76. Al-Insaanالانسان
Man · Medinan · 31 ayahs · 2 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا﴿1﴾
کیا گزرا ہے انسان پر کوئی وقت ‘ زمانے میں ‘ ایسا جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا !اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ١ۖۗ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا﴿2﴾
ہم نے انسان کو پیدا کیا پانی کی ایک مخلوط بوند سے۔ اس کو الٹتے پلٹتے رہے یہاں تک کہ ہم نے اس کو دیکھنے سننے والا بنا دیا۔اِنَّا هَدَیْنٰهُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا﴿3﴾
ہم نے اس کو راہ سمجھا دی۔ چاہے وہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا۔اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِیْرًا﴿4﴾
ہم نے کفر کرنے والوں کے لئے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی آگ تیار کررکھی ہے۔اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًاۚ﴿5﴾
ہاں ‘ وفادار بندے ایسی شراب کے جام نوش کریں گے جس میں چشمہ کافور کی ملونی ہوگی۔عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا﴿6﴾
اس چشمہ سے اللہ کے خاص بندے پیئیں گے اور اس کی شاخیں نکال لیں گے۔ جدھر جدھر چاہیں گے ‘یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَ یَخَافُوْنَ یَوْمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسْتَطِیْرًا﴿7﴾
یہ اپنی نذریں پوری کرتے اور اس دن سے ڈرتے رہے ہیں جس کا ہول ہمہ گیر ہوگاوَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسْكِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا﴿8﴾
اور وہ مسکین ‘ یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے رہے ہیں۔ خود اس کے خاجتمندہوتے ہوئے ‘اِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللّٰهِ لَا نُرِیْدُ مِنْكُمْ جَزَآءً وَّ لَا شُكُوْرًا﴿9﴾
(اس جذبہ کے ساتھ کہ) ہم تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے کھلاتے ہیں ‘ نہ تم سے کسی بدلے کے طالب ہیں نہ شکریہ کے ‘اِنَّا نَخَافُ مِنْ رَّبِّنَا یَوْمًا عَبُوْسًا قَمْطَرِیْرًا﴿10﴾
ہم اپنے رب کی طرف سے ایک ایسے دن سے اندیشہ ناک ہیں جو نہایت عبوس اور سخت ترش رو ہوگا۔فَوَقٰىهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الْیَوْمِ وَ لَقّٰىهُمْ نَضْرَةً وَّ سُرُوْرًاۚ﴿11﴾
تو اللہ نے ان کو اس دن کی آفت سے بچایا اور ان کو تازگی اور سرور سے نوازاوَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ﴿12﴾
اور انہوں نے جو صبر کیا اس کے صلہ میں ان کو جنت اور ریش میں لباس عطا فرمایا۔مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ۚ لَا یَرَوْنَ فِیْهَا شَمْسًا وَّ لَا زَمْهَرِیْرًاۚ﴿13﴾
ٹیک لگائے ہوں گے اس میں تختوں پر۔ نہ اس میں گرمی کے آزار سے دوچار ہوں گے نہ سردی کے۔وَ دَانِیَةً عَلَیْهِمْ ظِلٰلُهَا وَ ذُلِّلَتْ قُطُوْفُهَا تَذْلِیْلًا﴿14﴾
باغ جنت کے سائے ان پر جھکے ہوئے اور اسکے خوشے بالکل ان کے دست رس میں ہوں گےوَ یُطَافُ عَلَیْهِمْ بِاٰنِیَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ كَانَتْ قَؔوَارِیْرَاۡۙ﴿15﴾
اور ان کے سامنے چاندی کے برتن اور شیشے کے پیالے گردش میں ہوں گے۔قَؔوَارِیْرَاۡ مِنْ فِضَّةٍ قَدَّرُوْهَا تَقْدِیْرًا﴿16﴾
شیشے چاندی کے ہوں گے۔ ان کو انہوں نے نہایت موزوں اندازوں کے ساتھ سجایا ہوگا۔وَ یُسْقَوْنَ فِیْهَا كَاْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِیْلًاۚ﴿17﴾
اور وہ اس میں ایک اور شراب بھی پلائے جائیں گے جس میں ملونی چشمہ زنجبیل کی ہوگی۔عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا﴿18﴾
یہ اس میں ایک چشمہ ہے جو سلسبیل سے موسوم ہےوَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا﴿19﴾
اور ان کی خدمت میں غلمان گردش میں ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی سن پر رہیں گے۔ جب تم ان کو دیکھو گے تو ان کو بکھرے ہوئے موتی گمان کرو گے۔وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا﴿20﴾
جہاں دیکھو گے وہیں عظیم نعمت اور عظیم بادشاہی دیکھو گے۔عٰلِیَهُمْ ثِیَابُ سُنْدُسٍ خُضْرٌ وَّ اِسْتَبْرَقٌ١٘ وَّ حُلُّوْۤا اَسَاوِرَ مِنْ فِضَّةٍ١ۚ وَ سَقٰىهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُوْرًا﴿21﴾
ان کے اوپر سندس کا سبز اور استبرق کا لباس ہوگا اور وہ چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے اور ان کا رب ان کو پاکیزہ مشروب پلائے گا۔اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠ع﴿22﴾
بیشک یہ تمہارے عمل کا صلہ ہے اور تمہاری سعی مقبول ہوئی !اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلًاۚ﴿23﴾
ہم ہی نے تم پر قرآن نہایت اہتمام سے اتارا ہےفَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تُطِعْ مِنْهُمْ اٰثِمًا اَوْ كَفُوْرًاۚ﴿24﴾
تو صبر کے ساتھ اپنے رب کے فیصلہ کا انتظار کرو اور ان میں سے کسی گنہگار یا ناشکرے کی بات کا دھیان نہ کرووَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ﴿25﴾
اور صبح و شام اپنے رب کے نام کی یاد رکھووَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا﴿26﴾
اور رات میں بھی اس کو سجدہ اور اس کی تسبیح کرو ‘ رات کے طویل حصہ میں۔اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا﴿27﴾
یہ لوگ صرف دنیائے عاجل سے محبت رکھتے اور اپنے آگے ایک بھاری دن کو نظر انداز کررہے ہیں۔نَحْنُ خَلَقْنٰهُمْ وَ شَدَدْنَاۤ اَسْرَهُمْ١ۚ وَ اِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَاۤ اَمْثَالَهُمْ تَبْدِیْلًا﴿28﴾
ہم ہی نے ان کو پیدا کیا اور ان کے جوڑ بند مضبوط کئے اور جب ہم چاہیں گے ٹھیک ٹھیک انہی کے مانند بدل دیں گے۔اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا﴿29﴾
یہ ایک یاددہانی ہے تو جو چاہے اپنے رب کی راہ اختیار کرلےوَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ﴿30﴾
اور تم نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ بیشک اللہ علیم و حکیم ہے۔یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ع﴿31﴾
وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کے لئے اس نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔