Sunan At-Tirmidhi 1909صحیح
صلہ رحمی
حدیث نمبر: 1909
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي قَاطِعَ رَحِمٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں ہے جو بدلہ چکائے ١ ؎، بلکہ حقیقی صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جو رشتہ ناتا توڑنے پر بھی صلہ رحمی کرے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سلمان، عائشہ اور عبداللہ بن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ١١ (٥٩٨٤) ، صحیح مسلم/البر والصلة ٦ (٢٥٥٦) ، سنن ابی داود/ الزکاة ٤٥ (١٦٩٦) (تحفة الأشراف : ٣١٩٠) ، و مسند احمد (٤/٨٠، ٨٣، ٨٤، ٨٥) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : یعنی صلہ رحمی کی جائے تو صلہ رحمی کرے اور قطع رحمی کیا جائے تو قطع رحمی کرے ، یہ کوئی صلہ رحمی نہیں۔
قال الشيخ الألباني : صحيح غاية المرام (407) ، صحيح أبي داود (1488)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1909
Sayyidina Jubayr ibn Mut’ini reported that Allah’s Messenger said, “The qaati (one who cuts off) will not enter paradise.” Ibn Umar (RA) ﷺ said that Sufyan xplained that qaati means “One who severs ties of relationship.” [Bukhari 5984]