Sunan At-Tirmidhi 326صحیح
کونسی مسجد افضل ہے
حدیث نمبر: 326
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ، مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین مساجد کے سوا کسی اور جگہ کے لیے سفر نہ کیا جائے، ١- مسجد الحرام کے لیے، ٢- میری اس مسجد (مسجد نبوی) کے لیے، ٣- مسجد الاقصیٰ کے لیے ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں :
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة في مسجد مکة والمدینة ١ (١١٨٨) ، و ٦ (١١٩٧) ، وجزاء الصید ٢٦ (١٨٦٤) ، والصوم ٨٧ (١٩٩٥) ، صحیح مسلم/المناسک ٧٤ (٤١٥/٨٢٧) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٦ (١٤١٠) ، ( تحفة الأشراف : ٤٢٧٩) (صحیح)
وضاحت : ١ ؎ : یعنی ثواب کی نیت سے سفر نہ کیا جائے ، مگر صرف انہی تین مساجد کی طرف ، اس سے کوئی بھی چوتھی مسجد اور تمام مساجد و مقابر خارج ہوگئے ، حتیٰ کہ قبر نبوی کی زیارت کی نیت سے بھی سفر جائز نہیں ، ہاں مسجد نبوی کی نیت سے مدینہ جانے پر قبر نبوی کی مشروع زیارت جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1409)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 326
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “Journeys may not be made (for visit) to any mosque but three: Masjid Haram (Bayt Allah), my mosque (Masjid Nabawi) and Masjid Aqsa.