10. Yunusيونس

Jonas · Meccan · 109 ayahs · 11 rukus · مولانا عبد الماجد دریابادی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ﴿1﴾

    الر یہ پر حکمت کتاب کی آیتیں ہیں۔
  2. اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ﴿2﴾

    کیا لوگوں کو اس پر حیرت ہے کہ ہم نے انہیں میں سے ایک شخص کے پاس وحی بھیج دی کہ لوگوں کو ڈرائیے اور جو ایمان لے آئیں ان کو خوشخبری سنائیے کہ انکے لئے ان کے پروردگار کے پاس اونچا مرتبہ ہے۔ کافر کہتے ہیں کہ یہ (شخص) تو کھلا ہوا جادوگر ہے۔
  3. اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ﴿3﴾

    بیشک تمہارا پروردگار اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ وقتوں میں پیدا کیا پھر وہ عرش (حکومت) پر مستوی ہوا (ہر) کام کی تدبیر (وہی) کرتا ہے۔ کوئی سفارش کرنے والا نہیں ہے مگر ہاں بعد اس کی اجازت کے۔ یہی تو اللہ ہے تمہارا پروردگار سو اسی کی عبادت کرو۔ کیا تم پھر بھی نہیں سمجھتے۔
  4. اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ﴿4﴾

    تم سب کو اسی کی لوٹنا ہے اللہ نے سچا وعدہ کر رکھا ہے بیشک اسی نے خلق کو پہلی بار پیدا کیا ہے پھر وہی اس کو دہرائے گا تاکہ انصاف کے ساتھ ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے۔ اور جن لوگوں نے کفر (اختیار) کیا ان کے لئے پینے کو کھولتا پانی اور عذاب دردناک ہے بہ سبب اس کے کہ کفر کرتے رہتے تھے
  5. هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ﴿5﴾

    وہ (اللہ) وہی ہے جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو روشن۔ اور اس کے لئے منزلیں مقرر کردیں تاکہ تم برسوں کا شمار اور حساب جان لیا کرو۔ اللہ نے یہ (چیزیں) بےمقصد نہیں پیدا کی ہیں وہ نشانیاں کھول کر بیان کرتا ہے ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔
  6. اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ﴿6﴾

    بیشک رات اور دن کے الٹ پلٹ میں اور اللہ نے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے ان (سب) میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو (اللہ سے) ڈرتے رہتے ہیں۔
  7. اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ﴿7﴾

    بیشک جن لوگوں کو ہماری ملاقات کا کھٹکا ہی نہیں۔ اور وہ دنیوی زندگی پر راضی۔ ہوگئے اور اسی سے جی لگا بیٹھے ہیں۔ اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے (بالکل) بےپروا رہتے ہیں۔
  8. اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿8﴾

    یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانا دوزخ ہے بہ سبب اس کے جسے وہ کرتے دھرتے رہے
  9. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ﴿9﴾

    بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے ان کا پروردگار انہیں پہنچا دے گا (ان کی منزل تک) بوجہ انکے ایمان کے ان کے نیچے نہریاں بہ رہی ہوں گی عیش (ومسرت) کے باغوں میں۔
  10. دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ع﴿10﴾

    اسی میں ان کا قول ہوگا پاک ہے تو اے اللہ۔ اور اس میں ان کی (باہمی) دعا ”سلام“ ہوگی۔ اور ان کی آخری بات ہوگی کہ ساری تعریف اللہ پروردگار عالمین کیلئے ہے۔
  11. وَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ﴿11﴾

    اور اگر اللہ لوگوں پر برائی واضح کردیا کرتا جس طرح وہ بھلائی کی جلدی مچاتے ہیں تو ان کی میعاد (کبھی کی) پوری ہوچکی ہوتی۔ لیکن ہم ان لوگوں کو جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے ہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑے رکھتے ہیں۔
  12. وَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿12﴾

    اور انسان کو جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے لیٹے بھی اور بیٹھے بھی اور کھڑے بھی۔ پھر جب ہم اس سے اس کو تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو وہ ایسا ہوجاتا ہے کہ گویا جو تکلیف اسے پہنچی ہے اس کے لئے ہم کو پکاراہی نہ تھا۔ اسی طرح فضول کاروں کو ان کے اعمال خوشنما کردکھائے جاتے۔
  13. وَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ﴿13﴾

    اور بالیقین ہم تم سے قبل (بہت سی) نسلوں کو ہلاک کرچکے ہیں جبکہ انہوں نے ظلم کیا درآنحالیکہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے دلائل کے ساتھ آتے رہے اور وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لے آتے ہم اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں مجرم لوگوں کو۔
  14. ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ﴿14﴾

    پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین پر نائب کیا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔
  15. وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿15﴾

    اور جب انہیں ہماری کھلی ہوئی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کوئی کھٹکا نہیں ہے کہنے لگتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اسی میں ترمیم کردو۔۔ آپ کہہ دیجیے میں یہ نہیں کرسکتا کہ اس میں اپنے جی سے ترمیم کردوں میں تو بس اسی کی پیروی کروں گا جو میرے پاس وحی سے پہنچتا ہے اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں یوں عظیم کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
  16. قُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿16﴾

    آپ کہہ دیجیے کہ اگر اللہ کی مشیت (یہی) ہوتی تو میں نہ تم کو یہ (کلام) پڑھ کر سنا سکتا اور نہ (اللہ) تم کو اس کی اطلاع کرتا اور پھر میں تو تمہارے در میان اس کے قبل بھی اتنے حصہ عمر تک رہ چکا ہوں کیا تم عقل سے کام (ہی) نہیں لیتے۔
  17. فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ﴿17﴾

    اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا اس کی نشانیوں کو جھٹلائے یقیناً مجرموں کو فلاح نہیں ہوتی۔
  18. وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ﴿18﴾

    یہ اللہ کے سوا (ایسی چیزوں کی) عبادت کرتے ہیں جو انکو نہ نقصان پہنچا سکیں اور نہ نفع پہنچا سکیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی پاس ہمارے سفارشی ہیں آپ کہہ دیجیے کہ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جو (اللہ کو) معلوم نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ وہ پاک اور برتر ہے ان لوگوں کے شرک سے۔
  19. وَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿19﴾

    اور انسان تو ایک ہی طریقہ پر تھے۔ پھر انہوں نے اختلاف کیا اور اگر تیرے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے نہ ٹھیرچ کی ہوتی تو ان کے درمیان اس باب میں جس میں یہ اختلاف کررہے ہیں فیصلہ کردیا گیا ہوتا۔
  20. وَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ع﴿20﴾

    اور یہ کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشان کیوں نہیں نازل ہوتا۔ سو آپ کہہ دیجئے کہ غیب (کی خبر) تو بس اللہ ہی کو ہے سوانتظار کرو میں (بھی) تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔
  21. وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ﴿21﴾

    اور جب ہم (ناشکر) لوگوں کو بعد اس کے کہ ان پر کوئی مصیبت پڑچکی ہو اپنی رحمت کا مزا چکھا دیتے ہیں تو فورا ہی وہ ”لوگ“۔ ہماری نشانیوں کے باب میں چالیں چلنے لگتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے اللہ چالوں میں ان سے بھی بڑھا ہوا ہے جو چالیں تم چل رہے ہو ہمارے قاصد انہیں لکھتے جارہے ہیں۔۔
  22. هُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ﴿22﴾

    وہ وہی (اللہ) ہے جو تم کو خشکی اور سمندر میں لئے لئے پھرتا ہے چناچہ جب تم کشتی میں (سوار) ہوتے ہو اور وہ (کشتیاں) لوگوں کو ہوائے موافق کے ذریعہ سے لے کرچلتی ہیں اور وہ لوگ اس سے خوش ہوتے ہیں کہ (ناگہاں) ایک تھپیڑا ہوا کا آتا ہے اور ان کے اوپر ہر طرف سے موجیں اٹھتی چلی آتی ہیں اور وہ سمجھنے لگتے ہیں کہ (بس اب) ہم گھرگئے۔ (تو اس وقت) اللہ کو اس کے ساتھ اعتقاد کو (بالکل) خالص کرکے پکارتے ہیں (کہ) اگر تو نے ہمیں اس (مصیبت) سے نجات دلادی تو ہم یقیناً بڑے شکر گزاروں میں ہوں گے۔
  23. فَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿23﴾

    پھر جب وہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو وہ فورا ہی زمین میں ناحق کی سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو یہ تمہاری سرکشی تمہارے ہی اوپر (الٹ پڑنے والی) ہے (یہی) دنیوی زندگی کا چند روزہ نفع ہے پھر ہماری ہی طرف تمہاری واپسی ہے پھر ہم تمہیں جتلا دیں گے جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔
  24. اِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ﴿24﴾

    بس دنیا کی زندگی کا حال تو ایسا ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کی سبزی گنجان ہو کر نکلی جس کو انسان اور چوپائے کھاتے ہیں یہاں تک کہ جب زمین (پوری طرح) اپنی رونق پر پہنچ چکی اور اس کی زیبائش ہوگئی اور اس کے مالکوں نے سمجھ لیا کہ اب وہ اس پر بالکل متصرف ہوچکے تو ہمارا حکم اس پر (اچانک) رات کو یا دن کو آپڑا سو ہم نے اسے (ایسا) صاف کردیا کہ گویا وہ کل موجود ہی نہ تھی۔ ہم اسی طرح آیتوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے جو سوچتے رہتے ہیں
  25. وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿25﴾

    اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے راہ راست پر چلا دیتا ہے۔
  26. لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿26﴾

    جو لوگ نیکی کرتے رہے ان کے لئے بھلائی ہے اور اس کے علاوہ بھی۔ ان کے چہروں پر نہ کدورت چھائے گی اور نہ ذلت ہوگی اہل جنت یہی ہیں یہ اس میں ہمیشہ (ہمیش) رہیں گے۔
  27. وَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿27﴾

    اور جن لوگوں نے بدیاں کمائی ہیں (سو) بدی کی سزا بھی ویسی ہی (بدی) ہے اور ایسے لوگوں کو ذلت چھالے گی اور کوئی انہیں اللہ (کے عذاب) سے نہ بچا سکے گا۔ گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے ٹکڑے لپیٹ دیئے گئے ہیں دوزخ والے یہی ہیں اس میں (ہمیشہ) پڑے رہیں گے۔
  28. وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ﴿28﴾

    اور (وہ وقت بھی قابل ذکر ہے) جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے۔ پھر ہم شرک کرنے والوں سے کہیں گے کہ تم اور تمہارے شرکاء (خدائی) اپنی جگہ ٹھیرو۔ پھر ہم ان میں باہم خوب پھوٹ ڈال دیں گے اور ان کے (وہ مزعومہ) شرکاء (ان سے) کہیں گے تم ہماری عبادت تو کرتے نہ تھے۔
  29. فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ﴿29﴾

    تو اللہ ہمارے تمہارے درمیان کافی گواہ ہے کہ ہم کو تو تمہاری عبادت کی خبر ہی نہ تھی۔
  30. هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ع﴿30﴾

    اس جگہ ہر شخص اس (عمل) کا امتحان کرے گا جو وہ پیشتر بھیج چکا ہے اور یہ لوگ اللہ اپنے مالک حقیقی کی طرف لوٹائے جائیں گے اور جو کچھ (معبود) انہوں نے گڑھ رکھے تھے وہ ان سے غائب ہوجائیں گے۔
  31. قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ﴿31﴾

    آپ کہیے کون تمہیں آسمان و زمین سے رزق پہنچاتا ہے ؟ یا کون کان اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے ؟ اور کون جاندار کو نکالتا ہے بےجان سے اور بےجان کو نکالتا ہے جاندار سے ؟ اور کون ہر کام کا انتظام کرتا ہے۔ (جواب میں) وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ تو کہیے کہ پھر کیوں نہیں بچتے ہو ؟۔
  32. فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ﴿32﴾

    یہی ہے اللہ تمہارے پروردگار حقیقی اور (امر) حق کے بعد رہ کیا گیا بجز گمراہی کے تو کدھر پھرے چلے جاتے ہو ؟۔
  33. كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿33﴾

    اسی طرح آپ کے پروردگار کی بات (تمام) سرکشی کرنے والوں کے حق میں پوری ہوچکی کہ وہ ایمان نہ لائیں گے۔
  34. قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ﴿34﴾

    آپ کہیے کیا تمہارے (تجویز کئے ہوئے) شرکاء میں کوئی ایسا بھی ہے جو پہلی بار پیدا کرے پھر دوبارہ بھی کرے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی پہلی بار بھی پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ بھی کرے گا پھر تم کہاں پھرے جاتے ہو ؟۔
  35. قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ﴿35﴾

    آپ کہہ دیجیے کہ کیا تمہارے (تجویز کئے ہوئے) شرکاء میں کوئی ایسا ہے جو حق کے راستہ پر چلاتا ہو ؟ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ ہی حق کا راستہ بتلاتا ہے تو پھر جو کوئی حق کا راستہ دکھاتا ہے وہ زیادہ مستحق ہے اس کا کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جس کو (خود ہی) راستہ نہ ملتا ہو بلکہ اسے راستہ بتایا جائے سو تم کو کیا ہوگیا ہے کیسا فیصلہ کرتے ہو ؟۔
  36. وَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ﴿36﴾

    ان میں سے اکثر تو صرف (اپنے) گمان کی پیروی کررہے ہیں اور یقیناً گمان تو حق (کے اثبات) میں ذرا بھی مفید نہیں یقیناً اللہ خوب واقف ہے اس سے جو کچھ یہ کررہے ہیں۔
  37. وَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫﴿37﴾

    اور یہ قرآن ایسا ہے ہی نہیں کہ غیر اللہ کی طرف سے گھڑ لیا جائے۔ بلکہ یہ تو تصدیق (کرنے والا) ہے اس (کلام) کی جو اس کے قبل سے ہے اور تفصیل (بیان کرنے والا ہے) احکام کی اور اس کے اندر کوئی شک (وشبہ کی بات) ہی نہیں جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے۔
  38. اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿38﴾

    کیا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس کو گڑھ لیا ہے ؟ آپ کہیے کہ اچھا تم ایک ہی سورة مثل اس کے لے آؤ اور اللہ کے سوا تم جس کو بلا سکو بلالو اگر تم سچے ہو۔
  39. بَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ﴿39﴾

    نہیں بلکہ یہ لوگ ایسی چیز کو جھٹلانے لگے جسے اپنے علم سے نہ گھیر پائے۔ اور ابھی ان کے پاس انجام نہیں پہنچا ہے اسی طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے قبل ہوچکے ہیں سو دیکھ لیجیے کیسا (برا) ظالموں کا انجام ہوا ہے۔
  40. وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ع﴿40﴾

    اور ان میں وہ بھی ہیں جو اس (کتاب) پر ایمان لے آئیں گے اور ان میں وہ بھی ہیں جو اس (کتاب) پر ایمان نہ لائیں گے اور آپ کا پروردگار ہی مفسدوں سے خوب واقف ہے۔
  41. وَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ﴿41﴾

    اور اگر وہ آپ کو جھٹلاتے رہیں تو کہہ دیجیے کہ میرا عمل میرے لئے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے تم اس سے بری الذمہ ہو کہ جس پر میں عمل کررہا ہوں اور میں اس سے بری الذمہ ہوں کہ جس پر تم عمل کررہے ہو۔
  42. وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ﴿42﴾

    اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں تو کیا آپ بہروں کو سنا دیں گے جبکہ وہ سمجھ سے بھی کام نہ لے رہے ہوں ؟۔
  43. وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ﴿43﴾

    اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں تو کیا آپ اندھوں کو راستہ دکھا سکیں گے جبکہ وہ بصیرت سے کام بھی نہیں لے رہے ہیں۔
  44. اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿44﴾

    یقیناً اللہ لوگوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا البتہ لوگ ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔
  45. وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ﴿45﴾

    اور انہیں اس دن کی یاد دلائیے جب (اللہ) ان کو اس طرح حشر میں اکٹھا کرے گا کہ گویا وہ دن کی (کل) ایک گھڑی ہے۔ ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ واقعی وہ لوگ گھاٹے میں آگئے جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا۔ اور وہ ہدایت پانے والے تھے (ہی) نہیں
  46. وَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ﴿46﴾

    اور اگر ہم آپ کو کچھ (حصہ اس عذاب کا) دکھلا بھی دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کررہے ہیں یا ہم آپ کو وفات دے دیں سو ہمارے پاس تو ان کی واپسی (بہرحال) ہے تو اللہ کو خوب اطلاع اس کی ہے جو کچھ یہ کررہے ہیں۔
  47. وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿47﴾

    اور ہر امت کے لئے ایک پیام رساں ہوا ہے پھر جب ان کے ہاں پیام رساں آچکتا ہے تو ان کے درمیان فیصلہ انصاف کے ساتھ کردیا جاتا ہے اور ان پر ظلم (ذرا) نہیں کیا جاتا۔
  48. وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿48﴾

    اور یہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ (عذاب) (آخر) کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔
  49. قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ﴿49﴾

    آپ کہہ دیجیے کہ میں تو اپنی ذات کے لئے (بھی) ضرر اور نفع کا اختیار نہیں رکھتا بجز اس کے کہ جتنا اللہ چاہے۔ ہر امت کے لئے ایک معین وقت ہے جب ان کا وہ وقت معین آجاتا ہے تو وہ لوگ نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔
  50. قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ﴿50﴾

    آپ کہہ دیجیے کہ یہ تو بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب رات کو آپڑے یا دن کو تو ان میں کون چیز ایسی ہے جس کے لئے مجرمین جلدی مچا رہے ہیں۔
  51. اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ﴿51﴾

    کیا پھر جب وہ آہی پڑے گا جب اس کا یقین کرو گے ؟۔ ہاں اب ! حالانکہ تم اسی کی تو جلدی مچایا کرتے تھے۔
  52. ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ﴿52﴾

    پھر جنہوں نے (اپنے اوپر) ظلم کیا ہے ان سے کہا جائے گا ہمیشہ کا عذاب چکھو تم کو بدلہ اسی کا تو مل رہا ہے جو کچھ تم کرچکے ہو۔
  53. وَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ع﴿53﴾

    اور یہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا وہ (عذاب) برحق ہے ؟ آپ کہہ دیجیے کہ ہاں میرے پروردگار کی قسم ہے کہ وہ برحق ہے اور تم کسی طرح (اللہ کو) ہر انہیں سکتے ہو۔
  54. وَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿54﴾

    اور اگر ہر ہر ظالم کے پاس دنیا بھر کا (زرومال) ہو تو بھی اسے فدیہ میں دے دینا چاہے گا اور (اول اول) عذاب دیکھیں گے تو پشیمانی کو چھپائیں گے اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر ظلم (ذرا) بھی نہ کیا جائے گا۔
  55. اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿55﴾

    یاد رکھو کہ جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں اللہ ہی کی ملک ہے۔ یاد رکھو کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
  56. هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿56﴾

    وہی جلاتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
  57. یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ﴿57﴾

    اور اے لوگو بالیقین تمہارے پاس نصیحت تمہارے پروردگار کے پاس سے آگئی ہے اور شفاء بھی (ان بیماریوں کے لئے) جو سینہ میں ہوتی ہیں اور ایمان والوں کے حق میں ہدایت اور رحمت۔
  58. قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ﴿58﴾

    آپ کہہ دیجیے کہ اللہ کے فضل سے اور اس کی رحمت سے ہاں اس سے چاہیے کہ (لوگ) خوش ہوں وہ اس (دنیا) سے جس کو یہ جمع کررہے ہیں کہیں بہتر ہے۔
  59. قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ﴿59﴾

    آپ کہیے کہ یہ تو بتاؤ کہ اللہ نے تمہارے لئے جو رزق نازل کیا تھا پھر تم نے اس میں سے (کچھ) حرام اور (کچھ) حلال قرار دے لیا آپ کہیے کہ کیا اللہ نے تم کو حکم دیا ہے یا تم اللہ پر گھڑ ہی رہے ہو ؟۔
  60. وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ع﴿60﴾

    اور کیا روز قیامت کی نسبت ان لوگوں کا خیال ہے جو اللہ پر جھوٹ گھڑتے رہتے ہیں۔ بیشک اللہ لوگوں پر بڑا فضل رکھنے والا ہے لیکن انہی میں سے اکثر ناشکرے ہیں۔
  61. وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ﴿61﴾

    اور آپ جس حال میں بھی ہوں اور آپ اس (حال) میں قرآن (بھی) پڑھ رہے ہوں اور تم لوگ بھی جو کوئی کام کررہے ہو ہم تمہارے برابر گواہ رہتے ہیں جب تم اسے کرنے لگتے ہو۔ اور آپ کے پروردگار سے ذرہ برابر (بھی کوئی چیز) غائب نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی مگر یہ کہ سب کتاب مبین میں ہیں۔
  62. اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ﴿62﴾

    سنو سنو ! اللہ کی دوستوں پر قطعا نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
  63. الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ﴿63﴾

    یہ وہ ہیں جو ایمان لائے اور پرہیزگاری اختیار کئے رہے۔
  64. لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ﴿64﴾

    ان کے لئے خوشبخری ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی اللہ کی باتیں بدلا نہیں کرتیں یہی تو بڑی کامیابی ہے۔
  65. وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿65﴾

    اور آپ کو ان (کافروں) کی باتیں غم میں نہ ڈالیں غلبہ تمامتر اللہ ہی کے لئے ہے وہ خوب سننے والا ہے خوب جاننے والا ہے۔
  66. اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ﴿66﴾

    سنو سنو ! اللہ ہی کی ملک تو ہیں جو بھی آسمانوں میں ہے اور جو بھی زمین میں ہے۔ اور یہ لوگ جو اللہ کے علاوہ شرکاء کو بھی پکارتے ہیں کس چیز کا اتباع کررہے ہیں ؟ یہ اتباع کررہے ہیں محض خیال کا اور یہ محض اٹکل سے کام لے رہے ہیں۔
  67. هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ﴿67﴾

    وہ وہی (اللہ) تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی کہ تم اس میں چین پاؤ اور دن کو (بنایا) دکھلانے والا ان (سب) میں ان لوگوں کے لئے جو (غور و تدبر کے ساتھ) سنتے ہیں دلائل (موجود) ہیں۔
  68. قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿68﴾

    کہتے ہیں کہ اللہ نے ایک بیٹا بنا رکھا ہے سبحان اللہ ! بےنیاز ہے وہ اسی کی ملک ہے جو کچھ بھی آسمانوں میں اور جو کچھ بھی ہے زمین میں۔ تمہارے پاس کوئی بھی دلیل اس (دعوے) کی نہیں تو کیا اللہ پر ایسی بات گھڑتے ہو جس کا (خود) علم نہیں رکھتے۔
  69. قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ﴿69﴾

    آپ کہہ دیجیے کہ یقیناً جو لوگ اللہ پر جھوٹ گھڑتے رہتے ہیں وہ فلاح نہیں پانے کے۔
  70. مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ع﴿70﴾

    دنیا (ہی) میں (بس) تھوڑا سا عیش ہے پھر ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہے پھر ہم انہیں سزائے سخت کا مزہ چکھائیں گے اس کفر کے بدلہ میں جو یہ کرتے رہتے تھے۔
  71. وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ﴿71﴾

    آپ انہیں نوح ؑ کا قصہ پڑھ کر سنائیے جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا۔ کہ اے میری قوم اگر تم پر میرا قیام (تمہارے درمیان) اور میری وعظ گوئی اللہ کے احکام کے ذریعہ سے بہت ہی گراں گزر رہی ہے تو میں تو اللہ پر بھروسہ کرچکا ! تم اپنی تدبیر پختہ کرلو مع اپنے شرکاء کے پھر (وہ) تمہاری تدبیر تمہارے حق میں پوشیدہ نہ رہے پھر میرے ساتھ کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دو۔
  72. فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ﴿72﴾

    اور اگر تم اعراض ہی کئے جاؤ سو میں تم سے (کوئی) معاوضہ نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو بس اللہ ہی کے ذ مہ ہے اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں فرمان برداروں میں رہوں۔
  73. فَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ﴿73﴾

    بہ ایں ہم وہ لوگ نوح ؑ کو جھٹلاتے رہے۔ پھر ہم نے نوح ؑ کو اور جو لوگ ان کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور ہم نے انہیں آباد کیا۔ اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں ہم نے غرق کردیا۔ سو دیکھ کہ جو ڈرائے جاچکے تھے ان کا کیا انجام ہوا۔
  74. ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ﴿74﴾

    پھر ہم نے (نوح علیہ السلام) کے بعد (اور) پیغمبروں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا سو وہ ان کے پاس روشن دلائل لے کر آئے مگر یہ نہ ہوا کہ جس چیز کو انہوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا اس پر ایمان لے آتے۔ ہم اسی طرح حد سے نکل جانے والوں کے دلوں پر مہر کردیا کرتے ہیں۔
  75. ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ﴿75﴾

    پھر ہم نے ان (پیغمبروں) کے بعد موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس سو انہوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ تھے ہی جرم کرتے رہنے والے۔
  76. فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ﴿76﴾

    سو جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق پہنچا تو وہ بولے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔
  77. قَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ﴿77﴾

    موسیٰ ؑ نے کہا کہ کیا تم حق کے بارے میں یہ کہتے ہو جب وہ تمہیں پہنچ گیا ؟ کیا یہ (واقعی) جادو ہے ؟ درآنحالیکہ جادوگر فلاح نہیں۔
  78. قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ﴿78﴾

    پاتے وہ بولے کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہمیں ہٹا دے اس (طریقہ) سے جس پر ہم نے اپنے باپ (دادا) کو پایا تھا اور ملک میں بڑائی تم دونوں کے لئے ہوجائے تو ہم تو تم دونوں کو (کبھی) ماننے والے نہیں۔
  79. وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ﴿79﴾

    اور فرعون بولا کہ لاؤ میرے پاس سارے ماہر جادو گروں کو۔
  80. فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ﴿80﴾

    پھر جب جادو گر آگئے تو موسیٰ ؑ نے ان سے کہا جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال چکو۔
  81. فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ﴿81﴾

    پھر جب انہوں نے (رسے) ڈال دیئے تو موسیٰ ؑ بولے جادو یہ ہے جو کچھ تم (بنا کر) لائے ہو یقیناً اللہ اسے ابھی توڑ پھوڑ دے گا یقیناً اللہ فسادیوں کا کام بننے نہیں دیتا۔
  82. وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ع﴿82﴾

    اور اللہ حق کو سچ کردکھاتا ہے اپنے وعدوں کے موافق خواہ مجرموں کو (کیسا ہی) ناگوار گزرے۔
  83. فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ﴿83﴾

    پھر موسیٰ ؑ کی ہر بات کسی (اور) نے نہ مانی بجز ان کی قوم کے تھوڑے سے لوگوں کے فرعون اور اپنے سرداروں کے خوف سے کہ کہیں وہ انہیں مصیبت میں نہ ڈال دے اور واقعی فرعون ملک میں زور رکھتا تھا اور واقعی وہ زیادتی کرنے والوں میں سے تھا۔
  84. وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ﴿84﴾

    اور موسیٰ ؑ نے کہا کہ اے میری قوم والو ! اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو بھروسہ بھی اسی پر کرو اگر تم فرمان بردار ہو۔
  85. فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ﴿85﴾

    وہ بولے ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا اے ہمارے پروردگار ہم کو تختہ مشق نہ بنا ظالم لوگوں کا
  86. وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ﴿86﴾

    اور ہم کو اپنی رحمت سے نجات دے کافر لوگوں سے۔
  87. وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿87﴾

    اور ہم نے موسیٰ ؑ اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ تم دونوں اپنی قوم کے لئے مصر میں گھر برقرار رکھو اور تم لو اپنے گھروں ہی کو نماز گاہ قرار دے لو۔ اور نماز کی پا بندی رکھو اور آپ ایمان والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔
  88. وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ﴿88﴾

    اور موسیٰ ؑ نے عرض کی کہ اے ہمارے پروردگار تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو (سامان) تجمل اور (طرح طرح کے) مال دنیوی زندگی میں دیئے ہی تھے اس نتیجہ کے ساتھ کہ اے پروردگار وہ تیری راہ سے (لوگوں کو) گمراہ کریں۔ اے ہمارے پروردگار ان کے مالوں کو نابود کردے اور ان کے دلوں کو (اور زیادہ) سخت کردے سو یہ ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ عذاب درد ناک کو دیکھ لیں۔
  89. قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿89﴾

    (اور اللہ نے) فرمایا تم دونوں کی دعا قبول ہوگئی۔ سو تم دونوں (بدستور) قائم رہو ان لوگوں کی راہ نہ چلنے لگنا جو علم نہیں رکھتے۔
  90. وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ﴿90﴾

    اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار کردیا پھر فرعون اور اس کے لشکر نے ظلم و زیادتی (کے ارادہ) سے ان کا پیچھا کیا۔ یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے لگا تو بولا۔ میں ایمان لاتا ہوں کہ کوئی خدا نہیں بجز اس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ اور میں مسلموں میں (داخل ہوتا) ہوں۔
  91. آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ﴿91﴾

    (یہ) اب ! حالانکہ تو تو سرکشی ہی کرتا رہا قبل تک اور تو مفسدوں (ہی) میں شامل رہا۔
  92. فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ع﴿92﴾

    سو آج ہم تیرے جسم کو نجات دے دیں گے تاکہ تو ایک نشان (عبرت) پیچھے آنے والوں کے لئے رہے۔ اور بےشبہ بہت سے لوگ ہماری (ایسی) نشانیوں سے غافل ہیں۔
  93. وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿93﴾

    اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا دیا اور ہم نے انہیں نفیس چیزوں کا رزق عطا کیا۔ سو انہوں نے اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ ان کے پاس علم (حق) آگیا۔ یقیناً آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان ان امور میں جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے فیصلہ کردے گا۔
  94. فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ﴿94﴾

    پھر اگر (بالفرض) آپ کو شک ہو ان (مضامین) کے باب میں جو ہم نے آپ پر نازل کئے ہیں۔ تو آپ ان لوگوں سے پوچھ دیکھئے جو آپ سے پہلے کی کتابوں کو پڑھتے رہتے ہیں۔ بالیقین آپ کے پاس آپ کے پروردگار کی طرف سے سچی (کتاب) آچکی ہے سو آپ ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہوں۔
  95. وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿95﴾

    اور آپ ان لوگوں میں سے ہرگز نہ ہوجائیے جنہوں نے اللہ کی نشانیوں کو جھٹلایا ورنہ آپ بھی تباہ کاروں میں (شامل) ہوجائیں گے۔
  96. اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ﴿96﴾

    بیشک جن لوگوں کے حق میں آپ کے پروردگار کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے
  97. وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ﴿97﴾

    خواہ ان کے پاس نشانیاں ساری (کی ساری) آجائیں جب تک کہ وہ عذاب دردناک (نہ) دیکھ لیں گے۔
  98. فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ﴿98﴾

    چناچہ کوئی بستی ایمان نہ لائی کہ اس کا ایمان لانا اسے نفع پہچاتا بجز قوم یونس ؑ کے۔ جب وہ (لوگ) ایمان لے آئے ہم نے ان پر سے رسوائی کے عذاب کو دنیوی زندگی میں دور کردیا اور ان کو ایک وقت (خاص) تک کیلئے خوشی عیشی دی۔
  99. وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ﴿99﴾

    اور اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو روئے زمین پر جتنے بھی لوگ ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔ سو کیا آپ لوگوں پر جبر کرسکتے ہیں جس میں وہ ایمان لے ہی آئیں۔
  100. وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ﴿100﴾

    اور کسی شخص کو (یہ قدرت حاصل) نہیں کہ وہ ایمان لے آئے بجز اللہ کی مشیت کے۔ وہ گندگی (کفر کی) واقع کراتا ہے انہی لوگوں پر جو عقل سے کام ہی نہیں لیتے۔
  101. قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ﴿101﴾

    آپ کہہ دیجیے کہ تم دیکھو تو کیا کیا چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ اور کوئی بھی نشانیاں اور ڈراوے ان لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچاتے جو ایمان نہیں لاتے۔
  102. فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ﴿102﴾

    سو وہ تو بس ان لوگوں کے لئے حوادث کا جو ان کے قبل گزر چکے ہیں انتظار کررہے ہیں۔ آپ کہہ دیجیے کہ اچھا تم انتظار کئے جاؤ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔
  103. ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ع﴿103﴾

    پھر ہم اپنے پیغمبروں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان والے تھے بچا لیتے تھے اسی طرح ہم (سب) مومنوں کو نجات دیا کرتے ہیں (یہ) ہمارے ذمہ ہے۔
  104. قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ﴿104﴾

    آپ کہہ دیجیے کہ اے لوگو اگر تم میرے دین کی طرف سے اشتباہ میں ہو۔ سو میں ان (معبودوں) کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے رہتے ہو اللہ کے سوا بلکہ میں (تو) اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تمہاری جان قبض کرتا ہے۔ اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں بھی ایمان لانے والوں میں ہوں
  105. وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ﴿105﴾

    اور یہ کہ اپنا رخ دین کی طرف خالصۃ کرلینا اور کہیں مشرکوں میں نہ ہوجانا۔
  106. وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ﴿106﴾

    اور اللہ کے علاوہ کسی (اور) کو نہ پکارنا جو تجھے نہ نفع پہنچا سکے اور نہ نقصان پہنچا سکے پھر اگر تو نے (ایسا) کیا تو یقیناً تو ظالموں میں ہوجائے گا۔
  107. وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ﴿107﴾

    اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچا دے تو کوئی اس کا دور کرنے والا نہیں بجز (خود) اسی کے اور اگر وہ تجھے کوئی راحت پہنچا نا چاہے نہ کوئی اس کے فضل کا ہٹانے والا نہیں وہ اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے کردے اور وہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔
  108. قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ﴿108﴾

    آپ کہہ دیجیے اے لوگو تمہارے پاس حق تمہارے پروردگار کی طرف سے پہنچ چکا۔ سو (اب) جو کوئی راہ ہدایت پر آجائے گا سو وہ بس اپنے ہی لیے ہدایت پائے گا اور جو کوئی بھٹکا رہے گا اس کے بھٹکنے کا (وبال) بھی اسی پر رہے گا اور میں تمہارے اوپر ظمہ دار (بنا کر) نہیں (بھیجا گیا) ہوں۔
  109. وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ع﴿109﴾

    اور آپ اس کی پیروی کئے جائیے جو آپ پر وحی کیا جاتا ہے اور صبر کئے رہے یہاں تک کہ اللہ فیصلہ صادر کردے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔