Sunan At-Tirmidhi 1814صحیح

دوکھجوریں ایک ساتھ کھانے کی کراہت

حدیث نمبر: 1814
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْرَنَ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ صَاحِبَهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو کھجور ایک ساتھ کھانے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اپنے ساتھ کھانے والے کی اجازت حاصل کرلے ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سعد مولی ابوبکر سے بھی روایت ہے۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشرکة ٤ (٢٤٩٠) ، صحیح مسلم/الأشربة ٢٥ (٢٠٤٥) ، سنن ابی داود/ الأطعمة ٤٤ (٣٨٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٤١ (٣٣٣١) ، (تحفة الأشراف : ٦٦٦٧) ، و مسند احمد (٢/٦٠) ، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٥ (٢١٠٣) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : ایسا وہ کرے گا جو کھانے کے سلسلہ میں بےانتہا حریص اور لالچی ہو ، اور جسے ساتھ میں دوسرے کھانے والوں کا بالکل لحاظ نہ ہو ، اس لیے اس طرح کے حرص اور لالچ سے دور رہنا چاہیئے ، خاص طور پر جب کھانے کی مقدار کم ہو ، یہ ممانعت اجتماعی طور پر کھانے کے سلسلہ میں ہے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3331)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1814
Sayyidina Ibn Umar (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ forbade eating two dates together unless allowed by one’s companion. [Bukhari 2490, Muslim 2045]