68. Al-Qalamالقلم
The Pen · Meccan · 52 ayahs · 2 rukus · امام احمد رضا خان
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَۙ﴿1﴾
قلم اور ان کے لکھے کی قسممَاۤ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُوْنٍۚ﴿2﴾
تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیںوَ اِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍۚ﴿3﴾
اور ضرور تمہارے لیے بے انتہا ثواب ہےوَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ﴿4﴾
اور بیشک تمہاری خُو بُو (خُلق) بڑی شان کی ہےفَسَتُبْصِرُ وَ یُبْصِرُوْنَۙ﴿5﴾
تو اب کوئی دم جاتا ہے کہ تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گےبِاَىیِّكُمُ الْمَفْتُوْنُ﴿6﴾
کہ تم میں کون مجنون تھا،اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١۪ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ﴿7﴾
بیشک تمہارا رب خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکے، اور وہ خوب جانتا ہے جو راہ پر ہے،فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِیْنَ﴿8﴾
تو جھٹلانے والوں کی بات نہ سننا،وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَیُدْهِنُوْنَ﴿9﴾
وہ تو اس آرزو میں ہیں کہ کسی طرح تم نرمی کرو تو وہ بھی نرم پڑجائیں،وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ﴿10﴾
اور ہر ایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا ذلیلهَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ﴿11﴾
بہت طعنے دینے والا بہت اِدھر کی اُدھر لگاتا پھرنے والامَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ﴿12﴾
بھلائی سے بڑا روکنے والا حد سے بڑھنے والا گنہگارعُتُلٍّۭ بَعْدَ ذٰلِكَ زَنِیْمٍۙ﴿13﴾
درشت خُو اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطااَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَّ بَنِیْنَؕ﴿14﴾
اس پر کہ کچھ مال اور بیٹے رکھتا ہے،اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ﴿15﴾
جب اس پر ہماری آیتیں پڑھی جائیں کہتا ہے کہ اگلوں کی کہانیاں ہیںسَنَسِمُهٗ عَلَى الْخُرْطُوْمِ﴿16﴾
قریب ہے کہ ہم اس کی سور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گےاِنَّا بَلَوْنٰهُمْ كَمَا بَلَوْنَاۤ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ١ۚ اِذْ اَقْسَمُوْا لَیَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِیْنَۙ﴿17﴾
بیشک ہم نے انہیں جانچا جیسا اس باغ والوں کو جانچا تھا جب انہوں نے قسم کھائی کہ ضرور صبح ہوتے اس کھیت کو کاٹ لیں گےوَ لَا یَسْتَثْنُوْنَ﴿18﴾
اور انشاء اللہ نہ کہافَطَافَ عَلَیْهَا طَآئِفٌ مِّنْ رَّبِّكَ وَ هُمْ نَآئِمُوْنَ﴿19﴾
تو اس پر تیرے رب کی طرف سے ایک پھیری کرنے والا پھیرا کر گیا اور وہ سوتے تھے،فَاَصْبَحَتْ كَالصَّرِیْمِۙ﴿20﴾
تو صبح رہ گیا جیسے پھل ٹوٹا ہوافَتَنَادَوْا مُصْبِحِیْنَۙ﴿21﴾
پھر انہوں نے صبح ہوتے ایک دوسرے کو پکارا،اَنِ اغْدُوْا عَلٰى حَرْثِكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰرِمِیْنَ﴿22﴾
کہ تڑکے اپنی کھیتی چلو اگر تمہیں کاٹنی ہے،فَانْطَلَقُوْا وَ هُمْ یَتَخَافَتُوْنَۙ﴿23﴾
تو چلے اور آپس میں آہستہ آہستہ کہتے جاتے تھے کہاَنْ لَّا یَدْخُلَنَّهَا الْیَوْمَ عَلَیْكُمْ مِّسْكِیْنٌۙ﴿24﴾
ہرگز آج کوئی مسکین تمہارے باغ میں آنے نہ پائے،وَّ غَدَوْا عَلٰى حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ﴿25﴾
اور تڑکے چلے اپنے اس ارادہ پر قدرت سمجھتےفَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْۤا اِنَّا لَضَآلُّوْنَۙ﴿26﴾
پھر جب اسے بولے بیشک ہم راستہ بہک گئےبَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ﴿27﴾
بلکہ ہم بے نصیب ہوئےقَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْ لَا تُسَبِّحُوْنَ﴿28﴾
ان میں جو سب سے غنیمت تھا بولا کیا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ تسبیح کیوں نہیں کرتےقَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ﴿29﴾
بولے پاکی ہے ہمارے رب کو بیشک ہم ظالم تھے،فَاَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ یَّتَلَاوَمُوْنَ﴿30﴾
اب ایک دوسرے کی طرف ملامت کرتا متوجہ ہواقَالُوْا یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا طٰغِیْنَ﴿31﴾
بولے ہائے خرابی ہماری بیشک ہم سرکش تھےعَسٰى رَبُّنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْهَاۤ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ﴿32﴾
امید ہے ہمیں ہمارا رب اس سے بہتر بدل دے ہم اپنے رب کی طرف رغبت لاتے ہیںكَذٰلِكَ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿33﴾
مار ایسی ہوتی ہے اور بیشک آخرت کی مار سب سے بڑی، کیا اچھا تھا اگر وہ جانتےاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ﴿34﴾
بیشک ڈر والوں کے لیے ان کے رب کے پاس چین کے باغ ہیںاَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ كَالْمُجْرِمِیْنَؕ﴿35﴾
کیا ہم مسلمانوں کو مجرموں کا سا کردیںمَا لَكُمْ١ٙ كَیْفَ تَحْكُمُوْنَۚ﴿36﴾
تمہیں کیا ہوا کیسا حکم لگاتے ہواَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِیْهِ تَدْرُسُوْنَۙ﴿37﴾
کیا تمہارے لیے کوئی کتاب ہے اس میں پڑھتے ہو،اِنَّ لَكُمْ فِیْهِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَۚ﴿38﴾
کہ تمہارے لیے اس میں جو تم پسند کرو،اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَۚ﴿39﴾
یا تمہارے لیے ہم پر کچھ قسمیں ہیں قیامت تک پہنچتی ہوئی کہ تمہیں ملے گا جو کچھ دعویٰ کرتے ہوسَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌۚۛ﴿40﴾
تم ان سے پوچھو ان میں کون سا اس کا ضامن ہےاَمْ لَهُمْ شُرَكَآءُ١ۛۚ فَلْیَاْتُوْا بِشُرَكَآئِهِمْ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَ﴿41﴾
یا ان کے پاس کچھ شریک ہیں تو اپنے شریکوں کو لے کر آئیں اگر سچے ہیںیَوْمَ یُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَۙ﴿42﴾
جس دن ایک ساق کھولی جائے گی (جس کے معنی اللہ ہی جانتا ہے) اور سجدہ کو بلائے جائیں گے تو نہ کرسکیں گےخَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ١ؕ وَ قَدْ كَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ﴿43﴾
نیچی نگاہیں کیے ہوئے ان پر خواری چڑھ رہی ہوگی، اور بیشک دنیا میں سجدہ کے لیے بلائے جاتے تھے جب تندرست تھےفَذَرْنِیْ وَ مَنْ یُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِیْثِ١ؕ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۙ﴿44﴾
تو جو اس بات کو جھٹلاتا ہے اسے مجھ پر چھوڑ دو قریب ہے کہ ہم انہیں آہستہ آہستہ لے جائیں گے جہاں سے انہیں خبر نہ ہوگی،وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ﴿45﴾
اور میں انہیں ڈھیل دوں گا، بیشک میری خفیہ تدبیر بہت پکی ہےاَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَۚ﴿46﴾
یا تم ان سے اجرت مانگتے ہو کہ وہ چٹی کے بوجھ میں دبے ہیںاَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَ﴿47﴾
یا ان کے پاس غیب ہے کہ وہ لکھ رہے ہیںفَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ١ۘ اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ﴿48﴾
تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر و اور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھالَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ﴿49﴾
اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا جاتا الزام دیا ہوافَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿50﴾
تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے سزاواروں (حقداروں) میں کرلیا،وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ﴿51﴾
اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بد نظر لگا کر تمہیں گرادیں گے جب قرآن سنتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ضرور عقل سے دور ہیں،وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ع﴿52﴾
اور وہ تو نہیں مگر نصیحت سارے جہاں کے لیے