35. Faatirفاطر
The Originator · Meccan · 45 ayahs · 5 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا اُولِیْۤ اَجْنِحَةٍ مَّثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ؕ یَزِیْدُ فِی الْخَلْقِ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿1﴾
شکر کا سزاوار حقیقی اللہ ہے۔ آسمانوں اور زمین کا خالق فرشتوں کو دو دو، تین تین اور چار چار پروں والے پیغام رساں بنانے والا۔ وہ خلق میں جو چاہے اضافہ کردیتا ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔مَا یَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا١ۚ وَ مَا یُمْسِكْ١ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ﴿2﴾
اللہ لوگوں کے لئے جس رحمت کا فتح باب کرے تو اس کو کوئی روکنے والا۔ نہیں اور جس کو روک لے تو اس کے بعد کوئی اس کو کھولنے والا نہیں اور وہی حقیقی عزیز و حکیم ہے۔یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ؕ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَیْرُ اللّٰهِ یَرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۖ٘ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ﴿3﴾
اے لوگو ! تمہارے اوپر اللہ کا جو انعام ہے اس کا دھیان کرو۔ کیا للہ کے سوا کوئی اور خالق ہے جو تم کو آسمان اور زمین سے رزق بہم پہنچاتا ہو ! اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو تم کہاں اوندھے ہوئے جاتے ہو !وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ﴿4﴾
اور اگر یہ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو کچھ غم نہ کرو، تم سے پہلے بھی کتنے رسولوں کی تکذیب کی گئی ہے اور اللہ ہی کے سامنے سارے امور پیش کئے جائیں گے۔یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ٙ وَ لَا یَغُرَّنَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ﴿5﴾
اے لوگو ! اللہ کا وعدہ شدنی ہے تو تم کو یہ دنیا کی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ اللہ کے باب میں تم کو فریب کار شیطان فریب میں رکھے۔اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْهُ عَدُوًّا١ؕ اِنَّمَا یَدْعُوْا حِزْبَهٗ لِیَكُوْنُوْا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِؕ﴿6﴾
بیشک شیطان تمہارا دشمن ہے تو تم اس کو دشمن ہی سمجھو۔ وہ تو اپنی پارٹی کو صرف جہنم کا ایندھن بنانے کے لئے بلاتا ہے۔اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ۠ع﴿7﴾
جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان کے لئے مغفرت اور بہت بڑا اجر ہے۔اَفَمَنْ زُیِّنَ لَهٗ سُوْٓءُ عَمَلِهٖ فَرَاٰهُ حَسَنًا١ؕ فَاِنَّ اللّٰهَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۖ٘ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَیْهِمْ حَسَرٰتٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ﴿8﴾
کیا وہ جس کی نگاہوں میں اس کا برا عمل کھبا دیا گیا ہے، پس وہ اس کو اچھا خیال کرنے لگا ہے (ایمان لانے والا بن سکتا ہے) پس اللہ ہی جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو ان کے غم میں تم اپنے کو ہلکان نہ کرو، اللہ باخبر ہے ان کاموں سے جو وہ کر رہے ہیں۔وَ اللّٰهُ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَسُقْنٰهُ اِلٰى بَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَحْیَیْنَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ كَذٰلِكَ النُّشُوْرُ﴿9﴾
اور اللہ ہی ہے جو بھیجتا ہے ہوائوں کو پس وہ ابھارتی ہیں بادلوں کو پھر ہم ان کو ہانکتے ہیں کسی خشک زمین کی طرف پس ہم اس سے اس زمین کو اس کے مردہ ہوجانے کے بعد از سرنو زندگی بخش دیتے ہیں۔ اسی طرح لوگوں کا ازسر نو زندہ ہو کر اٹھنا ہے۔مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰهِ الْعِزَّةُ جَمِیْعًا١ؕ اِلَیْهِ یَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّیِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ یَرْفَعُهٗ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَمْكُرُوْنَ السَّیِّاٰتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ مَكْرُ اُولٰٓئِكَ هُوَ یَبُوْرُ﴿10﴾
جو عزت کا طالب ہو تو یادر رکھے کہ عزت تمام تر اللہ ہی کے لئے ہے۔ اس کی طرف صعود کرتا ہے پاکیزہ کلمہ اور عمل صالح اس کلمہ کو سہارا دیتا ہے۔ اور جو لوگ بری چالیں چل رہے ہیں ان کے لئے سخت عذاب اور ان کی چال نابود ہو کے رہے گی۔وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا١ؕ وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ مَا یُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّ لَا یُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٖۤ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ﴿11﴾
اور اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر پانی کی بوند سے اور پھر تم کو جوڑے جوڑے بنایا۔ اور کوئی عورت نہ حاملہ ہوتی ہے اور نہ جنتی ہے مگر اس کے علم سے۔ کسی عمر والے کی عمر میں نہ زیادتی ہوتی نہ کمی مگر یہ ایک کتاب میں نوشتہ ہے۔ یہ سب اللہ کے لئے آسان ہے۔وَ مَا یَسْتَوِی الْبَحْرٰنِ١ۖۗ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِغٌ شَرَابُهٗ وَ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ؕ وَ مِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِیًّا وَّ تَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْیَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ فِیْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿12﴾
اور دونوں دریا یکساں نہیں ہیں۔ ایک شیریں، پیاس بجھانے والا، پینے کے لئے خوشگوار ہے اور ایک کھاری کڑوا ہے۔ اور تم دونوں سے تازہ گوشت کھاتے اور زینت کی چیز نکالتے ہو جس کو پہنتے ہو۔ اور تم دیکھتے ہو کشتیوں کو اس میں پھاڑتی ہوئی چلتی ہیں تاکہ تم اس کے فضل کے طالب بنو اور تاکل تم شکر گزار بنو۔یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ۙ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ۖ٘ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ١ؕ وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مَا یَمْلِكُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍؕ﴿13﴾
وہ داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے۔ ہر ایک گردش کرتا ہے ایک معین وقت کے لئے۔ وہی اللہ تمہارا رب ہے، اسی کی بادشاہی یہ۔ رہے وہ جن کو اس کے سوا تم پکارتے ہو تو وہ ذرہ برابر کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔اِنْ تَدْعُوْهُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآءَكُمْ١ۚ وَ لَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَكُمْ١ؕ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُوْنَ بِشِرْكِكُمْ١ؕ وَ لَا یُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِیْرٍ۠ع﴿14﴾
اگر تم ان کو پکارو گے تو وہ تمہاری فریاد نہیں سنیں گے اور اگر سنیں گے بھی تو تمہاری فریاد رسی نہیں کریں گے اور قیامت کے دن تمہارے شرک کا انکار کریں گے۔ اور ایک باخبر کی طرح کوئی دوسرا تمہیں آگاہ نہیں کرسکتا !یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ﴿15﴾
اے لوگو ! تمہی اللہ کے محتاج ہو، اللہ تو بےنیاز و ستودہ صفات ہے۔اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۚ﴿16﴾
اگر وہ چاہے تو تمہیں فنا کردے اور ایک نئی مخلوق لاکھڑی کرےوَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ﴿17﴾
اور یہ اللہ کے لئے ذرا مشکل نہیں۔وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ اِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا یُحْمَلْ مِنْهُ شَیْءٌ وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ؕ اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ مَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا یَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ﴿18﴾
اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی اور اگر کوئی بوجھل جان اپنے بوجھ کے اٹھانے میں کسی سے طالب مدد ہوگی تو اس میں ذرا بھی اس کا ہاتھ نہیں بٹایاجائے گا اگرچہ وہ قرابت مند ہی کیوں نہ ہو۔ تم تو بس انہی لوگوں کو ڈرا سکتے ہو جو غیب میں رہتے اپنے رب سے ڈرتے اور نماز کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور جو پاکی حاصل کرتا ہے وہ اپنے لئے حاصل کرتا ہے اور اللہ ہی کی طرف سب کی واپسی ہے۔وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُۙ﴿19﴾
نابینا اور بینا دونوں یکساں نہیں ہوں گےوَ لَا الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْرُۙ﴿20﴾
اور نہ تاریکی اور روشنیوَ لَا الظِّلُّ وَ لَا الْحَرُوْرُۚ﴿21﴾
اور سایہ اور دھوپ یکساں ہیںوَ مَا یَسْتَوِی الْاَحْیَآءُ وَ لَا الْاَمْوَاتُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ﴿22﴾
اور نہ زندہ اور مردے یکساں ہوں گے۔ اللہ ہی جن کو چاہتا ہے سناتا ہے اور تم ان کو سنانے والے نہیں بن سکتے جو قبروں کے اندر ہیں۔اِنْ اَنْتَ اِلَّا نَذِیْرٌ﴿23﴾
تم تو بس ایک نذیر ہو۔اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ؕ وَ اِنْ مِّنْ اُمَّةٍ اِلَّا خَلَا فِیْهَا نَذِیْرٌ﴿24﴾
ہم نے تم کو حق کے ساتھ بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ اور کوئی امت ایسی نہیں ہوئی ہے جس کے اندر ایک نذیر نہ آیا ہو۔وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ۚ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالزُّبُرِ وَ بِالْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ﴿25﴾
اور اگر یہ لوگ تم کو جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے جو لوگ ہوئے ہیں انہوں نے بھی جھٹلایا۔ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل، صحیفوں اور روشن کتاب کے ساتھ آئے تھے۔ثُمَّ اَخَذْتُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ۠ع﴿26﴾
پھر میں نے ان لوگوں کو پکڑا تو دیکھو کیسی ہوئی ان کے اوپر میری پھٹکارا۔اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ ثَمَرٰتٍ مُّخْتَلِفًا اَلْوَانُهَا١ؕ وَ مِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیْضٌ وَّ حُمْرٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهَا وَ غَرَابِیْبُ سُوْدٌ﴿27﴾
تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پس ہم نے اس سے مختلف رنگوں کے پھ پیدا کردیے۔ اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ مختلف رنگوں کے دھاریاں ہیں اور بھیجنگ کالی بھی۔وَ مِنَ النَّاسِ وَ الدَّوَآبِّ وَ الْاَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ كَذٰلِكَ١ؕ اِنَّمَا یَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰٓؤُا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ غَفُوْرٌ﴿28﴾
اور انسانوں، جانوروں اور چارپایوں کے اندر بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ اسی طرح اللہ سے اس کے بندوں میں سے وہی ڈریں گے جو علم رکھنے والے ہیں۔ بیشک اللہ غالب اور بخشنے والا ہےاِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ﴿29﴾
بیشک جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے، نماز کا اہتمام کرتے اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وہ ایک ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس کے لئے کبھی کساد بازاری نہیں۔لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ﴿30﴾
تاکہ اللہ ان کو ان کے اعمال کا اجر بھی دے اور ان کے لئے اپنے فضل میں سے زیادہ بھی کرے۔ بیشک وہ بخشنے والا اور قبول فرمانے والا ہے۔وَ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِعِبَادِهٖ لَخَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ﴿31﴾
اور ہم نے تمہاری طرف جو کتاب وحی کی ہے، یہی حق ہے، ان پیشین گوئیوں کی مصداق جو اس کے پہلے سے موجود ہیں۔ بیشک اللہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا، دیکھنے والا ہےثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا١ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَیْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُؕ﴿32﴾
پھر ہم نے کتاب کا وارث بنایا ان لوگوں کو جن کو اپنے بندوں میں سے منتخب کیا۔ پس ان میں سے کچھ تو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں، کچھ ان میں سے میانہ رو ہیں اور کچھ ان میں سے اللہ کی توفیق سے بھلائیوں میں سبقت کرنے والے ہیں۔ یہی سب سے بڑا فضل ہے۔جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ لُؤْلُؤًا١ۚ وَ لِبَاسُهُمْ فِیْهَا حَرِیْرٌ﴿33﴾
ان کے لئے ہمیشگی کے باغ ہوں گے جن میں وہ داخل ہوں گے، ان میں ان کو سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے اور اس میں ان کا لباس ریشم ہوگا۔وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ١ؕ اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَكُوْرُۙ﴿34﴾
اور وہ کہیں گے شکر ہے اللہ کا جس نے ہم سے غم کو دور کیا۔ بیشک ہمارا رب بخشنے والا، قبول فرمانے والا ہے۔اِ۟لَّذِیْۤ اَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا نَصَبٌ وَّ لَا یَمَسُّنَا فِیْهَا لُغُوْبٌ﴿35﴾
جس نے ہمیں اپنے فضل سے اس اقامت کے گھر میں اتارا، اس میں نہ ہمیں کوئی کلفت پہنچے گی اور نہ کبھی تھکان لاحق ہوگی۔وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ١ۚ لَا یُقْضٰى عَلَیْهِمْ فَیَمُوْتُوْا وَ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ كُلَّ كَفُوْرٍۚ﴿36﴾
اور جنہوں نے کفر کیا ان کے لئے جہنم کی آگ ہے۔ نہ ان کی قضا ہی آئے گی کہ مر جائیں اور نہ ان سے ان کا عذاب ہی کچھ ہلکا کیا جائے گا۔ ایسا ہی ہم بدلہ دیں گے ہر ناشکرے کووَ هُمْ یَصْطَرِخُوْنَ فِیْهَا١ۚ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ اَوَ لَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَّا یَتَذَكَّرُ فِیْهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَ جَآءَكُمُ النَّذِیْرُ١ؕ فَذُوْقُوْا فَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ۠ع﴿37﴾
اور وہ اس میں واویلا کریں گے۔ اے ہمارے رب ! ہم کو اس سے نکال، اب ہم نیک عمل کریں گے، ان اعمال سے مختلف جو ہم اب تک کرتے رہے ہیں۔ کیا ہم نے تمکو اتنی عمر نہیں دی کہ جو یاددہانی حاصل کرنا چاہے اس میں یاددہانی حاصل کرسکے ! اور تمہارے پاس آگاہ کرنے والا بھی پہنچا ! تو اب اس عذاب کو چکھو۔ ظالموں کے لئے کوئی مدد کرنے والا نہیں بنے گا۔اِنَّ اللّٰهَ عٰلِمُ غَیْبِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ﴿38﴾
اللہ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جاننے والا ہے۔ بیشک وہ سینوں کے بھیدوں سے بھی اچھی طرح باخبر ہے۔هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ؕ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ اِلَّا مَقْتًا١ۚ وَ لَا یَزِیْدُ الْكٰفِرِیْنَ كُفْرُهُمْ اِلَّا خَسَارًا﴿39﴾
وہی ہے جس نے تم کو زمین میں جانشین بنایا تو جو کفر کرے گا اس کے کفر کا وبال اسی پر آئے گا اور کافروں کے لئے ان کا کفر، ان کے رب کے نزدیک، اس کے غضب کی زیادتی ہی کا موجب ہوگا اور کافروں کے لئے ان کا کفر ان کے خسارے ہی میں اضافہ کرے گا۔قُلْ اَرَءَیْتُمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَرُوْنِیْ مَا ذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِی السَّمٰوٰتِ١ۚ اَمْ اٰتَیْنٰهُمْ كِتٰبًا فَهُمْ عَلٰى بَیِّنَتٍ مِّنْهُ١ۚ بَلْ اِنْ یَّعِدُ الظّٰلِمُوْنَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا﴿40﴾
کہو، ذرا تم دیکھو تو اپنے ان شریکوں کو جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو ! مجھے دکھائو، انہوں نے زمین میں سے کیا پیدا کیا یہ ! کیا ان کی آسمانوں میں کوئی حصہ داری ہے ؟ آیا ہم نے ان کو کوئی کتاب دی ہے تو وہ اس کی کسی واضح دلیل پر ہیں ! بلکہ یہ ظالم ایک دوسرے سے محض پرفریب وعدے کر رہے ہیں۔اِنَّ اللّٰهَ یُمْسِكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا١ۚ۬ وَ لَئِنْ زَالَتَاۤ اِنْ اَمْسَكَهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا﴿41﴾
اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں۔ اور اگر وہ ٹل جائیں تو اس کے بعد کوئی اور ان کو تھامنے والا نہیں بن سکتا۔ بیشک وہ نہایت حلیم و غفور ہے۔وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ لَّیَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَاۙ﴿42﴾
اور انہوں نے اللہ کی پکی پکی قسمیں کھائیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نذیر آیا تو وہ ہر امت سے زیادہ ہدایت اختیار کرنے والے بنیں گے۔ پس جب ان کے پاس ایک نذیر آیا تو اس چیز نے، زمین میں ان کے تکبر کے باعث، ان کی بیزاری اور ان کی بری چالوں ہی میں اضافہ کیا۔اِ۟سْتِكْبَارًا فِی الْاَرْضِ وَ مَكْرَ السَّیِّئِ١ؕ وَ لَا یَحِیْقُ الْمَكْرُ السَّیِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ١ؕ فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا سُنَّتَ الْاَوَّلِیْنَ١ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا١ۚ۬ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللّٰهِ تَحْوِیْلًا﴿43﴾
اور بری چال تو اسی کو گھیرتی یہ جو بری چال چلتا ہے۔ پس یہ نہیں انتظار کر رہے ہیں مگر اسی سنت الٰہی کا جو اگلوں کے باب میں ظاہر ہوئی۔ تو تم سنت الٰہی میں نہ کوئی تبدیلی پائو گے اور نہ تم سنت الٰہی کو ٹلتے ہی ہوئے پائو گے۔اَوَ لَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعْجِزَهٗ مِنْ شَیْءٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِیْمًا قَدِیْرًا﴿44﴾
کیا انہوں نے زمین میں سفر نہیں کیا دیکھتے کہ کیسا ہوچکا ہے انجام ان لوگوں کو جوان سے پہلے گزرے ہیں حالانکہ وہ قوت میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھے۔ اور آسمانوں اور زمین کی کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے کہ وہ اللہ کے قابو سے باہر نکل سکے۔ وہ علم والا اور قدرت رکھنے والا ہے۔وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوْا مَا تَرَكَ عَلٰى ظَهْرِهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِعِبَادِهٖ بَصِیْرًا۠ع﴿45﴾
اور اگر اللہ لوگوں کو ان کے اعمال کی پاداش میں فوراً پکڑتا تو زمین کی پشت پر ایک جاندار کو بھی نہ چھوڑتا لیکن وہ ان کو ایک معین مدت تک مہلت دیتا ہے۔ پس جب ان کی مدت پوری ہوجائے گی تو اللہ اپنے بندوں کو خود دیکھنے والا ہے۔