7. Al-A'raafالأعراف
The Heights · Meccan · 206 ayahs · 24 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓمّٓصٓۚ﴿1﴾
یہ الٓمّٓصٓ ہےكِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ﴿2﴾
یہ کتاب ہے جو تمہاری طرف اتاری گئی ہے تو اس کے باعث تمہارے دل میں کوئی پریشانی نہ ہو تاکہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہوشیار کردو اور یہ اہل ایمان کے لیے یاد دہانی ہے۔اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ﴿3﴾
لوگو، جو چیز تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے ماسوا سرپرستوں کی پیروی نہ کرو، بہت کم ہی تم لوگ یاد دہانی حاصل کرتے ہو !وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ﴿4﴾
اور کتنی ہی بستیاں ہوئی ہیں جن کو ہم نے ہلاک کردیا تو آیا ان پر ہمارا عذاب رات میں اچاک یا دن دہاڑے جب وہ دوپہر کے آرام میں تھےفَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ﴿5﴾
تو جب ہمارا عذاب ان پر آیا اس کے سوا وہ کچھ نہ کہہ سکے کہ بلاشبہ ہم ہی ظالم تھےفَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ﴿6﴾
سو، یاد رکھو، ہم ان لوگوں سے پرسش کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور خود رسولوں سے بھی ہم استفسار کریں گےفَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ﴿7﴾
پھر ہم ان کے سامنے سب بیان کریں گے پورے علم کے ساتھ اور ہم کہیں غائب نہیں رہے ہیںوَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿8﴾
اس دن وزن دار صرف حق ہوگا تو جن کے پلڑے بھاری ٹھریں گے وہی لوگ فلاح پانے والے نہیں ہوں گےوَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ﴿9﴾
اور جن کے پلڑے ہلکے ہوئے وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا بوجہ اس کے کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار اور اپنے اوپر ظلم کرتے رہےوَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ع﴿10﴾
اور ہم نے تمہیں اس ملک میں اقتدار بخشا اور تمہارے لیے معاش کی راہیں کھولیں، پر تم بہت ہی کم شکر گزار ہوتے ہووَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ﴿11﴾
اور ہم نے تمہارا خاکہ بنایا، پھر تمہاری صورت گری کی، پھر فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو، سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کےقَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ﴿12﴾
وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا، فرمایا کہ جب میں نے تجھے حکم دیا تو تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا ؟ بولا میں اس سے بہتر ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے پیدا کیاقَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ﴿13﴾
فرمایا، پھر تو یہاں سے اتر، تجھے یہ حق نہیں ہے کہ تو اس میں گھمنڈ کرے، تو نکل، یقیناً تو ذلیلوں میں سے ہےقَالَ اَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ﴿14﴾
بولا اس دن تک کے لیے تو مجھے مہلت دے دے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گےقَالَ اِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ﴿15﴾
فرمایا، تو مہلت دے دیا گیاقَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ﴿16﴾
بولا چونکہ تو نے مجھے گمراہی میں ڈالا ہے اس وجہ سے میں تیری سیدھی راہ پر ان کے لیے گھات میں بیٹھوں گاثُمَّ لَاٰتِیَنَّهُمْ مِّنْۢ بَیْنِ اَیْدِیْهِمْ وَ مِنْ خَلْفِهِمْ وَ عَنْ اَیْمَانِهِمْ وَ عَنْ شَمَآئِلِهِمْ١ؕ وَ لَا تَجِدُ اَكْثَرَهُمْ شٰكِرِیْنَ﴿17﴾
پھر میں ان کے آگے، ان کے پیچھے، ان کے داہنے اور ان کے بائیں سے ان پر تاخت کروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکر گزار نہ پائے گاقَالَ اخْرُجْ مِنْهَا مَذْءُوْمًا مَّدْحُوْرًا١ؕ لَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِیْنَ﴿18﴾
فرمایا تو یہاں سے نکل خوار اور راندہ، ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے تو میں تم سب سے جہنم کو بھردوں گاوَ یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ فَكُلَا مِنْ حَیْثُ شِئْتُمَا وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴿19﴾
اور اے آدم، تم اور تمہاری بیوی رہو جنت میں اور کھاؤ پیو جہاں سے چاہو، بس اس درخت کے پاس نہ پھٹکیو کہ اپنے اوپر ظلم کرنے والوں میں سے بن جاؤفَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَهُمَا مَاوٗرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَ قَالَ مَا نَهٰىكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هٰذِهِ الشَّجَرَةِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَا مَلَكَیْنِ اَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخٰلِدِیْنَ﴿20﴾
پس شیطان نے ان کے اندر وسوسہ اندازی کی کہ عریاں کردے ان کی وہ شرم کی جگہیں جو ان سے چھپائی گئی تھیں۔ اس نے ان سے کہا کہ تمہارے خداوند نے تو تمہیں اس درخت سے صرف اس وجہ سے روکا کہ تم کہیں فرشتے یا ہمیشہ زندہ رہنے والے بن جاؤوَ قَاسَمَهُمَاۤ اِنِّیْ لَكُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیْنَۙ﴿21﴾
اور ان سے قسمیں کھائیں کہ میں تمہارے خیر خواہوں میں ہوںفَدَلّٰىهُمَا بِغُرُوْرٍ١ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١ؕ وَ نَادٰىهُمَا رَبُّهُمَاۤ اَلَمْ اَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَ اَقُلْ لَّكُمَاۤ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ﴿22﴾
اس طرح اس نے فریب سے ان کو شیشے میں اتار لیا۔ پس جب انہوں نے درخت کا پھل چکھ لیا اور ان کی شرم کی جگہیں ان کے سامنے بےپردہ ہوگئیں اور وہ اپنے کو باغ کے پتوں سے ڈھانکنے لگے اور ان کے رب نے ان کو آواز دی کہ کیا میں نے تمہیں اس درخت سے روکا نہیں تھا اور یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے ؟قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَاۤ اَنْفُسَنَا١ٚ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿23﴾
وہ بولے اے ہمارے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہماری مغفرت نہ فرمائے گا اور ہم پر رحم نہ کرے گا تو ہم نامرادوں میں سے ہوجائیں گےقَالَ اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ﴿24﴾
فرمایا، اترو، تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے زمین میں ایک وقت خاص تک ٹھہرنا اور کھانا پینا ہےقَالَ فِیْهَا تَحْیَوْنَ وَ فِیْهَا تَمُوْتُوْنَ وَ مِنْهَا تُخْرَجُوْنَ۠ع﴿25﴾
فرمایا، اسی میں تم جیو گے، اسی میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گےیٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ﴿26﴾
اے بنی آدم ! ہم نے تم پر لباس اتارا جو تمہارے لیے ستر پوش بھی ہے اور زینت بھی۔ مزید برآں تقوی کا لباس ہے جو اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ یہ اللہ کی آیات میں سے ہے تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریںیٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿27﴾
اے بنی آدم ! شیطان تمہیں فتنہ میں ڈالنے پائے جس طرح اس نے تمہارے باپ ماں کو جنت سے نکلوا چھوڑا ان کے لباس اتروا کر کہ ان کو ان کے سامنے بےپردہ کردے، وہ اور اس کا جتھہ تم کو وہاں سے تاڑتا ہے جہاں سے تم ان کو نہیں تاڑتے۔ ہم نے شیاطین کو ان لوگوں کا رفیق بنا دیا ہے جو ایمان سے محروم ہیںوَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿28﴾
اور جب یہ لوگ کسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہیں، کہتے ہیں، ہم نے تو اسی طریق پر اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور خدا نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔ کہہ دو ، اللہ کبھی بےحیائی کا حکم نہیں دیتا۔ کیا تم لوگ اللہ پر وہ تہمت جوڑتے ہو جس کے باب میں تم کو کوئی علم نہیں۔قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ﴿29﴾
کہہ دو ، کہ اللہ نے تو ہر معاملے میں قسط کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر مسجد کے پاس اپنا رخ اسی کی طرف کرو اور اسی کو پکارو اسی کے لیے اطاعت کو خاص کرتے ہوئے جس طرح اس نے تمہارا آغاز کیا اسی طرح تم لوٹو گے۔فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ﴿30﴾
ایک گروہ کو اس نے ہدایت بخشی اور ایک گروہ پر گراہی مسلط ہوگئی انہوں نے اللہ کے ماسوا شیطان کو اپنا رفیق بنایا اور گمان یہ رکھتے ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیںیٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ع﴿31﴾
اے بنی آدم ! ہر مسجد کی حاضری کے وقت اپنے لباس پہنو اور کھاؤ پیو البتہ اسراف نہ کرو، خدا اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتاقُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ﴿32﴾
پوچھو، کس نے حرام ٹھہرایا ہے اللہ کی اس زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی اور رزق کی پاکیزہ چیزوں کو ؟ کہہ دو کہ وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والے کے لیے ہیں اور آخرت میں تو وہ خاص انہی کا حصہ ہوں گی۔ اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کر رہے ہیں ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیںقُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿33﴾
کہہ دو ، خدا نے حرام تو بس بےحیائیوں کو ٹھہرایا ہے، خواہ کھلی ہوں خواہ پوشیدہ، اور حق تلفی، ناحق زیادتی اور اس بات کو حرام ٹھہرایا ہے کہ تم اللہ کا کسی چیز کو ساجھی ٹھہراؤ جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ پر کسی ایسی بات کا بہتان لگاؤ جس کا تم علم نہیں رکھتے۔وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ﴿34﴾
اور ہر امت کے لیے ایک مقررہ مدت ہے تو جب ان کی مدت پوری ہوجائے گی تو نہ ایک گھڑی پیشھے ہٹ سکیں گے، نہ آگے بڑھ سکیں گےیٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴿35﴾
اے بنی آدم ! اگر تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول آئیں تم کو میری آیات سناتے تو جو ڈرا اور جس نے اصلاح کرلی ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گےوَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿36﴾
اور جو میری آیات کو جھٹلائیں گے اور تکبر کر کے ان سے اعراض کریں گے وہی دوزخ والے ہیں، وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گےفَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ﴿37﴾
تو ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھیں یا اس کی آیات کو جھٹلائیں۔ ان لوگوں کو ان کے نوشتہ کا حصہ پہنچے گا۔ یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے فرشتے ان کو قبض کرنے آئیں گے تو ان سے پوچھیں گے کہ اللہ کے سوا جن کو تم پکارتے تھے کہاں ہیں ؟ وہ جواب دیں گے وہ تو سب ہم سے کھوئے گئے اور یہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ لاریب وہ کفر میں رہےقَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ﴿38﴾
حکم ہوگا، جاؤ، پڑو دوزخ میں ان امتوں کے ساتھ جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے گزریں۔ جب جب کوئی امت داخل ہوگی اپنی ساتھی امت پر لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب سب اس میں اکٹھے ہو لیں گے، ان کے پچھلے اگلوں کے بارے میں کہیں گے، اے ہمارے رب ! یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا تو ان کو دہرا عذاب نار دیجیو۔ ارشاد ہوگا تم سب کے لیے دہرا ہے، پر تم جانتے نہیںوَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ع﴿39﴾
اور ان کے اگلے اپنے پچھلوں سے کہیں گے، تم کو بھی تو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہوئی تو تم بھی اپنے کیے کی پاداش میں عذاب چکھواِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ﴿40﴾
بیشک جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور تکبّر کر کے ان سے منہ موڑا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں نہیں داخل ہوں گے جب اونٹ سوئی کے ناکے میں نہ سما جائے اور ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیںلَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ﴿41﴾
ان کے یلے دوزخ ہی کا بچھونا اور اوپر سے اسی کا اوڑھنا ہوگا اور ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیںوَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿42﴾
اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کیے، ہم کسی جان پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ وہی جنت والے ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے ،وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿43﴾
اور ان کے سینے کی ہر خلش ہم کھینچ لیں گے۔ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ اور وہ کہیں گے شکر کا سزا وار ہے وہ اللہ جس نے اس چیز کی ہدایت بخشی، اگر اللہ نے ہمیں ہدایت بخشی، اگر اللہ نے ہمیں ہدایت نہ بخشی ہوتی تو ہم تو ہدایت پانے والے نہ بنتے۔ ہمارے رب کے رسول بالکل سچی بات لے کر آئے۔ اور ان کو پیغام دیا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کے تم اپنے اعمال کے صلے میں وارث ٹھہرائے گئے ہووَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ﴿44﴾
اور جنت والے دوزخ والوں کو پکار کر پوچھیں گے کہ ہم سے تو جو کچھ ہمارے رب نے وعدہ کیا تھا ہم نے اس کو بالکل سچا پایا، کیا تم نے بھی جو کچھ تمہارے رب نے تم سے وعدہ کیا تھا اس کو سچا پایا، وہ جواب دیں گے، ہاں ! پھر ایک منادی کرنے والا ان کے بیچ میں پکارے گا کہ اللہ کی لعنت ہو ظالموں پرالَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ﴿45﴾
ان پر جو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور وہ آخرت کے منکر ہیںوَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ﴿46﴾
اور ان کے درمیان پردے کی دیوار ہوگی اور دیوار کی برجیوں پر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو ان کی علامت سے پہچانیں گے اور وہ اہل جنت کو پکار کر کہیں گے کہ آپ پر اللہ کی رحمت و سلامتی ہو، وہ اس میں ابھی داخل نہیں ہوئے ہوں گے لیکن متوقع ہوں گےوَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ع﴿47﴾
اور جب ان کو اہل دوزخ کی طرف طوجہ دلائی جائے گی، وہ پکار اٹھیں گے اے ہمارے رب ہمیں ان ظالموں کا ساتھی نہ بنائیو !وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ﴿48﴾
اور برجیوں والے کچھ اشخاص کو جن کو وہ ان کی علامت سے پہچانتے ہوں گے، آواز دیں گے، کہیں گے، کیا کام آئی تمہارے تمہاری جمعیت اور تمہارا وہ سارا گھمنڈ جو تم کرتے تھے !اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ﴿49﴾
کیا یہی ہیں وہ لوگ جن کے باب میں تم قسمیں کھا کھا کے کہتے تھے کہ یہ کبھی اللہ کی کسی رحمت کے سزا وار نہیں ہوسکتے ! داخل ہو، جنت میں، اب نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگاوَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ﴿50﴾
اور دوزخ والے جنت والوں کو آواز دیں گے کہ پانی یا ان چیزوں میں سے، جو اللہ نے تمہیں بخش رکھی ہیں، کچھ ہم پر بھی کرم فرماؤ، وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں کے لیے حرام کر رکھی ہیںالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ﴿51﴾
ان کے لیے جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنایا اور جن کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈالے رکھا، پس آج ہم ان کو نظر انداز کریں گے جس طرح انہوں نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا اور جیسا کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہےوَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿52﴾
اور ہم نے ان کو ایک ایسی کتاب پہنچا دی ہے جس کی تفصیل ہمنے علم قطعی کی بنیاد پر کی ہے، ہدایت و رحمت بنا کر ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیں۔هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ع﴿53﴾
یہ لوگ بس اس کی حقیقت کے مشاہدے کے منتظر ہیں جس روز اس کی حقیقت سامنے آئے گی، وہ لوگ جنہوں نے اس کو پہلے نظر انداز کیے رکھا، بول اتھیں گے کہ بیشک ہمارے رب کے رسول بالکل سچی بات لے کر آئے تھے، تو ہیں کوئی ہمارے سفارشی کہ ہماری سفارش کریں یا ہے کوئی صورت کہ ہم دوبارہ لوٹائے جائیں کہ اس سے مختلف عمل کریں جو پہلے کرتے رہے ہیں، ، انہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور جو کچھ وہ گھڑتے رہے تھے سب ہوا ہوگئےاِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ﴿54﴾
بیشک تمہارا رب وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر متمکن ہوا۔ ڈھانکتا ہے رات کو دن پر جو اس کا پوری سرگرمی سے تعاقب کرتی ہے اور اس نے سورج اور چاند اور ستارے پیدا کیے جو اس کے حکم سے مسخر ہیں۔ آگاہ کہ خلق اور امر اسی کے لیے خاص ہے۔ بڑا ہی بابرکت ہے اللہ، عالم کا رب !اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ﴿55﴾
اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، بیشک وہ حدود سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿56﴾
اور ملک میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ برپاکرو اور اسی کو پکارو بیم و رجا دونوں حالتوں میں، بیشک اللہ کی رحمت نیکو کاروں سے قریب ہےوَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ﴿57﴾
اور وہی ہے جو اپنے ابر رحمت سے پہلے ہواؤں کو بشارت بنا کر بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بوجھل بادل کو اٹھا لیتی ہیں ہم اس کو ہانکتے ہیں کسی بےآب وگیاہ زمین کی طرف اور وہاں پانی برساتے ہیں اور پھر ہم اس سے پیدا کرتے ہیں ہر قسم کے پھل، اسی طرح ہم مردوں کو اٹھا کھڑا کریں گے تاکہ تم یاد دہانی حاصل کرو۔وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ع﴿58﴾
اور زرخیز زمین کی پیداوار تو خوب اپچتی ہے اس کے رب کے حکم سے پر جو زمین ناقص ہوتی ہے اس کی پیداوار کم ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح ہم اپنی آیات مختلف پہلوؤں سے دکھاتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو شکر گزار بننا چاہیںلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿59﴾
ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا، اس نے ان کو دعوت دی اے میرے ہم قومو، اللہ ہی کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی اور معبود نہیں۔ میں تم پر ایک ہولناک دن کے عذاب کے تسلط سے ڈرتا ہوں۔قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿60﴾
اس کی قوم کے بڑوں نے جواب دیا کہ ہم تو تم کو ایک کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا دیکھ رہے ہیںقَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿61﴾
اس نے کہا، اے میرے ہم قومو، مجھ میں کوئی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں تمام عالم کے رب کا رسول ہوں ،اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿62﴾
تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچا رہا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے وہ بات جانتا ہوں جو تم نہیں جانتےاَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴿63﴾
کیا تمہیں یہ بات عجیب معلوم ہوئی کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی یاد دہانی تمہیں میں سے ایک شخص کے ذریعہ سے آئی تاکہ وہ تمہیں باخبر کرے اور تاکہ تم ڈرو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے !فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ع﴿64﴾
پس ان لوگوں نے اس کو جھٹلا دیا تو ہم نے اس کو اور جو لوگ کشتی میں اس کے ساتھ تھے ان کو نجات دی اور ان لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی بیشک یہ لوگ اندھے تھےوَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ﴿65﴾
اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا، اس نے دعوت دی، اے میرے ہم قومو ! اللہ ہی کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی اور معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیںقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ﴿66﴾
اس کی قوم کے بڑوں نے، جنہوں نے کفر کیا، جواب دیا کہ ہم تو تم کو ایک کھلی ہوئی حماقت میں مبتلا دیکھتے ہیں اور ہم تم کو جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿67﴾
اس نے کہا اے میرے ہم قومو ! مجھ میں کوئی حماقت نہیں ہے بلکہ میں خداوند عالم کا رسول ہوں۔اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ﴿68﴾
تمہیں اپنے رب کے پیام پہنچا رہا ہوں اور تمہارا دیانت دار ناصح ہوںاَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴿69﴾
کیا تمہیں یہ بات عجیب لگی کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی یاد دہانی تمہیں میں سے ایک شخص کے واسطہ سے پہنچی تاکہ وہ تمہیں ہوشیار کرے اور یاد کرو جب کہ اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد ان کا جانشین بنایا اور جسمانی اعتبار سے تمہیں وسعت و کشادگی عطا فرمائی تو اللہ کی شانوں کو یاد رکھو تاکہ تم فلاح پاؤ۔قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿70﴾
وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہم تنہا اللہ ہی کی عبادت کریں اور ان کو چھوڑ بیٹھیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے ہآئے ؟ تو تم جس عذاب کی ہم کو دھمکی سنا رہے ہو اس کو لاؤ اگر تم سچے ہوقَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ﴿71﴾
اس نے کہا تم پر تمہارے رب کی جانب سے ناپاکی اور قہر مسلط ہوچکے ہیں۔ کیا تم مجھ سے کچھ فرضی ناموں کے بارے میں جھگڑ رہے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ چھوڑے ہیں۔ جن کی خدا نے کوئی دلیل نہیں اتاری، سو تم بھی انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوںفَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ع﴿72﴾
پس ہم نے اس کو اور ان کو جو اس کے ساتھ تھے اپنے فضل سے نجات دی اور ان لوگوں کی ہم نے جڑ کاٹ دی جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور یہ ایمان لانے والے لوگ نہیں تھےوَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿73﴾
اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے دعوت دی، اے میرے ہم قومو، اللہ ہی کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے ایک واضح نشانی آگئی ہے۔ یہ اللہ کی اونٹنی ہے کہ تمہارے لیے ایک نشانی ہو پس اس کو چھوڑو کہ یہ اللہ کی زمین میں چرے پھرے اور اس کو کوئی گزند نہ پہنچائیو ورنہ تمہیں ایک دردناک عذاب آپکڑے گاوَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ﴿74﴾
اور یاد کرو جب کہ خدا نے قوم عاد کے بعد تم کو ان کا جانشین بنایا اور ملک میں تم کو تمکن بخشا، تم اس کے میدانوں میں محل تعمیر کرتے اور پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو تو اللہ کی شانوں کو یاد کرو اور ملک میں اودھم مچاتے نہ پھرو۔قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ﴿75﴾
اس کی قوم کے ان بڑوں نے، جنہوں نے گھمنڈ کیا، ان زیر دستوں سے کہا جو ان میں سے ایمان لائے، کیا تم سمجھتے ہو کہ صالح اپنے رب کا فرستادہ ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو اس پیاس پر جو وہ دے کر بھیجے گئے ہیں ایمان رکھتے ہیںقَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ﴿76﴾
منکروں نے کہا کہ ہم تو اس چیز کے منکر ہیں جس پر تم ایمان لائے ہوفَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ﴿77﴾
تو انہوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی اور بولے کہ اے صالح، اگر تم خدا کے فرستادہ ہو تو وہ عذاب ہم پر لاؤ جس کی دھمکی دے رہے ہوفَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ﴿78﴾
پس ان کو کپکپی نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئےفَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ﴿79﴾
تو وہ ان کو چھور کر یہ کہہ کر چل دیا کہ اے میری قوم کے لوگو ؟ میں نے تمہیں اپنے رب کا پیام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کردی لیکن تم خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتےوَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ﴿80﴾
اور ہم نے لوط کو بھیجا۔ جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا۔ کیا تم کھلی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو ! تم سے پہلے دنیا کے کسی نے بھی اس کا ارتکاب نہیں کیا۔اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوْنَ﴿81﴾
تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے شہوت رانی کرتے ہو۔ بڑی ہی اوندھی عقل کے بلکہ حد سے گزر جانے والے لوگ ہووَ مَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ﴿82﴾
اس پر اس کی قوم والوں نے جواب دیا تو یہ دیا کہ ان کو اپنی بستی سے نکالو، یہ بڑے پارسا بنتے ہیںفَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ۖ٘ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ﴿83﴾
تو ہم نے اس کو اور اس کے گھر والوں کو، اس کی بیوی کے سوا جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے بنی نجات دیوَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ؕ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ع﴿84﴾
اور ان پر اچھی طرح پتھراؤ کردیا تو دیکھو، مجرموں کا کیا انجام ہواوَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ﴿85﴾
اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا، اس نے دعوت دی، اے میرے ہم قومو، اللہ ہی کی بندگی کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح حجت آچکی ہے تو ناپ تول پوری کرو، لوگوں کی چیزوں میں کوئی کمی نہ کرو اور زمین میں، اس کی اصلاح کے بعد، فساد نہ برپا کرو، یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم ایمان لانے والے ہووَ لَا تَقْعُدُوْا بِكُلِّ صِرَاطٍ تُوْعِدُوْنَ وَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ كُنْتُمْ قَلِیْلًا فَكَثَّرَكُمْ١۪ وَ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ﴿86﴾
اور ہر راہ میں دھمکیاں دیتے، اہل ایمان کو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس راہ کو کج کرتے نہ بیٹھو۔ یاد کرو جب کہ تم تھورے تھے تو تم کو خدا نے زیادہ کیا اور دیکھو فساد برپا کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا !وَ اِنْ كَانَ طَآئِفَةٌ مِّنْكُمْ اٰمَنُوْا بِالَّذِیْۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ طَآئِفَةٌ لَّمْ یُؤْمِنُوْا فَاصْبِرُوْا حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ بَیْنَنَا١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ﴿87﴾
اور جب کہ تم میں سے ایک گروہ اس چیز پر ایمان لایا ہے جو میں دے کر بھیجا گیا ہوں اور ایک گروہ ایمان نہیں لایا ہے تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہےقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫﴿88﴾
اور اس کی قوم کے بڑوں نے، جنہوں نے تکبر کیا، کہا کہ اے شعیب، ہم تم کو اور جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو اپنی بستی سے نکال کے رہیں گے یا تم ہماری ملت میں پھر آجاؤ۔ اس نے کہا کیا جب کہ ہم اس سے نفرت کرتے ہوں تب بھی !قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ﴿89﴾
ہم اللہ پر جھوٹ تہمت باندھنے والے ٹھہریں گے اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دی۔ یہ ہم سے تو ہونے کا نہیں کہ ہم اس ملت میں لوٹ آئیں مگر یہ کہ اللہ ہمارے رب ہی کی مشیت ہو تو اور بات ہے۔ ہمارے رب کا علم ہر شے کو محیط ہے۔ ہم نے اپنے رب پر بھروسہ کیا۔ اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردے۔ تو بہترین فیصلہ فرمانے والا ہےوَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ﴿90﴾
اور ان بڑوں نے جنہوں نے اس کی قوم میں سے کفر کیا، کہا کہ اگر تم شعیب کی پیروی کروگے تو بڑے خسارے میں پڑوگےفَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ﴿91﴾
تو ان کو کپکپی نے آپکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے رہ گئےالَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ﴿92﴾
جنہوں نے شعیب کی تکذیب کی گویا کبھی اس بستی میں بسے ہی نہیں، جنہوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی نامراد ہوئےفَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ع﴿93﴾
تو وہ ان کو یہ کہہ کر چھوڑ کر چل دیا کہ اے میرے ہم قومو، میں نے تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچا دیے، تمہاری خیر خواہی کردی تو اب میں کفر کرنے والوں کا غم کیوں کروں ! !وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ﴿94﴾
اور ہم نے جس بستی میں کوئی رسول بھیجا، اس کے باشندوں کو مالی اور جسمانی مصائب سے آزمایا کہ وہ رجوع کریں۔ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿95﴾
پھر ہم نے دکھ کو سکھ سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ دکھ اور سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچے ہیں۔ پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑلیا اور وہ اس کا کوئی گمان نہیں رکھتے تھے۔وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿96﴾
اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو پکڑ لیااَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ﴿97﴾
تو کیا بستیوں والے نچنت رہ سکے اس بات سے کہ آدھمکے ان پر ہمارا عذاب راتوں رات اور وہ سوئے پڑے ہوں۔اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ﴿98﴾
اور کیا بستیوں والے نچنت رہ سکے اس بات کہ ان پر آدھمکے ہمارا عذاب دن دہاڑے اور وہ کھیل کود میں ہوںاَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ع﴿99﴾
تو کیا وہ اللہ کی تدبیر سے بچ سکے۔ تو یاد رکھو کہ خدا کی تدبیر سے وہی لوگ نچنت ہوتے ہیں جو نامراد ہونے والے ہوںاَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ﴿100﴾
کیا سبق نہیں ملا ان کو جو ملک کے وارث بنے ہیں اس کے اگلے باشندوں کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ابھی آ پکڑیں اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیں تو وہ سننے سمجھنے سے رہ جائیںتِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ﴿101﴾
یہ بستیاں ہیں جن کی سرگزشتوں کا کچھ حصہ ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان کے پاس ہمارے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ایمان لانے والے نہ بنے بوجہ اس کے کہ وہ پہلے سے جھٹلاتے رہے تھے۔ اسی طرح اللہ ٹھپہ لگا دیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر۔وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ﴿102﴾
اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی استواری نہیں پائی۔ ان میں سے اکثر بدعہد ہی نکلےثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ﴿103﴾
پھر ہم نے ان کے بعد موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے اعیان کے پاس رسول بنا کر بھیجا تو انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم اور نشانیوں کا انکار کیا تو دیکھو ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا !وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿104﴾
اور موسیٰ نے کہا، اے فرعون، میں خداوند عالم کا فرستادہ ہوں۔حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ﴿105﴾
سزاوار اور حریص ہوں کہ اللہ کی طرف سے حق کے سوا کوئی اور بات منسوب نہ کروں۔ میں تمہارے پاس تمہارے خداوند کی جانب سے کھلی ہوئی نشانی لے کر آیا ہوں تو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دوقَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿106﴾
اس نے جواب دیا کہ اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے تو اس کو پیش کرو۔ اگر تم سچے ہوفَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ﴿107﴾
تو اس نے اپنی لٹھیا ڈال دی وہ یکایک ایک سچ مچ کا اژدہا بن گئیوَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ع﴿108﴾
اور اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو وہ دفعۃً دیکھنے والوں کے لیے چمکتا ہوا نکلاقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ﴿109﴾
قوم فرعون کے اعیان نے کہا۔ یہ تو بڑا ماہر جادوگر ہے۔یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ﴿110﴾
یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے تو تم کیا رائے دیتے ہو ؟قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ﴿111﴾
بولے ابھی اس کو اور اس کے بھائی کو ٹالو اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیجویَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ﴿112﴾
جو تمام ماہر جادوگروں کو اکٹھا کر کے تمہارے پاس لائیںوَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ﴿113﴾
جادوگر فرعون کے پاس حاضر ہوئے۔ بولے بڑا صلہ ملے ا گا ہمیں اگر ہم ہی غالب رہے !قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ﴿114﴾
فرعون نے کہا، ہاں بےشک، اور تم ہمارے مقربین میں بھی داخل ہوگےقَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ﴿115﴾
بولے اے موسیٰ ، یا تو پہلے تم پیش کرو، یا ہمیں پیش کرنے والے بنتے ہیں۔قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ﴿116﴾
اس نے کہا تمہی یش کرو، تو جب انہوں نے پیش کیا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کردیا اور ان پر دہشت طاریکردی اور بہت بڑا کرتب دکھایاوَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ﴿117﴾
اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ تم اپنی لٹھیا ڈال دو ، تو دفعۃ نگلنے لگی اس کو جو وہ گھڑتے تھےفَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ﴿118﴾
تو حق ظاہر ہوگیا اور جو کچھ وہ کر رہے تھے وہ سب نابود ہوافَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ﴿119﴾
تو اس وقت وہ مغلوب ہوئے اور ذلیل ہو کر رہ گئے۔وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ﴿120﴾
اور ساحر سجدے میں گر پڑےقَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ﴿121﴾
بولے ہم عالم کے خداوند پر ایمان لائےرَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ﴿122﴾
موسیٰ اور ہارون کا خداوندقَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ﴿123﴾
فرعون نے کہا تم لوگ میری اجازت کے بغیر اس پر ایمان لائے۔ یہ ایک سازش ہے جو تم نے اس شہر میں اس غرض سے کی ہے کہ اس کے باشندوں کو یہاں سے نکالو تو تم عنقریب جان لوگےلَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ﴿124﴾
میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں بےترتیب کاٹوں گا پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گاقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ﴿125﴾
وہ بولے ہم اپنے رب ہی کی طرف تو لوٹیں گے !وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ع﴿126﴾
تم ہمارے درپئے آزار صرف اس غصہ میں ہو رہے ہو کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر جب کہ وہ ہمارے اپس آئیں، ایمان لائے، اے ہمارے رب، ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں وفات اسلام پر دےوَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ﴿127﴾
اور قوم فرعون کے اعیان نے فرعون سے کہا کیا تو اسی طرح موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑے رکھے گا کہ وہ ملک میں بدامنی پھیلائیں اور تجھ کو اور تیری مورتوں کو ٹھکرائیں ؟ اس نے کہا کہ ہم ان کے ذکور کو قتل کریں گے اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رکھیں گے اور ہم ان پر پوری طرح حاوی ہیں۔قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ﴿128﴾
موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اللہ سے مدد چاہو اور ثابت قدم رہو۔ زمین اللہ کی ہے وہ جس کو اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اس کو اس کا وارث بناتا ہے اور انجام کار کی کامیابی خدا سے ڈرنے والوں ہی کے لیے ہےقَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿129﴾
وہ بولے ہم تو تمہارے آنے سے پہلے بھی ستائے گئے اور تمہارے آنے کے بعد بھی۔ اس نے کہا توقع ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو پامال کرے گا اور تم کو ملک کا وارث بنائے گا کہ دیکھے تم کیا روش اختیار کرتے ہووَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ﴿130﴾
اور ہم نے آلِ فرعون کو قحط سالی اور پیداوار کی کمی میں مبتلا کیا تاکہ ان کو تنبیہ ہوفَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿131﴾
تو جب خوش حالی آتی، کہتے، یہ تو ہے ہمارا حصہ اور اگر ان پر کوئی آفت آتی تو اس کو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے۔ سن رکھو کہ ان کی قسمت اللہ ہی کے پاس ہے لیکن ان میں کے اکثر نہیں جانتےوَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ﴿132﴾
اور کہتے ہیں کہ خواہ تم کیسی ہی نشانی ہمیں مسحور کرنے کے لیے لاؤ ہم تو تمہاری بات باور کرنے کے نہیں۔فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ﴿133﴾
تو ہم نے ان پر بھیجے طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون، تفصیل کی ہوئی نشانیاں، تو انہوں نے تکبر کیا اور یہ مجرم لوگ تھےوَ لَمَّا وَقَعَ عَلَیْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا یٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ١ۚ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ﴿134﴾
اور جب آتی ان پر کوئی آفت تو درخواست کرتے کہ اے موسیٰ تم اپنے رب سے، اس عہد کے واسطہ سے جو اس نے تم سے کر رکھا ہے، ہمارے لیے دعا کرو۔ اگر تم نے ہم یہ آفت دور کردی تو ہم تمہاری بات ضرور مان لیں گے۔ اور تمہارے ساتھ بنی اسائیل کو جانے دیں گےفَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤى اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ یَنْكُثُوْنَ﴿135﴾
تو جب ہم ان سے دور کردیتے آفت کو کچھ مدت کے لیے جس تک وہ پہنچنے والے ہوتے تو وہ دفعۃً عہد توڑ دیتےفَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ﴿136﴾
تو ہم نے ان کو کیفر کردار کو پہنچا دیا اور انہیں سمندر میں غرق کردیا بوجہ اس کے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپروا بنے رہےوَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ بِمَا صَبَرُوْا١ؕ وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ﴿137﴾
اور جو لوگ دبا کے رکھے گئے تھے ہم نے ان کو اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث ٹھہرایا جس میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا بوجہ اس کے کہ وہ ثابت قد رہے اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کی ساری تعمیرات اور ان کے سارے باغ و چمن ملیا میٹ کردیےوَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰى قَوْمٍ یَّعْكُفُوْنَ عَلٰۤى اَصْنَامٍ لَّهُمْ١ۚ قَالُوْا یٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَاۤ اِلٰهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ١ؕ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ﴿138﴾
اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر کے پار اتار دیا تو ان کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جو اپنے کچھ بتوں کی پرستش میں لگی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا، اے موسیٰ جس طرح ان کے دیوتا ہیں اسی طرح کا ایک دیوتا تم ہمارے لیے بھی بنا دو۔ اس نے کہا تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو۔اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِیْهِ وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿139﴾
ان لوگوں کا یہ سب کچھ جس میں یہ لگے ہوئے ہیں برباد اور جو کچھ کر رہے ہیں نابود ہونے والا ہےقَالَ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْكُمْ اِلٰهًا وَّ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ﴿140﴾
اس نے کہا۔ کیا میں تمہارے لی اللہ کے سوا کوئی اور معبود ڈھونڈوں درآنحالیکہ وہی ہے جس نے تم کو اہل عالم پر فضیلت بخشی ؟وَ اِذْ اَنْجَیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ۚ یُقَتِّلُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ۠ع﴿141﴾
اور یاد کرو جب کہ ہم نے تم کو آلِ فرعون سے نجات دی جو تمہیں نہایت برے عذاب چکھاتے تھے وہ تمہارے بیٹوں کو بےدردی سے قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی ہی آزمائش تھیوَ وٰعَدْنَا مُوْسٰى ثَلٰثِیْنَ لَیْلَةً وَّ اَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیْقَاتُ رَبِّهٖۤ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً١ۚ وَ قَالَ مُوْسٰى لِاَخِیْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِیْ فِیْ قَوْمِیْ وَ اَصْلِحْ وَ لَا تَتَّبِعْ سَبِیْلَ الْمُفْسِدِیْنَ﴿142﴾
اور ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور اس کو پورا کیا دس مزید راتوں سے تو اس کے رب کی مدت چالیس راتوں میں پوری ہوئی۔ اور موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا، میری قوم میں میری جانشینی کرنا، اسلاح کرتے رہنا اور مفسدوں کی روش کی پیروی نہ کرناوَ لَمَّا جَآءَ مُوْسٰى لِمِیْقَاتِنَا وَ كَلَّمَهٗ رَبُّهٗ١ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیْۤ اَنْظُرْ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ وَ لٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ١ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰى رَبُّهٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَهٗ دَكًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿143﴾
اور جب موسیٰ ہماری مقررہ مدت پر حاضر ہوا اور اس سے اس کے رب نے کلام کیا تو اس نے درخواست کی کہ اے میرے رب مجھے موقع دے کہ میں تجھے دیکھ لوں۔ فرمایا تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے البتہ پہاڑ کی طرف دیکھو، اگر یہ اپنی جگہ پر ٹکا رہ سکے تو تم بھی مجھے دیکھ سکوگے۔ تو جب اس کے رب نے پہار پر اپنی تجلی ڈالی تو اس کو ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ بےہوش ہو کر گر پڑے۔ پھر جب ہوش میں آئے، بولے تو پاک ہے، میں نے تیری طرف رجوع کیا اور میں پہلا ایمان لانے والا بنتا ہوںقَالَ یٰمُوْسٰۤى اِنِّی اصْطَفَیْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیْ وَ بِكَلَامِیْ١ۖ٘ فَخُذْ مَاۤ اٰتَیْتُكَ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ﴿144﴾
فرمایا اے موسیٰ میں نے تم کو لوگوں پر اپنے پیغام اور اپنے کلام سے سرفراز کیا تو میں نے جو کچھ تم کو دیا اس کو لو اور شگر گزاروں میں سے بنووَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ﴿145﴾
اور ہم نے اس کے لیے تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی۔ پس اس کو مضبوطی سے پکڑو اور اپنی قوم کو ہدایت کرو کہ اس کے بہتر طریقہ کو اپنائیں میں تم کو عنقریب نافرمانوں کا ٹھکانا دکھاؤں گاسَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ﴿146﴾
میں ان لوگوں کو جو زمین میں ناحق گھمنڈ کرتے ہیں اپنی نشانیوں سے برگشتہ کروں گا اور اگر وہ ہر قسم کی نشانیاں بھی دیکھ لیں گے تو بھی ان پر ایمان نہ لائیں گے۔ اگر ہدایت کی راہ دیکھیں گے تو اسے تو نہ اپنائیں گے اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں گے تو اسے اپنائیں گے یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپروا بنے رہےوَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ع﴿147﴾
اور جنہوں نے ہماری نشانیوں اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ان کے اعمال ڈھے گئے اور بدلے میں وہی پائیں گے جو وہ کرتے رہےوَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ﴿148﴾
اور موسیٰ کی قوم نے اس کے پیچھے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا لیا۔ ایک دھڑ جس سے بھاں بھاں کی آواز نکلتی تھی۔ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا نہ وہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ ان کو کوئی راہ دکھا سکتا ہے، اس کو وہ بنا بیٹھے اور وہ اپنے اوپر بڑے ظلم ڈھانے والے تھےوَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿149﴾
اور جب ان کو تنبہ ہوا اور انہوں نے دیکھا کہ وہ تو گمراہ ہوگئے تو بولے کہ اگر ہمارے پروردگار نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہمارا قصور معاف نہ کیا تو ہم نامرادوں میں سے ہوجائیں گےوَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ﴿150﴾
اور جب موسیٰ رنج اور غصہ سے بھرے ہوئے اپنی قوم کی طرف لوٹے، بولے تم نے میرے پیچھے میری بہت بری جانشینی کی۔ کیا تم نے خدا کے حکم سے پہلے ہی جلد بازی کردی ؟ اور اس نے تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی کا سر پکر کر اس کو اپنی طرف گھسیٹنے لگا۔ وہ بولا اے میرے ماں جائے ! قوم کے لوگوں نے مجھے دبا لیا، قریب تھا کہ مجھے قتل کردیتے تو میرے اوپر دشمنوں کو ہنسنے کا موقع نہ دے اور میرا شمار ظالموں کے ساتھ نہ کرقَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ع﴿151﴾
موسیٰ نے دعا کی، اے میرے پروردگار، مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر، ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، تو ارحم الراحمین ہےاِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ﴿152﴾
بیشک جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا ان کو ان کے رب کی طرف سے غضب لاحق ہوگا اور ذلت، دنیا کی زندگی میں اور ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں ہم بہتان باندھنے والوں کووَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿153﴾
پر جنہوں نے برے کام کیے، پھر اس کے بعد انہوں نے توبہ کرلی اور ایمان لائے تو اس کے بعد تیرا رب بخشنے والا اور مہربان ہےوَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ﴿154﴾
اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا اس نے تختیاں اٹھائیں اور اس کے نوشتہ میں ہدایت و رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرنے والے ہوںوَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ﴿155﴾
اور موسیٰ نے اپنی قوم کے ستر آدمی چے ہمارے وقت مقرر کے لیے تو جب ان کو زلزلہ نے آپکڑا تو موسیٰ نے کہا اے اگر تو چاہتا ان کو ہلاک کر چھوڑتا پہلے ہی اور مجھ کو بھی۔ کیا تو ہمیں ایک ایسے جرم کی پاداش میں ہلاک کردے گا جس کا ارتکاب ہمارے اندر کے بیوقوفوں نے کیا۔ یہ تو بس تیری ایک آزمائش تھی تو اس سے جس کو چاہے گمراہی میں ڈال دے اور جس کو چاہے ہدایت دے تو ہی ہمارا کارساز ہے تو ہمیں بخش اور ہم پر رحم فرما اور تو بہترین بخشنے والا ہےوَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ﴿156﴾
اور تو ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم نے تو تیری طرف رجوع کیا۔ فرمایا، میں اپنے عذاب میں تو اسی کو مبتلا کرتا ہوں جس کو چاہتا ہوں اور مری رحمت ہر چیز کو عام ہے۔ سو میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ رکھوں گا جو تقوی اختیار کریں گے اور زکوۃ دیتے رہیں گے اور جو ہماری آیات پر ایمان لائیں گےاَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ع﴿157﴾
جو پیروی کریں کریں گے اس نبی امی رسول کی جسے وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، وہ ان کو نیکی کا حکم دیتا ہے، برائی سے روکتا ہے اور ان کے لیے پاکیزہ چیزیں جائز ٹھہراتا ہے اور خبیث چیزیں حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اور پابندیاں اتارتا ہے جو ان پر اب تک رہی ہیں۔ تو جو اس پر ایمان لائے، جنہوں نے اس کی عزت کی، اس کی مدد کی اور اس روشنی کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتاری گئی ہے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیںقُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ﴿158﴾
کہہ دو ، اے لوگو، میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔ اس اللہ کا جس کے لیے ہی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے۔ وہی جلاتا اور وہی مارتا ہے، پس ایمان لاؤ اللہ اور اس کے نبی امی رسول پر جو ایمان رکھتا ہے اللہ اور اس کے کلمات پر اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم راہ یاب ہووَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ﴿159﴾
اور موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہوا جو حق کے مطابق رہنمائی کرتے اور اسی کے مطابق انصاف کرتےوَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿160﴾
اور ہم نے ان کو بارہ خاندانوں میں الگ الگ امتیں بنا دیا اور ہم نے موسیٰ کی طرف، جب اس کی قوم نے پانی طلب کیا، وحی کی کہ اپنی لٹھیا پتھر پر مارو تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ معین کرلیا اور ہم نے ان پر بدلیوں کا سایہ کیا اور ان پر من اور سلوی اتارا۔ کھاؤ ہماری بخشی ہوئی پاکیزہ چیزوں میں سے۔ اور انہوں نے کچھ ہمارا نہیں بگاڑا بلکہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہےوَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ﴿161﴾
اور یاد کرو، جب ان سے کہا گیا، اس بستی میں رہو بسو، اس میں جہاں سے چاہو کھاؤ پیو اور توبہ استغفار کرتے رہو اور دروازے میں سرفگندہ داخل ہو تو ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے۔ خوب کاروں کو ہم مزید نوازیں گےفَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ع﴿162﴾
تو ان میں سے ان لوگوں نے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم ڈھائے اس کو بدل دیا کہی ہوئی بات سے مختلف بات سے، تو ہم نے ان پر ایک آفت سماوی بھیجی بوجہ اس کے کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھےوَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ﴿163﴾
اور ان سے اس بستی کا حال دریافت کرو جو دریا کے کنارے تھی جب کہ وہ سبت کے معاملے میں حدود الٰہی سے تجاوز کرتے تھے۔ جب سبت کا دن ہوتا تو وہ ظاہر نہ ہوتیں۔ اسی طرح ہم ان کو آزماتے تھے بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کرتے تھےوَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ﴿164﴾
اور یاد کرو جب کہ ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کیے جا رہے ہو جنہیں یا تو اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا انہیں ایک سخت عذاب دینے والا ہے۔ وہ بولے کہ یہ اس لیے کہ یہ تمہارے رب کے سامنے ہماری طرف سے عذر بن سکے اور تاکہ یہ خدا کے غضب سے بچیںفَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ﴿165﴾
تو جب انہوں نے بھلا دی وہ چیز جس سے ان کو یاد دہانی کی گئی تو ہم نے ان لوگوں کو تو نجات دی جو برائی سے روکنے والے تھے اور ان لوگوں کو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کرتے رہتے تھےفَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ﴿166﴾
تو جب وہ سرکشی کرکے اس چیز سے باز نہ آئے جس سے روکے گئے تو ہم نے ان سے کہا جاؤ ذلیل بندر بن جاؤوَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿167﴾
اور یاد کرو جب تیرے رب نے فیصلہ کیا کہ وہ روز قیامت تک ان پر ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا جو ان کو نہایت برے عذاب چکھاتے رہیں گے بیشک تیرا رب جلد پاداش دینے والا اور بیشک وہ بخشنے والا مہربان ہےوَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿168﴾
اور ہم نے ان کو زمین میں منتشر کردیا گروہ گروہ کر کے، ان میں کچھ نیک بھی ہیں اور کچھ اس سے مختلف بھی اور ہم نے ان کو خوشحالیوں اور بدحالیوں سے آزمایا تاکہ وہ رجوع کریںفَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿169﴾
تو ان کے بعد ان کے ایسے جانشین وارث کتاب ہوئے جو اس دنیا کی متاع اختیار کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے سب معاف کردیا جائے گا اور اگر اسی طرح کی کوئی اور متاع ان کو مل جائے تو اسے بھی ہتھیا لیں گے، کیا ان سے درباب کتاب یہ میثاق نہیں لیا گیا کہ وہ اللہ پر حق کے سوا کوئی اور بات نہ جوڑیں اور انہوں نے جو کچھ اس میں ہے اس کو اچھی طرح پڑھا بھی۔ اور دار آخرت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو تقوی اختیار کریں، تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ﴿170﴾
اور جو لوگ کتاب الٰہی کو مضبوطی سے تھامتے اور نماز قائم کرتے ہیں تو ہم مصلحین کا اجر ضائع نہیں کریں گےوَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ع﴿171﴾
اور یاد کرو جب ہم نے ان کے اوپر پہاڑ کو معلوق کردیا گویا وہ سائبان ہے اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ ان پر گرا ہی چاہتا ہے، پکڑو اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی سے اور یاد رکھو جو کچھ اس میں ہے تاکہ تم خدا کے غضب سے محفوظ رہووَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ﴿172﴾
اور یاد کرو، جب نکالا تمہارے رب نے بنی آدم سے، ان کی پیٹھوں سے، ان کی ذریت کو اور ان کو گواہ ٹھہرایا خود ان کے اوپر، پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہو ؟ بولے ہاں تو ہمارا رب ہے۔ ہم اس کے گواہ ہیں۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ مبادا قیامت کو تم عذر کرو کہ ہم تو اس سے بیخبر ہی رہے۔اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ﴿173﴾
یا عذر کرو کہ ہمارے باپ دادا نے پہلے سر شرک کیا اور ہم ان کے بعد ان کے خلف ہوئے تو کیا باطل پرستوں کے عمل کی پاداش میں تو ہم کو ہلاک کرے گا ؟وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿174﴾
اور ہم اسی طرح اپنی آیات کی تفصیل کرتے ہیں تاکہ ان پر حجت قائم ہو اور تاکہ وہ رجوع کریںوَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ﴿175﴾
اور ان کو اس کی سرگزشت سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیات عنایت کیں تو وہ ان سے نکل بھاگا، پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا، بالآخر وہ گمراہوں میں سے ہوگیاوَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ﴿176﴾
اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیات کے ذریعہ سے سربلند کرتے لیکن وہ زمین ہی کی طرف جھکا اور اپنی خواہشوں ہی کا پیرو بنا رہا۔ تو اس کی تمثیل اس کتے کی ہے اگر تم اس کو دھتکارو جب بھی زبان نکالے رکھتا ہے یا چھوڑ دو جب بھی زبان نکالے رکھتا ہے یہ تمثیل ہے اس قوم کی جس نے ہماری آیات کی تکذیب کی۔ تو ان کو سرگزشت سناؤ تاکہ وہ غور کریںسَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ﴿177﴾
کیا ہی بری تمثیل ہے اس قوم کی جس نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور خود اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتی رہیمَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴿178﴾
جسے اللہ ہدایت بخشے وہی ہدایت پانے والا بنتا ہے اور جنہیں وہ گمراہ کردے وہی ہیں جو نامراد ہوتے ہیںوَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ﴿179﴾
اور ہم نے جنون اور انسانوں میں سے بہتون کو دوزخ کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں، ان کے آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ یہ چوپایوں کے مانند ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں یہی لوگ ہیں جو بالکل بیخبر ہیںوَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿180﴾
اور اللہ کے لیے تو صرف اچھی ہی صفتیں ہیں تو انہیں سے اس کو پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑو جو اس کی صفات کے باب میں کجروی اختیار کر رہے ہیں۔ وہ جو کچ کر رہے ہیں، عنقریب اس کا بدلہ پائیں گےوَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ع﴿181﴾
اور جن کو ہم نے پیدا کیا ان میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی رہا ہے جو حق کے مطابق لوگوں کی رہنمائی اور اس کے مطابق فیصلے کرتے رہے ہیںوَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ﴿182﴾
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہم ان کو وہاں سے داؤں پر لے جا رہے ہیں جہاں سے انہیں علم نہیںوَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ﴿183﴾
اور میں انہیں ڈھیل دیے جا رہا ہوں کیونکہ میری تدبیر بہت ہی محکم ہےاَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ﴿184﴾
کیا انہوں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی کو کوئی جنون نہیں ہے وہ تو بس ایک کھلا ہوا ہوشیار کرنے والا ہے۔اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ﴿185﴾
یا انہوں نے آسمانوں اور زمین کے نظام اور ان چیزوں پر نگاہ نہیں کی جو خدا نے پیدا کی ہیں اور اس بات پر کہ کیا عجب کہ ان کی مدت قریب آ لگی ہو تو اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے ؟مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ﴿186﴾
جن کو خدا گمراہ کردے ان کے لیے کوئی ہدایت دینے والا نہیں بن سکتا۔ ان کو وہ ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہےیَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿187﴾
وہ تم سے قیامت کے باب میں سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا ؟ کہہ دو کہ اس کا علم تو بس میرے رب ہی کے پاس ہے۔ وہی اس کے وقت پر اس کو ظاہر کرے گا۔ آسمان و زمین اس سے بوجھل ہیں۔ وہ تم پر بس اچانک ہی آدھمکے گی۔ وہ تم سے پوچھتے ہیں گویا تم اس کی تحقیق کیے بی تھے ہو کہہ دو ، اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتےقُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ع﴿188﴾
کہہ دو میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع و نقصان پر کوئی اختیار نہیں رکھتا، مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو خیر کا بڑا خزانہ جمع کرلیتا اور مجھے کوئی گزند نہ پہنچ پاتا۔ میں تو بس ان لوگوں کے لیے ایک ہوشیار کرنے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں جو ایمان لائیںهُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ﴿189﴾
وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ایک ہی جان سے اور اسی سے پیدا کیا اس کا جوڑا کہ وہ اس سے تسکین پائے تو جب وہ اس کو چھا لتا ہے تو وہ اٹھا لیتی ہے ایک ہلکا سا حمل، پھر وہ اس کو لیے کچھ وقت گزارتی ہے تو جب بوجھل ہوتی ہے دونوں، اللہ اپنے رب سے دعا کرتے ہیں، اگر تو نے ہمیں تندرست اولاد بخشی ہم تیرے شکر گزاروں میں سے ہوں گے۔فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ﴿190﴾
تو جب اللہ ان کو تندرست اولاد دے دیتا ہے تو اس کی بخشی ہوئی چیز میں وہ اس کے لیے دوسرے شریک ٹھہراتے ہیں۔ اللہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک ٹھہراتے ہیںاَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ﴿191﴾
کیا وہ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیںوَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ﴿192﴾
اور نہ وہ ان کی کسی قسم کی مدد کرسکتی ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتی ہیں۔وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ﴿193﴾
اور اگر تم ان کو رہنمائی کے لیے پکارو وہ تمہارے ساتھ نہ لگیں گے، یکساں ہے، خواہ تم ان کو پکارا یا تم خاموش رہو ،اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿194﴾
جن کو تم اللہ کے ماسوا پکارتے ہو یہ تو تمہارے ہی جیسے بندے ہیں پس ان کو پکار دیکھو، وہ تمہیں جواب دیں، اگر تم سچے ہواَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ﴿195﴾
کیا ان کے پاؤں ہیں جن سے وہ چلتے ہیں، کیا ان کے ہاتھ ہیں جن سے وہ پکڑتے ہیں، کیا ان کے آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے ہیں، کیا ان کے کان ہیں جن سے وہ سنتے ہوں ؟ کہہ دو ، تم اپنے شریکوں کو بلاؤ، میرے خلاف چالیں چل دیکھو اور مجھے مہلت نہ دواِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ﴿196﴾
میرا کارساز اللہ ہے جس نے کتاب اتاری ہے اور وہ نیکو کاروں کی کارسازی فرماتا ہےوَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ﴿197﴾
اور جن کو تم اللہ کے ماسوا پکارتے ہو نہ وہ تمہاری ہی مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیںوَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ﴿198﴾
اور اگر تم ان کو رہنمائی کے لیے پکارو وہ تمہارے بات نہ سنیں گے اور تم ان کو دیکھتے ہو کہ وہ تمہاری طرف تاک رہے ہیں لیکن انہیں سوجھتا کچھ بھی نہیںخُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ﴿199﴾
درگزر کرو، نیکی کا حکم دو اور جاہلوں سے اعراض کرووَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿200﴾
اگر تمہیں کوئی وسوسہ شیطانی لاحق ہونے لگے تو اللہ کی پناہ چاہو، بیشک وہ سننے والا اور جاننے والا ہےاِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ﴿201﴾
جو لوگ خدا ترس ہیں جب ان کو کوئی شیطانی چھوت لاھق ہونے لگتی ہے وہ خدا کا دھیان کرتے ہیں اور دفعۃ ان کے دل روشن ہوجاتے ہیںوَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ﴿202﴾
اور جو ان نا خدا ترسوں کے بھائی ہیں وہ ان کو گمراہی میں بڑھاتے ہیں پھر کوئی کسر نہیں چھوڑتےوَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ﴿203﴾
اور جب تم ان کے پاس کوئی نشانی نہیں لاتے کہتے ہیں کہ اسے کیوں نہ گھڑ لائے ! کہہ دو ، میں تو بس اسی چیز کی پیروی کرتا ہون جو میرے رب کی طرف سے مجھ پر وحی کی جاتی ہے یہ تمہارے رب کی طرف سے آنکھیں کھولنے والی آیات اور ہدایت و رحمت ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائیںوَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ﴿204﴾
اور جب قرآن سنایا جائے تو اس کو توجہ سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائےوَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ﴿205﴾
اور اپنے رب کو صبح و شام یاد کرو اپنے دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ اور پست آواز سے اور غافلوں میں سے نہ بنواِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩۩ع﴿206﴾
بیشک جو تیرے رب کے پاس ہیں وہ اس کی بندگی کرنے سے نہیں اکڑتے۔ وہ اس کی تسبیح کرتے اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں