45. Al-Jaathiyaالجاثية

Crouching · Meccan · 37 ayahs · 4 rukus · مولانا عبد السلام بھٹوی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. حٰمٓۚ﴿1﴾

    حٰمۤ۔
  2. تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ﴿2﴾

    اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
  3. اِنَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُؤْمِنِیْنَؕ﴿3﴾

    بلا شبہ آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔
  4. وَ فِیْ خَلْقِكُمْ وَ مَا یَبُثُّ مِنْ دَآبَّةٍ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَۙ﴿4﴾

    اور تمہارے پیدا کرنے میں اور ان جاندار چیزوں میں جنھیں وہ پھیلاتا ہے، ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو یقین رکھتے ہیں۔
  5. وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ رِّزْقٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ اٰیٰتٌ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ﴿5﴾

    اور رات اور دن کے بدلنے میں اور اس رزق میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کردیا اور ہواؤں کے پھیرنے میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔
  6. تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَ اللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ یُؤْمِنُوْنَ﴿6﴾

    یہ اللہ کی آیات ہیں، ہم انھیں تجھ پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے ؟
  7. وَیْلٌ لِّكُلِّ اَفَّاكٍ اَثِیْمٍۙ﴿7﴾

    بڑی ہلاکت ہے ہر سخت جھوٹے، گناہ گار کے لیے۔
  8. یَّسْمَعُ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُتْلٰى عَلَیْهِ ثُمَّ یُصِرُّ مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْهَا١ۚ فَبَشِّرْهُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ﴿8﴾

    جو اللہ کی آیات سنتا ہے، جبکہ اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں، پھر وہ تکبر کرتے ہوئے اڑا رہتا ہے، گویا اس نے وہ نہیں سنیں، سو اسے دردناک عذاب کی بشارت دے دے۔
  9. وَ اِذَا عَلِمَ مِنْ اٰیٰتِنَا شَیْئَا اِ۟تَّخَذَهَا هُزُوًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌؕ﴿9﴾

    اور جب وہ ہماری آیات میں سے کوئی چیز معلوم کرلیتا ہے تو اسے مذاق بنا لیتا ہے، یہی لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
  10. مِنْ وَّرَآئِهِمْ جَهَنَّمُ١ۚ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ مَّا كَسَبُوْا شَیْئًا وَّ لَا مَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌؕ﴿10﴾

    ان کے آگے جہنم ہے اور نہ وہ ان کے کچھ بھی کام آئے گا جو انھوں نے کمایا اور نہ وہ جو انھوں نے اللہ کے سوا حمایتی بنائے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
  11. هٰذَا هُدًى١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَهُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ۠ع﴿11﴾

    یہ سراسر ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے عذاب میں سے دردناک عذاب ہے۔
  12. اَللّٰهُ الَّذِیْ سَخَّرَ لَكُمُ الْبَحْرَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ فِیْهِ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَۚ﴿12﴾

    اللہ وہ ہے جس نے تمہاری خاطر سمندر کو مسخر کردیا، تاکہ جہاز اس میں اس کے حکم سے چلیں اور تاکہ تم اس کا کچھ فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔
  13. وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ﴿13﴾

    اور اس نے تمہاری خاطر جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنی طرف سے مسخر کردیا، بیشک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔
  14. قُلْ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَغْفِرُوْا لِلَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ اَیَّامَ اللّٰهِ لِیَجْزِیَ قَوْمًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿14﴾

    ان لوگوں سے جو ایمان لائے کہہ دے کہ وہ ان لوگوں کو معاف کردیں جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے، تاکہ وہ کچھ لوگوں کو اس کا بدلہ دے جو وہ کماتے رہے تھے۔
  15. مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١٘ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ تُرْجَعُوْنَ﴿15﴾

    جس نے کوئی نیک عمل کیا تو وہ اسی کے لیے ہے اور جس نے برائی کی سو اسی پر ہے، پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
  16. وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۚ﴿16﴾

    اور بلا شبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکم اور نبوت دی اور انھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور انھیں جہانوں پر فضیلت بخشی۔
  17. وَ اٰتَیْنٰهُمْ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْاَمْرِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ۙ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ﴿17﴾

    اور انھیں (دین کے) معاملے میں واضح احکام عطا کیے، پھر انھوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آگیا، آپس میں ضد کی وجہ سے، بیشک تیرا رب ان کے درمیان قیامت کے دن اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
  18. ثُمَّ جَعَلْنٰكَ عَلٰى شَرِیْعَةٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْهَا وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ﴿18﴾

    پھر ہم نے تجھے (دین کے) معاملے میں ایک واضح راستے پر لگا دیا، سو اسی پر چل اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چل جو نہیں جانتے۔
  19. اِنَّهُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْكَ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۚ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ﴿19﴾

    بلاشبہ وہ اللہ کے مقابلے میں ہرگز تیرے کسی کام نہ آئیں گے اور یقینا ظالم لوگ، ان کے بعض بعض کے دوست ہیں اور اللہ متقی لوگوں کا دوست ہے۔
  20. هٰذَا بَصَآئِرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ﴿20﴾

    یہ لوگوں کے لیے سمجھ کی باتیں ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں ہدایت اور رحمت ہے۔
  21. اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَهُمْ كَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ سَوَآءً مَّحْیَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ۠ع﴿21﴾

    یا وہ لوگ جنھوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا، انھوں نے گمان کرلیا ہے کہ ہم انھیں ان لوگوں کی طرح کردیں گے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ؟ ان کا جینا اور ان کا مرنا برابر ہوگا ؟ برا ہے جو وہ فیصلہ کر رہے ہیں۔
  22. وَ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ لِتُجْزٰى كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ﴿22﴾

    اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
  23. اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةً١ؕ فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ﴿23﴾

    پھر کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو بنا لیا اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کردیا اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا۔ پھر اللہ کے بعد اسے کون ہدایت دے، تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
  24. وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُ١ۚ وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ١ۚ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ﴿24﴾

    اور انھوں نے کہا ہماری اس دنیا کی زندگی کے سوا کوئی (زندگی) نہیں، ہم (یہیں) جیتے اور مرتے ہیں اور ہمیں زمانے کے سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا، حالانکہ انھیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں، وہ محض گمان کر رہے ہیں۔
  25. وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّا كَانَ حُجَّتَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰبَآئِنَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ﴿25﴾

    اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کی دلیل اس کے سوا کچھ نہیں ہوتی کہ کہتے ہیں ہمارے باپ دادا کو لے آؤ، اگر تم سچے ہو۔
  26. قُلِ اللّٰهُ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یَجْمَعُكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ع﴿26﴾

    کہہ دے اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے، پھر تمہیں موت دیتا ہے، پھر تمہیں قیامت کے دن کی طرف (لے جا کر) جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
  27. وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُ الْمُبْطِلُوْنَ﴿27﴾

    اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل والے خسارہ پائیں گے۔
  28. وَ تَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِیَةً١۫ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰۤى اِلٰى كِتٰبِهَا١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿28﴾

    اور تو ہر امت کو گھٹنوں کے بل گری ہوئی دیکھے گا، ہر امت اپنے اعمال نامہ کی طرف بلائی جائے گی، آج تمہیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔
  29. هٰذَا كِتٰبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْكُمْ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّا كُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ﴿29﴾

    یہ ہماری کتاب ہے جو تم پر حق کے ساتھ بولتی ہے، بیشک ہم لکھواتے جاتے تھے، جو تم عمل کرتے تھے۔
  30. فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُهُمْ رَبُّهُمْ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ﴿30﴾

    پھر جو لوگ تو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے سو انھیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا، یہی واضح کامیابی ہے۔
  31. وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١۫ اَفَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاسْتَكْبَرْتُمْ وَ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ﴿31﴾

    اور رہے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو کیا میری آیات تمہارے سامنے نہ پڑھی جاتی تھیں ؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم مجرم لوگ تھے۔
  32. وَ اِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ السَّاعَةُ لَا رَیْبَ فِیْهَا قُلْتُمْ مَّا نَدْرِیْ مَا السَّاعَةُ١ۙ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ﴿32﴾

    اور جب کہا جاتا تھا کہ یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے اور جو قیامت ہے اس میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے، ہم تو محض معمولی سا گمان کرتے ہیں اور ہم ہرگز پورا یقین کرنے والے نہیں۔
  33. وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا عَمِلُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ﴿33﴾

    اور ان کے لیے ان اعمال کی برائیاں ظاہر ہوجائیں گی جو انھوں نے کیے اور انھیں وہ چیز گھیر لے گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
  34. وَ قِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰىكُمْ كَمَا نَسِیْتُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا وَ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ﴿34﴾

    اور کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تمہیں بھلا دیں گے جیسے تم نے اپنے اس دن کے ملنے کو بھلادیا اور تمہارا ٹھکانا آگ ہے اور تمہارے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔
  35. ذٰلِكُمْ بِاَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ هُزُوًا وَّ غَرَّتْكُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ لَا یُخْرَجُوْنَ مِنْهَا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ﴿35﴾

    یہ اس لیے کہ بیشک تم نے اللہ کی آیات کو مذاق بنا لیا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا، سو آج نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔
  36. فَلِلّٰهِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿36﴾

    پس اللہ ہی کے لیے سب تعریف ہے جو آسمانوں کا رب اور زمین کا رب، تمام جہانوں کا رب ہے۔
  37. وَ لَهُ الْكِبْرِیَآءُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۪ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ع﴿37﴾

    اور اسی کے لیے آسمانوں اور زمین میں سب بڑائی ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔