71. Noohنوح
Noah · Meccan · 28 ayahs · 2 rukus · مولانا عبد السلام بھٹوی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اِنَّاۤ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖۤ اَنْ اَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿1﴾
بیشک ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا کہ اپنی قوم کو ڈرا، اس سے پہلے کہ ان پر ایک درد ناک عذاب آجائے۔قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۙ﴿2﴾
اس نے کہا اے میری قوم ! بلاشبہ میں تمہیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِیْعُوْنِۙ﴿3﴾
کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔یَغْفِرْ لَكُمْ مِّنْ ذُنُوْبِكُمْ وَ یُؤَخِّرْكُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ اَجَلَ اللّٰهِ اِذَا جَآءَ لَا یُؤَخَّرُ١ۘ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴿4﴾
وہ تمہیں تمہارے گناہ معاف کردے گا اور ایک مقرر وقت تک تمہیں مہلت دے گا۔ یقینا اللہ کا مقرر کردہ وقت جب آجائے تو مؤخر نہیں کیا جاتا، کاش کہ تم جانتے ہوتے۔قَالَ رَبِّ اِنِّیْ دَعَوْتُ قَوْمِیْ لَیْلًا وَّ نَهَارًاۙ﴿5﴾
اس نے کہا اے میرے رب ! بلاشبہ میں نے اپنی قوم کو رات اور دن بلایا۔فَلَمْ یَزِدْهُمْ دُعَآءِیْۤ اِلَّا فِرَارًا﴿6﴾
تو میرے بلانے نے دور بھاگنے کے سوا ان کو کسی چیز میں زیادہ نہیں کیا۔وَ اِنِّیْ كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوْۤا اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَ اسْتَغْشَوْا ثِیَابَهُمْ وَ اَصَرُّوْا وَ اسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًاۚ﴿7﴾
اور بیشک میں نے جب بھی انھیں دعوت دی، تاکہ تو انھیں معاف کردے، انھوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اور اڑ گئے اور تکبر کیا، بڑا تکبر کرنا۔ثُمَّ اِنِّیْ دَعَوْتُهُمْ جِهَارًاۙ﴿8﴾
پھر بیشک میں نے انھیں بلند آواز سے دعوت دی۔ثُمَّ اِنِّیْۤ اَعْلَنْتُ لَهُمْ وَ اَسْرَرْتُ لَهُمْ اِسْرَارًاۙ﴿9﴾
پھر بیشک میں نے انھیں کھلم کھلا دعوت دی اور میں نے انھیں چھپا کر دعوت دی، بہت چھپا کر۔فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًاۙ﴿10﴾
تو میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگ لو، یقینا وہ ہمیشہ سے بہت معاف کرنے والا ہے۔یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًاۙ﴿11﴾
وہ تم پر بہت برستی ہوئی بارش اتارے گا۔وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًاؕ﴿12﴾
اور وہ مالوں اور بیٹوں کے ساتھ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں باغات عطا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کردے گا۔مَا لَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلّٰهِ وَقَارًاۚ﴿13﴾
تمہیں کیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت سے نہیں ڈرتے۔وَ قَدْ خَلَقَكُمْ اَطْوَارًا﴿14﴾
حالانکہ یقینا اس نے تمہیں مختلف حالتوں میں پیدا کیا۔اَلَمْ تَرَوْا كَیْفَ خَلَقَ اللّٰهُ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاۙ﴿15﴾
کیا تم نے دیکھا نہیں کہ کس طرح اللہ نے سات آسمانوں کو اوپر تلے پیدا فرمایا۔وَّ جَعَلَ الْقَمَرَ فِیْهِنَّ نُوْرًا وَّ جَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا﴿16﴾
اور اس نے ان میں چاند کو نور بنایا اور سورج کو چراغ بنادیا۔وَ اللّٰهُ اَنْۢبَتَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ نَبَاتًاۙ﴿17﴾
اور اللہ نے تمہیں زمین سے اگایا، خاص طریقے سے اگانا۔ثُمَّ یُعِیْدُكُمْ فِیْهَا وَ یُخْرِجُكُمْ اِخْرَاجًا﴿18﴾
پھر دوبارہ وہ تمہیں اس میں لوٹائے گا اور تمہیں نکالے گا، خاص طریقے سے نکالنا۔وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ بِسَاطًاۙ﴿19﴾
اور اللہ نے تمہارے لیے زمین کو ایک فرش بنادیا۔لِّتَسْلُكُوْا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا۠ع﴿20﴾
تاکہ تم اس کے کھلے راستوں پر چلو۔قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ اِنَّهُمْ عَصَوْنِیْ وَ اتَّبَعُوْا مَنْ لَّمْ یَزِدْهُ مَالُهٗ وَ وَلَدُهٗۤ اِلَّا خَسَارًاۚ﴿21﴾
نوح نے کہا اے میرے رب ! بیشک انھوں نے میری بات نہیں مانی اور اس کے پیچھے چل پڑے جس کے مال اور اولاد نے خسارے کے سوا اس کو کسی چیز میں زیادہ نہیں کیا۔وَ مَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًاۚ﴿22﴾
اور انھوں نے خفیہ تدبیر کی، بہت بڑی خفیہ تدبیر۔وَ قَالُوْا لَا تَذَرُنَّ اٰلِهَتَكُمْ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا١ۙ۬ وَّ لَا یَغُوْثَ وَ یَعُوْقَ وَ نَسْرًاۚ﴿23﴾
اور انھوں نے کہا تم ہرگز اپنے معبودوں کو نہ چھوڑنا اور نہ کبھی ودّ کو چھوڑنا اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو۔وَ قَدْ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا١ۚ۬ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا ضَلٰلًا﴿24﴾
اور بلاشبہ انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا اور تو ان ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھا۔مِمَّا خَطِیْٓئٰتِهِمْ اُغْرِقُوْا فَاُدْخِلُوْا نَارًا١ۙ۬ فَلَمْ یَجِدُوْا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْصَارًا﴿25﴾
اپنے گناہوں ہی کی وجہ سے وہ غرق کیے گئے، پس آگ میں داخل کیے گئے، پھر انھوں نے اللہ کے سوا اپنے لیے کوئی مدد کرنے والے نہ پائے۔وَ قَالَ نُوْحٌ رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ دَیَّارًا﴿26﴾
اور نوح نے کہا اے میرے رب ! زمین پر ان کافروں میں سے کوئی رہنے والا نہ چھوڑ۔اِنَّكَ اِنْ تَذَرْهُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَكَ وَ لَا یَلِدُوْۤا اِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا﴿27﴾
بیشک تو اگر انھیں چھوڑے رکھے گا تو وہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور کسی نافرمان، سخت منکر کے سوا کسی کو نہیں جنیں گے۔رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا وَّ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَبَارًا۠ع﴿28﴾
اے میرے رب ! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور اس کو جو مومن بن کر میرے گھر میں داخل ہو اور ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو اور ظالموں کو ہلاکت کے سوا کسی چیز میں نہ بڑھا۔