10. Yunusيونس
Jonas · Meccan · 109 ayahs · 11 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ﴿1﴾
یہ الف، لام، را ہے۔ یہ پر حکمت کتاب کی آیات ہیںاَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ﴿2﴾
کیا لوگوں کو اس بات پر حیرانی ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص پر وحی کی کہ لوگوں کو ہوشیار کردو اور اہل ایمان کو بشارت پہنچا دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑا مرتبہ ہے۔ کافروں نے کہا، بیشک یہ ایک کھلا ہوا جادوگر ہےاِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ﴿3﴾
بیشک تمہارا رب وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ ادوار میں پیدا کیا، پھر وہ معاملات کا انتظام سنبھالے عرش پر متمکن ہوا۔ اس کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارشی نہیں۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے تو اسی کی بندگی کرو، کیا تم سوچتے نہیں !اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ﴿4﴾
اسی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے۔ یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بیشک وہی خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کیے ان کو عدل کے ساتھ بدلہ دے اور جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے ان کے کفر کی پاداش میں کھولتا پانی اور دردناک عذاب ہےهُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ﴿5﴾
وہی ہے جس نے سورج کو تاباں اور چاند نور بنایا اور اس کے لیے منزلیں ٹھہرا دیں تاکہ تم سالوں کو شمار اور حساب معلوم کرسکو اللہ نے یہ کارخانہ بےمقصد نہیں بنایا ہے۔ وہ اپنی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیںاِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ﴿6﴾
بیشک رات اور دن کی آمد و شد اور آسمانوں اور زمین کی مخلوقات میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ڈریںاِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ﴿7﴾
بیشک لوگ ہماری ملاقات کے متوقع نہیں ہیں اور اسی دنیا کی زندگی پر قانع اور مطمئن ہیں اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیںاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿8﴾
انہی لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے ان کے اعمال کی پاداش میںاِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ﴿9﴾
جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے اللہ ان کے ایمان کی بدولت ان کو ان کی منزل پر پہنچائے گا، ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، نعمت کے باغوں میںدَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ع﴿10﴾
اس میں ان کا ترانہ ہوگا اے اللہ تو پاک ہے اور اس میں ان کی آپس کی تحیت سلام ہوگی اور ان کا آخری کلمہ الحمد للہ رب العالمین (شکر ہے اللہ رب العالمین کے لیے) ہوگاوَ لَوْ یُعَجِّلُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَهُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْهِمْ اَجَلُهُمْ١ؕ فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ﴿11﴾
اگر اللہ لوگوں کے لیے عذاب کے معاملے میں ویسی ہی سبقت کرنے والا ہوتا جس طرح وہ ان کے ساتھ رحمت میں سبقت کرتا ہے تو ان کی مدت تمام کردی گئی ہوتی۔ تو ہم ان لوگوں کو جو ہماری ملاقات کے متوقع نہیں ہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتے رہنے کے لیے ڈھیل دے دیتے ہیںوَ اِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖۤ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا١ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاۤ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿12﴾
اور انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تب تو لیٹے، بیٹھے یا کھڑے ہم کو پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل دیتا ہے گویا کسی تکلیف کے لیے، جو اس کو پہنچی، اس نے ہم کو پکارا ہی نہیں تھا۔ اسی طرح حدود سے تجاوز کرنے والوں کی نگاہوں میں ان کے اعمال کھبا دیے گئے ہیںوَ لَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا١ۙ وَ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ مَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ﴿13﴾
اور ہم نے تم سے پہلے قوموں کو ہلاک کیا جب کہ وہ ظلم کی مرتکب ہوئیں۔ اور ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے اور وہ ایمان لانے والے نہ بنے۔ ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں مجرم قوم کوثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ﴿14﴾
پھر ہم نے ان کے بعد تم کو ملک میں ان کا جانشین بنایا کہ دیکھیں تم کیسا عمل کرتے ہووَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ١ۙ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ١ؕ قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ﴿15﴾
اور جب ہماری کھلی ہوئی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہماری ملاقات کے متوقع نہیں ہیں، کہتے ہیں اس قرآن کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں ترمیم کرو۔ کہہ دو مجھے کیا حق ہے کہ میں اس میں اپنے جی سے ترمیم کردوں۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر آتی ہے۔ اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوںقُلْ لَّوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَدْرٰىكُمْ بِهٖ١ۖ٘ فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ﴿16﴾
کہہ دو اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو نہ میں اس کو تمہیں سناتا اور نہ وہ اس سے تمہیں باخبر کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر بسر کرچکا ہوں تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتےفَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ﴿17﴾
اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ بیشک مجرم فلاح پانے والے نہیں بنیں گےوَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ اَتُنَبِّئُوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ﴿18﴾
اور وہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو ان کو نقصان پہنچا سکیں نہ نفع اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں، کہہ دو ، کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جس کا اس کو خود پتہ نہیں، نہ آسمانوں میں نہ زمین میں۔ وہ پاک اور ارفع ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیںوَ مَا كَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّةً وَّاحِدَةً فَاخْتَلَفُوْا١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ فِیْمَا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿19﴾
اور لوگ تو ایک ہی امت تھی پھر انہوں نے اختلاف کیا اور اگر تمہارے رب کی جانب سے ایک بات پہلے سے طے نہ پاچکی ہوتی تو ان کے درمیان اس امر میں فیصلہ کردیا جاتا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیںوَ یَقُوْلُوْنَ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ۚ فَقُلْ اِنَّمَا الْغَیْبُ لِلّٰهِ فَانْتَظِرُوْا١ۚ اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ۠ع﴿20﴾
اور وہ کہتے ہیں ان پر ان کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری جاتی ؟ تو تم جواب دے دو کہ غیب کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے تو تم لوگ انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوںوَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا لَهُمْ مَّكْرٌ فِیْۤ اٰیَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ﴿21﴾
اور انسان کا حال یہ ہے کہ جب کسی تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی ہو ہم اسے اپنے فضل سے نوازتے ہیں تو وہ ہماری نشانیوں کے باب میں چالیں چلنے لگتا ہے۔ کہہ دو ، خدا اپنی تدبیروں میں کہیں زیادہ تیز ہے۔ جو چالیں تم چل رہے ہو ہمارے فرستادے ان کو نوٹ کر رہے ہیںهُوَ الَّذِیْ یُسَیِّرُكُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِی الْفُلْكِ١ۚ وَ جَرَیْنَ بِهِمْ بِرِیْحٍ طَیِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِیْحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَهُمُ الْمَوْجُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اُحِیْطَ بِهِمْ١ۙ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ لَئِنْ اَنْجَیْتَنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ﴿22﴾
وہی ہے جو تمہیں خشکی اور تری میں سفر کراتا ہے یہاں تک کہ جب تم کشتی میں ہوتے ہو اور کشتیاں ہوائے موافق سے چل رہی ہوتی ہیں اور وہ اس میں مگن ہوتے ہیں کہ دفعۃً ایک باد تند آتی ہے اور ان پر ہر جانب سے موجیں اٹھنے لگتی ہیں اور وہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ ہم ہلاک ہوئے تو وہ اللہ کو پکارتے ہیں خالص اسی کی اطاعت کا عہد کرتے ہوئے کہ اگر تو نے ہمیں اس آفت سے نجات دی تو ہم تیرے شکر گزار بندوں میں سے ہو کر رہیں گےفَلَمَّاۤ اَنْجٰىهُمْ اِذَا هُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغْیُكُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ١ۙ مَّتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿23﴾
تو جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے وہ نجات پاتے ہی زمین میں، بلا کسی حق کے، سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ لوگو، تمہاری سرکشی کا وبال تمہارے ہی اوپر آنے والا ہے۔ چند دن دنیا کی زندگی کا نفع اٹھا لو، پھر تمہاری واپسی ہماری ہی طرف ہے، پھر ہم تمہیں تمہاری کرتوتوں سے آگاہ کریں گےاِنَّمَا مَثَلُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ مِمَّا یَاْكُلُ النَّاسُ وَ الْاَنْعَامُ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّیَّنَتْ وَ ظَنَّ اَهْلُهَاۤ اَنَّهُمْ قٰدِرُوْنَ عَلَیْهَاۤ١ۙ اَتٰىهَاۤ اَمْرُنَا لَیْلًا اَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنٰهَا حَصِیْدًا كَاَنْ لَّمْ تَغْنَ بِالْاَمْسِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ﴿24﴾
اس دنیا کی زندگی کی تمثیل یوں ہے جیسے بارش کہ ہم نے اسے آسمان سے برسایا پس اس سے زمین کی نباتات خوب اپجیں، وہ بھی جن کو لوگ کھاتے ہیں اور وہ بھی جن کو چوپائے کھاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب زمین نے اپنا پورا بناؤ سنگھار کرلیا اور زمین والوں نے گمان کیا کہ اب معاملہ ہمارے قابو میں ہے تو دفعۃً اس پر ہمارا قہر رات کو یا دن کو آدھمکا اور ہم نے اس طرح اس کا ستھراؤ کردیا کہ گویا کل کچھ تھا ہی نہیں۔ اسی طرح ہم اپنی نشانیوں کی تفصیل کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور کریںوَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلٰى دَارِ السَّلٰمِ١ؕ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ﴿25﴾
اور اللہ امن و سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور وہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی طرف ہدایت دیتا ہےلِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِیَادَةٌ١ؕ وَ لَا یَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿26﴾
جن لوگوں نے اچھے کام کیے ان کے لیے اچھا بدلہ ہے اور اس پر مزید بھی اور ان کے چہروں پر نہ سیاہی چھائے گی اور نہ ذلت۔ یہی جنت والے لوگ ہیں وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گےوَ الَّذِیْنَ كَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَةٍۭ بِمِثْلِهَا١ۙ وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ عَاصِمٍ١ۚ كَاَنَّمَاۤ اُغْشِیَتْ وُجُوْهُهُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿27﴾
اور جنہوں نے بدیاں کمائی ہوں گی تو برائی کا بدلہ اس کے مثل ہے اور ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی، اللہ سے ان کو کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ گویا ان کے چہرے شب دیجور کے ٹکروں سے ڈھانک دیے گئے ہیں۔ یہی لوگ اہل دوزخ ہیں، یہ اسی میں ہمیشہ رہیں گےوَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا مَكَانَكُمْ اَنْتُمْ وَ شُرَكَآؤُكُمْ١ۚ فَزَیَّلْنَا بَیْنَهُمْ وَ قَالَ شُرَكَآؤُهُمْ مَّا كُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ﴿28﴾
اور یاد کرو اس دن کو جس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے پھر ہم شرک کرنے والوں کو حکم دیں گے کہ تم اور تمہارے شرکاء اپنی جگہ ٹھہرو۔ پھر ہم ان کے درمیان تفریق کریں گے اور ان کے شریک کہیں گے، تم ہم کو تو نہیں پوجتے تھے ،فَكَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اِنْ كُنَّا عَنْ عِبَادَتِكُمْ لَغٰفِلِیْنَ﴿29﴾
اللہ ہمارے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے کافی ہے۔ ہم تمہاری عبادت سے بالکل یہ بیخبر رہےهُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّاۤ اَسْلَفَتْ وَ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ع﴿30﴾
اس وقت ہر شخص اپنے اس عمل سے دوچار ہوگا جو اس نے کیا ہوگا اور لوگ اپنے مولائے حقیقی کے حضور پیش ہوں گے اور افترا کر کے انہوں نے جو معبود بنائے تھے وہ سب ہوا ہوجائیں گےقُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اَمَّنْ یَّمْلِكُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ مَنْ یُّخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ وَ مَنْ یُّدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ فَسَیَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ١ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ﴿31﴾
اور ان سے پوچھو، کون تم کو آسمان اور زمین سے روزی دیتا ہے ؟ یا کون ہے جو سمع اور بصر پر اختیار رکھتا ہے اور کون ہے جو زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے اور کون ہے جو ساری کائنات کا انتظام فرماتا ہے، تو جواب دیں گے اللہ۔ تو ان سے کہو کہ کیا تم اس اللہ سے ڈرتے نہیں ؟فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَا ذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ١ۖۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ﴿32﴾
پس وہی اللہ تمہارے رب حقیقی ہے تو حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا ہے تو کہاں تمہاری عقل الٹ جاتی ہے ؟كَذٰلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِیْنَ فَسَقُوْۤا اَنَّهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ﴿33﴾
اسی طرح تیرے رب کی بات ان لوگوں پر پوری ہوچکی ہے جنہوں نے نافرمانی کی ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گےقُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ﴿34﴾
پوچھو تمہارے شرکاء میں کوئی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہو پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا ؟ کہہ دو اللہ ہی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ فرمائے گا تو تم کہاں اوندھے ہوئے جاتے ہو ؟قُلْ هَلْ مِنْ شُرَكَآئِكُمْ مَّنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یَهْدِیْ لِلْحَقِّ١ؕ اَفَمَنْ یَّهْدِیْۤ اِلَى الْحَقِّ اَحَقُّ اَنْ یُّتَّبَعَ اَمَّنْ لَّا یَهِدِّیْۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّهْدٰى١ۚ فَمَا لَكُمْ١۫ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَ﴿35﴾
پوچھو، کیا تمہاے شرکاء میں کوئی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہو، کہہ دو اللہ ہی ہے جو حق کی توفیق بخشتا ہے۔ تو کیا جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ پیروی کیے جانے کا مستحق ہے یا وہ جو بغیر ہنمائی کے خود راہ نہیں پاتے ؟ تو تمہیں کیا ہوگیا تم کیسا فیصلہ کرتے ہووَ مَا یَتَّبِعُ اَكْثَرُهُمْ اِلَّا ظَنًّا١ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ﴿36﴾
ان میں سے اکثر محض گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور گمان حق کا بدل ذرا بھی نہیں ہوسکتا اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس سے خوب باخبر ہےوَ مَا كَانَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ اَنْ یُّفْتَرٰى مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ الْكِتٰبِ لَا رَیْبَ فِیْهِ مِنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ۫﴿37﴾
اور یہ قرآن ایسی چیز نہیں ہے جو اللہ سے پرے پورے ہی گھڑ لیا گیا ہو بلکہ یہ تصدیق ہے ان پیشین گوئیوں کی جو اس کے پہلے سے موجود ہیں اور کتاب کی تفصیل ہے۔ اس کے خداوند عالم کی طرف سے ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہےاَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّثْلِهٖ وَ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿38﴾
کیا وہ کہتے ہیں کہ اس کو اس نے گھڑ لیا ہے ؟ ان سے کہو تو تم لاؤ اس کے مانند کوئی سورة اور بلا لو اللہ کے سوا جن کو تم بلا سکو، اگر تم سچے ہوبَلْ كَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِهٖ وَ لَمَّا یَاْتِهِمْ تَاْوِیْلُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ﴿39﴾
بلکہ یہ لوگ اس چیز کو جھٹلا رہے ہیں جو ان کے علم کے احاطے میں نہیں آئی اور جس کی حقیقت ابھی ان کے سامنے ظاہر نہیں ہوئی۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا جو ان سے پہلے گزرے تو دیکھو ظالموں کا انجام کیا ہوا !وَ مِنْهُمْ مَّنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّا یُؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ع﴿40﴾
اور ان میں ایسے بھی ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور وہ بھی ہیں جو ایمان نہیں لاتے اور تیرا رب مفسدوں سے خوب واقف ہےوَ اِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَ لَكُمْ عَمَلُكُمْ١ۚ اَنْتُمْ بَرِیْٓئُوْنَ مِمَّاۤ اَعْمَلُ وَ اَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَ﴿41﴾
اور اگر وہ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو کہہ دو میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل، تم بری ہو میرے عمل کی ذمہ داری سے اور میں بری ہوں تمہارے عمل کی ذمہ داریوں سےوَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یَعْقِلُوْنَ﴿42﴾
اور ان میں وہ بھی ہیں جو تمہاری بات پر کان دھرتے ہیں تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے اگر وہ کچھ سمجھتے بوجھتے نہ ہوں ؟وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْظُرُ اِلَیْكَ١ؕ اَفَاَنْتَ تَهْدِی الْعُمْیَ وَ لَوْ كَانُوْا لَا یُبْصِرُوْنَ﴿43﴾
اور ان میں ایسے بھی ہیں جو تمہاری طرف نظر کرتے ہیں تو اب کیا تم اندھوں کو راہ دکھاؤگے اگرچہ وہ دیکھ نہ رہے ہوں ؟اِنَّ اللّٰهَ لَا یَظْلِمُ النَّاسَ شَیْئًا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿44﴾
اللہ لوگوں پر ذرا بھی ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے ہیںوَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ كَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَهُمْ١ؕ قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ﴿45﴾
اور جس دن اللہ ان کو اکٹھا کرے گا اس دن وہ محسوس کریں گے کہ گویا بس وہ دن کی ایک گھڑی رہے۔ وہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں گے۔ نامراد ہوئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا اور ہدایت حاصل کرنے والے نہ بنےوَ اِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا یَفْعَلُوْنَ﴿46﴾
یا ہم تم کو اس کا کوئی حصہ دکھا دیں گے جس کا ان سے وعدہ کر رہے ہیں یا تمہیں وفات دیں گے پس ان کی واپسی ہماری طرف ہوگی، پھر اللہ گواہ ہے اس چیز پر جو وہ کر رہے ہیںوَ لِكُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُهُمْ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿47﴾
اور ہر امت کے لیے ایک رسول ہے تو جب ان کا رسول آجاتا ہے ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتاوَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿48﴾
اور وہ کہتے ہیں کہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہوقُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ فَلَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ﴿49﴾
کہہ دو کہ میں اپنی ذات کے معاملے میں بھی کسی نقصان اور نفع پر کوئی اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے۔ ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ جب ان کا وقت آجاتا ہے تو پھر نہ ایک گھڑی پیچھے ہوتے نہ آگےقُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُهٗ بَیَاتًا اَوْ نَهَارًا مَّا ذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُوْنَ﴿50﴾
ان سے کہو کہ بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر رات میں آدھمکے یا دن میں تو کیا چیز ہے جس کے بل پر مجرمین جلدی مچائے ہوئے ہیںاَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِهٖ١ؕ آٰلْئٰنَ وَ قَدْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ﴿51﴾
پھر کیا جب آ ہی دھمکے یا دن میں تو کیا چیز ہے جس کے بل پر مجرمین جلدی مچائے ہوئے ہیں !ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ١ۚ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ﴿52﴾
پھر ان ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب ہمیشہ کا عذاب چکھو۔ یہ تمہاری اپنی کمائی کا تمہیں بدلہ مل رہا ہےوَ یَسْتَنْۢبِئُوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ١ؔؕ قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ١ؔؕۚ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ۠ع﴿53﴾
اور وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ یہ بات واقعی ہے ؟ کہہ دو کہ ہاں میرے رب کی قسم یہ شدنی ہے اور تم قابو سے باہر نہیں نکل سکو گےوَ لَوْ اَنَّ لِكُلِّ نَفْسٍ ظَلَمَتْ مَا فِی الْاَرْضِ لَافْتَدَتْ بِهٖ١ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿54﴾
اور ہر جان، جس نے ظلم کا ارتکاب کیا، اگر اس کو مل جائے وہ سب کچھ جو زمین میں ہے تو وہ اس کو فدیہ میں دے دینا چاہے گی اور وہ پشیمان ہوں گے جب عذاب کو دیکھیں گے اور ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کردیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہ ہوگااَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿55﴾
سن رکھو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ سن رکھو کہ اللہ کا وعدہ شدنی ہے، لیکن ان کے اکثر اس بات کو نہیں جانتےهُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ﴿56﴾
وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گےیٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ﴿57﴾
اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے نصیحت، سینوں کے امراض کی شفا اور اہل ایمان کے لیے ہدایت و رحمت آگئی ہےقُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ﴿58﴾
کہہ دو کہ یہ اللہ کے فضل و رحمت کا کرشمہ ہے تو چاہیے کہ اس پر شادماں ہوں، یہ اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کر رہے ہیںقُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ﴿59﴾
ان سے کہو، بتاؤ اللہ نے تمہارے لیے جو رزق اتارا تو تم نے اس میں سے کچھ کو حرام ٹھہرایا اور کچھ کو حلال۔ پوچھو، کیا اللہ نے تم کو اس کا حکم دیا یا تم اللہ پر جھوٹ لگا رہے ہو ؟وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ع﴿60﴾
جو لوگ اللہ پر جھوٹ لگا رہے ہیں ان کا قیامت کے دن کیا گمان ہے ؟ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزار نہیں ہوتےوَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ﴿61﴾
اور تم جس حال میں بھی ہوتے ہو اور کتاب میں سے جو حصہ بھی سنا رہے ہوتے ہو اور تم لوگ جو کام بھی کرتے ہو تو ہم جس وقت تم اس میں مشغول ہوتے ہو، تمہارے پاس موجود ہوتے ہیں اور تیرے رب سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں، نہ زمین میں نہ آسمان میں اور نہ اس سے چھوٹی اور نہ بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں درج ہےاَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ﴿62﴾
سن لو کہ اللہ کے دوستوں کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گےالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ﴿63﴾
یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہےلَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ﴿64﴾
ان کے لیے خوشخبری ہے دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ یہی بڑی کامیابی ہےوَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ﴿65﴾
اور تم کو ان کی بات غم میں نہ ڈالے۔ عزت تمام اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہ سمیع وعلیم ہےاَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ﴿66﴾
سن رکھو کہ جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین ہیں سب اللہ ہی کے ہیں اور جو لوگ اللہ کے ماسوا کو پکارتے ہیں یہ شریکوں کی پیروی نہیں کر رہے ہیں بلکہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور اٹکل کے تیر تکے چلاتے ہیںهُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ﴿67﴾
وہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پرسکون بنایا تاکہ تم اس میں آرام کرو۔ اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس میں معاش کے لیے جد و جہد کرو بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو بات کو سنتے ہیںقَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ﴿68﴾
یہ کہتے ہیں کہ خدا کے اولاد ہے۔ وہ ایسی باتوں سے پاک ہے۔ وہ بےنیاز ہے۔ جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ تمہارے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہےقُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ﴿69﴾
کیا تم اللہ پر وہ بات لگاتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے، کہہ دو ، جو لوگ اللہ پر جھوٹ لگاتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گےمَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ع﴿70﴾
ان کے لیے بس دنیا میں چند روزہ فائدہ اٹھا لینا ہے۔ پھر ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہوگی، پھر ہم ان کے کفر کی پاداش میں ان کو سخت عذاب چکھائیں گےوَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ نُوْحٍ١ۘ اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْكِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَ شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا یَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَیْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ﴿71﴾
اور ان کو نوح کی سرگزشت پڑھ کر سناؤ جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو، اگر تم پر تمہارے اندر میرا ٹکنا اور اللہ کی آیات کی یاد دہانی کرنا گراں ہوگیا ہے تو میں نے بس اللہ پر بھروسہ کیا۔ تم اپنی رائے مجتمع کرلو اور اپنے شرکاء کو بھی ملا لو پھر تمہارے فیصلہ میں کوئی تذبذب باقی نہ رہے اور میرے ساتھ جو کرنا چاہتے ہو کر گزرو اور مجھے مہلت نہ دوفَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَمَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۙ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ﴿72﴾
پس اگر تم اعراض کرو گے تو میں نے تم سے کوئی اجر نہیں مانگا ہے۔ میرا اجر تو بس اللہ ہی پر ہے اور مجھے یہ حکم ملا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے بنوںفَكَذَّبُوْهُ فَنَجَّیْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ جَعَلْنٰهُمْ خَلٰٓئِفَ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِیْنَ﴿73﴾
تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا تو ہم نے اس کو اور جو لوگ اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور ان کو جانشین بنایا اور ان لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی تو دیکھو کیا انجام ہوا ان لوگوں کا جن کو ہوشیار کیا جاچکا تھاثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِیْنَ﴿74﴾
پھر ہم نے اس کے بعد رسول بھیجے ان کی اپنی قوموں کی طرف تو وہ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے لیکن وہ اس چیز پر ایمان لانے والے نہ بنے جس کو پہلے جھٹلا چکے تھے اسی طرح ہم حدود سے تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر مہر کردیا کرتے ہیںثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى وَ هٰرُوْنَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ﴿75﴾
پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تو انہوں نے گھمنڈ کیا اور وہ مجرم لوگ تھےفَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْۤا اِنَّ هٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِیْنٌ﴿76﴾
پس جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق آیا تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا ہوا جادو ہےقَالَ مُوْسٰۤى اَتَقُوْلُوْنَ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَكُمْ١ؕ اَسِحْرٌ هٰذَا١ؕ وَ لَا یُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ﴿77﴾
موسیٰ نے کہا کہ کیا تم حق کو سحر کہتے ہو جب کہ وہ تمہارے پاس آچکا ہے، بھلا، یہ سحر ہے اور ساحر کبھی فلاح نہیں پاتےقَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا وَ تَكُوْنَ لَكُمَا الْكِبْرِیَآءُ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِیْنَ﴿78﴾
وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں اس طریقہ سے ہٹا دو جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا اور ملک میں سیادت تم دونوں کو حاصل ہوجائے ؟ اور ہم تو تم دونوں کی بات کبھی ماننے والے نہیںوَ قَالَ فِرْعَوْنُ ائْتُوْنِیْ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ﴿79﴾
اور فرعون نے حکم دیا کہ میرے پاس سارے ماہر جادوگروں کو حاضر کروفَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَةُ قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤى اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ﴿80﴾
تو جب جادوگر آئے موسیٰ نے ان سے کہا جو کچھ تمہیں پیش کرنا ہے اس کو پیش کروفَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ﴿81﴾
تو جب انہوں نے پیش کیا موسیٰ نے کہا یہ جو کچھ تم لائے ہو، یہ جادو ہے، بیشک اللہ اس کو نیست کردے گا، اللہ فساد برپا کرنے والوں کے عمل کو نتیجہ خیز نہیں ہونے دیتاوَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ع﴿82﴾
اور اللہ مجرموں کے علی الرغم اپنے کلمات سے حق کا بول بالا کرتا ہےفَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ﴿83﴾
تو موسیٰ کی بات نہ مانی مگر اس کی قوم کے تھوڑے سے نوجوانوں نے ڈرتے ہوئے فرعون اور اپنے بڑوں سے کہ مبادا وہ ان کو کسی فتنہ میں ڈال دے۔ بیشک فرعون ملک میں نہایت سرکش اور حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھاوَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ﴿84﴾
اور موسیٰ نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو اگر تم اپنے آپ کو اس کے حوالہ کرچکے ہوفَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ﴿85﴾
وہ بولے کہ ہم نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ اے ہمارے رب ہمیں ظالموں کے ظلم کا آماجگاہ نہ بناوَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ﴿86﴾
اور ہمیں اپنے فضل سے کافروں کے پنجہ ستم سے چھڑاوَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿87﴾
اور ہم نے موسیٰ اور اس کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں کچھ گھر ٹھہرا لو اور اپنے گھروں کو قبلہ بناؤ اور نماز کا اہتمام کرو اور ایمان لانے والوں کو خوش خبری دے دووَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ﴿88﴾
اور موسیٰ نے دعا کی، اے ہمارے رب ! تو نے فرعون اور اس کے اعیان کو دنیا کی زندگی میں شان و شوکت اور مال و اسباب سے بہر مند کیا، اے ہمارے رب کہ وہ تیری راہ سے لوگوں کو بےراہ کریں، اے ہمارے رب ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں کو بند کردے کہ وہ ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ دیکھ لیں دردناک عذاب کوقَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿89﴾
فرمایا تمہاری دعا قبول ہوئی تو تم دونوں جمے رہو اور ان لوگوں کی راہ کی پیروی نہ کیجیو جو علم نہیں رکھتےوَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ﴿90﴾
اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر پار کرادیا تو ان کا پیچھا کیا فرعون اور اس کے فوجیوں نے سرکشی اور زیادتی سے۔ یہاں تک کہ جب وہ ڈوبنے کے لپیٹ میں آگیا بولا کہ میں ایمان لایا کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں اس کے فرمانبرداروں میں بنتا ہوںآٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ﴿91﴾
کیا اب ! حالانکہ تم نے اس سے پہلے نافرمانی کی اور تم فساد برپا کرنے والوں میں سے تھےفَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ع﴿92﴾
پس آج ہم تیرے جسم کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے اور بیشک بہت سارے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہی رہتے ہیںوَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿93﴾
اور ہم نے بنی اسرائیل کو عزت کا ٹھکانا دیا اور ان کو اچھا رزق بخشا اور انہوں نے نہیں اختلاف برپا کیا مگر اس وقت جبکہ ان کے پاس علم آگیا، تیرا رب ان چیزوں کے باب میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گافَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ﴿94﴾
پس اگر تم شک میں ہو اس چیز کے باب میں جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تو ان لوگوں سے پوچھو جو تم سے پہلے سے کتاب پڑھتے آ رہے ہیں۔ بیشک تم پر تمہارے رب کی طرف سے حق نازل ہوا ہے تو تم شک کرنے والوں میں سے نہ بنووَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴿95﴾
اور تم ان لوگوں میں سے نہ ہوجیو جنہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی کہ تم بھی نامرادوں میں سے ہوجاؤاِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ﴿96﴾
بیشک جن لوگوں پر تیرے رب کی بات پوری ہوچکی ہے وہ ایمان نہیں لانے کےوَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ﴿97﴾
خواہ ان کے پاس ساری ہی نشانیاں آجائیں جب تک وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ﴿98﴾
پس کیوں نہ ہوا کہ کوئی بستی ایمان لاتی کہ اس کا ایمان اس کو نفع دیتا بجز یونس کی قوم کے۔ جب وہ ایمان لائے تو ہم ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کے عذاب کو دور کردیا اور ایک وقت تک ان کو کھانے بسنے کا موقع دیاوَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ﴿99﴾
اور اگر تیرا رب چاہتا تو روئے زمین پر جتنے لوگ بھی ہیں سب ایمان قبول کرلیتے تو کیا تم لوگوں کو مجبور کروگے کہ وہ مومن بن جائیں ؟وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ﴿100﴾
اور کسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ایمان لاسکے، مگر اللہ کے اذن سے۔ اور وہ گندگی لاد دیا کرتا ہے ان لوگوں پر جو عقل سے کام نہیں لیتےقُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ﴿101﴾
ان سے کہو، آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے اس کو دیکھو۔ اور نشانیاں اور ڈراوے ان لوگوں کو کچھ نفع نہیں پہناتے جو ایمان نہیں لانا چاہتےفَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ﴿102﴾
یہ تو بس اس طرح کے دن کا انتظار کر رہے ہیں جس طرح کے دن لوگوں کو پیش آئے جو ان سے پہلے گزرے۔ کہہ دو ، انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوںثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ع﴿103﴾
پھر ہم نجات دے دیتے رہے ہیں اپنے رسولوں کو اور ایمان لانے والوں کو۔ ایسے ہی ہم پر حق ہے، ہم مومنوں کو نجات دیں گےقُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ﴿104﴾
کہہ دو ، اے لوگو، اگر تم میرے دین کے باب میں شک میں ہو تو سن لو کہ میں ان کو نہیں پوجتا جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو بلکہ میں اس اللہ کو پوجتا ہوں جو تم کو وفات دیتا ہے اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں ایمان والوں میں سے بنوںوَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ﴿105﴾
اور یہ کہ اپنا رخ یکسو ہو کر اطاعت کی طرف کرو اور مشرکوں میں سے نہ بنووَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ﴿106﴾
اور اللہ کے سوا ان چیزوں کو نہ پکارو جو نہ تم کو نفع پہنچاتیں نہ نقصان، اگر تم ایسا کروگے تو بیشک تم ظالموں میں سے بن جاؤگےوَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ﴿107﴾
اور اگر اللہ تمہیں کسی تکلیف میں پکڑ لے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو اس کو دور کرسکے اور اگر وہ تمہارے لیے کوئی بھلائی چاہے تو کوئی اس کے فضل کو روکنے والا نہیں، وہ اس سے نوازتا ہے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے۔ اور وہ بخشنے والا مہربان ہےقُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ﴿108﴾
کہہد و، اے لوگو، تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس حق آگیا ہے تو جو ہدایت قبول کرے گا وہ اپنے ہی لیے کرے گا اور جو بھٹکے گا تو اس کا وبال اسی پر آئے گا۔ اور میں تمہارے ایمان کا ذمہ دار نہیں ہوں۔وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ع﴿109﴾
اور تم پیروی کرو اس چیز کی جو تم پر وحی کی جاتی ہے اور ثابت قدم رہو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے