Sunan At-Tirmidhi 1101صحیح
ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
حدیث نمبر: 1101
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق. وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق. ح وحَدَّثَنَاعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَأَنَسٍ.
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ولی کے بغیر نکاح نہیں ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں عائشہ، ابن عباس، ابوہریرہ، عمران بن حصین اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ (ابوموسیٰ اشعری کی حدیث پر مولف کا مفصل کلام اگلے باب میں آ رہا ہے) ۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ النکاح ٢٠ (٢٠٨٥) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٥ (١٨٨٠) ، ( تحفة الأشراف : ٩١١٥) ، مسند احمد (٤/٤١٣، ٤١٨) ، سنن الدارمی/النکاح ١١ (٢٢٢٨) (صحیح)
وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ، جمہور کے نزدیک نکاح کے لیے ولی اور دو گواہ ضروری ہیں ، ولی سے مراد باپ ہے ، باپ کی غیر موجودگی میں دادا پھر بھائی پھر چچا ہے ، اگر کسی کے پاس دو ولی ہوں اور نکاح کے موقع پر اختلاف ہوجائے تو ترجیح قریبی ولی کو حاصل ہوگی اور جس کا کوئی ولی نہ ہو تو ( مسلم ) حاکم اس کا ولی ہوگا ، اور جہاں مسلم حاکم نہ ہو وہاں گاؤں کے باحیثیت مسلمان ولی ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1881)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1101
Sayyidina Abu Musa (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Marriage is not performed if the (consent of the) guardian is not there”. [Ahmed 19535, Abu Dawud 2085, Ibn e Majah 1881] --------------------------------------------------------------------------------