13. Ar-Ra'dالرعد
The Thunder · Medinan · 43 ayahs · 6 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿1﴾
الف۔ لام۔ میم۔ را۔ یہ کتاب (عظیم) کی آیتیں ہیں اور جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا جاتا ہے وہ (بالکل) سچ ہے لیکن اکثر انسان ایمان نہیں لاتے۔اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ﴿2﴾
اللہ وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو بلند کر رکھا ہے بغیر ستون کے (جیسا کہ) تم اسے دیکھ رہے ہو۔ پھر قائم ہوا عرش (سلطنت) پر اور آفتاب وماہتاب کو مطیع کیا۔ ہر ایک ایک وقت معین میں چلتا رہتا ہے۔ (اللہ) ہر امر کا انتظام کرتا رہتا ہے نشانیوں کو کھول بیان کرتا ہے تاکہ تم اپنے پروردگار کی ملاقات کا یقین کرلو۔وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ﴿3﴾
اور وہ وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ اور دریا رکھ دیئے اور اس میں ہر پھل کی دو دو قسمیں رکھ دیں۔ وہ رات سے دن کو چھپا دیتا ہے بیشک ان (سب) میں سوچنے والوں کے واسطے نشان موجود ہیں۔وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿4﴾
اور زمین میں پاس پاس قطعے ہیں اور انگوروں کے باغ اور کھیتیاں ہیں اور کھجوریں گنجان (بھی) اور چہترے (بھی) ایک ہی پانی سے سیراب کئے جانے والے اور (پھر بھی) ہم ان میں سے پھلوں میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دیتے ہیں بیشک ان (سب) میں ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں دلائل (موجود) ہیں۔وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿5﴾
اور اگر آپ تعجب کریں تو تعجب کے قابل (خود) ان کا (یہ) قول ہے کہ جب ہم خاک ہوگئے تو پھر کیا ہم نئے سرے سے پیدا ہوں گے ؟ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ اور انہیں لوگوں کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور یہی لوگ اہل دوزخ ہیں اس میں (ہمیشہ) پڑے رہیں گے۔وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿6﴾
اور یہ لوگ آپ سے جلدی کرتے ہیں مصیبت کی قبل عافیت کے درآنحالیکہ ان کے قبل واقعات عقو بت گزر چکے ہیں۔ اور بیشک آپ کا پروردگار لوگوں کے حق میں باوجود ان کی زیادیتوں کے صاحب مغفرت ہے اور بیشک آپ کا پروردگار سخت سزا دینے والا بھی ہے۔وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ع﴿7﴾
اور کافر کہتے ہیں کہ ان پر (فلاں) معجزہ ان کے پروردگار کی طرف سے کیوں نہیں اترا بیشک آپ تو بس ایک ڈرانے والے ہیں۔ اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہوتا ہے۔اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ﴿8﴾
اللہ کو علم رہتا ہے اس کا جو کچھ کسی عورت کے حمل میں ہوتا ہے اور جو کچھ (عورتوں کے) رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور ہر شے اس کے نزدیک ایک متعین اندازہ ہی سے ہے۔عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ﴿9﴾
(وہ) پوشیدہ اور کھلی چیزوں (سب) کا جاننے والا ہے عالی شان ہے۔سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ﴿10﴾
اس کے علم میں) برابر ہے تم میں سے جو کوئی بات چھپائے اور جو کوئی اسے ظاہر کرے اور جو کوئی رات میں چھپ جائے اور (جو کوئی) دن میں چلے پھرے۔لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ﴿11﴾
ہر ایک کے لئے باری باری آنے والے فرشتہ ہیں اس کے آگے بھی اور اس کے پیچھے بھی وہ اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں۔ بیشک اللہ کسی قوم کو (اچھی) حالت بدل نہیں دیتا جب تک وہ لوگ خود اپنے میں تبدیلی نہیں کرلیتے۔ اور جب اللہ کسی قوم پر مصیبت ڈالنے کا ارادہ کرلیتا ہے تو کوئی صورت ہی اس کے ہٹنے کی نہیں اور نہ کوئی اللہ کے مقابلہ میں ان کا مددگار رہتا ہے۔هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ﴿12﴾
وہ وہی (خدا) ہے جو تمہیں بجلی (کی چمک) دکھلاتا ہے ذریعہ خوف بھی بناکر اور ذریعہ امید بھی بنا کر اور بوجھل بادلوں کو بلند کرتا ہے۔وَ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ مِنْ خِیْفَتِهٖ١ۚ وَ یُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِهَا مَنْ یَّشَآءُ وَ هُمْ یُجَادِلُوْنَ فِی اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ شَدِیْدُ الْمِحَالِؕ﴿13﴾
اور رعد اس کی پاکی بیان کرتا ہے اس کی حمد کے ساتھ اور (دوسرے) فرشتے بھی اس کے رعب و جلال سے (یہی کرتے ہیں)۔ اور وہ (اللہ) بجلیاں بھیجتا ہے پھر گرا دیتا ہے اسے جس پر چاہتا ہے۔ اور یہ لوگ اللہ کے باب میں جھگڑا رہے ہیں حالانکہ وہ بڑا ہی زبردست قوت والا ہے۔لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَى الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَ مَا هُوَ بِبَالِغِهٖ١ؕ وَ مَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ﴿14﴾
اسی کے لئے (خاص) ہے سچا پکارنا۔ اور جن کو (یہ لوگ) اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کا جواب اس سے زیادہ نہیں دے سکتے جتنا پانی (اسے جواب دے سکتا ہے) جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہو کہ وہ (پانی) اس کے منہ تک پہنچ جائے درآنحالیکہ وہ اس تک پہنچنے والا نہیں۔ اور کافروں کی پکار تو محض بےاثر ہی ہے۔وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ ظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ۩۩﴿15﴾
اور اللہ ہی کے آگے جھکے رہتے ہیں (سب) جتنے آسمانوں میں ہیں اور (جتنے) زمین میں ہیں۔ (کوئی) ارادۃ (تو) اور (کوئی) جبرا (تو)۔ اور ان کے سائے بھی صبح وشام کے وقت۔قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ؕ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ۙ۬ اَمْ هَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَ النُّوْرُ١ۚ۬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَیْهِمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ﴿16﴾
آپ پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے ؟ آپ (ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ (پھر) کہیے کہ تو کیا تم نے (پھر بھی) اس کے سوا (اور) کارساز قرار دے لئے ہیں جو اپنی ہی ذات کے لئے بھی نفع ونقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ آپ کہیے کہ کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوسکتا ہے یا یہ کہ کہیں تاریکی اور روشنی برابر ہوئی ہے۔ یا یہ کہ انہوں نے اللہ کے شریک ایسے ٹھیرارکھے ہیں کہ جنہوں نے اس کی خلق کی طرح کسی کو خلق کیا ہے جس سے انکو خلق میں اشتباہ ہوگیا۔ آپ کہہ دیجیے اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور وہ واحد ہے غالب ہے۔اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَسَالَتْ اَوْدِیَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا١ؕ وَ مِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْهِ فِی النَّارِ ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ١ؕ۬ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءً١ۚ وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِ١ؕ كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ﴿17﴾
اسی نے) آسمان سے پانی اتارا جس سے نالے اپنی مقدار کے موافق چلنے لگے۔ پھر وہ سیلاب جھاگ کو اوپر لے آیا اور جن چیزوں کو آگ کے اندر تپاتے ہیں زیور یا (اور) اسباب بنانے کی غرض سے اس میں ایسا ہی جھاگ ہے۔ اسی طرح حق و باطل کی اللہ مثال بیان کرتا ہے۔ سو جھاگ تو نکماہوکر جاتا رہتا ہے اور جو چیز لوگوں کے لئے کارآمد ہے سو وہ زمین پر رہ جاتی ہے اللہ اسی طرح مثالیں بیان کیا کرتا ہے۔لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى١ؔؕ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ١ۙ۬ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠ع﴿18﴾
جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا کہنا مان لیا ان کے لئے نیک (بدلہ) ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کا کہنا نہ مانا ان کے پاس اگر دنیا بھر کی چیزیں بھی ہوں اور اسی کے ساتھ اتنی ہی اور بھی تو وہ سب اپنی طرف سے بہ طور فدیہ دے ڈالیں۔ سخت حساب ان لوگوں کا ہوگا اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیسی بری قرار گاہ ہے۔اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى١ؕ اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِۙ﴿19﴾
کیا جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ آپ پر جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے حق ہی ہے وہ اس کی طرح ہوسکتا ہے جو اندھا ہے ؟ نصیحت تو بس اہل فہم ہی قبول کرتے ہیں۔الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ﴿20﴾
جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے رہتے ہیں اور (اس) پیمان کو توڑتے نہیں ہیں۔وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِؕ﴿21﴾
اور جس کے جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے جوڑے رکھتے ہیں اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں اور سخت حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں۔وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ﴿22﴾
اور جو لوگ اپنے پروردگار کی رضامندی کی تلاش میں مضبوط رہتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں خفیہ بھی اور ظاہرطور پر بھی اور بدسلوکی کی حسن سلوک سے ٹالتے رہتے رہیں انہی کے حق میں نیک انجام ہے۔جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍۚ﴿23﴾
(یعنی) ہمیشگی کے باغ جن میں وہ (خود بھی) داخل ہوں گے اور (وہ بھی) جو جنت کے لائق ہوں گے ان کے ماں باپوں میں سے اور ان کے میاں بیویوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے۔ اور فرشتے ان کے پاس ہر دروازہ سے داخل ہوتے ہوں گےسَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ﴿24﴾
یہ کہتے ہوئے کہ) سلامتی ہو تم پر اس کے صلہ میں کہ تم صبر کرتے رہے سو (تمہارا) اس جہاں میں بہت ہی اچھا انجام ہے۔وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ۙ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ﴿25﴾
اور جو لوگ اللہ کے عہد کو اس کی پختگی کے بعد توڑتے رہتے ہیں اور اسے کاٹتے رہتے ہیں جس کے لئے اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے اور زمین پر فساد کرتے رہتے ہیں ایسوں پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے ان جہان میں خرابی (ہی) ہے۔اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ وَ فَرِحُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠ع﴿26﴾
اللہ جس پر چاہے روزی کشادہ کردیتا ہے اور (جس پر چاہے) تنگ کردیتا ہے۔ اور یہ لوگ دنیوی زندگی پر اتراتے ہیں حالانکہ دنیوی زندگی آخرت کے مقابلہ میں بس ایک حقیر ہی سودا ہے۔وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ اَنَابَۖۚ﴿27﴾
اور جو کافر ہیں کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی معجزہ (ہمارا فرمایشی) کیوں نہیں اترا۔ آپ کہہ دیجیے کہ واقعی اللہ گمراہ رکھتا ہے جسے چاہتا ہے اور راہ دکھا دیتا ہے اسے جو (اس کی طرف) رجوع کرے۔اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ١ؕ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُؕ﴿28﴾
(یعنی) وہ لوگ جو ایمان لائے اور اللہ کے ذکر سے انہیں اطمینان ہوگیا۔اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَ حُسْنُ مَاٰبٍ﴿29﴾
خوب سن لو کہ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ہو ہی جاتا ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے خوشحالی اور خوش انجامی ہے۔كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِیْۤ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَاۤ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاۡ عَلَیْهِمُ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ هُمْ یَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ١ؕ قُلْ هُوَ رَبِّیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ مَتَابِ﴿30﴾
اسی طرح ہم نے آپ کو ایک امت میں بھیجا ہے جس کے قبل بھی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ آپ ان کو وہ (کتاب) پڑھ کر سنائیں جو ہم نے آپ پر وحی کی ہے (مگر) وہ لوگ رحمن کے ساتھ کفر ہی کررہے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے وہی میرا پروردگار ہے کہ کوئی معبود نہیں اس کے سوا اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف (مجھے) واپس جانا ہے۔وَ لَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى١ؕ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِیْعًا١ؕ اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ لَّوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا تُصِیْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى یَاْتِیَ وَعْدُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ع﴿31﴾
اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا جس کے ذریعہ سے پہاڑ ہٹا دیئے جاتے یا اس کے ذریعہ سے زمین (جلدی جلدی) طے ہوجاتی یا اس کے ذریعہ سے مردے بولنے لگتے (جب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے)۔ ہے یہ کہ سارا اختیار اللہ ہی کو ہے کیا پھر بھی ایمان والوں کو یکسوئی نہیں ہوئی کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا۔ اور (یہ) کافر تو ہمیشہ اسی حال میں رہیں گے کہ (کوئی نہ کوئی) حادثہ ان پر ان کے کرتوتوں کے باعث پڑتا ہی رہتا ہے یا ان کی بستی کے قریب ہی نازل ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اللہ کا (وقت) موعود آجائے گا یقیناً اللہ (اپنے) وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١۫ فَكَیْفَ كَانَ عِقَابِ﴿32﴾
اور بالیقین رسولوں کے ساتھ آپ کے قبل بھی استہزاء ہوچکا ہے لیکن میں کافروں کو مہلت دیتا رہا پھر میں نے انہیں پکڑ لیا سو میری سزا کیسی (سخت) تھی !۔اَفَمَنْ هُوَ قَآئِمٌ عَلٰى كُلِّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ١ۚ وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ قُلْ سَمُّوْهُمْ١ؕ اَمْ تُنَبِّئُوْنَهٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ١ؕ بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَ صُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ﴿33﴾
پھر کیا وہ جو ہر شخص کے اوپر مطلع ہے کہ اس نے کیا کیا (وہ دوسروں کے برابر ہے ؟)۔ ان لوگوں کے لئے شریک ٹھہرائے ہیں آپ کہیے ان کے صفات تو بتاؤ۔ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دے رہے ہو جسے وہ زمین میں جانتا ہی نہیں یا یہ ہے کہ (وہ محض) ظاہری لفظ کے اعتبار سے (معبود ہیں) ؟۔ بلکہ بات یہ ہے کہ (ان) کافروں کی نظر میں ان کا مکر خوشنما کردکھایا گیا ہے اور یہ لوگ راہ (حق) سے محروم رہ گئے ہیں۔ اور جسے اللہ گمراہ رکھے اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔لَهُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ﴿34﴾
ان (کافروں) کے لیے دنیوی زندگی میں بھی عذاب ہے اور عذاب آخرت (اس سے) بدرجہا سخت ہے۔مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ اُكُلُهَا دَآئِمٌ وَّ ظِلُّهَا١ؕ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ۖۗ وَّ عُقْبَى الْكٰفِرِیْنَ النَّارُ﴿35﴾
اور انہیں اللہ (کے عذاب) سے کوئی بچانے والا نہیں۔ جنت جس کا وعدہ متقیوں سے ہوا ہے اس کی کیفیت یہ ہے کہ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اس کا پھل اور اس کا سایہ دائمی ہوگا یہ انجام ہوگا اہل تقوے کا اور کافروں کا انجام آتش (دوزخ) ہے۔وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْكِرُ بَعْضَهٗ١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَ لَاۤ اُشْرِكَ بِهٖ١ؕ اِلَیْهِ اَدْعُوْا وَ اِلَیْهِ مَاٰبِ﴿36﴾
اور جن لوگوں کو کتاب ہم نے دی تھی وہ خوش ہورہے ہیں اس (کتاب) سے جو آپ پر نازل ہوئی ہے۔ اور انہی کے گروہ میں ایسے بھی ہیں جو اس کے بعض (حصوں) کا انکار کرتے ہیں۔ آپ کہیے کہ مجھے تو بس اس کا حکم ملا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں اور اس کا شریک کسی کو نہ کروں اسی کی طرف میں بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے (واپس) جانا ہے۔وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا وَاقٍ۠ع﴿37﴾
اور اسی طرح ہم نے اس (کتاب) کو نازل کیا بطور ایک صاف حکم کے۔ اور اگر آپ کہیں ان کی خواہشوں پر چلنے لگیں بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم (صحیح) پہنچ چکا ہے تو آپ کا نہ کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ﴿38﴾
اور بالیقین آپ سے قبل ہم نے پیغمبر بھیجے اور ان کے لئے بیویاں اور بچے بھی رکھے۔ اور کسی رسول کے بس میں یہ نہیں کہ ایک آیت بھی بغیر اللہ کے حکم کے لاسکے۔ ہر زمانہ کے لئے ایک کتاب ہوتی ہے۔یَمْحُوا اللّٰهُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ١ۖۚ وَ عِنْدَهٗۤ اُمُّ الْكِتٰبِ﴿39﴾
اللہ جس (حکم) کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) باقی رکھتا ہے اور اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ وَ عَلَیْنَا الْحِسَابُ﴿40﴾
اور جس چیز کا ہم ان سے وعدہ کررہے ہیں اس میں کا کچھ حصہ خواہ ہم آپ کو دکھلادیں یا آپ کو وفات دے دیں تو آپ کے ذمہ تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے اور ہمارے ذمہ حساب لینا ہے۔اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ﴿41﴾
کیا یہ اسے نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہم زمین کو اس کی طرف سے کم کرتے چلے آتے ہیں۔ اور اللہ حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کو ہٹانے والا نہیں اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا١ؕ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ﴿42﴾
اور ان کے قبل والے بھی (بڑی بڑی) چالیں چل چکے ہیں حالانکہ تدبیر تمام تر اللہ ہی کی ہے۔ وہی جانتا ہے کہ ہر شخص کیا کچھ کرتا رہتا ہے اور کافروں کو ابھی علم ہوا جاتا ہے کہ آخرت کی خوش انجامی کس کے لئے ہے۔وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ع﴿43﴾
اور کافر کہتے ہیں کہ آپ بھیجے ہوئے نہیں ہیں آپ کہہ دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ اور وہ جس کے پاس کتاب (آسمانی) کا علم ہے بہ طور گواہ کے کافی ہیں۔