17. Al-Israaالإسراء
The Night Journey · Meccan · 111 ayahs · 12 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سُبْحٰنَ الَّذِیْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَیْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَكْنَا حَوْلَهٗ لِنُرِیَهٗ مِنْ اٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ﴿1﴾
پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو لے گئی ایک شب مسجد حرام سے اس دور والی مسجد تک جس کے ارد گرد کو ہم نے برکت بخشی تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بیشک سمیع وبصیر وہی ہےوَ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَكِیْلًاؕ﴿2﴾
ور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور اس کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت نامہ بنایا کہ میرے سوا کسی کو معتمد نہ بنائیوذُرِّیَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَبْدًا شَكُوْرًا﴿3﴾
اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کرایا بیشک وہ ایک شکر گزار بندہ تھاوَ قَضَیْنَاۤ اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ فِی الْكِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَ لَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِیْرًا﴿4﴾
اور ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے اس فیصلہ سے کتاب میں آگاہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد مچاؤ گے اور بہت سر اٹھاؤ گےفَاِذَا جَآءَ وَعْدُ اُوْلٰىهُمَا بَعَثْنَا عَلَیْكُمْ عِبَادًا لَّنَاۤ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ وَ كَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا﴿5﴾
پس جب ان میں سے پہلی بار کی میعاد آجاتی ہے تو ہم تم پر اپنے زور آور بندے مسلط کردیتے ہیں تو وہ گھروں میں گھس پڑے اور شدنی وعدہ پورا ہو کے رہاثُمَّ رَدَدْنَا لَكُمُ الْكَرَّةَ عَلَیْهِمْ وَ اَمْدَدْنٰكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ جَعَلْنٰكُمْ اَكْثَرَ نَفِیْرًا﴿6﴾
پھر ہم نے تمہاری باری ان پر لوٹائی اور تمہاری مال اور اولاد سے مدد کی اور تمہیں ایک کثیر التعداد جماعت بنا دیااِنْ اَحْسَنْتُمْ اَحْسَنْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ١۫ وَ اِنْ اَسَاْتُمْ فَلَهَا١ؕ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْهَكُمْ وَ لِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ لِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا﴿7﴾
اگر تم بھلے کام کروگے تو اپنے لیے کروگے اور اگر برے کام کروگے تو بھی اپنے ہی لیے۔ پھر جب پچھلی بار کی میعاد آجاتی ہے تو ہم تم پر اپنے زور آور بندے مسلط کردیتے ہیں کہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ وہ مسجد میں گھس پڑیں جس طرح پہلی بار گھس پڑے تھے اور تاکہ جس چیز پر ان کا زور چلے اسے تہس نہس کرڈالیںعَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یَّرْحَمَكُمْ١ۚ وَ اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا١ۘ وَ جَعَلْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ حَصِیْرًا﴿8﴾
کای عجب کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے اور اگر تم پھر وہی کروگے تو ہم بھی وہی کریں گے اور ہم نے جہنم کو تو کافروں کے لیے باڑا بنا ہی رکھا ہےاِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًاۙ﴿9﴾
بیشک یہ قرآن اس راستے کی رہنمائی کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ان ایمان والوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں اس بات کی بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہےوَّ اَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ع﴿10﴾
اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ہم نے ان کے لیے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہےوَ یَدْعُ الْاِنْسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَهٗ بِالْخَیْرِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا﴿11﴾
اور انسان برائی کا اس طرح طالب بنتا ہے جس طرح اس کو بھلائی کا طالب بننا چاہیے اور نسان بڑا ہی جلد باز ہےوَ جَعَلْنَا الَّیْلَ وَ النَّهَارَ اٰیَتَیْنِ فَمَحَوْنَاۤ اٰیَةَ الَّیْلِ وَ جَعَلْنَاۤ اٰیَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ وَ كُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰهُ تَفْصِیْلًا﴿12﴾
اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا، سو ہم نے رات کی نشانی تو دھندلی کردی اور ہم نے دن کی نشانی کو روش بنایا تاکہ تم اپنے رب کے فضل کے لیے کوشش کرو اور تاکہ تم سالوں کی تعداد اور حساب معلوم کرسکو اور ہم نے ہر چیز کی پوری پوری تفصیل کردی ہےوَ كُلَّ اِنْسَانٍ اَلْزَمْنٰهُ طٰٓئِرَهٗ فِیْ عُنُقِهٖ١ؕ وَ نُخْرِجُ لَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ كِتٰبًا یَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا﴿13﴾
اور ہم نے ہر انسان کا نصیبہ اس کے گلے کے ساتھ باندھ دیا ہے اور ہم قیامت کے روز اس کے لیے ایک رجسٹر نکالیں گے جس کو وہ بالکل کھلا ہوا پائے گااِقْرَاْ كِتٰبَكَ١ؕ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْیَوْمَ عَلَیْكَ حَسِیْبًاؕ﴿14﴾
لو، پڑھ لو، اپنا عمال نامہ ! آج تم خود ہی اپنا حساب کرلینے کے لیے کافی ہومَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا﴿15﴾
جو ہدایت کی راہ چلتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے ہدایت کی راہ چلتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی اوپر وبال لاتا ہے اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی اور ہم عذاب دینے والے نہیں تھے جب تک کسی رسول کو بھیج نہ لیںوَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا﴿16﴾
اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو ہم اس کے خوش حالوں کو امر کردیتے ہیں تو وہ اس میں خوب اودھم مچاتے ہیں پس ان پر بات پوری ہوجاتی ہے پھر ہم اس کو یک قلم نیست و نابود کرکے رکھ دیتے ہیںوَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا﴿17﴾
اور نوح کے بعد ہم نے کتنی ہی قومیں ہلاک کردیں اور تمہارا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر رہنے اور ان کو دیکھنے کے لیے کافی ہےمَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا﴿18﴾
جو دنیا ہی کا طالب بنتا ہے ہم اس کے لیے اسی میں جس قدر چاہتے ہیں، جس کے لیے چاہتے ہیں، آگے بڑھا دیتے ہیں۔ پھر ہم نے اس کے لیے جہنم رکھ چھوڑی ہے جس میں وہ خوار اور راندہ ہو کر داخل ہوگاوَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا﴿19﴾
اور جو آخرت کا طالب بنتا ہے اور اس کے شایانِ شان کوشش بھی کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو درحقیقت یہی لوگ ہیں جن کی سعی مقبول ہوگیكُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا﴿20﴾
ہر تیرے پروردگار کی بخشش سے ہر ایک کی مدد کرتے ہیں، ان کی بھی اور ان کی بھی۔ اور تیرے رب کی بخشش کسی پر بند نہیںاُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا﴿21﴾
دیکھو ہم نے ان کے ایک کو دوسرے پر کس طرح فضیلت دے رکھی ہے اور آخرت درجات اور فضیلت کے اعتبار سے کہیں بڑھ کر ہےلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ع﴿22﴾
اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو شریک نہ کرو کہ تو سزاوار مذمت اور دھتکارا ہوا کر رہ جائے۔وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا﴿23﴾
اور تیرے رب کا فیصلہ یہ ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نہایت اچھا سلوک کرو۔ اگر وہ تیرے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں، ان میں سے ایک یا دونوں، تو نہ ان کو اف کہو اور نہ ان کو جھڑکو اور ان سے شریفانہ بات کہووَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ﴿24﴾
اور ان کے لیے رحمدلانہ اطاعت کے بازو جھکائے رکھو اور دعا کرتے رہو کہ اے میرے رب ان پر رحم فرما، جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالارَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا﴿25﴾
تمہارا رب جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس سے خوب واقف ہے۔ اگر تم سعادت مند رہوگے تو وہ رجوع کرنے والوں کو بڑا بخشنے والا ہےوَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا﴿26﴾
اور تم قرابت دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی اور مال کو اللّے تللّے نہ اڑاؤاِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا﴿27﴾
الّلے تللّے اڑا دینے والے شیطانوں کے بھائی ہوتے ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہےوَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا﴿28﴾
اور اگر تمہیں اپنے رب کے فضل کے انتظار میں، جس کے تم متوقع ہو، ان سے اعراض کرنا پڑجائے تو تم ان سے نرمی کی بات کہہ دووَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا﴿29﴾
اور نہ تو اپنے ہاتھ کو اپنی گردن سے باندھے رکھو اور نہ اس کو بالکل کھلا ہی چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ رہواِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ع﴿30﴾
بیشک تمہارا رب ہی ہے جو رزق کو جس کے لیے چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے، بیشک وہی اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا اور ان کو دیکھنے والا ہےوَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا﴿31﴾
اور تم اپنی اولاد کو ناداری کے اندیشہ سے قتل نہ کرو، ہم ہی ان کو بھی رزق دیتے ہیں اور تم کو بھی، بیشک ان کا قتل بہت بڑا جرم ہےوَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا﴿32﴾
اور زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو۔ کیونکہ یہ کھلی ہوئی بےحیائی اور نہایت بری راہ ہےوَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا﴿33﴾
اور جس جان کو خدا نے محترم ٹھہرایا اس کو قتل مت کرو مگر حق پر اور جو ظلماً قتل کیا گیا تو ہم نے اس کے ولی کو اختیار دیا تو وہ قتل میں حدود سے تجاوز نہ کرے کیونکہ اس کی مدد کی گئی ہےوَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا﴿34﴾
اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکو مگر اس طریقہ سے جو اس کے حق میں بہتر ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے سن پختگی کو پہنچ جائے اور عہد کو پورا کرو کیونکہ عہد کی پرسش ہونی ہےوَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا﴿35﴾
اور جب تم ناپو تو ناپ پوری رکھو اور وزن صحیح ترازو سے کرو۔ یہی بہتر اور مآل کار کے اعتبار سے خوب تر ہےوَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا﴿36﴾
اور جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کے درپے نہ ہوا کرو۔ کیونکہ کان، آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک چیز کی پرسش ہونی ہےوَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا﴿37﴾
اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو، نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور پہاڑوں کے طول کو پہنچ سکتے ہو ،كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا﴿38﴾
ان ساری باتوں کی برائی تمہارے رب کے نزدیک نہایت ناپسیددہ ہے ہذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا﴿39﴾
یہ ان باتوں میں سے ہیں جو تمہارے رب نے حکمت میں سے تمہاری طرف وحی کی ہیں اور خدا کے ساتھ کسی اور معبود کو شریک نہ کرو کہ تم ملامت زدہ اور راندہ ہو کر جہنم میں جھونک دیے جاؤاَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ع﴿40﴾
کیا تمہارے رب نے تمہارے لیے تو بیٹے مخصوص کیے اور اپنے لیے فرشتوں میں سے بیٹیاں بنا لیں۔ یہ تو تم بڑی ہی سنگین بات کہتے ہووَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا﴿41﴾
اور ہم نے اس قرآن میں گوناگوں اسلوبوں سے بات واضح کردی کہ وہ یاد دہانی حاصل کریں لیکن یہ چیز ان کی بیزاری ہی میں اضافہ کیے جا رہی ہےقُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا﴿42﴾
کہہ دو کہ اگر کچھ اور الٰہ بھی اس کے شریک ہوتے جیسے یہ دعوی کرتے ہیں تو وہ عرش والے پر ضرور چڑھائی کردیتےسُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا﴿43﴾
وہ پاک اور بہت برتر ہے ان باتوں سے جو یہ کہتے ہیںتُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا﴿44﴾
ساتوں آسمان اور زمین اور جو ان میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں اور کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کرتی ہو لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔ بیشک وہ بڑا ہی حلم والا اور بخشنے والا ہےوَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ﴿45﴾
اور جب تم قرآن سناتے ہو تو ہم تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ایک مخفی پردہ حائل کردیتے ہیںوَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا﴿46﴾
اور ان کے دلوں پر حجاب اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیتے ہیں کہ نہ اس کو سمجھیں نہ سنیں اور جب تم قرآن میں تنہا اپنے رب ہی کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت کے ساتھ پیٹھ پھیر لیتے ہیںنَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا﴿47﴾
اور ہم خوب جانتے ہیں کہ جب یہ لوگ تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو کس غرض سے کان لگاتے ہیں اور جب کہ یہ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں جب کہ یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم لوگ تو بس ایک سحر زدہ شخص کے پیچھے چل پڑے ہواُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا﴿48﴾
دیکھو، تم پر کیسے کیسے فقرے چست کررہے ہیں۔ یہ لوگ کھوئے گئے ہیں، کوئی راہ نہیں پا رہے ہیںوَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا﴿49﴾
اور یہ کہتے ہیں کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو ہم ازسرنو اٹھائے جائیں گے !قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ﴿50﴾
کہہ دو کہ تم پتھر یا لوہا بن جاؤاَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا﴿51﴾
یا کوئی اور شے جو تمہارے خیال میں ان سے بھی سخت ہو۔ پھر وہ کہیں گے کہ ہمیں کون دوبارہ زندہ کرے گا ؟ کہہ دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا۔ پھر وہ تمہارے آگے سر ہلائیں گے اور کہیں گے کہ یہ کب ہوگا ؟ کہہ دو کہ عجب نہیں کہ اس کا وقت قریب ہی آپہنچا ہویَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ع﴿52﴾
جس دن وہ تم کو پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کے حکم کی تعمیل کروگے اور تم یہ گمان کروگے کہ تم بس تھوڑی ہی مدت رہےوَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا﴿53﴾
اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہی بات کہیں جو بہتر ہے۔ بیشک شیطان ان کے درمیان وسوسہ اندازی کرتا رہتا ہے، شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن تو ہے ہیرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا﴿54﴾
تمہارا رب تم کو خوب جانتا ہے، اگر وہ چاہے گا تم پر رحم فرمائے گا یا اگر چاہے گا تم کو عذاب دے گا اور ہم نے تم کو ان پر مسئول بنا کر مامور نہیں کیا ہےوَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا﴿55﴾
اور تمہارا رب ہی خوب جانتا ہے ان کو جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت بخشی ہے اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کیقُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا﴿56﴾
کہہ دو کہ ان کو پکار دیکھو جن کو تم نے اس کے سوا معبود گمان کر رکھا ہے، نہ وہ تم سے کسی مصیبت کو دفع ہی کرسکیں گے، نہ اس کو ٹال ہی سکیں گےاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا﴿57﴾
جن کو یہ پکارتے ہیں وہ تو خود ہی ہی اپنے رب کے قرب کی طلب میں سرگرم ہیں کہ ان میں سے کون سب سے زیادہ قرب حاصل کرتا ہے اور وہ اپنے رب کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں بیشک تمہارے رب کا عذاب چیز ہی ڈرنے کی ہےوَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا﴿58﴾
اور کوئی بستی ایسی نہیں ہے جس کو قیامت سے پہلے ہم ہلاک نہ کر چھوڑیں یا اس کو کوئی سخت عذاب نہ دیں۔ یہ بات کتاب میں لکھی ہوئی ہےوَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا﴿59﴾
اور ہم کو نشانیاں بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس چیز نے کہ اگلوں نے ان کو جھٹلایا۔ اور ہم نے قوم ثمود کو ایک اونٹنی ایک آنکھیں کھول دینے والی نشانی دی تو انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اس کی تکذیب کردی اور ہم نشانیاں بھیجتے ہیں تو ڈرانے ہی کے لیے بھیجتے ہیںوَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ع﴿60﴾
اور یاد کرو جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارے رب نے لوگوں کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور وہ رویا جو ہم نے تم کو دکھائی اس کو ہم نے لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ ہی بنا دیا اور اس درخت کو بھی جس پر قرآن میں لعنت وارد ہوئی اور ہم تو ان کو ڈراتے ہیں لیکن یہ چیز ان کی غایت سرکشی میں اضافہ کیے جا رہی ہےوَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ﴿61﴾
اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا لیکن ابلیس نے نہیں کیا وہ بولا کہ کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیاقَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا﴿62﴾
اس نے کہا ذرا دیکھ تو اس کو جس کو تو نے مجھ پر عزت بخشی ہے اگر تو نے مجھے روز قیامت تک مہلت دے دی تو میں، ایک قدرے قلیل کے سوا، اس کی ساری ذریت کو چٹ کرجاؤں گاقَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا﴿63﴾
فرمایا، جا، جو ان میں سے تیرے پیرو بن جائیں گے تو جہنم تم سب کا پورا پورا بدلہ ہےوَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا﴿64﴾
اور ان میں سے جن پر تیرا بس چلے ان کو اپنے غوغا سے گھبرا لے، ان پر اپنے سوار اور پیدل چڑھا لا، مال اور اولاد میں ان کا ساجھی بن جا اور ان سے وعدہ کرلے اور شیطان ان سے محض دھوکے ہی کے وعدے کرتا ہےاِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا﴿65﴾
بیشک میرے اپنے بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا اور تیرا رب کارسازی کے لیے کافی ہےرَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا﴿66﴾
تمہارا رب وہی ہے جو تمہارے لیے سمندر میں کشتی چلاتا ہے تاکہ تم اس کے فضل کے طالب بنو۔ بیشک وہ تمہارے حال پر بڑا مہربان ہےوَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا﴿67﴾
اور جب تمہیں سمندر میں مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے سوا جن کو تم پکارتے ہو سب غائب ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو خشکی طرف بچا لاتا ہے تو تم اعراض کر بیٹھتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہےاَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ﴿68﴾
کیا تم اس بات سے نچنت ہوگئے کہ وہ خشکی کی جانب تمہارے سمیت زمین کو دھنسا دے یا تم پر باد تند بھیج دے، پھر تم کسی کو اپنا کارساز نہ پاؤاَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا﴿69﴾
یا تم اس سے نچنت ہوگئے کہ تم کو دوبارہ اسی میں لوٹائے پھر وہ تم پر باد تند کا جھونکا بھیج دے پس وہ تمہاری ناشکری کی پاداش میں تم کو غرق کردے اور تم اس پر ہمارا کوئی پیچھا کرنے والا اپنے لیے نہ پاؤوَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ع﴿70﴾
اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور خشی اور تری دونوں میں ان کو سواری عطا کی۔ اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا اور ان کو اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فضیلتیَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا﴿71﴾
اس دن کو یاد رکھو جس دن ہم ہر گروہ کو اس کے رہنما سمیت بلائیں گے۔ سو جن کو ان کا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں ملے گا وہ تو اپنے اپنے اعمال مانہ کو پڑھیں گے اور ذرا بھی ان کے ساتھ ناانصافی نہیں کی جائے گیوَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا﴿72﴾
اور جو اس دنیا میں اندھا بنا رہے گا وہ آخرت میں بھی اندھا اور گمراہ تر ہوگاوَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ١ۖۗ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا﴿73﴾
اور بیشک قریب تھا کہ تم کو فتنوں میں ڈال کر اس چیز سے ہٹا دیں جو ہم نے تم پر وحی کی ہے تاکہ تم اس سے مختلف ہم پر افترا کر کے پیش کرو، اور تب وہ تم کو اپنا گاڑھا دوست بنا لیتےوَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْئًا قَلِیْلًاۗۙ﴿74﴾
اور اگر ہم نے تم کو جمائے نہ رکھا ہوتا تو قریب تھا کہ تم ان کی طرف کچھ جھک پڑواِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا﴿75﴾
اگر ایسا ہوتا تو ہم تم کو زندگی اور موت دونوں کا دوگنا عذاب چکھاتے پھر تم ہمارے مقابل میں اپنا کوئی مددگار نہ پاتےوَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا﴿76﴾
اور بیشک یہ اس سرزمین سے تمہارے قدم اکھاڑ دینے کے درپے ہیں تاکہ یہ تم کو یہاں سے نکال چھوڑیں۔ اور اگر ایسا ہوا تو تمہارے بعد یہ بھی ٹکنے نہ پائیں گےسُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠ع﴿77﴾
ہم تم سے پہلے اپنے جو رسول بھیجے ان کے باب میں ہماری سنت کو یاد رکھو اور تم ہماری سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گےاَقِمِ الصَّلٰوةَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّیْلِ وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ١ؕ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا﴿78﴾
نماز کا اہتمام رکھو زوال آفتاب کے اوقات سے لے کر شب کے تاریک ہونے تک اور خاص کر فجر کی قرات کا۔ بیشک فجر کی قرات بڑی ہی حضوری کی چیز ہےوَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا﴿79﴾
اور شب میں تہجد پڑھو، یہ تمہارے مزید برآں ہے۔ توقع رکھو کہ تم کو تمہارا رب محمود اٹھانا اٹھائےوَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا﴿80﴾
اور دعا کرو کہ اے میرے رب مجھے داخل کر عزت کا داخل کرنا اور مجھے نکال عزت کا نکالنا اور مجھے خاص اپنے پاس سے مددگار قوت نصیب کروَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ١ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا﴿81﴾
اور اعلان کرو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا اور باطل نابود ہونے والی چیز ہےوَ نُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ١ۙ وَ لَا یَزِیْدُ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا خَسَارًا﴿82﴾
اور ہم قرآن میں سے جو اتارتے ہیں وہ شفا اور رحمت ہے ایمان والوں کے لیے اور ظالمون کے لیے یہ چیز ان کے خسارے میں ہی اضافہ کر رہی ہےوَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ یَئُوْسًا﴿83﴾
اور انسان پر جب ہم اپنا انعام کرتے ہیں تو وہ اعراض کرتا اور پہلو بدل لیتا ہے اور جب اس کو مصیبت پہنچتی ہے تو مایوس ہوجاتا ہےقُلْ كُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ١ؕ فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِیْلًا۠ع﴿84﴾
کہہ دو کہ ہر ایک اپنی روش پر کام کرے گا تو تمہارا رب ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو صحیح تر راستہ پر ہیںوَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ١ؕ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا﴿85﴾
اور وہ تم سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، کہہ دو کہ روح میرے رب کے حکم میں سے ہے اور انہیں تو بس تھوڑا ہی سا علم عطا ہوا ہےوَ لَئِنْ شِئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بِالَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَیْنَا وَكِیْلًاۙ﴿86﴾
اور اگر ہم چاہیں تو اس وحی کو سلب کرلیں جو ہم نے تم پر کی ہے، پھر تم اس کے لیے ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار بھی نہ پاسکوگےاِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَیْكَ كَبِیْرًا﴿87﴾
یہ تو بس تمہارے رب کا فضل ہے۔ بیشک اس کا فضل تم پر بہت بڑا ہےقُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا یَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِیْرًا﴿88﴾
کہہ دو کہ اگر تمام انس و جن اس بات پر اکٹھے ہوجائیں کہ اس جیسا قرآن لادیں تو وہ اس جیسا نہ لا سکیں گے اگر وہ ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیںوَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا﴿89﴾
اور ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں طرح طرح سے ہر قسم کی حکمت کی باتیں بیان کی ہیں لیکن اکثر لوگ انکار ہی پر اڑے ہوئے ہیںوَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ یَنْۢبُوْعًاۙ﴿90﴾
اور کہتے ہیں کہ ہم تو تمہاری بات ماننے کے نہیں جب تک تم ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ نہ جاری کردواَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِیْرًاۙ﴿91﴾
یا تمہارے پاس کھجوروں اور انگوروں کا کوئی باغ نہ ہوجائے پھر تم اس کے بیچ بیچ میں نہریں نہ دوڑا دواَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَیْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِیَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ قَبِیْلًاۙ﴿92﴾
یا تم ہر پر آسمان سے ٹکڑے نہ گرا دو جیسا کہ تم دعوی کرتے ہو یا اللہ اور فرشتوں کو سامنے نہ لا کھڑا کرواَوْ یَكُوْنَ لَكَ بَیْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِی السَّمَآءِ١ؕ وَ لَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَیْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ١ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا۠ع﴿93﴾
یا تمہارے پاس سونے کا کوئی گھر نہ ہوجائے یا تم آسمان پر نہ چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے چڑھنے کو بھی ماننے کے نہیں جب تک تم وہاں سے ہم پر کوئی کتاب نہ اتارو جسے ہم پڑھیں۔ کہہ دو کہ میرا رب پاک ہے، میں تو بس ایک بشر ہوں، اللہ کا رسولوَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا﴿94﴾
اور ان لوگوں کو ایمان لانے سے، جب کہ ان کے پاس ہدایت آگئی، نہیں مانع ہوئی مگر یہ چیز کہ انہوں نے کہا کہ کیا اللہ نے ایک بشر ہی کو رسول بنا کر بھیجاقُلْ لَّوْ كَانَ فِی الْاَرْضِ مَلٰٓئِكَةٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا﴿95﴾
کہہ دو ، اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چلتے پھرتے ہوتے تو ہم ان پر آسمان سے کسی فرشتے ہی کو رسول بنا کر اتارتےقُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا﴿96﴾
کہہ دو کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے، بیشک وہی اپنے بندوں کو خوب جاننے والا ہے، خوب دیکھنے والا ہےوَ مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ عُمْیًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِیْرًا﴿97﴾
اور جس کو اللہ ہدایت دے گا وہی ہدایت پانے والا بنے گا اور جسے وہ گمراہ کردے گا تو تم ان کے لیے اس کے سوا کسی کو مددگار نہ پاؤگے اور ہم قیامت کے دن کو ان کے مونہوں کے بل، اندھے، گونگے اور بہرے اکٹھا کریں گے۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے جب جب اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اس کو مزید بھڑکا دیا کریں گےذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا﴿98﴾
یہ ان کا بدلہ ہوگا اس بات کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا کہ کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ہم از سر نو پیدا کرکے اٹھائے جائیں گےاَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَ جَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا﴿99﴾
کیا انہوں نے نہیں سوچا کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا وہ قادر ہے کہ ان کے مانند پھر پیدا کردے اور اس نے ان کے لیے ایک مدت مقرر کر رکھی ہے جس میں کوئی شک نہیں ہے لیکن یہ ظالم انکار ہی پر اڑے رہےقُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَآئِنَ رَحْمَةِ رَبِّیْۤ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْیَةَ الْاِنْفَاقِ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا۠ع﴿100﴾
کہہ دو کہ اگر میرے رب کے فضل کے خزانوں کے مالک تم ہوتے تو اس وقت تم خرچ ہوجانے کے اندیشے سے ہاتھ روک لیتے اور انسان بڑا ہی تنگ دل ہےوَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ فَسْئَلْ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا﴿101﴾
اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی ہوئی نشانیاں دیں تو بنی اسرائیل سے پوچھ لو جب کہ وہ ان کے پاس آیا تو فرعون نے اس سے کہا کہ اے موسیٰ میں تو تم کو ایک سحر زدہ آدمی سمجھتا ہوںقَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآئِرَ١ۚ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّكَ یٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا﴿102﴾
اس نے جواب دیا کہ کہ تجھے خوب معلوم ہے کہ ان کو آسمانوں اور زمین کے رب ہی نے اتار ہے آنکھیں کھول دینے کے لیے اور میں تو تم کو اے فرعون ہلاکت زدہ سمجھتا ہوں۔فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِیْعًاۙ﴿103﴾
اس کے بعد اس نے ارادہ کیا کہ ان کے قدم اس سرزمین سے اکھاڑ دے تو ہم نے اس کو اور جو اس کے ساتھ تھے سب کو غرق کردیاوَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِیْفًاؕ﴿104﴾
اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم ملک میں رہو بسو، پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم سب کو اکٹھا کرکے لائیں گےوَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۘ﴿105﴾
اور ہم نے اس کو حق کے ساتھ اتارا ہے اور یہ حق ہی کے ساتھ اترا ہے اور ہم نے تم کو صرف ایک بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہےوَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا﴿106﴾
اور قرآن کو تو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے اس لیے اتارا کہ تم اس کو لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر سناؤ اور ہم نے اس کو نہایت اہتمام سے اتار ہےقُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ﴿107﴾
ان سے کہہ دو کہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ وہ لوگ جن کو اس کے پہلے سے علم ملا ہوا ہے جب یہ ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیںوَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا﴿108﴾
اور کہتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا پروردگار، بیشک ہمارے پروردگار کا وعدہ شدنی تھاوَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩۩﴿109﴾
اور وہ ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے گرتے ہیں اور یہ ان کے خشوع میں اضافہ کرتا ہےقُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا﴿110﴾
کہہ دو کہ اللہ کے نام سے پکارو یا رحمن کے نام سے، جس نام سے بھی پکارو سب اچھی نام اسی کے ہیں۔ اور تم اپنی نماز کو نہ زیادہ جہری کرو اور نہ بالکل ہی سری، ان دونوں کے بین بین کا راستہ اختیار کرووَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ع﴿111﴾
اور کہو کہ شکر کا سزاوار ہے وہ اللہ جس کے نہ کوئی اولاد ہے اور نہ اس کی پادشاہی میں اس کا کوئی ساجھی ہے اور نہ اس کو زلت سے بچانے کے لیے کسی مددگار کی حاجت ہے اور اس کی بڑائی بیان کرو جیسا کہ اس کا حق ہے