی بات حق کے سوانہ کہو۔ مسیح عیسیٰ ابن مریم ؑ تو بس اللہ کے ایک پیغمبر ہی ہیں۔ اور اس کا کلمہ۔ جسے اللہ نے پہنچا دیا تھا مریم تک۔ اور ایک جان ہیں اس کی طرف سے۔ پس اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لاؤ۔ اور یہ نہ کہو کہ (خدا) تین ہیں۔ (اس سے) باز آجاؤ۔ تمہارے حق میں یہی بہتر ہے اللہ تو بس ایک ہی معبود ہے۔ وہ پاک ہے اس سے کہ اس کے بیٹا ہو۔ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اور اللہ ہی کارساز ہونا کافی ہے۔
  172. لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا﴿172﴾

    مسیح ؑ ہرگز اس سے عار نہ کریں گے کہ وہ اللہ کے بندہ ہیں اور نہ مقرب فرشتے بھی۔ اور جو کوئی اللہ کی بندگی سے عار کرے گا اور تکبر کرے گا تو اللہ ضرور اپنے پاس سب کو جمع کرے گا۔
  173. فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا﴿173﴾

    پھر جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے نیک کام بھی کئے ہوں گے تو وہ ان کو ان کا پورا پورا اجر دے گا اور انہیں اپنے فضل سے اور زائد دے گا۔ اور جن لوگوں نے عار اور تکبر کیا ہوگا سو انہیں وہ دردناک عذاب دے گا اور وہ لوگ اپنے حق میں کسی غیر اللہ کو نہ دوست پائیں گے نہ مدد گار۔
  174. یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا﴿174﴾

    اے لوگو ! تمہارے پاس یقیناً ایک دلیل تمہارے پروردگار کے پاس سے آچکی ہے۔ اور ہم تمہارے اوپر ایک کھلا ہوا نور اتار چکے۔
  175. فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ﴿175﴾

    تو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اسے انہوں نے مضبوط پکڑا انہیں وہ ضرور اپنی رحمت وفضل میں داخل کرے گا۔ اور انہیں اپنے تک سیدھی راہ دکھادے گا۔
  176. یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ع﴿176﴾

    لوگ آپ سے حکم دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجیے کہ اللہ تمہیں (میراث) کلالہ کے باب میں۔ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی شخص مرجائے اور اس کے کوئی اولاد نہ ہوا اور اس کے ایک بہن ہو۔ تو اسے اس ترکہ کا نصف ملے گا۔۔ اور وہ مرد وارث ہوگا اس (بہن کے کل ترکہ) کا اگر اس (بہن) کے اولاد نہ ہو۔ اگر دو بہنیں ہوں تو ان دونوں کو ترکہ میں سے دو تہائی ملے گا۔ اور اگر (وارث) چند بھائی بہن مرد و عورت ہوں تو ایک مرد کو دو عورتوں کے حصہ کے برابر ملے گا۔ اللہ تمہارے لیے (یہ احکام) کھول کر بیان کرتا ہے کہ تم گمراہی میں نہ پڑو۔ اور اللہ ہر شے کا پورا علم رکھتا ہے۔