12. Yusufيوسف

Joseph · Meccan · 111 ayahs · 12 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫﴿1﴾

    یہ الف، لام، را ہے۔ یہ واضح کتاب کی آیات ہیں
  2. اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ﴿2﴾

    ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر اتارا تاکہ تم سمجھو
  3. نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ﴿3﴾

    ہم تمہیں ایک بہترین سرگزشت سناتے ہیں اس قرآن کی بدولت جو ہم نے تمہاری طرف وحی کیا۔ اس سے پہلے بیشک تم اس سے نا آشنا تھے
  4. اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ﴿4﴾

    یہ اس وقت کی بات ہے جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان ! میں نے خوب میں گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے، میں نے ان کو دیکھا کہ وہ میرے آگے سربسجود ہیں
  5. قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ﴿5﴾

    اس نے جواب دیا کہ اے میرے بیٹے تم اپنے اس خواب کو اپنے بھائیوں کو نہ سنانا کہ وہ تمہارے خلاف کسی سازش میں لگ جائیں۔ شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے
  6. وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ع﴿6﴾

    اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں برگزیدہ کرے گا اور تمہیں باتوں کی حقیقتوں تک پہنچنا سکھائے گا اور تم پر اور آل یعقوب پر اپنی نعمت تمام کرے گا جس طرح اس نے اس سے پہلے تمہارے اجداد ابراہیم اور اسحاق پر اپنی نعمت تمام کی۔ بیشک تمہارا رب بڑا ہی علیم و حکیم ہے
  7. لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ﴿7﴾

    بیشک یوسف اور اس کے بھائیوں کی سرگزشت میں پوچھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں
  8. اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ﴿8﴾

    خیال کرو جب انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں۔ بیشک ہمارا باپ ایک کھلی ہوئی غلطی میں مبتلا ہے
  9. اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ﴿9﴾

    یوسف کو قتل کردو یا اس کو کہیں پھینک دو تو تمہارے باپ کی ساری توجہ تمہاری ہی طرف ہوجائے گی اور اس کے بعد تم بالکل ٹھیک ہوجاؤ گے
  10. قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ﴿10﴾

    ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو قتل تو نہ کرو، اگر تم کچھ کرنے ہی والے ہو تو اس کو کسی کنوئیں کی تہ میں پھینک دو ، کوئی راہ چلتا قافلہ اس کو نکال لے جائے گا
  11. قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ﴿11﴾

    انہوں نے اپنے باپ سے کہا، اے ہمارے باپ، کیا بات ہے کہ یوسف کے معاملے میں آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے بڑے ہی خیرخواہ ہیں
  12. اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ﴿12﴾

    کل اس کو ہمارے ساتھ جانے دیجیے ذرا چے چگے اور کھیلے کودے اور ہم اس کی پوری حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے
  13. قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ﴿13﴾

    اس کہا مجھے غم میں یہ چیز ڈالتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور ڈرتا ہوں کہ جب تم اس سے غافل ہو تو اس کو بھیڑیا کھاجائے
  14. قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ﴿14﴾

    وہ بولے کہ اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا جب کہ ہم ایک پوری جماعت ہیں تو ہم تو اس صورت میں نہایت ہی نامراد ثابت ہوں گے
  15. فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿15﴾

    پس جب وہ اس کو لے گئے اور یہ طے کرلیا کہ اس کو کنوئیں کی تہ میں پھینک دیں اور ہم نے اس کو وحی بھی کردی کہ تم ان کو ان کی اس کارستانی سے آگاہ کروگے جب کہ ان کو کچھ خیال بھی نہ ہوگا
  16. وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ﴿16﴾

    اور وہ اپنے باپ کے پاس کچھ رات گئے روتے ہوئے آئے
  17. قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ﴿17﴾

    تو بولے کہ اے ہمارے باپ ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرتے ہوئے دور نکل گئے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑا تو اس کو بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ تو ہماری بات باور کرنے والے ہیں نہیں اگرچہ ہم سچے ہی ہوں
  18. وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ﴿18﴾

    اور وہ اس کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے۔ اس نے کہا کہ بلکہ یہ تو تمہارے جی کی ایک گھڑی ہوئی بات ہے تو صبر جمیل کی توفیق ملے اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اس میں خدا ہی سہارا ہے
  19. وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ﴿19﴾

    اور قافلہ آیا تو انہوں نے اپنے سقہ کو بھیجا۔ اس نے ڈول ڈالا تو پکار اٹھا۔ خوشخبری ہو ! یہ تو ایک لڑکا ہے ! اور اس کو ایک پونجی سمجھ کر محفوظ کرلیا اور اللہ خوب باخبر تھا اس چیز سے جو وہ کر رہے تھے
  20. وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ع﴿20﴾

    اور انہوں نے اس کو ایک حقیر قیمت، چند درم کے عوض، بیچ دیا اور اس کے معاملے میں بالکل بےپروا تھے
  21. وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿21﴾

    اور اہل مصر میں سے جس نے اس کو خرید اس نے، اپنی بیوی سے کہا کہ ذرا اس کو خاطر سے رکھیو۔ امید ہے کہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا ہی بنا لیں اور اس طرح ہم نے یوسف کے لیے ملک میں زمین ہموار کی تاکہ ہم اس کو منتخب کریں اور اس کو باتوں کی تعبیر بتائیں اور اللہ اپنے ارادے کی تنفیذ پر غالب ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
  22. وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ﴿22﴾

    اور جب وہ اپنی پختگی کو پہنچا ہم نے اس کو حکومت اور علم عطا کیا اور ہم خوب کاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں
  23. وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ﴿23﴾

    اور جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اس پر ڈورے ڈالنے لگی اور اس نے دروازے بند کرلیے اور بولی کہ بس آجاؤ، اس نے کہا معاذ اللہ ! وہ میرا آقا ہے اس نے مجھے خاطر سے رکھا ہے حق تلفی کرنے والے ہرگز فلاح نہیں پاتے
  24. وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ﴿24﴾

    اور عورت نے تو اس کا قصد کرلیتا اگر اس نے اپنے رب کی واضح نشانی نہ دیکھ لی ہوتی۔ ہم نے ایسا ہی کیا تاکہ ہم اس سے برائی اور بےحیائی کو دور رکھیں۔ بیشک وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھا
  25. وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿25﴾

    اور وہ دونوں دروازے کی طرف جھپٹے اور اس نے یوسف کا کرتا پیچھے سے پھاڑ دیا اور دونوں نے اس کے شوہر کو دروازے پر پایا۔ وہ بولی کہ جو تیری بیوی کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرے اس کی سزا اس کے سوا اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ قید خانہ میں ڈالا جائے یا وہ کوئی دردناک تکلیف بھگتے
  26. قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ﴿26﴾

    اس نے کہا اسی نے مجھے پھسلانے کی کوشش کی اور عورت کے خاندان والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر اس کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہو تو وہ سچی ہے ور وہ جھوٹا ہے
  27. وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿27﴾

    اور اگر اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو وہ جھوٹی اور یہ سچا ہے
  28. فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ﴿28﴾

    تو جب اس نے اس کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہو ادیکھا تو بول اٹھا کہ بیشک یہ تمہارا ہی چرتر ہے اور تمہارے چرتر بڑے ہی فتنہ ہوتے ہیں
  29. یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ع﴿29﴾

    یوسف اس کو چھوڑو، اور تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، بیشک تو ہی خطاوار ہے
  30. وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴿30﴾

    اور شہر میں کچھ عورتوں نے کہا کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام پر ڈورے ڈال رہی ہے۔ اس کے عشق میں دیوانی ہوگئی ہے۔ ہم تو کو کھلی حماقت میں مبتلا دیکھ رہے ہیں
  31. فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ﴿31﴾

    تو جب اس نے ان کے چرتر کا حال سنا تو اس نے انہیں بلا بھیجا اور ان کے لیے نشست گاہ آراستہ کی اور ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک چھری دی اور یوسف سے کہا کہ تم ان کے سامنے آؤ تو جب انہوں نے اس کو دیکھا اس کی عظمت سے مبہوت رہ گئیں اور انہوں نے اپنے ہاتھ زخمی کرلیے اور بولیں کہ حاشا للہ یہ آدمی نہیں۔ یہ تو کوئی فرشتہ یزدانی ہے
  32. قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ﴿32﴾

    وہ بولی کہ یہی ہے وہ جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کر رہی تھیں۔ بیشک میں نے اس پر ڈورے ڈالے لیکن یہ بچ رہا، اگر اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے کہہ رہی ہوں تو وہ ضرور قید ہوجائے گا اور ذلیل ہوگا
  33. قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ﴿33﴾

    اس نے دعا کی اے میرے رب ! قید خانہ مجھے اس چیز کے مقابل میں زیادہ محبوب ہے جس کی یہ مجھے دعوت دے رہی ہیں اور اگر تو نے ان کے چرتر کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کی طرف مائل اور جذبات سے مغلوب ہوجانے والوں میں سے ہوجاؤں گا
  34. فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿34﴾

    تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول فرمائی اور ان کے چرتر کو اس سے دفع کردیا۔ بیشک وہ سننے والا جاننے والا ہے
  35. ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ع﴿35﴾

    پھر نشانیاں دیکھ چکنے کے بعد انہیں مصلحت یہی معلوم ہوئی کہ اس کو کچھ مدت کے لیے قید کردیں
  36. وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿36﴾

    اور اس کے ساتھ دو اور جوان بھی جیل خانہ میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں اپنے آپ کو خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں اپنے کو دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں جس میں سے چڑیاں کھا رہی ہیں۔ آپ ہمیں اس کی تعبیر بتائیے۔ ہم آپ کو خوب کاروں میں سمجھتے ہیں۔
  37. قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ﴿37﴾

    اس نے کہا جو کھانا تمہیں ملتا ہے وہ آئے گا نہیں کہ میں اس کے آنے سے پہلے پہلے تمہیں اس کی تعبیر بتا دوں گا۔ یہ اس علم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے سکھایا ہے۔ میں نے ان لوگوں کے مذہب کو چھوڑا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے یہی لوگ منکر ہیں
  38. وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ﴿38﴾

    اور میں نے اپنے بزرگوں، ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کے مذہب کی پیروی کی۔ ہمیں حق نہیں کہ ہم کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں۔ یہ اللہ کا ہم پر اور لوگوں پر فضل ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزار نہیں ہوتے
  39. یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ﴿39﴾

    اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو ! کیا الگ الگ بہت سے رب بہتر ہیں، یا اکیلا اللہ ہی سب پر حاوی و غالب ؟
  40. مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿40﴾

    تم اس کے سوا نہیں پوجتے ہو مگر چند ناموں کو جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ چھوڑے ہیں۔ اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ اختیار و اقتدار صرف اللہ ہی کا ہے۔ اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کرو۔ یہی دین قیم ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
  41. یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ﴿41﴾

    اے میرے زندان کے دونوں ساتھیو، تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلانے کی خدمت انجام دے گا۔ رہا دوسرا تو اس کو سولی دی جائے گی پھر پرندے اس کے سر کو نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ اس امر کا فیصلہ ہوا جس کے بارے میں تم پوچھ رہے تھے
  42. وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ع﴿42﴾

    اور جس کے بارے میں اس نے خیال کیا کہ وہ چھوٹ جانے والا ہے اس سے اس نے کہا کہ اپنے آقا کے پاس میرا ذکر کیجیو۔ تو شیطان نے اس کو اپنے آقا سے ذکر کرنا بھلا دیا پس وہ جیل خانہ میں کوئی سال پڑا رہا
  43. وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ﴿43﴾

    اور بادشاہ نے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز بالیں ہیں اور دوسری سات خشک۔ اے درباریو، میرے رویا کی مجھے تعبیر بتاؤ اگر تم خواب کی تعبیر دیتے ہو
  44. قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ﴿44﴾

    وہ بولے یہ خواب پریشان ہیں اور ہم پریشان خوابوں کی تعبیر کے عالم نہیں
  45. وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ﴿45﴾

    اور ان دونوں میں سے جو چھوٹ گیا تھا اور ایک مدت کے بعد اسے یاد پڑا، وہ بولا کہ میں آپ لوگوں کو اس کی تعبیر بتاؤں گا، پس مجھے جانے دیجیے
  46. یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿46﴾

    یوسف ! اے راست باز ! ہمیں سات فربہ گائیوں کے بارے میں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات سبز بالیوں اور دوسری ساتھ خشک بالیوں کے بارے میں تعبیر بتا تاکہ میں لوگوں کے پاس جاؤ تاکہ وہ بھی جانیں
  47. قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ﴿47﴾

    اس نے کہا تم سات سال برابر کاشت کروگے۔ پس جو فصل کاٹو، اس قلیل مقدار کے سوا جو تم کھاؤ اس کی بالیوں میں چھوڑ دیا کرو
  48. ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ﴿48﴾

    پھر اس کے بعد سات سخت سال آئیں گے جو، بجز اس قلیل مقدار کے جو تم محفوظ کرلوگے اس کو چٹ کرجائیں گے جو تم نے ان کے لیے فراہم کیا ہوگا
  49. ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ع﴿49﴾

    پھر اس کے بعد ایک ایسا سال آئے گا جس میں لوگوں کی فریاد رسی ہوگی اور لوگ اس میں انگور نچوڑیں گے
  50. وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ﴿50﴾

    اور بادشاہ نے کہا کہ اس کو میرے پاس لاؤ۔ پس جب قاصد اس کے پاس آیا اس نے کہا کہ تم اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور اس سے دریاف کرو کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ زخمی کرلیے تھے ؟ بیشک میرا رب ان کید سے خوب واقف ہے
  51. قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ﴿51﴾

    اس نے پوچھا، تمہار کیا ماجرا ہے جب تم نے یوسف کو پھسلانے کی کوشش کی ؟ وہ بولیں کہ حاشا للہ ہم نے اس پر برائی کا کوئی بھی نقش نہیں پایا۔ عزیز کی بیوی بولی اب حق آشکارا ہوگیا۔ میں نے اس کو پھسلانے کی کوشش کی۔ اور بیشک وہ راست بازوں میں سے ہے
  52. ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ﴿52﴾

    یہ اس لیے کہ وہ جان لے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس سے بےوفائی نہیں کی اور بیشک اللہ خائنوں کی چال کو چلنے نہیں دیتا
  53. وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿53﴾

    اور میں اپنے نفس کو بری نہیں قرار دیتا۔ نفس تو برائیوں ہی کی راہ سجھانے والا ہے مگر جب میرا رب رحم فرمائے۔ بیشک میرا رب بخشنے والا، رحم فرمانے والا ہے
  54. وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ﴿54﴾

    اور بادشاہ نے کہا، اس کو میرے پاس لاؤ، میں اس کو اپنا معتمد خاص بناؤں گا۔ پھر جب اس سے بات چیت کی تو کہا اب تم ہمارے ہاں باقتدار اور معتمد ہوئے
  55. قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ﴿55﴾

    اس نے کہا مجھے ملک کے ذرائع آمدنی پر مامور کیجیے، میں متدین بھی ہوں اور باخبر بھی
  56. وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿56﴾

    اور اس طرح ہم نے یوسف کو ملک اقتدار بخشا اوہ اس میں جہاں چاہے متمکن ہو۔ ہم اپنے فضل سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں اور ہم خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتے
  57. وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ع﴿57﴾

    اور آخرت کا اجر اس سے کہیں بڑھ کر ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور تقوی پر قائم رہے
  58. وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ﴿58﴾

    اور یوسف کے بھائی آئے اور اس سے ملے۔ اس نے تو ان کو پہچان لیا پر وہ اس سے نا آشنا ہی رہے
  59. وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ﴿59﴾

    اور جب اس نے ان کا سامان تیار کردیا کہا کہ اب کے اپنے سوتیلے بھائی کو بھی میرے پاس لائیو۔ دیکھتے ہونا کہ میں غلہ بھی پورے پیمانہ سے دیتا ہوں اور بہترین میزبانی کرنے والا بھی ہوں
  60. فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ﴿60﴾

    اور اگر تم اس کو میرے پاس نہیں لاؤگے تو نہ تمہارے لیے میرے پاس غلہ ہے اور نہ تم میرے پاس پھٹکنا
  61. قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ﴿61﴾

    انہوں نے کہا ہم اس کے بارے میں اس کے باپ کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے اور ہم یہ ضرور کریں گے
  62. وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿62﴾

    اور اس نے اپنے نوجوانوں کو حکم دیا کہ ان کا دیا ہوا مال ان کے کجاو وں ہی میں ڈال دو کہ جب وہ اپنے اہل و عیال میں پہنچیں اس کو پہچانیں تاکہ وہ پھر آئیں
  63. فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ﴿63﴾

    تو جب وہ اپنے باپ کے پاس لوٹے انہوں نے کہا کہ ابّا جان ! ہم آگے کو غلّہ سے محروم کردیے گئے ہیں تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھی جانے دیجیے کہ ہم غلہ لائیں اور ہم اس کی حفاظت کا عہد کرتے ہیں
  64. قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ﴿64﴾

    اس نے کہا کہ اس کے معاملے میں تم پر میرا اعتماد نہیں ہوگا مگر ویسا ہی جیسا کہ میں نے اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملے میں تم پر کیا۔ تو اللہ بہترین محافظ اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے
  65. وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ﴿65﴾

    اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کی پونجی بھی ان کو لوٹا دی گئی ہے۔ بولے ابّا جان ! اب ہمیں کیا چاہیے، یہ ہماری پونجی بھی ہمیں لوٹا دی گئی ہے، اب ہم جائیں گے، اپنے اہل و عیال کے لیے رسد لائیں گے، اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے، ایک بار شتر غلہ زیادہ حاصل کریں گے ! یہ غلّہ تو تھوڑا ہے
  66. قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ﴿66﴾

    اس نے جواب دیا کہ میں اس کو تمہارے ساتھ ہرگز نہ بھیجوں گا جب تک تم مجھ سے خدا کے نام پر یہ عہد نہ کرو کہ تم اس کو میرے پاس ضرور واپس لاؤ گے الا آنکہ تم کہیں گھر ہی جاؤ۔ تو جب انہوں نے اس کو اپنا پکا قول دے دیا اس نے کہا جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے
  67. وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ﴿67﴾

    اور اس نے ہدایت کی کہ اے میرے بیٹو، تم سب ایک ہی دروازے سے نہ داخل ہونا، الگ الگ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ اور میں اللہ کے مقابل میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا اختیار تو بس اللہ ہی کا ہے۔ میرا بھروسہ اسی پر ہے اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے
  68. وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿68﴾

    اور جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے ان کو ہدایت کی تھی تو وہ اللہ کے مقابل میں ان کے کچھ کام آنے والا نہ تھا۔ بس یعقوب کے دل میں ایک خیال تھا جو اس نے پورا کرلیا اور وہ بیشک اس علم سے بہرہ ور تھا جو ہم نے اس کو سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے
  69. وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿69﴾

    اور جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے اس نے اپنے بھائی کو خاص اپنے پاس جگہ دی۔ بتایا کہ میں تو تمہارا بھائی ہوں تو جو کچھ یہ کرتے رہے ہیں اس سے آزردہ خاطر نہ ہو جیو
  70. فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ﴿70﴾

    پس جب ان کا سامان تیار کرادیا کٹورا اپنے بھائی کے کجاوے میں رکھوادیا۔ پھر ایک منادی نے آواز دی کہ اے قافلہ والو تم لوگ چور ہو
  71. قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ﴿71﴾

    انہوں نے ان کی طرف مڑ کر پوچھا، تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے ؟
  72. قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ﴿72﴾

    انہوں نے کہا ہم شاہی پیمانہ نہیں پا رہے ہیں۔ اور جو اس کو لائے گا اس کے لیے ایک بار شتر غلہ ہے اور میں اس کا ضامن ہوں
  73. قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ﴿73﴾

    انہوں نے کہا : خدا کی قسم ! آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہم اس ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ فساد برپا کریں اور ہم چوری کرنے والے لوگوں میں سے نہیں ہیں
  74. قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ﴿74﴾

    انہوں نے کہا کہ اگر تم جھوٹے ثابت ہوئے تو اس چوری کرنے والے کی کیا سزا ہے ؟
  75. قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ﴿75﴾

    وہ بولے اس کی سزا ؟ جس کے کجاوے میں چیز ملے وہ اس کی سزا میں دھر لیا جائے۔ ہم ایسے ظالموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں
  76. فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ﴿76﴾

    پس اپنے بھائی کے تھیلے سے پہلے ان کے تھیلوں سے تفتیش کا آغاز کیا۔ پھر اس کو اپنے بھائی کے تھیلے سے برآمد کرلیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی۔ وہ بادشاہ کے قانون کی رو سے اپنے بھائی کو پکڑنے کا مجاز نہ تھا مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ ہم جس کو چاہتے ہیں درجے پر درجئے بلند کرتے ہیں اور ہر علم والے سے بالا تر ایک علم والا ہے
  77. قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ﴿77﴾

    انہوں نے کہا اگر یہ چوری کرے تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ اس سے پہلے اس کا ایک بھائی بھی چوری کرچکا ہے۔ یوسف نے اس بات کو اپنے دل ہی میں رکھا، اس کو ان پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔ دل میں کہا تم خود ہی بدقماش لوگ ہو۔ اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اللہ اس کو خوب جانتا ہے
  78. قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿78﴾

    انہوں نے کہا، اے عزیز ! اس کا ایک باپ ہے جو بہت بوڑھا ہے تو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو روک لیجیے۔ ہم آپ کو نہایت ہی محسن سمجھتے ہیں
  79. قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ع﴿79﴾

    اس نے کہا، اللہ پناہ میں رکھے اس بات سے کہ ہم اس کے سوا کسی کو پکڑیں جس کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے۔ اس صورت میں ہم نہایت ظالم ٹھہریں گے
  80. فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ﴿80﴾

    جب وہ اس سے مایوس ہوگئے تو آپس میں مشورہ کرنے الگ ہوئے۔ ان کے بڑے نے کہا کیا تم کو علم نہیں کہ تمہارے باپ نے اللہ کے نام پر تم سے مضبوط قول وقرار لیا ہے اور اس سے پہلے یوسف کے معاملے میں جو تقصیر تم سے سرزد ہوچکی ہے وہ بھی تمہارے علم میں ہے تو میں تو اس سرزمین سے ٹلنے کا نہیں جب تک میرے باپ مجھے اجازت نہ دیں یا اللہ میرے لیے کوئی فیصلہ نہ فرمائے اور وہی بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے
  81. اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ﴿81﴾

    تم لوگ اپنے باپ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ اے ہمارے باپ ! آپ کے بیٹے نے چوری کی اور ہم نے وہی بات کہی ہے جو ہمارے علم میں آئی، ہم غیب کے نگہبان نہیں ہیں
  82. وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ﴿82﴾

    اور آپ اس بستی کے لوگوں سے بھی پوچھ لیجیے جس میں ہم رہے ہیں اور اس قافلے سے بھی پوچھ لیجیے جس میں ہم آئے ہیں اور ہم بالکل سچے ہیں
  83. قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ﴿83﴾

    اس نے کہا بلکہ تمہارے دل نے یہ بات گھڑ لی ہے تو صبر جمیل ہی اولیٰ ہے۔ امید ہے اللہ ان سب کو میرے پاس لائے گا، بیشک وہی علیم و حکیم ہے
  84. وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ﴿84﴾

    اور اس نے ان سے منہ پھیرا اور کہا ہائے یوسف ! اور غم سے اس کی آنکھیں سفید پڑگئیں اور وہ گھٹا گھٹا رہنے لگا
  85. قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ﴿85﴾

    وہ بولے کہ بخدا آپ یوسف ہی کی یاد میں رہیں گے یہاں تک کہ ازکار رفتہ ہو کے رہ جائیں گے یا ہلاک ہی ہوجائیں گے
  86. قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿86﴾

    اس نے کہا میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ اللہ ہی سے کرتا ہوں اور میں اللہ کی جانب سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
  87. یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ﴿87﴾

    اے میرے بیٹو ! جاؤ یوسف اور اس کے بھائی کی ٹوہ لگاؤ اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اللہ کی رحمت سے مایوس تو بس کافر ہی ہوتے ہیں
  88. فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ﴿88﴾

    تو جب وہ اس کے پاس پہنچے، انہوں نے اس سے کہا کہ اے عزیز ! ہم اور ہمارے اہل و عیال بڑی تکلیف میں مبتلا ہیں اور ہم تھوڑی سی پونجی لے کر حاضر ہوئے ہیں تو آپ ہمیں غلّہ بھی پورا دیجیے اور ہم کو صدقہ بھی عنایت فرمائیے۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو بدلہ عنایت فرماتا ہے
  89. قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ﴿89﴾

    اس نے کہا تمہیں کچھ پتہ ہے کہ تم جہالت میں مبتلا ہو کر یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کچھ کر گزرے ہو
  90. قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ﴿90﴾

    وہ بولے کہ کیا آپ واقعۃً یوسف ہی ہیں ! ! اس نے کہا میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر پنا فضل فرمایا۔ بیشک جو تقوی اختیار کرتے ہیں اور ثابت قدم رہتے ہیں تو اللہ خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا
  91. قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ﴿91﴾

    وہ بولے کہ خدا کی قسم اللہ نے آپ کو ہم پر برتری بخشی اور بیشک ہم ہی غلطی پر تھے
  92. قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ﴿92﴾

    اس نے کہا اب تم پر کچھ الزم نہیں۔ اللہ تم کو معاف کرے۔ وہ ارحم الراحمین ہے
  93. اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ع﴿93﴾

    تم یہ کرتا لے جاؤ، میرے باپ کے چہرے پر ڈال دیجیو وہ دیکھنے لگیں گے۔ اور تم لوگ اپنے تمام اہل و عیال کے ساتھ میرے پاس آجاؤ
  94. وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ﴿94﴾

    اور جب قافلہ چلا ان کے باپ نے کہا اگر تم لوگ مجھے خبطی نہ قرار دو تو میں یوسف کی خوشبو محسوس کر رہا ہوں
  95. قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ﴿95﴾

    لوگ بولے کہ خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنے پرانے خبط ہی میں مبتلا ہیں
  96. فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿96﴾

    پس جب یوں ہوا کہ خوش خبری دینے والا آیا اس نے کرتا اس کے چہرے پر ڈال دیا، اس کی بصارت عود کر آئی تو اس نے کہا، کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں اللہ کی جانب سے وہ باتیں جانتا ہو جو تم نہیں جانتے
  97. قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ﴿97﴾

    انہوں نے درخواست کی کہ ہمارے باپ ہمارے گناہوں کی مغفرت کے لیے دعا کیجیے۔ بیشک ہم ہی قصوروار ہوئے
  98. قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ﴿98﴾

    اس نے کہا میں جلد اپنے رب سے تمہارے لیے مغفرت کی دعا کروں گا، بیشک وہی بخشنے وال اور رحم فرمانے والا ہے
  99. فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ﴿99﴾

    پس جب وہ یوسف کے پاس پہنچے اس نے اپنے والدین کو خاص اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں انشاء اللہ امن و چین سے رہیے
  100. وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ﴿100﴾

    اور اس نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب اس کے لیے سجدہ میں گر پڑے۔ اور اس نے کہا، اے میرے باپ ! یہ ہے میرے پہلے کے خواب کی تعبیر۔ میرے رب نے اس کو سچ کر دکھایا۔ اور اس نے بڑے ہی کرم کے ساتھ میری خبرگیری فرمائی جب کہ مجھے قید خانے سے نکالا اور آپ لوگوں کو دیہات سے لایا بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈلوا دیا تھا۔ بیشک میرا رب جو کچھ چاہتا ہے اس کے لیے نہایت باریک بین اور دقیقہ رس ہے۔ بیشک وہی علیم و حکیم ہے
  101. رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ﴿101﴾

    اے میرے رب تو نے مجھے اقتدار میں سے بھی حصہ بخشا اور باتوں کی تعبیر کے علم میں سے بھی سکھایا۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی دنیا اور آخرت دونوں میں میرا کارساز ہے، مجھے اسلام پر وفات دے اور نیکوکاروں کے زمرہ میں شامل کر۔
  102. ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ﴿102﴾

    یہ سرگزشت غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں اور تم تو ان کے پاس اس وقت موجود نہیں تھے جب کہ انہوں نے اپنی رائے پختہ کی اور وہ سازش کر رہے تھے
  103. وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ﴿103﴾

    اور ان لوگوں میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں خواہ تم ان کے ایمان کی کتنی ہی حرص کرو
  104. وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ع﴿104﴾

    اور تم اس پر ان سے کوئی معاوضہ تو نہیں طلب کر رہے ہو۔ یہ تو بس دنیا والوں کے لیے ایک یاد دہانی ہے
  105. وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ﴿105﴾

    اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ گزرتے ہیں تو ان سے منہ موڑے ہوئے
  106. وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ﴿106﴾

    اور ان میں سے اکثر اللہ پر ایمان نہیں رکھتے مگر اس طرح کہ ساتھ ہی اس کے شریک بھی ٹھہرائے ہوئے ہیں
  107. اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ﴿107﴾

    کیا یہ لوگ اس بات نچنت ہیں کہ ان پر عذاب الٰہی کی کوئی آفت یا قیامت ہی اچانک آدھمکے اور وہ اس سے بالکل بیخبر ہوں
  108. قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ﴿108﴾

    کہہ دو ، یہ میری راہ ہے۔ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت کے ساتھ، میں بھی اور وہ لوگ بھی جنہوں نے میری پیروی کی ہے اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں
  109. وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿109﴾

    اور ہم نے تم سے پہلے بھی نہیں بھیجے مگر آدمی ہی انہی بستیوں والوں میں سے، ہم ان کی طرف وحی کرتے تھے کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے اور دار آخرت ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جنہوں نے تقوی اختیار کیا تو کیا تم سمجھتے نہیں
  110. حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ﴿110﴾

    یہاں تک کہ جب یہ نوبت آگئی کہ رسول اپنی قوموں سے مایوس ہوگئے اور لوگوں نے یہ گمان کیا کہ ان کو جھوٹ ڈراوے سنائے گئے تو ان کو ہماری مدد آپہنچی۔ پس نجات ملی ان کو جن کو ہم نے چاہا اور مجرموں سے ہمارے عذاب کو ٹالا نہیں جا سکتا
  111. لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ع﴿111﴾

    ان کی سرگزشتوں میں اہل عقل کے لیے بڑا سامانِ عبرت ہے۔ یہ کوئی گھڑی ہوئی چیز نہیں بلکہ تصدیق ہے اس چیز کی جو اس سے پہلے موجود ہے اور تفصیل ہے ہر چیز کی اور ہدایت و رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے