2. Al-Baqaraالبقرة
The Cow · Medinan · 286 ayahs · 40 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓمّٓۚ﴿1﴾
یہ الف، لام، میم ہےذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ١ۛۖۚ فِیْهِ١ۛۚ هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ﴿2﴾
یہ کتاب الٰہی ہے۔ اس کے کتاب الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں ہدایت ہے خدا سے ڈرنے والوں کے لیےالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ﴿3﴾
ان لوگوں کے لیے جو غیب میں رہتے ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیںوَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ﴿4﴾
اور ان کے لیے جو ایمان لاتے ہیں اس چیز پر جو تم پر اتاری گئی ہے اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے اور آخرت پر یہی لوگ یقین رکھتے ہیںاُولٰٓئِكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ﴿5﴾
یہی لوگ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿6﴾
جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے لیے یکساں ہے ڈرا یا نہ ڈرآ، وہ ایمان لانے والے نہیں ہیںخَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ١٘ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠ع﴿7﴾
اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے عذاب عظیم ہےوَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ﴿8﴾
اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو دعوی کرتے ہیں کہ ہم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ مومن نہیں ہیںیُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۚ وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ﴿9﴾
یہ لوگ اللہ کو اور ایمان لانے والوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں حالاں کہ یہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکا دے رہے ہیں اور اس کا احساس نہیں کر رہے ہیںفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ١ۙ فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ١ۙ۬ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ﴿10﴾
ان کے دلوں میں روگ تھا تو اللہ نے ان کے روگ کو بڑھا دیا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے بوجہ اس کے کہ وہ جھوٹ بولتے رہے ہیںوَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ﴿11﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پیدا کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے لوگ ہیںاَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ﴿12﴾
آگاہ رہو کہ یہی لوگ فساد برپا کرنے والے ہیں لیکن یہ محسوس نہیں کر رہے ہیںوَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ﴿13﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس طرح ایمان لاؤجس طرح لوگ ایمان لائے ہیں تو کہتے ہیں، کیا ہم اس طرح ایمان لائیں جس طرح بیوقوف لوگ ایمان لائے ہیں ؟ آگاہ رہو، کہ بیوقوف یہی لوگ ہیں لیکن یہ جانتے نہیںوَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ١ۙ اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ﴿14﴾
اور جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو ایمان لائے ہوئے ہیں اور جب اپنے شیطانوں کی مجلسوں میں پہنچتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم تو آپ لوگوں کے ساتھ ہیں، ہم تو ان لوگوں سے محض مذاق کرتے ہیںاَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ﴿15﴾
اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دیے جا رہا ہے، یہ بھٹکتے پھر رہے ہیںاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى١۪ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ﴿16﴾
یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت پر گمراہی کو ترجیح دی تو تو ان کی تجارت ان کے لیے نفع بخش نہ ہوئی اور یہ ہدایت پانے والے نہ بنےمَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا١ۚ فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ﴿17﴾
ان لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے لوگوں کے لیے آگ جلائی، جب آگ نے اس کے ارد گرد کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کی روشنی سلب کرلی اور ان کو ایسی تاریکی میں چھوڑ دیا جس میں ان کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے۔صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ﴿18﴾
یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اب یہ لوٹنے والے نہیں ہیںاَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌ١ۚ یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ١ؕ وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ﴿19﴾
یا ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش ہو رہی ہو، اس میں تاریکی ہو، کڑک ہو اور چمک ہو، یہ کرکے کی وجہ سے موت کے ڈر سے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونسے لے رہے ہوں۔ حالانکہ اللہ کافروں کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْ١ؕ كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِ١ۙۗ وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ع﴿20﴾
بجلی کی چمک ان کی آنکھوں کو خیرہ کیے دے رہی ہو، جب جب چمک جاتی ہو یہ چل پر تے ہوں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہو رک جاتے ہوں۔ اگر اللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھوں کو سلب کرلیتا، اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ﴿21﴾
اے لوگو، بندگی کرو اپنے اس خدا کی جس نے تم کو بھی پیدا کیا اور ان کو بھی جو تم سے پہلے گزرے ہیں، تاکہ دوزخ کی آگ سے محفوظ رہوالَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿22﴾
اس کی بندگی، جس نے تمہارے لیے زمین کو چھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور اتارا آسمان سے پانی اور اس سے پیدا کیے پھل تمہاری روزی کے لیے۔ تو تم اللہ کے ہم سر نہ ٹھہراؤ درآں حالے کہ تم جانتے ہو۔وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿23﴾
اگر تم اس چیز کی جانب سے شک میں ہو جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے تو لاؤ اس کے مانند کوئی سورة ، اور بلالو اپنے حمایتیوں کو بھی اللہ کے سوا، اگر تم سچے ہوفَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ﴿24﴾
پس اگر نہ کرسکو اور ہرگز نہ کرسکو تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن بنیں گے آدمی اور پتھر، جو تیار ہے کافروں کے لیےوَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿25﴾
اور بشارت دو ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کیے اس بات کی کہ ان کے لیے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جب جب اس کے پھل ان کو کھانے کو ملیں گے تو کہیں گے، یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہمیں عطا ہوا تھا۔ اور ملے گا اس سے ملتا جلتا اور ان کے لیے اس میں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گےاِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ﴿26﴾
اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ کوئی تمثیل بیان کرے، خواہ وہ مچھر کی ہو یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی۔ تو جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہی بات حق ہے ان کے رب کی جانب سے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تو وہ کہتے ہیں کہ اس تمثیل کے بیان کرنے سے اللہ کا کیا منشا ہے ؟ اللہ اس چیز سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہتوں کو ہدایت دیتا ہے اور وہ گمراہ نہیں کرتا مگر انہی لوگوں کو جو نافرمانی کرنے والے ہیںالَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴿27﴾
جو اللہ کے عہد کو اس کے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور جس چیز کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا اس کو کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جو نامراد ہونے والے ہیںكَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿28﴾
تم اللہ کا کس طرح انکار کرتے ہو اور حال یہ ہے کہ تم مردہ تھے تو اس نے تم کو زندہ کیا۔ پھر وہ تم کو موت دیتا ہے پھر زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گےهُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ع﴿29﴾
وہی ہے جس نے تمہارے لیے وہ سب کچھ پیدا کیا جو زمین میں ہے پھر آسمان کی طرف توجہ کی اور سات آسمان استوار کردیے اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہےوَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿30﴾
اور یاد کرو جب کہ تمہارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، انہوں نے کہا کیا تو اس میں اس کو خلیفہ مقرر کرے گا جو اس میں فساد مچائے اور خونریزی کرے اور ہم تو تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتے ہی ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہی ہیں ؟ اس نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتےوَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿31﴾
اور اس نے سکھا دیے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان لوگوں کے ناموں سے آگاہ کروقَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ﴿32﴾
انہوں نے کہا کہ تو پاک ہے، ہمیں تو تو نے جو کچھ بتایا ہے اس کے سوا کوئی علم نہیں۔ بیشک تو ہی علم والا اور حکمت والا ہے۔قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ﴿33﴾
کہا اے آدم ! ان کو بتآ ان لوگوں کے نام تو جب اس نے بتائے ان کو ان لوگوں کے نام تو اس نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا کہ آسمانوں اور زمین کے بھید کو میں ہی جانتا ہوں اور میں جانتا ہوں اس چیز کو جس کو تم ظاہر کرتے ہو اور جس کو تم چھپاتے تھےوَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ﴿34﴾
اور یاد کرو جب کہ ہم نے کہا فرشتوں سے کہ آدم کو سمجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے۔ اس نے انکار کیا اور گھمنڈ کیا اور کافروں میں سے بن گیاوَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ﴿35﴾
اور ہم نے کہا اے آدم تم اور تمہاری بیوی دونوں رہو جنت میں اور اس میں سے کھاؤ فراغت کے ساتھ جہاں سے چاہو اور اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے بن جاؤ گےفَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ﴿36﴾
تو شیطان نے ان کو وہاں سے پھسلا دیا اور ان کو نکلوا چھوڑا اس عیش و آرام سے جس میں وہ تھے۔ اور ہم نے کہا کہ اترو تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے اور تمہارے لیے ایک وقت خاص تک زمین میں رہنا بسنا اور کھانا پینا ہےفَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ﴿37﴾
پھر آدم نے پا لیے اپنے رب کی طرف سے چند کلمات تو اس نے اس کی توبہ قبول کی۔ بیشک وہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہےقُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴿38﴾
ہم نے کہا اترو یہاں سے سب، تو اگر آئے تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت تو جو میری ہدایت کی پیروی کریں گے تو ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گےوَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ع﴿39﴾
اور جو کفر کریں گے اور جھٹلائیں گے میری آیتوں کو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گےیٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ﴿40﴾
اے بنی اسرائیل یاد کرو میری اس نعمت کو جو میں نے تم پر کی اور میرے عہد کو پورا کرو، میں تمہارے عہد کو پورا کروں گا۔ اور مجھی سے ڈرووَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ١۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١٘ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ﴿41﴾
اور ایمان لاؤ اس چیز پر جو میں نے اتاری ہے تصدیق کرتی ہوئی اس چیز کی جو تمہارے پاس ہے اور تم اس کے سب سے پہلے انکار کرنے والے نہ بنو اور میری آیات کو حقیر پونجی کے عوض نہ بیچو اور میرے غضب سے بچتے ہی رہووَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿42﴾
اور حق اور باطل کو گڈ مڈ نہ کرو حق کو چھپانے کے لیے درآں حالے کہ تم جانتے ہووَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ﴿43﴾
اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرواَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿44﴾
کیا تم لوگوں کو وفاداری کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو اور حال یہ ہے کہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو ؟ کیا تم سمجھتے نہیں ؟وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ﴿45﴾
اور مدد چاہو صبر اور نماز سے اور بیشک یہ بھاری چیز ہے مگر ان لوگوں کے لیے جو ڈرنے والے ہیںالَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠ع﴿46﴾
جو گمان رکھتے ہیں کہ انہیں اپنے رب ملنا ہے اور وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیںیٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ﴿47﴾
اے بنی اسرائیل میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم پر کی اور اس بات کو کہ میں نے تمہیں دنیا والوں پر فضیلت دیوَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ﴿48﴾
اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی جان کسی دوسری جان کے کچھ کام نہ آئے گی، نہ اس کی طرف سے کوئی سفارش قبول ہوگی اور نہ اس سے کوئی معاوضہ لیا جائے گا نہ ان کی کوئی مدد کی جائے گیوَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ﴿49﴾
اور یاد کرو جب کہ ہم نے تم کو آل فرعون کے قبضہ سے چھڑایا۔ وہ تمہیں برے عذاب چکھاتے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے اور اس میں تماہرے رب کی طرف سے بڑی ہی آزمائش تھیوَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ﴿50﴾
اور یاد کرو جب کہ ہم نے دریا کو پھاڑ کر تمہیں پار کرایا، پس تمہیں نجات دی اور آل فرعون کو غرق کردیا اور تم دیکھتے رہےوَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ﴿51﴾
اور یاد کرو جب کہ ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ ٹھہرایا۔ پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو معبود بنالیا اور تم ظلم کرنے والے ہوثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿52﴾
پھر ہم نے تم سے درگزر کیا اس کے بعد تاکہ تم شکر گزار بنووَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ﴿53﴾
اور یاد کرو جب کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور فرقان تاکہ تم ہدایت حاصل کرووَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ﴿54﴾
اور یاد کرو جب کہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو، تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے تو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو اور اپنے مجرموں کو اپنے ہاتھوں قتل کرو، یہ تمہارے لیے تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک بہتر ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول فرمائی، بیشک وہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہےوَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ﴿55﴾
اور یاد کرو جب کہ تم نے کہا کہ اے موسیٰ ہم تمہارا یقین کرنے والے نہیں ہیں، جب تک ہم خدا کو کھلم کھلا دیکھ نہ لیں تو تم کو کڑک نے آدبوچا اور تم دیکھتے رہ گئےثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿56﴾
پھر ہم نے تمہاری موت کے بعد تمہیں اٹھایا تاکہ تم شکر گزار بنووَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿57﴾
اور تم پر بدلیوں کا سایہ کیا اور تم پر من وسلوی اتارے، کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو بخشی ہیں، اور انہوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہےوَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ﴿58﴾
اور یاد کرو جب کہ ہم نے کہا، داخل ہوجاؤ۔ اس بستی میں، پس کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو فراغت کے ساتھ اور داخل ہو دروازے میں سرجھکائے ہوئے اور دعا کرو کہ اے رب ہمارے گناہ بخش دے، ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے اور اچھی طرح حکم بجا لانے والوں پر ہم مزید فضل کریں گےفَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠ع﴿59﴾
تو جنہوں نے ظلم کیا انہوں نے بدل دیا اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی دوسری بات سے پس ہم نے ان لوگوں پر جنہوں نے ظلم کیا ان کی نافرمانی کے سبب سے آسمان سے عذاب اتاراوَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ﴿60﴾
اور یاد کرو جب کہ موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے کہا اپنی لٹھیا پتھر پر مارو تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ متعین کرلیا۔ کھاؤ اور پیو اللہ کے رزق میں سے اور نہ بڑھو زمین میں فساد مچانے والے بن کروَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآئِهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا١ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ١ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ١ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠ع﴿61﴾
اور یاد کرو جب کہ تم نے کہا اے موسیٰ ہم ایک ہی قسم کے کھانے پر ہرگز صبر نہیں کرسکتے تو اپنے رب سے ہمارے لیے دعا کرو کہ وہ ہمارے لیے ان چیزوں میں سے نکالے جو زمین اگاتی ہے اپنی سبزیوں، ککڑیوں، لہسن، مسور اور پیاز میں سے۔ کہا، کیا تم اعلی کو ادنی سے بدلنا چاہتے ہو ؟ کسی شہر میں اترو تو وہ چیز تمہیں ملے گی جو تم نے طلب کی ہے اور ان پر ذلت اور پست ہمتی تھوپ دی گئی اور وہ خدا کا غضب لے کر لوٹے۔ یہ اس سبب سے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے بڑھ جانے والے تھے۔اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴿62﴾
بیشک جو ایمان لائے، جو یہودی ہوئے اور نصاری اور صائبی، ان میں سے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لایا اور جس نے عمل صالح کیا تو اس کے لیے اس کے رب کے پاس اجر ہے اور ان کے لیے کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ﴿63﴾
اور یاد کرو جب کہ ہم نے تم سے تمہارا عہد لیا اور اٹھایا تمہارے اوپر طور کو۔ پکڑو اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی کے ساتھ اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھو تاکہ تم خدا کے غضب سے محفوظ رہو۔ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿64﴾
پھر تم نے اس سب کے بعد اعراض کیا، تو اگر تم پر اللہ کی عنایت اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم نامرادوں میں سے ہوچکے ہوتے۔وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ﴿65﴾
اور ان لوگوں کا علم تو تمہیں ہے ہی جنہوں نے سبت کے معاملے میں حدود الٰہی کی بےحرمتی کی تو ہم نے ان کو دھتکارا کہ بن جاؤ، ذلیل بندر بن جاؤ،فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ﴿66﴾
تو ہم نے اس کو نمونہ عبرت بنا دیا ان لوگوں کے لیے جو اس کے آگے اور پیچھے تھے اور اس کو خدا ترسوں کے لیے نصیحت بنایا۔وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ﴿67﴾
اور یاد کرو جب کہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو تو وہ بولے کہ کیا تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو۔ اس نے کہا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں میں سے بنوں۔قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ﴿68﴾
انہوں نے کہا اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ واضح کرے کہ گائے کیسی ہو ؟ اس نے کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ بوڑھی ہو، نہ بچھیا، بیچ کی راس ہو، تو کرو جو تمہیں حکم دیا جا رہا ہےقَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ﴿69﴾
بولے اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ واضح کرے کہ اس کا رنگ کیا ہو ؟ اس نے کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ سنہری ہو، شوخ رنگ، دیکھنے والوں کے لیے دل پسند۔قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ﴿70﴾
بولے اپنے رب سے دعا کرو کہ اچھی طرح واضح کردے کہ وہ کیسی ہو، اس لیے کہ گایوں کے امتیاز میں گھپلا ہوہا ہے۔ اور انشا اللہ اب ہم پتہ لگا لیں گےقَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ع﴿71﴾
اس نے کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے کمیری، زمین کو جوتنے والی اور کھیتوں کو سیراب کرنے والی نہ ہو۔ بالکل یکرنگ ہو، اس میں کسی اور رنگ کی آمیزش نہ ہو۔ بولے، اب تم واضح بات لائے۔ پھر انہوں نے ذبح کی اور وہ ذبح کرتے نظر نہ آتے تھےوَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ﴿72﴾
اور یاد کرو جب کہ تم نے ایک نفس کو قتل کردیا، پھر اس کے بارے میں ایک دوسرے پر الزام بازی کی، حالانکہ اللہ وہ سب کچھ ظاہر کرنے والا ہے جو تم چھپاتے رہے ہوفَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ﴿73﴾
تو ہم نے کہا اس کو اس کے ایک جزو سے مارو۔ اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرے گا اور تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھوثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴿74﴾
پھر اس سب کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے، پس وہ پتھر کے مانند ہوگئے یا ان سے بھی زیادہ سخت۔ پتھروں میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں، بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی جاری ہوجاتا ہے اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو خوف خدا سے گر پڑتے ہیں۔ اور اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہواَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿75﴾
کیا تم لوگ یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ لوگ تمہاری بات مان لیں گے اور حال یہ ہے کہ ان میں سے ایک گروہ اللہ کے کلام کو سنتا رہا ہے اور اس کو سمجھ چکنے کے بعد اس کی تحریف کرتا رہا ہے اور وہ جانتے ہیں اور جب مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تو ایمان لائے ہوئے ہیںوَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿76﴾
اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، کیا تم ان کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں کہ وہ تمہارے رب کے پاس تم سے حجت کریں۔ کیا تم سمجھتے نہیں ؟اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ﴿77﴾
کیا انہیں نہیں معلوم ہے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیںوَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ﴿78﴾
اور ان میں ان پڑھ ہیں جو کتاب الٰہی کو صرف اپنی آرزوؤں کا مجموعہ خیال کرتے ہیں حالانکہ وہ صرف اٹک کے تیر تکے چلاتے ہیںفَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ﴿79﴾
پس ہلاکی ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے شریعت تصنیف کرتے ہیں پھر دعوی کرتے ہیں کہ اللہ کی جانب سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے تھوڑی سی قیمت حاصل کرلیں۔ پس ان کے لیے ہلاکی ہے اس چیز کے سبب سے جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور ان کے لیے ہلاکی ہے اس چیز کے سبب سے جو وہ کماتے ہیںوَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿80﴾
اور وہ کہتے ہیں کہ ان کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی مگر صرف گنتی کے چند دن۔ پوچھو کیا تم نے اللہ کے پاس اس کے لیے کوئی عہد کرا لیا ہے کہ اللہ اپنے عہد کی خلاف ورزی نہیں کرے گا یا تم اللہ پر ایک ایسی تہمت باندھ رہے ہو جس کے بارے میں تمہیں کچھ علم نہیںبَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿81﴾
البتہ جس نے کمائی کوئی بدی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیا تو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گےوَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ع﴿82﴾
اور جو ایمان لائے اور جنہوں نے بھلے کام کیے تو وہی لوگ جنت میں والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گےوَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ﴿83﴾
اور یاد کرو جب کہ ہم نے بی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کروگے۔ والدین کے ساتھ احسان کروگے۔ قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں کو ان کا حق دو گے اور یہ کہ لوگوں سے اچھی بات کہو۔ نماز قائم کرو اور زکوۃ دو پھر تم برگشتہ ہوگئے مگر تم میں سے بہت تھوڑے لوگ۔ اور تم منہ موڑنے والے ہی لوگ ہو۔وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ﴿84﴾
اور یاد کرو جب کہ ہم نے تم سے اقرار لیا کہ اپنوں کا خون نہ بہاؤ گے اور اپنوں کو اپنی بستیوں سے نہ نکالو گے۔ پھر تم نے ان باتوں کا اقرار کیا اور تم اس کے گواہ ہوثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴿85﴾
پھر تم ہی لوگ ہو کہ اپنوں کو قتل کرتے ہو اور اپنے ہی ایک گروہ کو ان کی بستیوں سے نکالتے ہو۔ پہلے ان کے خلاف حق تلفی اور زیادتی کر کے ان کے دشمنوں کی مدد کرتے ہو۔ پھر اگر وہ تمہارے پاس قیدی ہو کر آتے ہیں تو ان کا فدیہ دے کر چھڑاتے ہو حالانکہ سرے سے ان کا نکالنا ہی تمہارے لیے حرام تھا۔ کیا تم کتاب الٰہی کے ایک حصہ پر ایمان رکھتے ہو اور اس کے دوسرے حصے کا انکار کرتے ہو ؟ جو لوگ تم میں سے ایسا کرتے ہیں ان کی سزا دنیا کی زندگی میں رسوائی کے سوا اور کچھ نہیں اور آخرت میں یہ شدید ترین عذاب کی طرف بھیجے جائیں گے۔ اللہ اس چیز سے بیخبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہواُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ع﴿86﴾
یہی لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی تو نہ تو ان کا عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو کوئی مدد ہی پہنچے گی۔وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ﴿87﴾
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور کے بعد پے در پے رسول بھیجے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی تائید کی تو کیا جب جب آئے گا کوئی رسول تمہارے پاس وہ باتیں لے کر جو تمہاری خواہشوں کے خلاف ہوں گی تو تم تکبر کروگے ؟ سو تم نے ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہےوَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ﴿88﴾
اور یہ کہتے ہیں کہ ہمارے دل تو بند ہیں بلہگ خدا نے ان کے کفر کے سبب سے ان پر لعنت کردی ہے تو شاذ و نادر ہی وہ ایمان لائیں گےوَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ﴿89﴾
اور جب آئی ان کے پاس ایک کتاب اللہ کے پاس سے مطابق ان پیشین گوئیوں کے جو ان کے ہاں موجود ہیں اور وہ پہلے سے کافروں کے مقابلے میں فتح کی دعائیں مانگ رہے تھے، تو جب آئی ان کے پاس وہ چیز جس کو وہ جانے پہچانے ہوئے تھے تو انہوں نے اس کا انکار کردیا۔ پس ان منکروں پر اللہ کی پھٹکار ہےبِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ﴿90﴾
کیا ہی بری ہے وہ چیز جس سے انہوں نے اپنی جانوں کا مبادلہ کیا کہ وہ انکار کر رہے ہیں اس چیز کا جو اللہ نے اتاری ہے محض اس ضد کی بنا پر کہ اللہ نازل کرے اپنا فضل جس پر چاہے اپنے بندوں میں سے۔ پس وہ اللہ کا غضب در غضب لے کر لوٹے اور منکروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿91﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز پر ایمان لاؤ جو اللہ نے اتاری ہے تو وہ جواب دیتے ہیں کہ اس چیز پر تو ہم ایمان رکھتے ہی ہیں جو ہم پر اتری ہے اور وہ اس کے علاوہ کا انکار کرتے ہیں حالانکہ وہی حق ہے اور مطابق ہے ان پیشین گوئیوں کے جو ان کے ہاں موجود ہیں۔ ان سے پوچھو پھر تم خدا کے پیغمبروں کو اس سے پہلے کیوں قتل کرتے رہے ہو اگر تم مومن ہووَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ﴿92﴾
اور موسیٰ تمہارے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا۔ پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو معبود بنا لی اور تم اپنے اوپر ظلم ڈھانے والے بنےوَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿93﴾
اور یاد کرو جب کہ ہم نے تم سے عہد لیا اور تمہارے اوپر طور کو اٹھایا اور حکم دیا کہ جو کچھ ہم نے تم کو دیا اس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑو اور سنو اور مانو۔ انہوں نے کہا ہم نے سنا اور نافرمانی کی۔ اور ان کے کفر کے سبب سے بچھڑے کی پرستش ان کے دلوں میں رچ بس گئی۔ ان سے کہو کہ اگر تم مومن ہو تو کیا ہی بری ہے وہ چیز جس کا تمہارا ایمان تم کو حکم دیتا رہا ہے۔قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿94﴾
ان سے کہو کہ اگر دار آخرت کی کامیابیاں اللہ کے ہاں دوسروں کے بالمقابل تمہارے ہی لیے مخصوص ہیں تو موت کی آرزو کرو اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہووَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ﴿95﴾
مگر یہ اپنی ان کرتوتوں کی وجہ سے جن کے یہ مرتکب ہوئے ہیں کبھی موت کی تمنا نہیں کریں گے اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو خوب جانتا ہےوَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ع﴿96﴾
اور تم ان کو زندگی کا سب سے زیادہ حریص پاؤ گے، ان لوگوں سے بھی زیادہ جنہوں نے شرک کیا ہے۔ ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ کاش اس کو ہزار سال عمر ملے حالانکہ اگر یہ عمر بھی ان کو ملے تو بھی وہ اپنے آپ کو خدا کے عذاب سے بچانے والے نہیں بن سکتے اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ﴿97﴾
کہہ دو کہ جو جبریل کا مخالف ہوا تو وہ جان لے کہ جبریل نے اس کلام کو تمہارے دل پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اتارا ہے، مطابق ان پیشین گوئیوں کے جو اس کے پہلے سے موجود ہیں اور یہ ہدایت و بشارت ہے اہل ایمان کے لیےمَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ﴿98﴾
جو اللہ، اس کے فرشتوں، اس کے رسولوں اور جبریل و میکائیل کے دشمن ہوئے تو ایسے کافروں کا اللہ دشمن ہے۔وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ﴿99﴾
اور ہم نے تمہارے اوپر نہایت واضح دلیلیں اتاری ہیں۔ ان کا انکار صرف عہد شکن ہی لوگ کرسکتے ہیںاَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿100﴾
کیا ان کی یہی روش قائم رہے گی کہ جب جب کوئی عہد کریں گے تو ان کا ایک گروہ اس کو اٹھا پھینکے گا ؟ بلکہ ان میں سے اکثر ایمان سے عاری ہیںوَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘﴿101﴾
اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے ایک رسول ان پیشین گوئیوں کے مطابق آیا جو ان کے پاس موجود ہیں تو ان لوگوں نے جن کو کتاب دی گئی تھی، اللہ کی کتاب کو اس طرح پیٹھ پیچھے پھینکا گویا اس سے آشنا ہی نہیںوَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ﴿102﴾
اور ان چیزوں کے پیچھے پڑگئے جو سلیمان کے عہد حکومت میں شیاطین پڑھتے پڑھاتے تھے۔ حالانکہ سلیمان نے کوئی کفر نہیں کیا بلکہ شیطانوں ہی نے کفر کیا۔ یہی لوگوں کو جادو سکھاتے تھے۔ اور اس چیز میں پڑگئے جو بابل میں دونوں فرشتوں۔ ہاروت اور ماروت پر اتاری گئی تھی حالانکہ یہ کسی کو سکھاتے نہیں تھے جب تک اس کو خبردار نہ کردیں کہ ہم آزمائش کے لیے ہیں تو تم کفر میں نہ پڑجانا۔ پس یہ لوگ ان سے وہ علم سیکھتے جس سے میاں اور اس کی بیوی میں جدائی ڈال سکیں۔ حالانکہ یہ اس کے ذریعہ سے خدا کی مشیت کے بغیر کسی کو نقصان پہنچانے والے نہیں بن سکتے تھے اور یہ وہ چیز سیکھتے تھے جو ان کو نقصان پہنچائے حالانکہ ان کو پتہ تھا کہ جس نے اس چیز کو اختیار کیا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ کیا ہی بری ہے وہ چیز جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانوں کو بیچا اے کاش وہ اس کو سمجھتےوَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿103﴾
اور اگر وہ ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو اللہ کا ثواب ان کے لیے کہیں بہتر تھا کاش وہ سمجھتے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿104﴾
اے ایمان والو تم ”رَاعِنَا“ نہ کہا کرو ”انْظُرْنَا“ کہا کرو اور توجہ سے سنا کرو۔ کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ﴿105﴾
جن لوگوں نے کفر کیا، اہل کتاب ہوں یا مشرکین، نہیں چاہتے کہ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے کوئی رحمت نازل ہو۔ اور اللہ اپنی رحمت کے لیے خاص کرتا ہے جن کو چاہتا ہے، اللہ بڑے فضل والا ہےمَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿106﴾
جو کوئی آیت ہم منسوخ کرتے ہیں یا اس کو نظر انداز کراتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کے مانند دوسری لاتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ﴿107﴾
کیا تمہیں نہیں معلوم کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور تمہارے لیے اللہ کے سوا کوئی دوست ہے اور نہ مددگاراَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ﴿108﴾
کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے اس طرح کے سوال کرو جس طرح کے سوال اس سے پہلے موسیٰ سے کیے گئے اور جو لوگ ایمان کو کفر سے بدل لیں گے وہ شاہراہ سے بھٹک گئےوَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿109﴾
بہت سے اہل کتاب یہ چاہتے ہیں کہ وہ تمہارے ایمان کے بعد پھر تمہیں کفر کی حالت میں پلٹٓ دیں، محض اپنے حسد کی وجہ سے، حق کے اچھی طرح واضح ہوجانے کے باوجود تو درگزر کرو اور نظر انداز کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر فرمائے۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہےوَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿110﴾
اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دیتے رہو اور جو نیکی بھی تم اپنے لیے کرو گے اسے اللہ کے پاس پاؤ گے۔ جو کچھ تم کر رہے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہےوَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿111﴾
اور کہتے ہیں کہ جنت میں نہیں داخل ہوسکتے مگر وہ جو یہودی ہیں یا نصرانی۔ یہ محض ان کی آرزوئیں ہیں۔ کہو اس بات پر اپنی دلیل پیش کرو اگر تم سچے ہوبَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ع﴿112﴾
ہاں بلا شبہ جس نے اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردیا اور وہ ٹھیک طرح سے عمل کرنے والا ہے تو اس کے لیے اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے۔ نہ ان کو کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گےوَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿113﴾
اور یہود نے کہا کہ نصاری کی کوئی بنیاد نہیں اور نصاری نے کہا یہود کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور یہ دونوں کتاب کی تلاوت کرتے ہیں۔ اسی طرح کی بات ان لوگوں نے بھی کہی جن کو علم نہیں ہے۔ تو اللہ قیامت کے دن اس معاملہ کا فیصلہ کرے گا جس میں یہ جھگڑ رہے ہیںوَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ﴿114﴾
اور ان سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ کی مساجد کو اس بات سے محروم کریں کہ ان میں اس کا ذکر کیا جائے اور ان کی ویرانی کے درپے ہوں۔ ان کے لیے زیبا نہ تھا کہ ان میں داخل ہوتے مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب عظیم ہےوَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ﴿115﴾
اور مشرق ہو یا مغرب دونوں اللہ ہی کے ہیں تو جدھر بھی رخ کرو اسی طرح اللہ ہے، اللہ بڑی گنجائش رکھنے والا اور علم والا ہےوَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ﴿116﴾
اور کہتے ہیں کہ خدا اولاد رکھتا ہے۔ اس کی شان ان باتوں سے ارفع ہے بلکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ سب اسی کے تابع فرمان ہیںبَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ﴿117﴾
وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے اور جب وہ کسی امر کا فیصلہ کرلیتا ہے تو بس اس کے لیے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے۔وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ﴿118﴾
اور جو لوگ علم نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں کہ خدا ہم سے ہم کلام کیوں نہیں ہوتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہی آتی ؟ اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں انہوں نے بھی انہی کی طرح کی بات کہی ان سب کے دل ایک ہی جیسے ہوگئے۔ جو لوگ یقین کرنے والے ان کے لیے ہم نشانیاں اچھی طرح واضح کرچکے ہیں۔اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ﴿119﴾
ہم نے تمہیں حق کے ساتھ بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے اور تم سے دوزخ میں جانے والوں کے بارے میں کوئی پرسش نہیں ہوگیوَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ﴿120﴾
نہ یہود تم سے راضی ہونے والے ہیں اور نہ نصاریٰ تاوقتیکہ تم انہی کی ملت کے پیرو نہ بن جاؤ۔ ان سے کہو کہ اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے اور اگر تم اس علم حقیقی کے بعد جو تہارے پاس آچکا ہے ان کی خواہشوں پر چلے تو اللہ کے مقابل میں نہ تمہارا کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگاراَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ع﴿121﴾
جن لوگوں کو ہم نے کتاب بخشی اور وہ اس کے پڑھنے کا حق ادا کرتے ہیں وہی لوگ اس (قرآن) پر ایمان لائیں گے اور جو اس کا انکار کریں گے تو وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیںیٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ﴿122﴾
اے بنی اسرائیل میرے اس فضل کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیا اور اس بات کو کہ میں نے تمہیں اہل عالم پر فضیلت دیوَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ﴿123﴾
اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی جان کسی کے کچھ کام نہ آئے گی اور نہ اس سے کوئی معاوضہ قبول ہوگا، نہ اس کو کوئی شفاعت نفع پہنچائے گی اور نہ ان کی کوئی مدد ہی کی جاسکے گیوَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ﴿124﴾
اور یاد کرو جب کہ ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا تو وہ اس نے پوری کر دکھائیں، فرمایا، بیشک میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ اس نے پوچھا اور میری اولاد میں سے ؟ فرمایا میرا یہ عہد ان لوگوں کو شامل نہیں ہے جو ظالم ہوں گےوَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ﴿125﴾
اور یاد کرو، جب کہ ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ بنایا اور حکم دیا کہ مسکن ابراہیم میں ایک نماز کی جگہ بناؤ اور ابراہیم اور اسمعیل کو ذمہ دار بنایا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع، سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھووَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿126﴾
اور یاد کرو جب کہ ابراہیم نے دعا کی کہ اے رب اس سرزمین کو امن کی سرزمین بنا اور اس کے باشندوں کو، جو ان میں سے اللہ اور روز آخرت پر ایمان لائیں پھلوں کی روزی عطا فرما، فرمایا جو کفر کریں گے میں انہیں بھی کچھ دن بہرہ مند ہونے کی مہلت دوں گا۔ پھر میں ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف دھکیلوں گا اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہےوَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿127﴾
اور یاد کرو جب کہ ابراہیم اور اسمعیل بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے۔ انہوں نے دعا کی کہ اے ہمارے رب ہماری جانب سے یہ دعا قبول فرما بیشک تو سننے والا جاننے والا ہےرَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ﴿128﴾
اے ہمارے رب ہم دونوں کو تو اپنا فرمانبردار بنا اور ہماری ذریت میں سے تو اپنی ایک فرمانبردار امت اٹھا اور ہمیں ہمارے عبادت کے طریقے بتا اور ہماری توبہ قبول فرما۔ بیشک تو توبہ قبول کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ع﴿129﴾
اور اے ہمارے رب تو ان میں انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرما جو ان کو تیری آیتیں سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کا تزکیہ کرے، بیشک تو غالب اور حکمت والا ہے۔وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿130﴾
اور کون ہے جو ملت ابراہیم سے اعراض کرسکے مگر وہی جو اپنے آپ کو حماقت میں مبتلا کرے ہم نے اس کو دنیا میں بھی برگزیدہ کیا اور آخرت میں بھی وہ صالحین کے زمرہ میں ہوگا۔اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿131﴾
جب کہ اس کے رب نے اس کو حکم دیا کہ اپنے آپ کو حوالہ کردے۔ اس نے کہا میں نے اپنے آپ کو پروردگارِ عالم کے حوالہ کیاوَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ﴿132﴾
اور ابراہیم نے اسی ملت کی وصیت یعقوب نے اپنے بیٹوں کو کی۔ اے میرے بیٹو، اللہ نے تمہارے لیے دین اسلام کو منتخب فرمایا تو تم نہ مرنا مگر اسلام کی حالت پراَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ﴿133﴾
کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب کی موت کا وقت آیا۔ جب کہ اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا تم میرے بعد کس کی پرستش کروگے ؟ وہ بولے کہ ہم تیرے معبود اور تیرے آباء و اجداد ابراہیم، اسماعیل اور اسحاق کے معبود کی پرستش کریں گے جو ایک ہی معبود ہے اور ہم اسی کے فرماں بردار ہیں۔تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿134﴾
یہ ایک گروہ تھا جو گزر چکا، اس کو ملے گا جو کچھ اس نے کمایا اور تمہیں ملے گا جو کچھ تم نے کمایا، اور جو کچھ وہ کرتے رہیں اس کے بابت تم سے سوال نہیں ہوگاوَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ﴿135﴾
اور کہتے ہیں کہ یہود یا نصرانی بنو تو ہدایت پاؤ گے۔ کہو بلکہ ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو جو اللہ کی طرف یک سو تھا اور مشرکین میں سے نہ تھا۔قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ﴿136﴾
کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس چیز پر ایمان لائے جو ہماری طرف اتاری گئی اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف اتاری گئی اور اس چیز پر ایمان لائے جو موسیٰ و عیسیٰ اور نبیوں کو ان کے رب کی جانب سے ملی، ہم ان میں سے کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم صرف اسی کے فرمانبردار ہیںفَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ﴿137﴾
اگر وہ اس طرح ایمان لائیں جس طرح تم ایمان لائے تو وہ راہ یاب ہوئے اور اگر وہ اعراض کریں تو پھر وہ درپئے مخالفت ہیں۔ ان کے مقابل میں تمہارے لیے اللہ کافی ہوگا، وہ سننے اور جاننے والا ہےصِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ﴿138﴾
کہہ دو ، یہ اللہ کا رنگ اختیار کرو، اور اللہ کے رنگ سے کس کا رنگ اچھا ہے اور ہم اسی کی بندگی کرتے ہیں۔قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ﴿139﴾
کہہ دو ، کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں حجت کر رہے ہو۔ حالانکہ وہی ہمارا بھی رب ہے، وہی تمہارا بھی ہے۔ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لیے تمہارے اور ہم خالص اسی کے لیے ہیںاَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴿140﴾
کیا تم دعوی کرتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق اور یعقوب اور ان کی ذریت کے لوگ یہودی یا نصرانی تھے۔ پوچھو تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟ ان سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی کسی شہادت کو جو ان کے پاس ہے چھپائیں۔ اللہ اس چیز سے بیخبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہوتِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ع﴿141﴾
یہ ایک گروہ تھا جو گزر چکا، اس کو ملے گا جو کچھ اس نے کمایا اور تم کو ملے گا جو کچ تم نے کمایا اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کے بابت تم سے سوال نہ ہوگاسَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿142﴾
اب جو بیوقوف لوگ ہیں وہ کہیں گے کہ ان لوگوں کو اس قبلہ سے جس پر یہ پہلے تھے کس چیز نے روگردان کردیا۔ کہہ دو مشرق اور مغرب اللہ ہی کے ہیں، وہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہےوَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ﴿143﴾
اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک بیچ کی امت بنایا تکہ تم لوگوں پر گواہی دینے والے بنو اور رسول تم پر گواہی دینے والا بنے۔ اور جس قبلہ پر تم تھے ہم نے اس کو صرف اس لیے ٹھہرایا تھا کہ ہم الگ کردیں ان لوگوں کو جو رسول کی پیروی کرنے والے ہیں ان لوگوں سے جو پیٹھ پیچھے پھرجانے والے ہیں۔ بیشک یہ بات بھاری ہے مگر ان لوگوں پر جن کو اللہ ہدایت نصیب کرے اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ وہ تمہارے ایمان کو ضائع کرنا چاہے، اللہ تو لوگوں کے ساتھ بڑا مہربان اور رحیم ہے۔قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ﴿144﴾
ہم آسمان کی طرف تمہارے رخ کی گردش دیکھتے رہے ہیں، سو ہم نے فیصلہ کرلیا کہ ہم تمہیں اس قبلہ کی طرف پھیر دیں جس کو تم پسند کرتے ہو۔ تو تم اپنا رخ مسجد حرم کی طرف کرو۔ اور جہاں کہیں بھی تم ہو تو اپنے رخ اسی کی طرف کرو۔ جن لوگوں کو کتاب ملی وہ جانتے ہیں کہ یہی ان کے رب کی جانب سے حق ہے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے۔وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ﴿145﴾
اور اگر تم اہل کتاب کے سامنے ہر قسم کی نشانیاں بھی پیش کر دو تو بھی یہ تمہارے قبلہ کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ تم ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے بن سکتے اور نہ وہ ایک دوسرے کے قبلہ کی پیروی کرنے والے بن سکتے۔ اور اگر تم اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے ان کی خواہشوں کی پیروی کروگے تو بلاشبہ تم ظالموں میں سے ہوجاؤگے۔اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ﴿146﴾
جن کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ البتہ ان میں ایک گروہ ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھپاتا ہے۔اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ع﴿147﴾
یہی حق ہے تمہارے رب کی جانب سے تو تم شک کرنے والوں میں سے نہ بن جانا۔وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿148﴾
ہر ایک کے لیے ایک سمت ہے وہ اسی کی طرف رخ کرنے والا ہے تو تم نیکیوں کی راہ میں سبقت کرو۔ جہاں کہیں بھی تم ہو گے، اللہ تم سب کو جمع کرے گا۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہےوَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ﴿149﴾
اور جہاں کہیں سے بھی تم نکلو تو اپنا رخ مسجد حرام ہی کی طرف کرو۔ بیشک یہی حق ہے تمہارے رب کی جانب سے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بیخبر نہیں ہےوَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ﴿150﴾
اور جہاں کہیں سے بھی نکلو تو اپنا رخ مسجد حرام ہی کی طرف کرو اور جہاں کہیں بھی تم ہو تو اپنے رخ اسی کی جانب کرو تاکہ لوگوں کے لیے تمہارے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے، مگر جو ان میں سے ظالم ہیں تو ان سے نہ ڈرو مجھی سے ڈرو، اور تاکہ میں اپنی نعمت تم پر تمام کروں اور تاکہ تم راہ یاب ہو۔كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ﴿151﴾
چناچہ ہم نے تمہیں ایک رسول بھیجا تم ہی میں سے جو تمہیں ہماری آیتیں پڑھ کر سناتا اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں ان چیزوں کی تعلیم دیتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ع﴿152﴾
تو تم مجھے یاد رکھو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، میری شکر گزاری کرتے رہنا، میری ناشکری نہ کرنا۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ﴿153﴾
اے ایمان والو، ثابت قدمی اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہےوَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ﴿154﴾
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں ان کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم محسوس نہیں کرتے۔وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ﴿155﴾
بیشک ہم تمہارا امتحان کریں گے کسی قدر خوف، بھوک اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور ان ثابت قدموں کو خوش خبری سنا دوالَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ﴿156﴾
جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ﴿157﴾
یہی لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی عنایتیں ہیں اور رحمت، اور یہی لوگ راہ یاب ہونے والے ہیں۔اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ﴿158﴾
بیشک صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں تو جو بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ ان کا طواف کرے۔ اور جس نے کوئی نیکی خوش دلی کے ساتھ کی تو اللہ قبول کرنے والا اور جاننے والا ہے۔اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ﴿159﴾
بیشک جو لوگ چھپاتے ہیں ہماری اتاری ہوئی کھلی کھلی نشانیوں اور ہماری ہدایت کو، بعد اس کے کہ ہم نے وہ کتاب میں کھول کر لوگوں کے لیے بیان کردی تھیں تو وہی لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور جن پر لعنت کرنے والے لعنت کریں گےاِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ﴿160﴾
البتہ جن لوگوں نے توبہ کرلی اور اصلاح کرلی اور واضح طور پر بیان کردیا تو ان کی توبہ میں قبول کروں گا۔ میں بڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوںاِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ﴿161﴾
بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اسی کفر کی حلت میں مر گئے ان پر اللہ کی فرشتوں اور لوگوں کی سب لعنت ہے۔خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ﴿162﴾
وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کا عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو مہلت ہی ملے گیوَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ع﴿163﴾
اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ رحمان اور رحیم ہے۔اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿164﴾
بیشک آسمانوں اور زمین کی خلقت، رات اور دن کی آمد و شد، اور ان کشتیوں میں جو لوگوں کے لیے سمندر میں نفع بخش سامان لے کر چلتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے بادلوں سے اتارا اور جس سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشی اور جس سے اس میں ہر قسم کے جاندار پھیلائے اور ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو آسمان و زمین کے درمیان مامور ہیں، ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیںوَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ﴿165﴾
اور لوگوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو خدا کے ہم سر ٹھہراتے ہیں، جن سے وہ اس طرح محبت کرتے ہیں جس طرح خدا سے محبت کرتے ہیں جس طرح خدا سے محبت کرنی چاہیے۔ لیکن جو خدا پر ایمان رکھتے ہیں وہ سب سے زیادہ خدا سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اور اگر یہ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے اس وقت کو دیکھ سکتے جب کہ یہ عذاب سے دوچار ہوں گے تو ان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجاتی کہ سارا زور اور اختیار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور اللہ بڑا ہی سخت عذاب دینے والا ہے۔اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ﴿166﴾
اس وقت کا خیال کرو جب کہ مقتدا اپنے پیرو وں سے اظہار براءت کریں گے، اور وہ عذاب سے دوچار ہوں گے اور ان کے تعلقات یک قلم ٹوٹ جائیں گےوَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ع﴿167﴾
اور ان کے پیرو بھی کہیں گے کہ اے کاش ہمیں دنیا میں ایک بار اور جانا نصیب ہوتا کہ ہم بھی ان سے اسی طرح اظہار براءت کرسکتے جس طرح انہوں نے ہم سے اظہار براءت کیا ہے ! اس طرح اللہ ان کے اعمال ان کو سرمایہ حسرت بنا کر دکھائے اور ان کو دوزخ سے نکلنا نصیب نہ ہوگا۔یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ﴿168﴾
اے لوگو ! زمین کی چیزوں میں سے جو حلال طیب ہیں ان کو کھاؤ۔ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔ بیشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿169﴾
وہ تو بس تمہیں برائی اور بےحیائی کی راہ سوجھائے گا اور اس بات کی کہ تم خدا کی طرف وہ باتیں منسوب کرو جن کے بارے میں تمہیں کوئی علم نہیں ہے۔وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ﴿170﴾
اور جب ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ خدا کی اتاری ہوئی چیز کی پیروی کرو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اس صورت میں بھی جب کہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے رہے ہوں اور نہ راہ ہدایت پر رہے ہوںوَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ﴿171﴾
ان کافروں کی تمثیل ایسی ہے جیسے کوئی شخص ایسی چیزوں کو پکارے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سنتی سمجھتی ہوں۔ یہ بہرے، گونگے، اندھے ہیں، یہ سمجھ نہیں سکتے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ﴿172﴾
اے ایمان والو، جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو بخشی ہیں ان کو کھاؤ اور اللہ ہی کے شکر گزار بنو اگر تم اس بندگی کرنے والے ہواِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿173﴾
اس نے تو بس تمہارے لیے مردار، خون، سور کا گوشت اور غیرا للہ کے نام کے ذبیحہ کو حرام ٹھہرایا ہے۔ اس پر بھی جو مجبور ہوجائے اور وہ خواہش مند اور حد سے آگے بڑھنے والا نہ ہو تو اس کے لیے کوئی گناہ نہیں، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿174﴾
بیشک جو لوگ اس چیز کو چھپاتے ہیں جو خدا نے اپنی کتاب میں سے اتاری ہے اور اس کے عوض میں حقیر قیمت قبول کرتے ہیں، یہ لوگ اپنے پیٹوں میں صرف دوزخ کی آگ بھر رہے ہیں۔ ان لوگوں سے خدا قیامت کے دن نہ تو بات کرے گا، نہ ان کو پاک کرے گا۔ ان کے لیے بس عذاب دردناک ہے۔اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ﴿175﴾
یہی لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت پر اور عذاب کو مغفرت پر ترجیح دی یہ دوزخ کے معاملہ میں کتنے ڈھیٹ ہیں۔ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ع﴿176﴾
یہ اس لیے ہوگا کہ اللہ نے اپنی کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے اور جن لوگوں نے اس کتاب کے معاملہ میں اختلاف کیا ہے وہ مخالفت میں بہت دور نکل گئےلَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ﴿177﴾
خدا کے ساتھ وفاداری محض یہ نہیں ہے کہ تم مشرق اور مغرب کی طرف رخ کرلو بلکہ وفاداری ان کی وفاداری ہے جو اللہ پر، یوم آخرت پر، فرشتوں پر، کتاب پر اور نبیوں پر صدق دل سے ایمان لائیں، اور اپنے مال، اس کی محبت کے باوجود، قرابت مندوں، یتیموں، مسکینوں مسافروں، سائلوں اور گردنیں چھڑانے پر خرچ کریں۔ اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔ جب معاہدہ کر بیٹھیں تو اپنے عہد کو پورا کرنے والے ہوں۔ خاص کر وہ لوگ جو فق و فاقہ، تکالیفِ جسمانی اور جنگ کے اوقات میں ثابت قدم رہنے والے ہوں۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے راست بازی دکھائی اور یہی لوگ ہیں جو سچے متقی ہیں۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿178﴾
اے ایمان والوتم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض ٹھہرایا گیا ہے۔ آزاد آزاد کے بدلے غلام غلام کے بدلے، عورت عورت کے بدلے۔ پس جس کسی کے لیے اس کے بھائی کی طرف سے کچھ رعایت کی گئی تو اس کے لیے دستور کی پیروی کرنا اور خوبی کے ساتھ اس کو ادا کرنا ہے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے ایک قسم کی تخفیف اور مہربانی ہے۔ تو اس کے بعد جو زیادتی کرے گا اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ﴿179﴾
اور تمہارے لیے قصاص میں، اے عقل والو، زندگی ہے، تاکہ تم حدود الٰہی کی پابندی کرو۔كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ﴿180﴾
جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آپہنچے اور وہ کچھ مال چھوڑ رہا ہو تو تم پر فرض کیا گیا ہے والدین اور قرابت مندوں کے لیے دستور کے مطابق وصیت کرنا، خدا سے ڈرنے والوں پر یہ حق ہےفَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ﴿181﴾
تو جو لوگ اس وصیت کو اس کے سننے کے بعد بدل ڈالیں تو اس کا گناہ ان بدل ڈالنے والوں ہی پر ہے، بیشک اللہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے۔فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ع﴿182﴾
جس کو کسی وصیت کرنے والے کی طرف سے کسی بےجا جانب داری یا حق تلفی کا اندیشہ ہو اور وہ آپس میں صلح کرادے تو اس میں کوئی گناہ نہیں، بیشک اللہ غفور رحیم ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ﴿183﴾
اے ایمان والو، تم پر بھی روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے والوں پر فرض کیا گیا تھا۔ تاکہ تم تقوی حاصل کرو۔اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿184﴾
گنتی کے چند دن۔ اس پر بھی جو کوئی مریض ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں تعداد پوری کردے۔ اور جو لوگ ایک مسکین کو کھانا کھلا سکیں ان پر ایک روزے کا بدلہ ایک مسکین کا کھانا ہے۔ جو کوئی مزید نیکی کرے تو وہ اس کے لیے بہت رہے۔ اور یہ کہ تم روزہ رکھو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو۔شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿185﴾
رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر اور ہدایت اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کے کھلے دلائل کے ساتھ، سو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو وہ اس کے روزے رکھے۔ اور جو بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرلے۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، تمہارے ساتھ سختی نہیں کرنا چاہتا۔ اور چاہتا ہے کہ تم تعداد پوری کرو اور اللہ نے جو تمہیں ہدایت بخشی ہے اس پر اس کی بڑائی کرو اور تاکہ تم اس کے شکر گزار بنو۔وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ﴿186﴾
اور جب میرے بندے تم سے میرے متعلق سوال کریں تو میں قریب ہوں۔ میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے تو چاہیے کہ وہ میرے حکم مانیں اور مجھ پر ایمان رکھیں۔ تاکہ وہ صحیح راہ پر رہیں۔اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ﴿187﴾
تمہارے لیے روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا جائز کیا گیا۔ وہ تمہارے لیے بمنزلہ لباس ہیں اور تم ان کے لیے بمنزلہ لباس ہو۔ اللہ نے دیکھا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے تو اس نے تم پر عنایت کی اور تم سے درگزر فرمایا تو اب تم ان سے ملو اور اللہ نے تمہارے لیے جو مقدر کر رکھا ہے اس کے طالب بنو اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ فجر کی سفید دھاری شب کی سیاہ دھاری سے نمایاں ہوجائے۔ پھر رات تک روزہ پورا کرو اور جب تم مسجد میں اعتکاف میں ہو تو بیویوں سے نہ ملو۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں تو ان کے پاس نہ پھٹکنا۔ اس طرح اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے لیے واضح کرتا ہے تاکہ وہ تقوی اختیار کریں۔وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ع﴿188﴾
اور تم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے نہ کھاؤ اور اس کو حکام رسی کا ذریعہ نہ بناؤ کہ اس طرح دوسروں کے مال کا کچھ حصہ حق تلفی کر کے ہڑپ کرسکو۔ در آنحالیکہ تم اس حق تلفی کو جانتے ہو۔یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ﴿189﴾
وہ تم سے محترم مہینوں کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو یہ لوگوں کے فوائد اور حج کے اوقات ہیں۔ اور تقوی یہ نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کے پچھواڑوں سے داخل ہو بلکہ تقوی ان کا تقوی ہے جو حدود الٰہی کا احترام ملحوظ رکھیں۔ گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ﴿190﴾
اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے جنگ کرو جو تم سے جنگ کریں اور حد سے بڑھنے والے نہ بنو۔ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ﴿191﴾
اور ان کو جہاں کہیں تم پاؤ قتل کرو اور ان کو وہاں سے نکالو جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے اور فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر ہے اور تم ان سے مسجد حرام کے پاس خود پہل کر کے جنگ نہ کرو جب تک وہ تم سے اس میں جنگ نہ چھیڑیں۔ پس اگر وہ تم سے جنگ چھیڑیں تو ان کو قتل کرو، یہی کافروں کا بدلہ ہے۔فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿192﴾
پس اگر وہ باز آجائیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ﴿193﴾
اور ان سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہ جائے اور دین اللہ کا ہوجائے۔ اور اگر یہ باز آجائیں تو پھر اقدام صرف ان کے خلاف جائز ہے جو ظالم ہیں۔اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ﴿194﴾
شہر حرام، شہر حرام کا بدلہ ہے اور اسی طرح دوسری محترم چیزوں کا بھی قصاص ہے تو جو تم پر زیادتی کریں تم بھی ان کی زیادتی کے جواب میں اسی کے برابر ان کو جواب دو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ یقین رکھو کہ اللہ حدود الٰہی کا احترام کرنے والوں کے ساتھ ہے۔وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ﴿195﴾
اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو تباہی میں نہ جھونکو۔ اور انفاق خوبی کے ساتھ کرو۔ بیشک اللہ خوبی کے ساتھ کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ع﴿196﴾
اور حج وعمرہ کو اللہ کے لیے پورا کرو۔ پس اگر تم گھر جاؤ تو جو ہدی میسر ہو وہ پیش کردو اور اپنے سر میں کوئی تکلیف ہو تو اس کے لیے روزے یا صدقہ یا قربانی کی شکل میں فدیہ ہے۔ جب اطمینان کی حالت ہو تو جو کوئی حج تک عمرہ سے فائدہ اٹھائے تو وہ قربانی پیش کرے جو میسر آئے، جس کو میسر نہ آئے تو وہ تین دن کے روزے دورانِ حج میں رکھے اور سات دن کے روزے واپسی کے بعد، یہ کل دس دن ہوئے۔ یہ ان کے لیے ہے جن کا گھر جوارِ حرم میں نہ ہو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اچھی طرح جان رکھو کہ اللہ سخت پاداش والا ہےاَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ﴿197﴾
حج کے متعین مہینے ہیں تو جو کوئی ان میں حج کا عزم کرلے تو پھر اس کے لیے حج تک نہ شہوت کی کوئی بات کرنی ہے، نہ فسق و فجور کی، نہ لڑائی جھگڑے کی۔ اور نیکی کے جو کام بھی کروگے اللہ اس کو جانتا ہے اور اس کے لیے تقوی کا زاد راہ لو۔ بہترین زاد راہ تقوی کا زاد راہ ہے اور مجھ سے ڈرتے رہو، اے عقل والو !لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ﴿198﴾
اس امر میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ تم اپنے رب کے فضل کے طالب بنو، پس جب عرفات سے چلو تو خدا کو یاد کرو مشعر حرام میں ٹھہر کر اور اس کو اس طرح یاد کرو جس طرح خدا نے تم کو ہدایت کی ہے۔ اس سے پہلو بلاشبہ تم گمراہوں میں تھےثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿199﴾
پھر تم بھی وہیں سے چلو جہاں سے لوگ چلیں اور اللہ سے گناہوں کی معافی مانگو، بیشک اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ﴿200﴾
پھر جب تم حج کے مناسک ادا کرچکو تو اللہ کو یاد کرو، جس طرح تم پہلے اپنے باپ دادا کو یاد کرتے رہے ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ چڑھ کر۔ لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جن کی دعا یہ ہوتی ہے کہ اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں کامیابی عطا کر، حالانکہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہےوَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ﴿201﴾
اور کچھ ایسے ہیں جن کی دعا یہ ہوتی ہے کہ ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی کامیابی عطا فرما اور آخرت میں بھی اور دوزخ کے عذاب سے بچا۔اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ﴿202﴾
یہی لوگ ہیں جن کو ان کے کیے کا حصہ ملنا ہے اور اللہ جلد حساب چکانے والا ہے۔وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ﴿203﴾
اور گنتی کے چند دنوں میں اللہ کو یاد کرو۔ سو جو دو ہی دنوں میں اٹھ کھڑاہو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو ٹھہرا رہے اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ یہ رعایت ان کے لیے ہے جو تقویٰ کو ملحوظ رکھیں اور اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان رکھو کہ تم اسی کے حضور میں اکٹھے کیے جاؤگے۔وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یُّعْجِبُكَ قَوْلُهٗ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ یُشْهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِیْ قَلْبِهٖ١ۙ وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ﴿204﴾
اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جن کی باتیں تو اس دنیا کی زندگی میں تمہیں بڑی میٹھی معلوم ہوتی ہے اور وہ اپنی دلی نیت پر خدا کو گواہ بھی بناتے ہیں لیکن ہیں وہ کٹر دشمن۔وَ اِذَا تَوَلّٰى سَعٰى فِی الْاَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیْهَا وَ یُهْلِكَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ﴿205﴾
اور جب وہ تمہارے پاس سے ہٹتے ہیں تو ان کی ساری بھاگ دوڑ اس لیے ہوتی ہے کہ زمین میں فساد مچائیں اور کھیتی اور نسل کو تباہ کریں اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ﴿206﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدا کا خوف کرو تو گھمنڈ ان و گناہ پر آمادہ کرتا ہے۔ سو ایسوں کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ﴿207﴾
اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنے آپ کو تج دیتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ كَآفَّةً١۪ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ﴿208﴾
اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت میں پورے پورے داخل ہوجآ اور شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو۔ وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَیِّنٰتُ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿209﴾
اگر ان کھلی ہوئی تنبیہات کے بعد بھی جو تمہارے پاس آچکی ہیں، پھسل گئے تو جان رکھو کہ اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیَهُمُ اللّٰهُ فِیْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ع﴿210﴾
اب تو یہ لوگ صرف اسی بات کے منتظر ہیں کہ اللہ نمودار ہوجائے بدلیوں کے سایہ میں اور اس کے فرشتے اور معاملے کا فیصلہ کردیا جائے۔ یہ امور اللہ ہی کے حوالے ہیں۔سَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ كَمْ اٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ اٰیَةٍۭ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ مَنْ یُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ﴿211﴾
بنی اسرائیل سے پوچھو، ہم نے ان کو کتنی کھلی کھلی نشانیاں دیں۔ اور جو اللہ کی نعمت کو، اس کے پانے کے بعد، بدل ڈالے تو اللہ سخت پاداش والا ہے۔زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ یَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ﴿212﴾
ان کافروں کی نگاہوں میں دنیا کی زندگی کھبا دی گئی ہے اور یہ اہل ایمان کا مذاق اڑا رہے ہیں حالانکہ جو لوگ تقویٰ اختیار کیے ہوئے ہیں، قیامت کے دن، وہ ان پر بالا ہوں گے۔ اور اللہ جسے چاہے بےحساب روزی دے۔كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً١۫ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١۪ وَ اَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ مَا اخْتَلَفَ فِیْهِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْهُ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ۚ فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿213﴾
لوگ ایک ہی امت بنائے گئے، انہوں نے اختلاف پیدا کیا تو اللہ نے اپنے انبیاء بھیجے جو خوشخبری سناتے اور خبردار کرتے ہوئے آئے اور ان کے ساتھ کتاب بھیجی قول فیصل کے ساتھ تاکہ جن باتوں میں لوگ اختلاف کر رہے ہیں، ان میں فیصلہ کردے، اور اس میں اختلاف نہیں کیا مگر ان ہی لوگوں نے جن کو یہ دی گئی تھی، بعد اس کے کہ ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات آچکی تھیں، محض باہمی ضدم ضدا کے سبب سے۔ پس اللہ نے اپنی توفیق بخشی سے اہل ایمان کی اس حق کے معاملے میں رہنمائی فرمائی جس میں لوگوں نے اختلاف کیا۔ اللہ جس کو چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَ الضَّرَّآءُ وَ زُلْزِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ﴿214﴾
کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجآ گے حالانکہ ابھی تمہیں ان حالات سے سابقہ پیش نہیں آیا جن سے تمہارے اگلوں کو پیش آیا، ان کو آفتیں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ اس قدر جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان لانے والے پکار اٹھتے ہیں کہ اللہ کی مدد کب نمودار ہوگی ! بشارت ہو کہ اللہ کی مدد قریب ہے !یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلْ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ﴿215﴾
وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ کتنا خرچ کریں ؟ کہہ دو جو مال بھی تم خرچ کرتے ہو تو وہ والدین، قرابت مندوں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ وَ هُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠ع﴿216﴾
تم پر کفار سے جنگ فرض کی گئی اور وہ تمہارے لیے ایک ناگوار شے ہے۔ ممکن ہے تم ایک شے کو ناگوار خیال کرو حالانکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ممکن ہے کہ تم ایک شے کو پسندیدہ سمجھو اور وہ تمہارے لیے بری ہو۔ اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْهِ١ؕ قُلْ قِتَالٌ فِیْهِ كَبِیْرٌ١ؕ وَ صَدٌّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ كُفْرٌۢ بِهٖ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۗ وَ اِخْرَاجُ اَهْلِهٖ مِنْهُ اَكْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ١ۚ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ١ؕ وَ لَا یَزَالُوْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ حَتّٰى یَرُدُّوْكُمْ عَنْ دِیْنِكُمْ اِنِ اسْتَطَاعُوْا١ؕ وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿217﴾
وہ تم سے شہر حرام میں جنگ کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دو اس میں جنگ بڑی سنگین بات ہے۔ لیکن اللہ کے راستہ سے روکنا، اس کا کفر کرنا، مسجد حرام سے روکنا اور اس کے لوگوں کو اس سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس جنگ سے بھی زیادہ سنگین ہے اور جبر و ظلم کے ذریعہ سے لوگوں کو دین سے پھیرنا قتل سے بھی بڑا گناہ ہے۔ اور یہ لوگ تم سے برابر جنگ کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں اگر وہ پھیر سکیں اور تم میں سے جو اپنے دین سے پھرجائے گا اور حالت کفر میں مرے گا تو یہی لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں اکرت گئے اور یہی لوگ دوزخ میں پڑنے والے ہیں، اس میں ہمیشہ رہیں گے۔اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿218﴾
البتہ جو لوگ ایمان پر جمے رہیں گے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا وہ اللہ کی رحمت کے متوقع ہیں۔ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ١ؕ قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ١٘ وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ١ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَۙ﴿219﴾
وہ تم سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو ان دونوں چیزوں کے اندر بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچ فائدے بھی ہیں لیکن ان کا گناہ ان کے فائدے سے بڑھ کر ہے۔ اور وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ کتنا خرچ کریں، کہہ دو کہ جو ضروریات سے بچ رہے۔ اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیتوں کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم غور کرو۔فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْیَتٰمٰى١ؕ قُلْ اِصْلَاحٌ لَّهُمْ خَیْرٌ١ؕ وَ اِنْ تُخَالِطُوْهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَاَعْنَتَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿220﴾
دنیا اور آخرت کے معاملات میں۔ اور وہ تم سے یتیموں کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دو جس میں ان کی بہبود ہو وہی بہتر ہے اور اگر تم ان کو اپنے ساتھ شامل کرلو تو وہ تمہارے بھائی ہی ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ کون بگاڑ چاہنے والا ہے اور کون بہبود، اور اگر اللہ چاہتا تو تم کو مشقت میں ڈال دیتا، بیشک اللہ غالب و حکیم ہے۔وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى یُؤْمِنَّ١ؕ وَ لَاَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَتْكُمْ١ۚ وَ لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْا١ؕ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖ١ۚ وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۠ع﴿221﴾
اور مشرکہ عورتوں سے جب تک وہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرو۔ ایک مومنہ لونڈی ایک آزاد مشرکہ سے بہتر ہے۔ اگرچہ وہ تمہیں بھلی لگے اور مشرکوں کو جب تک وہ ایمان نہ لائیں اپنی عورتیں نکاح میں نہ دو ، ایک مومن غلام ایک آزاد مشرک سے بہتر ہے، اگرچہ وہ تمہیں بھلا لگے، یہ لوگ دوزخ کی طرف بلانے والے ہیں اور اللہ اپنی توفیق بکشی سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لیے واضح کرتا ہے تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں۔وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِ١ؕ قُلْ هُوَ اَذًى١ۙ فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ١ۙ وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَ١ۚ فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ﴿222﴾
اور وہ تم سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دو ، یہ ناپاکی ہے تو عورتوں سے حیض کے دنوں میں الگ رہو، اور ان سے قربت نہ کرو جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں۔ پس جب وہ صفائی کرلیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تم کو حکم دیا ہے، اللہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ١۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ١٘ وَ قَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ مُّلٰقُوْهُ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿223﴾
عورتیں تمہارے لیے بمنزلہ کھیتی ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ، اور اپنے لیے آگے بڑھاؤ، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور جان رکھو کہ تمہیں اس سے لازماً ملنا ہے اور ایمان والوں کو خوشخبری دے دو۔وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿224﴾
اور اللہ کو اپنی ایسی قسموں کا ہدف نہ بناؤ کہ احسان نہ کرو گے یا حدود الٰہی کا احترام نہ کروگے یا لوگوں کے درمیان صلح نہ کراؤ گے، اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوْبُكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ﴿225﴾
اللہ تم سے تمہاری عادی قسموں کے باب میں تو کوئی مواخذہ نہیں کرے گا لیکن ان قسموں کے باب میں تم سے ضرور مواخذہ کرے گا جو تمہارے دل کے ارادے کا نتیجہ ہیں اور اللہ بخشنے والا اور حلیم ہے۔لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿226﴾
جو لوگ اپنی بیویوں سے نہ ملنے کی قسم کھا بیٹھیں ان کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے۔ اگر وہ رجوع کرلیں تو اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿227﴾
اور اگر طلاق کا فیصلہ کرلیں تو اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَهُنَّ اَنْ یَّكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِیْۤ اَرْحَامِهِنَّ اِنْ كُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِیْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا١ؕ وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١۪ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ع﴿228﴾
اور مطلقہ عورتیں اپنے بارے میں تین حیض تک توقف کریں، اور اگر وہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جو کچھ پیدا کیا ہے اس کو چھپائیں۔ اور اس دوران میں ان کے شوہر ان کے لوٹانے کے زیادہ حق دار ہیں، اگر وہ سازگاری کے طالب ہیں اور ان عورتوں کے لیے دستور کے مطابق اسی طرح حقوق ہیں جس طرح دستور کے مطابق ان پر ذمہ داریاں ہیں، ہاں مردوں کے لیے ان پر ایک درجہ ترجیح کا ہے اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ١۪ فَاِمْسَاكٌۢ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌۢ بِاِحْسَانٍ١ؕ وَ لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ شَیْئًا اِلَّاۤ اَنْ یَّخَافَاۤ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴿229﴾
طلاق دو مرتبہ ہے۔ پھر دستور کے مطابق یا تو روک لینا ہے یا احسان کے ساتھ رخصت کردینا ہے، اور تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ تم نے جو کچھ ان عورتوں کو دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لو مگر اس صورت میں کہ دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ حدود الٰہی کو قائم نہیں رکھ سکیں گے۔ پس اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہیں رہ سکتے تو ان پر اس چیز کے باب میں کوئی گناہ نہیں ہے جو عورتفدیہ میں دے، یہ اللہ کے حدود ہیں تو ان سے تجاوز نہ کرو اور جو اللہ کے حدود سے تجاوز کرتے ہیں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ١ؕ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنْ ظَنَّاۤ اَنْ یُّقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ یُبَیِّنُهَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ﴿230﴾
پس اگر وہ اس کو طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے بعد اس کے لیے جائز نہیں ہے تاآنکہ وہ اس کے سوا کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے۔ پس اگر وہ اس کو طلاق دے دے تو پھر ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ مراجعت کرلیں، اگر یہ توقع رکھتے ہوں کہ وہ اللہ کے حدود پر قائم رہ سکتے ہیں، یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں، وہ ان کو واضح کر رہا ہے، ان لوگوں کے لیے جو علم کے طالب ہیں۔وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ١۪ وَّ لَا تُمْسِكُوْهُنَّ ضِرَارًا لِّتَعْتَدُوْا١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا١٘ وَّ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مَاۤ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ وَ الْحِكْمَةِ یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ع﴿231﴾
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ پہنچ جائیں اپنی مدت کو تو ان کو دستور کے مطابق روک لو یا دستور کے مطابق رخصت کردو اور تم ان کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے نہ روکو کہ تم حدود سے تجاوز کرو اور جو ایسا کرے گا تو وہ اپنی ہی جان پر ظلم ڈھائے گا اور اللہ کی آیات کو مذاق نہ بناؤ اور اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد رکھو اور اس کتاب و حکمت کو یاد رکھو جو اس نے تمہاری نصیحت کے لیے اتاری اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴿232﴾
اور جب تم عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کر چکیں تو تم اس بات میں مزاحم نہ بنو کہ وہ اپنے ہونے والے شوہروں سے نکاح کریں جب کہ وہ آپس میں معاملہ دستور کے مطابق طے کریں۔ یہ نصیحت تم میں سے ان لوگوں کو کی جاتی ہے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہی تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ اور ستھرا طریقہ ہے، اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿233﴾
اور مائیں اپنے بچوں کو ان لوگوں کے لیے پورے دو سال دودھ پلائیں جو پوری مدت دودھ پلوانا چاہتے ہوں۔ اور بچے والے کے ذمے بچوں کی ماؤں کا دستور کے مطابق کھانا اور کپڑا ہے۔ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ نہ کسی ماں کو اس کے بچے کے سبب سے نقصان پہنچایا جائے اور نہ کسی باپ کو اس کے بچے کے سبب سے اور اسی طرح کی ذمہ داری وارث پر بھی ہے۔ پھر اگر دونوں باہمی رضا مندی اور صلاح سے دودھ چھڑا دینا چاہیں تو دونوں پر کوئی نگاہ نہیں۔ اور اگر تم اپنے بچوں کو کسی اور سے دودھ پلوانا چاہو تو اس میں کوئی حرج نہیں، جب کہ تم ان کو دستور کے مطابق وہ ادا کرو جو تم نے دینے کا وعدہ کیا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ اس کو دیکھ رہا ہے۔وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿234﴾
اور جو تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں اپنے بارے میں چار ماہ دس دن توقف کریں پھر جب وہ اپنی مدت کو پہنچ جائیں تو جو کچھ وہ اپنے بارے میں دستور کے مطابق کریں اسکا تم پر کوئی گناہ نہیں اور اللہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اس سے پوری طرح باخبر ہے۔وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ع﴿235﴾
اور اس بات میں بھی کوئی گناہ نہیں جو تم ان عورتوں سے پیغام نکاح کے قسم کی بطریق کنایہ و اشارہ کہو یا اپنے دلوں میں رکھو۔ اللہ کو معلوم ہے کہ تم ان سے ذکر کرو گے لیکن چپکے سے ان کے ساتھ نکاح کا قول وقرار نہ کر بیٹھو، ہاں دستور کے مطابق کوئی بات کہہ سکتے ہو۔ اور عقد نکاح کا عزم اس وقت تک نہ کرو جب تک قانون اپنی مدت کو نہ پہنچ جائے اور جان رکھو کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تو اس سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ اللہ بخشنے والا اور بربادر ہے۔لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ﴿236﴾
اور اگر تم عورتوں کو اس صورت میں طلاق دو کہ نہ ان کو ہاتھ لگایا ہو اور نہ ان کے لیے متعین مہر مقرر کیا ہو تو ان کے مہر کے باب میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ البتہ ان کو دستور کے مطابق دے دلا کر رخصت کرو، صاحب وسعت اپنی وسعت کے مطابق اور غریب اپنی حالت کے مطابق، یہ بھلے لوگوں پر حق ہے۔وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿237﴾
اور اگر تم نے ان کو طلاق تو دی ان کو ہاتھ لگانے سے پہلے لیکن ایک متعین مہر ٹھہرا چکے ہو تو مقررہ مہر کا آدھا ادا کرو الا آنکہ وہ اپنا حق چھوڑیں یا وہ اپنا حق چھوڑے جس کے ہاتھ میں سر رشتہ نکاح ہے اور یہ کہ تما پنا حق معاف کرو، یہ تقوی سے زیادہ قریب ہے۔ اور تمہارے درمیان ایک کو دوسرے پر جو فضیلت سے اس کو نہ بھولو، جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ﴿238﴾
نمازوں کی نگہداشت رکھو، خاص طور پر بیچ کی نماز کی اور نمازوں میں خدا کے حضور فرمانبردارانہ کھڑے ہو۔فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ﴿239﴾
اگر خطرے کی حالت ہو تو پیدا یا سوار جس صورت میں ادا کرسکو نماز ادا کرو۔ پھر جب خطرہ دور ہوجائے تو للہ کو اس طریقہ پر یاد کرو جو اس نے تم کو سکھایا ہے، جس کو تم نہیں جانتے تھے۔وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ﴿240﴾
اور جو تم میں سے وفات پائیں اور بیویاں چھوڑ رہے ہوں وہ اپنی بیویوں کے لیے سال بھر کے نان نفقے کی گھر سے نکالے بغیر وصیت کر جائیں۔ اگر وہ خود گھر چھوڑیں تو جو کچھ وہ اپنے باب میں دستور کے مطابق کریں اس کا تم پر کوئی الزام نہیں، اللہ عزیز و حکیم ہے۔وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ﴿241﴾
اور مطلقہ عورتوں کو بھی دستور کے مطابق کچھ دینا دلانا ہے، یہ خدا سے ڈرنے والوں پر حق ہے۔كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ع﴿242﴾
اسی طرح اللہ اپنی آیتوں کی تمہارے لیے وضاحت کرتا ہے تاکہ تم سمجھو۔اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ﴿243﴾
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو ہزاروں کی تعداد میں ہونے کے باجود موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے بھاگ کھرے ہوئے تو اللہ نے ان کو کہا کہ جاؤ مر جاؤ، پھر اللہ نے ان کو زندہ کیا، اللہ لوگوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزار نہیں ہوتے۔وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿244﴾
اور اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور یہ خوب سمجھ رکھو کہ اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿245﴾
اور کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے کہ اللہ اس کو اس کے لیے کئی گنا بڑھائے۔ اللہ ہی ہے جو تنگ دستی بھی دیتا ہے اور کشادگی بھی دیتا ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹنا بھی ہے۔اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ﴿246﴾
کیا تم نے بنی اسرائیل کے سرداروں کو نہیں دیکھا جب کہ موسیٰ کے بعد انہوں نے اپنے ایک نبی سے کہا کہ آپ ہمارے لیے ایک امیر مقرر کردیجیے کہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں۔ اس نے کہا، ایسا نہ ہو کہ تم پر جہاد فرض کردیا جائے تو تم جہاد نہ کرو۔ وہ بولے کہ بھلا ہم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہ کریں گے جب کہ ہم اپنے گھروں اور بچوں سے نکالتے گئے ہیں۔ پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو ان کی ایک قلیل تعداد کے سوا سب منہ موڑ گئے اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ﴿247﴾
اور ان کے نبی نے ان کو بتایا کہ اللہ نے تمہارے لیے طالوت کو امیر مقرر کردیا ہے۔ وہ بولے کہ بھلا اس کی امارت ہمارے اوپر کیسے ہوسکتی ہے جب کہ اس سے زیادہ حق دار ہم اس امارت کے ہیں اور اسے تو مال کی وسعت بھی حاصل نہیں ہے۔ نبی نے کہا اللہ نے تمہاری سرداری کے لیے اسی کو چنا اور اس کو علم اور جسم دونوں میں کشادگی عطا فرمائی ہے۔ اللہ اپنی طرف سے جسے چاہے اقتدار بخشے، اللہ بڑی سمائی اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ع﴿248﴾
اور ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اس کی امارت کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے سامان تسکین اور آلِ موسیٰ اور آلِ ہارون کی چھوڑی ہوئی یادگاریں ہیں۔ صندون کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھنے والے ہو۔فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ﴿249﴾
پھر جب طالوت فوجوں کو لے کر چلے تو انہوں نے بتایا کہ اللہ ایک ندی کے ذریعہ سے تمہاری جانچ کرنے والا ہے تو جو اس میں سے پی لے گا وہ میرا ساتھی نہیں اور جو اس کو نہیں چکھے گا تو بیشک وہ میرا ساتھی ہے، مگر یہ کہ کوئی اپنے ہاتھ سے ایک چلو بھر لے۔ تو انہوں نے اس میں سے خوب پیا، صرف ان میں سے تھوڑے لوگ اس سے بچے۔ پھر جب طالوت اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ایمان پر ثابت قدم رہے دریا پار کر گئے تو یہ لوگ بولے کہ اب ہم میں تو جالوت اور اس کی فوجوں سے لڑنے کی طاقت نہیں جو لوگ یہ گمان رکھتے تھے کہ بالآخر انہیں اللہ سے ملنا ہے انہوں نے للکارا کہ کتنی چھوٹی جماعتیں رہی ہیں جو اللہ کے حکم سے بڑی جماعتوں پر غالب آگئی ہیں، اللہ تو ثابت قدموں کے ساتھ ہوتا ہے۔وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ﴿250﴾
اور جب جالوت اور اس کی فوجوں سے ان کا سامنا ہوا تو انہوں نے دعا کی، اے ہمارے پروردگار ہم پر صبر انڈیل دے، ہمارے قدم جمائے رکھ، اور کافر قوم پر ہمیں غلبہ عطا فرما۔فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ﴿251﴾
تو اللہ کے حکم سے انہوں نے ان کو شکست دی اور داوٗد نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اس کو بادشاہی اور حکمت بخشی اور اس علم سے اس کو سکھایا جس میں سے وہ چاہتا ہے۔ اور اگر اللہ ایک کو دوسرے کے ذریعہ سے دفع نہ کرتا رہتا تو زمین فساد سے بھر جاتی۔ لیکن اللہ دنیا والوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ﴿252﴾
یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمہیں سناتے ہیں مقصد کے ساتھ اور بیشک تم اللہ کے رسولوں میں سے ہو۔تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ع﴿253﴾
یہ رسول جو ہیں ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی، ان میں سے بعض سے اللہ نے کلام کیا، اور بعض کے درجے بلند کیے اور ہم نے عیسیٰ بن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی تائید کی۔ اگر اللہ چاہتا تو ان کے بعد والے واضح دلائل کے بعد نہ لڑتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا، سو ان میں سے کچھ ایمان لائے اور کچھ نے کفر کیا اور اگر اللہ چاہتا تو وہ اختلاف نہ کر پاتے لیکن اللہ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ﴿254﴾
اے ایمان والو، جو کچھ ہم نے تم کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرو اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ تو خریدو فروخت ہوگی، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ کسی کی سفارش نفع پہنچائے گی اور جو لوگ انکار کرنے والے ہیں اپنے اوپر اصلی ظلم ڈھانے والے وہی ہیں۔اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ﴿255﴾
اللہ معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ زندہ ہے، سب کا قائم رکھنے والا ہے، نہ اس کو اونگھ لاحق ہوتی ہے نہ نیند، جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کی ملکیت ہے، کون ہے جو اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کرسکے ؟ وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے، مگر جو وہ چاہے۔ اس کا اقتدار آسمانوں اور زمین سب پر حاوی ہے اور ان کی حفاظت اس پر ذرا بھی گراں نہیں اور وہ بلند اور عظیم ہے۔لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ﴿256﴾
دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے۔ ہدایت گمراہی سے بالکل الگ ہوچکی ہے تو جس نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا اس نے مضبوط رسی پکڑی جو ٹوٹنے والی نہیں اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ع﴿257﴾
اللہ ان لوگوں کا کارساز ہے جو ایمان لاتے ہیں۔ وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لاتا ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کے کارساز طاغوت بناتے ہیں، وہ ان کو روشنی سے تاریکیوں کی طرف دھکیلتے ہیں۔ یہی لوگ دوزخی ہیں ہیں، یہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ﴿258﴾
کیا تم نے اس کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے باب میں اس وجہ سے حجت کی کہ خدا نے اس کو اقتدار بخشا تھا، جب کہ ابراہیم نے کہا کہ میرا رب تو وہ ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، وہ بولا کہ میں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہوں۔ ابراہیم نے کہا کہ یہ بات ہے تو اللہ سورج کو پورب سے نکالتا ہے تو اسے پچھم سے نکال دے، تو وہ کافر یہ سن کو بھونچکا رہ گیا اور اللہ ظالموں کو راہ یا ب نہیں کرتا۔اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿259﴾
یا جیسے کہ وہ جس کا گزر ایک بستی پر ہوا جو اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی، اس نے کہا کہ بھلا اللہ اس کو اس کے فنا ہوچکنے کے بعد کس طرح زندہ کرے گا ؟ توا للہ نے اس کو سو سال کی موت دے دی، پھر اس کو اٹھایا۔ پوچھا کتنی مدت اس حال میں رہے ؟ بولا ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصہ، فرمایا بلکہ تم پورے سو سال اس حال میں رہے۔ اب تم اپنے کھانے پینے کی چیزوں کی طرف دیکھو، ان میں سے کوئی چیز بسی تک نہیں۔ اور اپنے گدھے کو دیکھو، ہم اس کو کس طرح زندہ کرتے ہیں تاکہ تمہیں اٹھائے جانے پر یقین ہو اور تاکہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور ہڈیوں کی طرف دیکھو، کس طرح ہم ان کا ڈھانچہ کھڑا کرتے ہیں، پھر ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔ پس جب اس پر حقیقت اچھی طرح واضح ہوگئی وہ پکار اٹھا کہ میں مانتا ہوں کہ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ع﴿260﴾
اور یاد کرو جب کہ ابراہیم نے کہا کہ اے میرے رب، مجھے دکھا دے تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا ؟ فرمایا کیا تم اس بات پر ایمان نہیں رکھتے ؟ بولا ایمان تو رکھتا ہوں لیکن چاہتا ہوں کہ میرا دل پوری طرح مطمئن ہوجائے۔ فرمایا تو چار پرندے لو اور ان کو اپنے سے ہلا لو، پھر ان کو ٹکڑے کر کے ہر پہاڑی پر ان کا ایک ایک حصہ رکھ دو ، پھر ان کو بلاؤ وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے آئیں گے اور جان رکھو کہ اللہ غالب اور حکیم ہے۔مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ﴿261﴾
ان لوگوں کے مال کی تمثیل جو اپنے مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانے کے مانند ہے جس سے سات بالیاں پیدا ہوں اور اس کی ہر بالی میں سو دانے ہوں اللہ برکت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے، اللہ بڑی گنجائش والا اور علم والا ہے۔اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴿262﴾
جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خعچ کرتے ہیں پھ راس کے پیچھے نہ احسان جتاتے نہ دل آزاری کرتے، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے۔ اور نہ تو ان کے لیے کوئی خو ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ﴿263﴾
دلداری کا ایک کلمہ کہہ دینا اور درگزر کرنا اس خیرات سے بہتر ہے جس کے پیچھے دل آزاری لگی ہوئی ہو، اللہ بےنیاز اور بردبار ہے۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ﴿264﴾
اے ایمان والو، احسان جتا کر اور دل آزار کر کے اپنی خیرات کو اکارت مت کرو۔ اس شخص کے مانند جو اپنا مال دکھاوے کے لیے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور روز آخرت پر وہ ایمان نہیں رکھتا۔ ایسے شخص کی تمثیل یوں ہے کہ ایک چٹان ہو جس پر کچھ مٹی ہو، پھر اس پر زور کا مینہ پڑے اور وہ اس کو بالکل سپاٹ پتھر چھوڑ جائے۔ ان کی کمائی میں سے کچھ بھی ان کے پلے نہیں پڑے گا اور اللہ نا شکروں کو بامراد نہیں کرے گا۔وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ﴿265﴾
اور ان لوگوں کے عمل کی تمثیل جو اپنے مال اللہ کی رضا جوئی اور اپنے دلون کو جمائے رکھنے کے لیے خرچ کرتے ہیں اس باغ کے مانند ہے جو بلندی پر واقع ہو۔ اس پر بارش ہوگئی تو دوچند پھل لایا، بارش نہ ہوئی تو پھوار بھی کافی ہوگئی اور اللہ جو کچھ بھی تم کر رہے ہو، اس کو دیکھ رہا ہے۔اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ع﴿266﴾
کیا تم میں سے کوئی بھی یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو، نیچے اس کے نہریں بہہ رہی ہوں، اس میں اس کے واسطے ہر قسم کے پھل ہوں اور وہ بوڑھا ہوجائے اور اس کے بچے ابھی ناتواں ہوں اور باغ پر سموم کا بگولا پھرجائے اور وہ جل کر خاک ہوجائے۔ اللہ اس طرح اپنی باتیں تمہارے لیے واضح کرتا ہے تاکہ تم غور کرو۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ﴿267﴾
اے ایمان والو، اپنے کمائے ہوئے پاکیزہ مال میں سے خرچ کرو اور ان چیزوں میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کی ہیں اور اس میں سے وہ مال تو خرچ کرنے کا خیال بھی نہ کرو، جس کو خدا کی راہ میں تو خرچ کرنے پر آمادہ ہوجاؤ لیکن اگر وہی مال تمہیں لینا پڑجائے تو بغیر آنکھیں میچے اس کو نہ لے سکو اور اس بات کو خوب یاد رکھو کہ اللہ بےنیاز اور ستودہ صفات ہے۔اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ﴿268﴾
شیطان تمہیں تنگ دستی سے ڈراتا اور بےحیائی کی راہ سجھاتا ہے اور اللہ اپنی طرف سے مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے اور اللہ بڑی سمائی اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ﴿269﴾
وہ جس کو چاہتا ہے حکمت بخشتا ہے اور جسے حکمت ملی اسے خیر کثیر کا خزانہ ملا، مگر یاد دہانی وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ﴿270﴾
اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو گے یا جو کچھ بھی نذر مانو گے تو یاد رکھو کہ اللہ اس سے اچھی طرح واقف ہے اور ان لوگوں کا کوئی بھی مددگار نہ ہوگا جو اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿271﴾
اور اگر تم اپنے صدقات ظاہر کر کے دو تو وہ بھی اچھا ہے اور اگر تم ان کو چھپاؤ اور چپکے سے غریبوں کو دے دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اور اللہ تمہارے گناہوں کو جھاڑ دے گا اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس کی خبر رکھنے والا ہے۔لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ﴿272﴾
ان کو ہدایت دینا تمہارے ذمے نہیں ہے بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جو مال بھی تم خرچ کروگے اس کا نفع تمہیں کو حاصل ہونا ہے اور نہ خرچ کیجیو مگر اللہ کی رضا جوئی ہی کے لیے اور جو مال بھی تم خرچ کروگے وہ تم کو پورا کردیا جائے گا اور تمہارے حق میں ذرا بھی کمی نہ کی جائے گی۔لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ع﴿273﴾
یہ ان غریبوں کے لیے ہے جو خدا کی راہ میں گھرے ہوئے ہیں، زمین میں کاروبار کے لیے نقل و حرکت نہیں کرسکتے، بیخبر ان کی خود داری کے سبب سے ان کو غنی خیال کرتا ہے، تم ان کو ان کی صورت سے پہچان سکتے ہو، وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔ اور جو مال بھی تم خرچ کرو گے تو اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ﴿274﴾
جو لوگ اپنے مال رات اور دن، پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں، ان کے لیے ان کے رب کے پاس اجر ہے اور نہ ان کے لیے خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿275﴾
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ نہیں اٹھیں گے مگر اس شخص کے مانند جس کو شیطان نے اپنی چھوت سے پاگل بنا دیا ہو۔ یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا کہ بیع بھی تو سود کی ہی مانند ہے اور حال یہ کہ اللہ نے بیع کو حلال ٹھہرایا اور سود کو حرام تو جس کو اللہ کی تنبیہ پہنچی اور وہ باز آگیا تو جو کچھ وہ لے چکا وہ اس کے لیے ہے۔ اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جو اب اس کے مرتکب ہوں تو وہی لوگ دوزخی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ﴿276﴾
اللہ سود کو گھٹائے گا اور صدقات کو بڑھائے گا اور اللہ ناشکروں اور حق تلفوں کو پسند نہیں کرتا۔اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ﴿277﴾
بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے بھلے کام کیے، نماز کا اہتمام کیا، زکوۃ ادا کی، ان کے لیے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے، نہ ان کے لیے کوئی اندیشہ ہوگا نہ ان کو کوئی غم لاحق ہوگا۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ﴿278﴾
اے ایمان والو، اگر تم سچے مومن ہو تو اللہ سے ڈرو اور جو سود تمہارا باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو۔فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ﴿279﴾
اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کے لیے خبردار ہوجاؤ اور اگر تم توبہ کرلو تو اصل رقم کا تمہیں حق ہے۔ نہ تم کسی کا حق مارو، نہ تمہارا حق مارا جائے۔وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿280﴾
اور اگر مقروض تنگ دست ہو تو فراخی تک اس کو مہلت دو اور بخش دو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اگر تم سمجھو۔وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ع﴿281﴾
اور اس دن سے ڈرو جس میں تم اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر شخص کو جو اس نے کمائی کی ہے پوری وری مل جائے گی اور ان پر ذرا بھی ظلم نہ ہوگا۔یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴿282﴾
اے ایمان والو، جب تم کسی معین مدت کے لیے ادھار کا لین دین کرو تو اس کو لکھ لیا کرو اور اس کو لکھے تمہارے مابین کوئی لکھنے والا انصاف کے ساتھ اور جسے لکھنا آتا ہو وہ لکھنے سے انکار نہ کرے بلکہ جس طرح اللہ نے اس کو سیکھایا اس طرح وہ دوسروں کے لیے لکھنے کے کام آئے اور یہ دستاویز لکھوائے وہ جس پر حق عائد ہوتا ہے۔ اور وہ اللہ سے، جو اس کا رب، ڈرے اور اس میں کوئی کمی نہ کرے۔ اور اگر وہ، جس پر حق عائد ہوتا ہے، نادان یا ضعیف ہو یا لکھوا نہ سکتا ہو جو اس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ لکھوا دے۔ اور اس پر اپنے لوگوں میں سے دو مردوں کو گواہ ٹھہرا لو، اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور عورتیں سہی، یہ گواہ تمہارے پسندیدہ لوگوں میں سے ہوں۔ دو عورتیں اس لیے کہ ایک بھول جائے گی تو دوسری یاد دلا دے گی۔ اور گواہ جب بلائے جائیں تو آنے سے انکار نہ کریں اور قرض چھوٹا ہو یا بڑا، اس کی مدت تک کے لیے اس کو لکھنے میں تساہل نہ برتو۔ یہ ہدایات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین عدل، گواہی کو زیادہ ٹھیک رکھنے والی اور اس امر کے زیادہ قرین قیاس ہیں کہ تم شبہات میں نہ پڑو۔ ہاں اگر معاملہ دست بدست لین دین اور دست گرواں نوعیت کا ہو تب اس کے نہ لکھنے میں کوئی حرج نہیں اور تم کوئی معاملہ خریدو فروخت کا کرو تو اس صورت میں بھی گواہ بنا لیا کرو۔ اور کاتب یا گواہ کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچایا جائے اور اگر تم ایسا کرو گے تو یہ تمہاری بڑی پائدار نافرمانی ہوگی۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تمہیں تعلیم دے رہا ہے۔ اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ع﴿283﴾
اور اگر تم سفر میں ہو اور کتاب نہ مل سکے تو رہن قبضہ میں کرا دو ، پس اگر ایک دوسرے پر اعتماد کی صورت نکل آئے تو جس کے پاس امانت رکھی گئی ہے وہ اس کی امانت ادا کرے اور اللہ سے جو اس کا رب ہے ڈرے۔ اور شہادت کو چھپاؤ مت۔ جو اس کو چھپائے تو وہ یاد رکھے کہ اس کا دل گنہگار ہے، اور اللہ جو کچھ تم کر رہے ہو اس کو جاننے والا ہے۔لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴿284﴾
جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ، خدا اس کا تم سے حساب لے گا، پھر جس کو چاہے گا بخشے گا اور جس کو چاہے گا سزا دے گا، اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ﴿285﴾
رسول ایمان لایا اس چیز پر جو اس پر اس کے رب کی جانب سے اتاری گئی اور مومنین ایمان لائے یہ سب ایمان لائے اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر، ان کا اقرار ہے کہ ہم خدا کے رسولوں میں کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے مانا اور اطاعت کی۔ اے پروردگار ! ہم تیری مغفرت کے طلبگار ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ع﴿286﴾
اللہ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ ہر ایک پائے گا جو کمائے گا اور بھرے گا جو کرے گا۔ اے پروردگار ! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں تو ہم سے مواخذہ نہ فرمانا۔ اور اے ہمارے پروردگار ! ہمارے اوپر اس طرح کا کوئی بار نہ ڈال جیسا تو نے ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے ہو گزرے۔ اور اے ہمارے پروردگار ! ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ لاد جس کو اٹھانے ہم میں طاقت نہ ہو اور ہمیں معاف کر، ہمیں بخش اور ہم پر رحم فرما، تو ہمارا مولیٰ ہے، پس کافروں کے مقابل میں ہماری مدد کر۔